اولاد کی جامع تربیت کے پانچ ایریاز

اولاد کی جامع تربیت کے پانچ ایریاز

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

اولاد کی تربیت کے حوالے سے عام طور پرہمارے معاشرے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ہر انسان اپنے فہم کے مطابق اولاد کی تربیت کی کوشش کررہاہوتا ہے جس میں کوئی نہ کوئی غلطی ضرور پائی جاتی ہے۔ مثلا بعض لوگ اولاد کی تربیت صرف مغربی طرز پر کررہے ہوتے ہیں وہ اپنے بچوں کو دین سے بالکل بے بہرہ کردیتے ہیں حالانکہ ایک مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت دینی بنیادوں پر کرے۔ اسی طرح دوسری جانب بعض لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم وتربیت اس انداز سے دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کو جدید علوم سے بالکل ناآشنا کردیا جاتاہے حالانکہ یہ دوسری جانب کی انتہا ہے۔ ہمارا جدید نظام تعلیم بھی رٹے اور نمبروں کے حصول کی دوڑ لگوانے والا نظام تعلیم بن کررہ گیا ہے۔

چنانچہ لوگ نمبروں کے حصول کو ہی بچے کی تعلیم وتربیت کی آخری منزل سمجھنے لگتے ہیں اور بچے کی تربیت وتعمیرشخصیت کے دیگرتمام پہلووں کو نظرانداز کردیاجاتا ہے۔ اب بچے موجودہ ایجوکیشن سسٹم کے تحت نمبراورگریڈتو کسی طرح حاصل کرلیتے ہیں لیکن ان کی پوری شخصیت کی تربیت نہیں ہوپاتی، ان کو جذباتی تربیت کی شدید کمی کا سامنا ہوتا ہے، ان کو دینی اور اخلاقی وکرداری تربیت کی کمی کاسامنا ہوتا ہے وغیرہ۔ ایسے ہی تعلیم یافتہ بچوں کو بعض اہل علم پڑھے لکھے جاہل قراردیتے ہیں کیونکہ ان کی ڈگریاں اور مارکس تو بہت بڑھ جاتے ہیں لیکن شخصیت سازی اور کردار سازی کا عمل پیچھے رہ جاتا ہے،نیز اس بچے میں پریکٹیکل دنیا کی اسکلز ومہارتیں پروان نہیں چڑھتیں۔

بہرحال ان تمام انتہاؤں سے بچ کر ہمیں اپنے بچوں کی تربیت دینی تناظر اورعصر حاضر کے تقاضوں کوپیش نظر رکھ کرکرنا چاہیے۔ ذیل میں تعلیم وتربیت کے ان تمام ایریاز (Domains) اور پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے گی جن پر کام کرکے ہی والدین اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوسکتے ہیں یہ کل پانچ ایریاز آف تربیہ ہیں جن پر کام کرنے سے اولاد کی جامع تعلیم و تربیت کے عمل کوضروری بنیادیں فراہم ہوتی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ ان پانچوں ایریاز کو برابر اہمیت دیں اور ہرایک پر مستقل کام کے لئے جامع تربیہ پالیسی بنائیں۔ تربیت کے پانچ ایریا مندرجہ ذیل ہیں۔

 

:جسمانی تربیت
ظاہر ہے جسم ہی وہ پیکر ہے جس میں تمام انسانی خصوصیات پروان چڑھ سکتی ہیں جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کردیتی ہیں اور ان تمام خصوصیات کا حامل جسم ہوتا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ صحت مند دماغ صحت مند جسم میں پایا جاتا ہے تو سب سے پہلے انسانی جسم کو صحت مند، متناسب، متوازن اور تہذیب یافتہ ہونا ضروری ہے۔ اگر تربیت کے معاملے میں انسانی جسم کو نظر انداز کیا جائے صرف عقل وشعور کو بڑھانے پر توجہ دی جائے تو یہ جامع تربیت کے خلاف ہوگا۔ جسم کو صحت مند، بیماریوں سے محفوظ ، متوازن اور مہذب بنانے کے لئے بنیادی طور پر چار چیزوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔

 

:متواز ن غذا
متوازن غذا انسانی جسم کی بنیادی ضرورت ہے اس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ بچے کی نشوونما (Growth) میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو قدرت کی طرف سے اس کی غذا ایک نالی کے ذریعے سے پہنچادی جاتی ہے ، اس وقت ماں کو متوازن غذا لینی چاہیے تاکہ نومولود کو متوازن غذا ماں کے ذریعےسے مل سکے۔ پیدائش کے بعد اس کے لئے سب سے بہترین اور مکمل غذا ماں کا دودھ ہوتاہے۔ کوئی مجبوری نہ ہو تو بچے کو ماں کادودھ لازمی پلادینا چاہیے،اگرماں کا دودھ کم ہو تو ابتدائی چار ماہ تک بچے کو اوپر کا دودھ دینے کی بجائے ماں کو کوئی ایسی غذا دی جائے کہ اس کا دودھ بڑھ جائے۔

چار ما ہ کے بعد ماں کے دودھ کے ساتھ دیگر غذائیں آہستہ آہستہ دی جاسکتی ہیں۔ بچوں میں اچھی اور متوازن غذالینے کی عادت ابتدائی دنوں سے ہی ڈلوانے کی کوشش کرنی چاہیے ورنہ بعدمیں بچے متناسب اورآئیڈیل غذا کو چھوڑ کر غیر متناسب غذا کی طرف بھاگتے ہیں۔ اس وقت بچوں کی متوازن غذا کا مسئلہ معاشرہ کا سب سے اہم مسئلہ بن کررہ گیا ہے کہ بچے وہ غذا نہیں لینا چاہتے جو ان کو لینا چاہیے اس کی جگہ وہ جنگ فوڈز لینے کے لئے ضد کرتے ہیں۔ اس کا حل بچوں کی ڈانٹ ڈپٹ نہیں بلکہ بچپن سے ہی اس کی غذا کے متعلق محتاط رہنا اور باقاعدہ فوڈ پلان تیارکرنا ہےتاکہ بچوں کی روٹین اسی کے مطابق بن سکے۔بچوں کے لئے آئیڈیل، متوازن اور صحت مند غذا کیا ہوتی ہے؟ اس عنوان کے تحت مشہور چائیلڈ اسپیشلٹ جین بیکر اپنی کتاب میں لکھتےہیں:

”اچھی غذائی عادات کسی کی زندگی میں ابتداء ہی سے ڈالی جاسکتی ہے، ابتدائی8سال غذائی عادات کو ڈھالنے اور بنانے کے لئے انتہائی اہم ہوتے ہیں اور یہ اہم ہے کہ مختلف النوع خوراک گھر پر ہی تیار کی جائیں۔ خوراک میں روٹی، دلیہ، اناج، پھل اور سبزیاں شامل ہونی چاہییں اور یہ ہماری خوراک کا سب سے اہم حصہ ہوتی ہیں۔دوسری اہم کیٹیگری پروٹین ہے جس میں چکنائی کے بغیر گوشت، سویا پروڈکٹس اور دالیں شامل ہیں۔ اور آخری کیٹیگری جو شاذ ونادر استعمال کرنی چاہیے وہ چکنائی، آئل اور مٹھائی یا میٹھا ہے۔ گھر میں ایسے سادہ کھانے پکائے جائیں جو سیچوریٹیڈ یاکولیسٹرول سے پاک ہوں اورکھانوں میں نمک اور شکر اعتدال سے موجود ہوں۔ بڑھتے ہوئے بچوں کو کیلشیم کی زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے لہذا انہیں گہرے ہرے پتوں والی سبزیاں، تل اور مچھلی کھلانی چاہیے۔“

 

:آرام/نیند
جسمانی نشوونما کے لئے متوازن غذا کے علاوہ مناسب آرام اور نیند بھی بہت ضروری ہے۔ چنانچہ جسمانی تربیت میں بچوں کے مناسب آرام کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ مناسب آرام سے مراد ہرانسان کے لئے اتنی نیند ہے کہ جس کے بعد وہ اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرے اور اسے مزید سستی اور اونگھ کی سی کیفیت کا سامنا نہ کرناپڑے۔ بچپن میں نیند کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جبکہ بڑے ہونے کے بعد اس میں کمی آتی ہے جو چوبیس گھنٹوں میں تقریبا چھ سے آٹھ گھنٹے کے درمیان ہونی چاہیے۔ اب یہ نیند کتنی ہونی چاہیے اس کے لئے کوئی لگابندھا اصول نہیں بعض لوگ چھ گھنٹے سو کر اٹھنے کے بعد خود کو تازہ دم محسوس کرنے لگتے ہیں اور بعض لوگوں کو آٹھ گھنٹے سونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں یہ بھی خیال میں رہنا چاہیے کہ ضروری آرام سے زیادہ سونے سے بھی انسان سستی اور تکان کا شکار ہوسکتا ہے اس لئے بچوں کی تربیت میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کو صحت مند رہنے کے لئے کتنی نیند کی ضرورت ہے۔

 

:جسمانی ورزش
جسمانی صحت کے لئے متوان غذا اور مناسب آرام کے علاوہ جسمانی ورزش بھی ضروری ہے۔جسمانی ورزش سے خوراک جزوبدن بن جاتی ہے اور پسینہ نکلنے سے جسم کے فاسد مواد خارج ہوجاتے ہے۔اگرا نسان کھا پی کر سویا رہے یا بیٹھا رہے اور ورزش نہ کرے تو اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔ اس سے غذا جسم کو نہیں لگتی، جسم متوازن نہیں رہتا بلکہ بے ہنگم ہوجاتا ہے، انسان موٹاپے کا شکار ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ انسان نفسیاتی طور پر بھی غیرمتوازن ہوجاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچہ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ باہر میدان میں نکل کر جسمانی مشقت والا کھیل کھیلے خوب بھاگ دوڑ کرے پسینہ نکالے اور اپنے جسم کو خوب تھکائے، اس سے اس کے جذبات اور عقل وشعور پر انتہائی مثبت اثرات پڑیں گے۔

 

 

:صفائی و ستھرائی
خوراک، آرام اور ورزش کے علاوہ جسمانی تربیت میں ایک اور اہم چیز صفائی و ستھرائی ہے۔ صفائی ستھرائی کو دین میں آدھا ایمان کہاگیا ہے کہ اس کے بغیر ایمان ہی نامکمل رہ جاتا ہے اور جسمانی لحاظ سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے بہت سی بیماریوں سے بچاجاسکتاہے۔ صفائی کا خیال رکھنے والا انسان جسمانی وروحانی دونوںطورپر تروتازہ رہتا ہے اللہ اور اس کی مخلوق میں ہردلعزیز بن جاتا ہے۔لہذا جسمانی صفائی بچے کی تربیت کا اہم ترین حصہ ہونا چاہیے اور اسکی عادات بچپن سے ڈال دینی چاہیے۔جسمانی صفائی میں روزانہ دانتوں اور پورے جسم کی صفائی کے ساتھ صاف ستھرالباس پہنا بھی شامل ہے۔ جسم اور لباس دونوں صاف ستھرے ہوں تو انسان روحانی طور پر بھی خوشگوار محسوس کرتا ہے ۔ دماغ میں اچھے خیالات جنم لیتے ہیں اور انسان کی خوداعتمادی میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔

 

:دینی واخلاقی تربیت
بحیثیت مسلمان بچوں کی تربیت کا دوسراایریادینی واخلاقی تربیت ہے۔بچوں کی دینی واخلاقی تربیت والدین کے ذمہ انتہائی اہم فریضہ اور والدین پر بچوں کا حق ہے۔اس ذمہ داری کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے حکم دیاکہ “ایمان والو!بچاو اپنی جانوں کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے۔” ( )اب اس فریضے کی تکمیل کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اولاد کی دینی واخلاقی تربیت کی جائے۔تاکہ وہ جہنم کی آگ سے خود کو بچانے کے ساتھ دنیا کے لئے بھی رحمت بن سکے ۔

دین کی بنیاد ایمان بالغیب ہے یا یقین کی وہ کیفیت ہےجس میں اللہ رب کریم کو اس کی تمام صفات کے ساتھ ہرجگہ حاضروناظر محسوس کیا جائے۔ استحضار کی یہ کیفیت جب انسان کے اوپر طاری ہوجاتی ہے تو نیکی کرنا اس کے لئے آسان اور برائی اس کے لئےمشکل ہوجاتی ہے۔یوں وہ آٹو موڈ پر چلاجاتا ہے یعنی اچھائی کو کرنے اور برائی سے بچنے کے لئے اس کو باہر سے کسی محرک کے بجائے اس کے اندر کی ایمانی طاقت اور محرک ہی اس کے لئے کافی ہوجاتی ہے۔ اس کو اچھے کام کرتے ہوئے خوشی محسوس ہونے لگتی ہے اور برائی سے طبعی طور پر اسے نفرت ہونے لگتی ہے۔

جب انسا ن کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ کوئی دیکھنے والا اسےدیکھ رہا ہے یا کیمرے سے اس کی نگرانی کی جارہی ہے تو وہ ویسے بھی محتاط ہوجاتا ہے۔اس کی مثال آج کل کے سپراسٹور کے کیمرہ سسٹم سے دی جاسکتی ہے، ہرطرح کے لوگ سپراسٹور زمیں داخل ہوتے ہیں وہاں انواع واقسام کی چیزیں ڈسپلے پر رکھی ہوتی ہیں لیکن کوئی شخص وہاں چوری کرنے کی کوشش نہیں کرتا کوئی چیز چھپانے کی کوشش نہیں کرتا ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ سب کو پتہ ہے اسٹو ر میں داخل ہونے والا ہرفرد کیمرے کی نگاہ میں ہوتا ہے اگر وہ کوئی چیز چھپانے کی کوشش کرے گاتو گیٹ پرپہنچتے ہی پکٹراجائے گا۔ یقین کی یہ کیفیت ہی ہوتی ہے جو اس کو چوری کرنے سے با زرکھتی ہے ، جیسے ہی یقین کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے تو انسان دوبار ہ چوری کرنے پرآمادہ ہوجاتا ہے ۔ مثلا ایک مرتبہ امریکہ میں کیلیفورنیا کے ایک سپر اسٹور میں اچانک بجلی بند ہوگئی۔اندرجو لوگ موجود تھے ان کو معلوم ہوا کہ اب کیمرے بند ہوگئے ہیں تو تھوڑے ہی عرصے میں چوری کے بے شمار کیسز بن گئے۔ اس کی وجہ ظاہرہے کہ اندرموجود لوگوں کو معلوم ہوگیا تھاکہ کیمرے کی نگرانی ختم ہوگئی ہےچنانچہ انہوں نے اپنی اصلیت ظاہر کردی۔

کیمرہ ایک الیکٹرانک آلہ ہے جس کو کسی ٹیکنیکل طریقے سے دھوکہ بھی دیا جاسکتا ہے لیکن اس کی نگرانی کے خوف سے لوگ غلطی نہیں کرتے بلکہ محتاط ہوجاتے ہیں ۔ اگر کسی انسان کے دل میں یہ یقین بیٹھ جائے کہ ہم ہر لمحہ احکم الحاکمین کی براہ راست نگرانی میں ہیں جس سے نہ کبھی غلطی کا امکان ہے اور نہ اس کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے تو یقینا ایسے شخص کا طرز فکر وعمل بہت ہی مختلف ہوگا وہ اپنے لئے اور اپنے معاشرے کے لئے رحمت کا باعث ہوگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ پر اسی طرح کی محنت کی تھی ان کی تربیت اسی انداز پر ہوئی تھی کہ سب سے پہلے ان کے دلوں میں ایمان کی کیفیت کو راسخ کرنے کے لئے کام کیا گیا تھا۔ اللہ تعالی پر تمام صفات کے ساتھ ایمان ان کے دلوں میں ایسی راسخ ہوگئی تھی اور ان کو یقین کامل حاصل ہوگیا تھا کہ اللہ تعالی ہرحال میں ان کو دیکھ رہے ہیں۔قرآن کریم کی یہ آیت ہر وقت ان کے پیش نظر رہتی تھی : یعلم خائنۃ الاعین وماتخفی الصدور۔( )”وہ نظروں کی خیانت اور دل کے بھیدوں سے پوری طرح باخبر ہے۔”

وہ جہاں جاتے ان کے دلوں میں ایمانی طاقت موجود ہوتی اورایمان اپنی تمام کیفیات کے ساتھ موجود ہوتا جس کی وجہ سے ان کے لئے غلطی کرنا اور گناہ کرنا طبعی طور مشکل کام بن چکا تھا اور بشری تقاضے سے کہیں غلطی ہوجاتی تو فورا توبہ کرکے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی سعی کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ان کے لئے یہ بشارت سنائی گئی “اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ راضی ہوگئے”( ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ ایمانی تربیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرہون منت تھی اللہ کی مدد ونصرت کے ساتھ یہ آپ ہی کی کامیاب تربیہ پالیسی تھی جس کی وجہ سے چشم فلک نے وہ مناظر دیکھے جو نہ اس پہلے کبھی دیکھے تھے اور نہ بعدمیں اس طرح کے مناظر دیکھے جاسکیں گے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یافتہ اور تربیت یافتہ جماعت خودہدایت یافتہ ہونے کے ساتھ دنیا کے لئےبھی رحمت اور ہدایت کا ذریعہ بن گئی جبکہ اس پہلے ان کی یہ حالت تھی کہ کوئی ان پر حکومت کرنا نہیں چاہتا تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کے نقش قدم پر لوگوں نے بھی جب اسی انداز کی تربیت حاصل کی اورپھر اسی انداز سے اپنی اولاد کی تربیت کی تو وہ بھی صحابہ کی صفات کے حامل ہوگئے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کہیں سفر پر جارہےتھے راستے میں ایک نوجوان چرواہا ملا جو بکریاں چرارہا تھا، آزمائش کی غرض سے اس سے کہا کہ توایک بکری ہمیں دے دے ہم تمہیں اس کی قیمت دیں گے۔ چرواہے نے کہا کہ بکریاں میری نہیں بلکہ مالک کی ہیں تو عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ مالک کونسا تجھے دیکھ رہا ہے تو کہہ دے کہ ایک بکری مرگئی ، تو جواب میں نوجوان چرواہے نے کہا کہ مالک تو نہیں دیکھ رہا لیکن اللہ تو دیکھ رہا ہے اس کو میں کیا جواب دوں گا۔

اسی طرح عمر فاروق رضی اللہ کے دور میں ایک بڑھیا اور اس کی بیٹی کا وہ مکالمہ بھی اس دور کے لوگوں میں ایمانی طاقت کو ظاہرکرتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فجر سے پہلے کسی گلی سے گزررہے تھے کہ اچانک ان کو آواز آئی کہ ایک ماں اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ آج بکری نے دودھ کم دیا ہے ابھی دودھ لینے والا آئے گا اس کے آنے سے پہلے تم اس میں پانی ملادو تاکہ دودھ پورا ہوجائے ۔ اس پر بیٹی نے کہا امی امیرالمومنین نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے ۔ اس پر ماں نے کہا تم پانی ڈال دو اس وقت کونسا امیرالمومنین تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ جواب میں بیٹی نے کہا کہ امی! امیراالمومنین نہیں اللہ تودیکھ رہا ہے لہذا میں یہ کام نہیں کرسکتی ۔

امیرالمومنین نے یہ مکالمہ سن لیاتھا اگلے دن ماں بیٹی دونوں کو بلوایا اور یہ مکالمہ ان کے سامنے رکھ دیا یہ سن کروہ انکار نہ کرسکیں۔ اس بیٹی کی ایمان کیفیت سےعمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت متاثر ہوئے تھے چنانچہ بڑھیاسے اپنے بیٹے کے لئے اس لڑکی کا رشتہ مانگا۔ یہ واقعات ایک طرف تو اس دور کی ایمانی کیفیات اوران کیفیات کی قدردانی کو ظاہر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس دور کے انداز تربیت کی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں کہ جب دل میں ایمان کی طاقت راسخ ہوجاتی ہے تو پھر انسان خود ذمہ دار بن جاتا ہے اس کے پیچھے پولیس اور فوج لگانے کی قطعا ضرورت نہیں رہتی۔

 

والدین بچوں کی ایمانی تربیت کیسے کریں؟
یہ سوال بہت اہم ہے کہ والدین اپنے بچوں کی ایمانی تربیت آج کے دور میں کیسے کرسکتے ہیں؟اس میں پہلااور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جب بیٹری خودچارج ہو تو وہ آگے پاور سپلائی دے سکتی ہے ورنہ نہیں ،والدین اپنی ایمانی بیٹری کو ری چارج کریں تورول ماڈلنگ کے ذریعے بچوں کی ایمانی تربیت کو ممکن بناسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے گھر کی ترجیحات اور ویلیوز میں دین وایمان کو پہلے نمبرپر رکھیں، جب گھر کا ماحول ایسا ہو کہ اس میں دین سے محبت کے تذکرے ہوں اور دینی شعائر کے ساتھ دیندار لوگوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو تو یہ کیفیت خود بخود بچوں میں منتقل ہوجائے گی اور ان کے دلوں میں ایمان کی طاقت بڑھتی چلی جائے گی۔

احادیث میں اس کا ایک طریقہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچہ جب کوئی لفظ بولنے کے قابل ہوجائے تو پہلا لفظ اس کے منہ سے” اللہ “نکالنے کی کوشش کرو اور جب وہ جملہ بولنے کے قابل ہوجائےپہلاجملہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا بلوانے کی کوشش کرو۔ ایساکرنے سے ابتدا ہی سے اس کے دل میں ایمان کی طاقت راسخ ہوتی چلی جائے گی۔والدین اپنے قول وعمل اور کردار وگفتار سے بچے کو یہ سبق دیں کہ ایمان اور دین ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔بچوں کوبتانے، سمجھانے یاان کو لیکچر سنانے سے صرف دس فیصد سیکھتے ہیں باقی نوے فیصد والدین اورماحول کو دیکھ کرسیکھتے ہیںَ اس لئے والدین اپنے بچوں کو ایمانی ماحول فراہم کریں اور اپنے عمل سے ان کو دین وایمان کی اہمیت کاسبق دیں۔

ایمان کی طاقت کو بڑھانے کے لئے اورادو ظائف کا بھی بڑامثبت اثر ہوتاہے۔ایک بڑے بزرگ حضرت سہل تستریؒ فرماتے ہیں کہ جب میں بچہ تھا تو ایک دن میرے ماموں نے مجھے بلایا اور کہا کہ جب تم رات کو سونے کے لئے بستر پر جاو تو ذہن کو حاضر کرکے ایک مرتبہ یہ دو آیات پڑھ کر سوجایاکرو۔ وھومعکم اینماکنتم۔( ) الم یعلم بان اللہ یری( )۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ۔ اگلے دن ماموں نے مجھے بلایا اور کہا کہ یہ دونوں آیات دومرتبہ پڑھ کرسوجایاکرو۔ اس طرح روز اس کی تعداد میں اضافہ کرتے چلے گئے سات دن کے بعد میری ایمانی کیفیت ایسی ہوگئی تھی کہ میں جہاں بھی جاتا تو مجھے یہ خیال رہتا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔

والدین اپنے بچوں کی ایمانی کیفیت میں اضافہ کرنے کے لئے کوئی ٹیکنیک بھی اختیار کرسکتے ہیں۔چنانچہ مشہور واقعہ ہے حضرت خواجہ قطب الدین بخیتار کاکی ؒ کی والدہ کا، کہ انہوں نے اپنے بچے میں ایمانی طاقت پیدا کرنے اور ہرکام میں اللہ کی طرف رجوع کروانے کے لئے ایک طریقہ اختیار کیا تھا وہ یہ تھا کہ ایک دن بیٹے نے ماں سے کھانا مانگا تو ماں نے بیٹے سے کہا کہ تم نماز پڑھ کر اللہ سے دعامانگو اللہ تمہیں اچھا کھا نا دے گا۔

اب بچہ روز دعامانگنے لگتا تو ماں چپکے سے اچھا ساکھانا بنا کر ایک خاص جگہ رکھ دیتی جب بیٹا دعا سے فارغ ہوکر تلاش کرتا تو اس کو کھانا مل جاتا ۔بچے کی ایما نی تربیت کے لئے ماں کا یہ معمول ایک عرصے تک رہا ۔ایک دن ماں کھانا نہیں بناسکی تھی کہ بیٹا دعا سے فارغ ہوگیا اب ماں پریشان ہوئی اوراللہ سےیہ دعامانگنے لگی کہ اللہ اب تک میں اپنی سی کوشش کرتی رہی لیکن آج تو ہی اس کوشش کی لاج رکھ۔ ماں کی دعا اللہ نے سن لی او ر بختیار کاکی کو اللہ کی طرف سے بہترین کھا نا اسی جگہ سے مل گیا جہاں ماں کھانا تیار کرکے رکھ دیا کرتی تھی۔

ایمانی طاقت انسان کے لئے سب سے اہم سوغات ہے بچپن میں یہ کام والدین کا ہوتا ہے ان کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی ایمانی طاقت میں اضافے کے لئے اوپر دئیے گئے طریقوں کو اپنا نے کی کوشش کریں تا کہ اولاد کا ایمان ویقین مضبوط ہوتا چلاجائے۔لیکن اگر بچپن میں یہ کام نہ ہوسکے تو بڑے ہونے کے بعد کسی اللہ والے کی صحبت اختیار کرنی پڑتی ہے ۔اس سے بھی انسان کی ایمانی طاقت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔لہذا والدین کسی شیخ، کسی عالم یا کسی مربی سے اس کا تعلق جوڑکر یہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔

 

:ایمانی طاقت کے حصول کے ذرائع
ایمانی طاقت وہ ڈرائیونگ فورس ہے جو انسان کو اس کے اپنے اندرسے ملتی ہے اور اسے درست ٹریک پر رکھتی ہے غلط راہوں سے اسے بچاتی اور درست راستے پر اسے گامزن رکھتی ہے۔یہی ایمانی طاقت تھی جس نے تاریخ کے عام انسانوں کو مشاہیر میں تبدیل کیا۔ ایمانی طاقت کے حصول کے کئی ذرائع ہیں جن کے ذریعے ہم خود بھی ایمانی طاقت حاصل کرسکتے ہیں اور اپنے بچوں میں بھی ایمانی حرارت پیدا کرسکتے ہیں جس کی آج کے دور میں شدید ضرورت ہے۔

 

:اللہ والوں سے تعلق
انسان جس سے تعلق رکھتا ہے اس کے اثرات غیر محسوس طریقے سے اس میں منتقل ہوجاتے ہیں، اللہ والوں سے تعلق کے بڑے مثبت اثرات ہوتے ہیں اس سے ایمان کی افزودگی ہوجاتی ہے ، اللہ کی معرفت اور محبت دل میں پیدا ہوجاتی ہے۔حدیث میں آیاہے کہ تین چیزوں سے محبت اپنے بچوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالی کی محبت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کی محبت اور قرآن کریم کی محبت۔ یہ ساری محبتیں اہل محبت اور اللہ والوں سے تعلق کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہیں۔اس لئے ماں باپ خود اللہ والوں سے تعلق رکھیں اللہ والوں کا تذکرہ گھر میں محبت کے ساتھ کریں اور بچوں کو بھی اس تعلق سے جوڑدیں۔ اس سے اللہ تعالی کی معرفت ومحبت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور قرآن سے محبت کا جذبہ بچوں میں انشااللہ پیداہوگا۔

 

:گھرمیں عبادات کا اہتمام
عبادات اللہ تعالی کے ساتھ تعلق اور ایمان میں افزودگی پیدا کرتی ہیں۔نماز ، روزہ، زکوۃ، حج، سنن ونوافل اور صدقات وخیرات کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ جب یہ چیزیں گھر کے ماحول میں انجام پائیں تو بچوں کے لئے ان کو سیکھنا اور انجام دینا آسان ہوجاتا ہے۔ اگر گھرکے ماحول میں بچوں کو یہ چیزیں دیکھنے کو نہ ملیں تو بچے ان عبادات سے مانوس نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں بچوں کو باربار کہنے اور ٹوکنے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ بچوں نے ان چیزوں کا مشاہدہ کبھی اپنے گھر یا ماحول میں نہیں کیا ہوتا لہذا وہ ان سے مانوس بھی نہیں ہوتے جب عبادات سے گھرکا ماحول ہی خالی ہو تو بچوں اور بڑوں میں ایمان کی طاقت کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟

 

:تعلیم اور وعظ سے ایمان کی افزودگی
بچوں اور بڑوں میں ایمان کی طاقت بڑھانے اور افزودہ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو اس کی باقاعدہ تعلیم دی جائے ان کے کورس اور سلیبس کا حصہ بنایا جائے ، نیز ان کو وعظ ونصیحت کی جائے۔اس طرح باربار کے تذکرے سے بھی ایمانی طاقت کو بڑھانے کے مواقع مل سکتے ہیں۔

 

:اخلاق وکردار کی تربیت
بچوں کی ایمانی تربیت کے ساتھ اخلاق وکردار کی تربیت بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ اخلاقی تربیت یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو خوش اخلاق اور ملنسار بنانے کی کوشش کریں۔اورکردار کی تربیت یہ ہے کہ ان کو اس انداز سے رہنا سکھائیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ اچھا برتاو کرسکیں ، دوسروں کے لئے زحمت نہ بنیں بلکہ رحمت بن کر اپنے معاشرے کو فائدہ پہنچائیں۔ بچوں کے اخلاق و کردار کی تربیت کا انحصار خود والدین کے اخلاق وکردار کی کیفیت پر منحصر ہے۔جب والدین اپنے کردار کو بہتر بناکر بچوں کو اچھی رول ماڈلنگ فراہم کرتے ہیں تو بچے ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یوں وہ بہتر اخلاق وکردار اپناتے ہیں۔

اخلاق وکردار کی جڑیں ایمانی کیفیت کے اندر پیوست ہوتی ہیں انسان کا ایمان جتنا مضبوط ہوتا ہےاس کی اخلاقی قدریں اتنی ہی توانا ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اس کا کردار بلندی کی چوٹی کو چھولیتا ہے ۔ یعنی اخلاق وکردار کو بہتر اور معیاری بنانے کے لئے آکسیجن انسان کی ایمانی کیفیت ہی فراہم کرتی ہے۔ لہذا پہلے ایمان کومضبوط بنانے کی کوشش کی جائےاور پھر اخلاق وکردار کی تعمیر اسی ایمانی اساس پر کی جائے، اس سے انسان کی اخلاقی اور کرداری بلندی ناقابل یقین سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ انسانی کردار واخلاق کی بلندی کا یہی وہ طریقہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا تھا، کہ پہلے ایمان ویقین کی پختگی اور مضبوطی پر کام ہوا اور اسی بنیاد پر معاشرے کے اعلی کردار واخلاق کی تعمیر عمل میں آئی۔آج بھی وہی تربیت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے کہ ہم پہلے اپنے اور اہل وعیال ، بال بچوں کے ایمان پر توجہ دیں اور پھراسی ایمانی کیفیت پر ان کے کرداروواخلاق کو سدھارنے کی کوشش کریں۔

کردارواخلاق کی تربیت کے لئے دو بنیادی چیزیں درکار ہوتی ہیں پہلی چیز پیارمحبت اورعزت و احترام جبکہ دوسری چیز بہترین رول ماڈلنگ کی فراہمی ہے۔جب یہ دوچیزیں والدین کی طرف سے بچوں کو مل جاتی ہیں تو بچوں کے ایمان اور کردارواخلاق کی پرورش خود بخود ہوتی رہتی ہے۔والدین کوچاہیے کہ اپنے بچوں سے پیار کریں ان کو بوسہ دیں ان کو گلے لگائیں اور بچوں کو بھی بڑوں کا ادب واحترام سکھائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ بچوں سے بہت پیار فرماتے تھے ان کے سرپر شفقت سے ہاتھ رکھتےاو ر ان سے ہنسی اور دل لگی کی باتیں کیاکرتے تھے۔

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما جو ابھی بچے تھے دوڑتے ہوئے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراہٹ کے ساتھ ان کا استقبال کیا گود میں اٹھایا اور پیا ر کیا ۔ برابر میں ایک صحابی اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے یہ منظر دیکھ کر وہ تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے کہ میرے اتنے بچے ہیں میں نے زندگی میں کبھی ان کو پیار نہیں کیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں اللہ نے محبت نہ رکھی ہو تو میں کیا کرسکتا ہوں اور پھر فرمایا کہ” جو دوسروں پررحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا ۔” ( )

اپنے بچوں کو تحفہ دیں اور دوسروں کو تحفہ دینا سکھائیں۔ان کے ساتھ خوش طبعی اور ہنسی مذاق بھی کیا کریں۔ بچوں کی خبر گیری کرنا اور مسکراہٹ سے ان کا استقبال کرنا جذباتی طور پر بھی ان پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔بچوں کے سامنے کبھی والدین جھوٹ نہ بولیں اس سے ان میں یہ عادت پروان چڑھے گی خود بھی سچ بولیں اور سچ کو ان میں فروغ دیں جس سے ان کی اخلاقی حالت انشااللہ بہت اچھی ہوجائے گی۔

 

:جذباتی تربیت
پیرنٹنگ یعنی بچوں کی پرورش اور تربیت کے طورطریقے ہمارے ہاں عام طور پراپنے والدین کے طریقہ تربیت سے یاخاندان کے بڑوں کے انداز تربیت سے سیکھے جاتے ہیں اور اپنائے جاتے ہیں، جوعام طور روایتی انداز ہوتے ہیں۔ پیرنٹنگ کے روایتی انداز میں کچھ لوگوں کا انداز درست بھی ہوسکتا ہے لیکن اکثر یت کے انداز میں بنیادی خامیاں ہوتی ہیں کیونکہ یہ انداز علم وشعور پر مبنی نہیں بلکہ عام طورپر روایتی ہوتے ہیں۔علم ودانش ،جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جس طرح سے دنیا میں ہرچیز نے ترقی کرلی ہے اسی طرح سے پیرنٹنگ اور تربیت اولاد پر بھی دنیا میں نفسیاتی بنیادوں پر بہت زیادہ کام ہوا ہے۔

ہمار ی خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے پاس قرآن وسنت کی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۃ حسنہ بھی موجود ہے جس میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہترین اور موثرترین ہدایات موجود ہیں۔ ہمیں ان دونوں کو سامنے رکھ کر اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت کے لئے اصول وضع کرنے چاہییں۔ پیرنٹنگ اینڈ تربیہ کے موضوع کے مشہوراستاداور ٹرینر جناب سلمان آصف صدیقی صاحب کہتے ہیں کہ ایک بہت ہی مشہور لیکن انتہائی ناکام حکمت عملی بچوں کی پرورش ونگہداشت اور تربیت کے حوالے سے یہ ہے کہ بچوں کی اصلاح کے لئے ان کی غلطیوں کی باربار نشاندہی کی جائے اور باربار ا ن کی اصلاح پر زوردیا جائے۔

لیکن بچوں کی اصلاح کے لئے ایک غیر مشہور لیکن کامیاب ترین حکمت عملی یہ ہے کہ ان کی غلطیوں کو درگزر کیا جائے ، انہیں بھلادیاجائے لیکن ساتھ ہی ان کو اپنے کردار سے اچھا نمونہ دکھا دیا جائے۔ ذیل میں بچوں کی تربیت ونگہداشت کے چندنفسیاتی طریقے پیش خدمت ہیں۔

 

:اچھی کہانیوں سے تربیت
کہانیوں میں بچوں کی دلچسپی فطری ہوتی ہے وہ بچپن سے کہانی سننے اور تھوڑے سے بڑے ہوکر خودکہانیاں پڑھنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ان کہانیوں میں بچوں کوبہت لطف آتاہے وہ ٹارزن،جانگلوس اور بھوت پریت کی کہانیاں بڑے مزے سے سنتے ہیں۔ اب جب کہانی سننا ان کی فطرت کا حصہ ہے تو اس فطری کام کو تھوڑا سامقصدیت کی طرف مائل کیا جائے، ان کوبھوت پریت کی بجائے اچھی بامقصد کہانیاں سنائی جائیں، قصص القرآن اور قصص الانبیامیں سے سچے واقعات سنائے جائیں۔ اگربھوت پریت کی کہانی بھی کبھی کبھار سنانی پڑے تواس سے اچھانتیجہ نکال کر بچوں کو بتائیں کہ جس سے بچوں کے پاس کوئی نہ کوئی مہارت آجائے۔ اس طرح کی کہانیوں سے بچوں کی اچھی تربیت کاسامان کیا جاسکتا ہے۔

آج کی ریسرچ بتاتی ہے کہ بچوں کی اچھی تربیت ، ذہنی اور اخلاقی نشوونما کے لئےان کوباربار کہنے کی بجائے انہیں اچھی کہانیاں سنا کران سے سبق اخذ کروانا زیادہ موثر طریقہ ہے۔رہی یہ بات کہ یہ کس طرح سےممکن ہوسکتا ہے تواس حوالے سے گزارش ہے کہ آج کل یہ بہت ہی آسان ہے بچوں کے لئے ہرطرح کی کہانیوں کی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ ان میں بچوں کے لئے قصص القرآن، قصص الانبیا، سیرت رسول ، اسوہ صالحین کے علاوہ مختلف دلچسپ داستانیں کئی پبلشرز نے شائع کررکھی ہیں ۔ اپنے بچوں کے لئے اچھی کلیکشن بناسکتے ہیں ،اور یہ والدین کے شعور اور تربیت سے دلچسپی اور اس کو اہمیت دینے پرموقوف ہے اگر والدین اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سےسنجیدہ ہیں تو یہ اچھا طریقہ ہوسکتا ہے کہ اچھی کہانیوں کے ذریعے اپنے بچوں کی تربیت کی جائے۔

:مثبت توقعات کے ساتھ ترغیب کی حکمت عملی
بچوں سے مثبت توقع رکھنااور مثبت چیزوں کی طرف ان کو ترغیب دینا تربیت کے لئے بہتر عمل ہے ۔اورساتھ ہی اپنا رویہ بھی ان کے ساتھ ہمیشہ مثبت رکھنا ان کی جذباتی تربیت کے لئے بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے اگرچہ یہ کام کافی مشکل ہے۔بچوں کی شعوری سطح چونکہ کم ہوتی ہے ان کے لئے ہرچیز میں پرفیکشن ڈھونڈنا درست نہیں۔ والدین کی شعوری سطح اتنی ہونی چاہیے کہ وہ بچوں سے مثبت توقعات ہی رکھیں۔ان کی غلطیوں کو نظرانداز کریں کیونکہ وہ جوکچھ بھی کررہے ہوتے ہیں شعوری سطح سے نہیں کرتےبلکہ حالات او رمجبوری کی وجہ سے ایسا کررہے ہوتے ہیں۔ بچے کے گریڈاچھے آرہے ہیں یا نہیں ان کی تعلیمی کیفیت کیا ہے؟ان کے مختلف مضامین میں نمبر کم آرہے ہیں یا زیادہ ،ان تمام باتوں سے قطع نظر والدین کو اپنے بچوں پراعتماد کرنا چاہیے ان سے مثبت توقعات رکھنی چاہیے۔

:بچوں کو توجہ سے سننا
بچے جب والدین سے بات کرنا چاہیں تو ان کی بات کو غور سے سننا ، ان کی بات پر توجہ دینا، اگر وہ بات قابل عمل ہو تو اسے قبول کرکے اس پر عمل کرنا یہ سب بچوں کی تربیت کے حوالے سے نہایت ضروری باتیں ہیں۔ اگر وہ بات قابل عمل نہ ہو توبھی کم از کم بچے کی اس بات کو بغور سننا اس کواپنی زبان سے ایک دومرتبہ دہرانا اس بات کے حوالے سے بچے کی جوبھی پریشانی ہے اسے تسلیم کرنا بھی اہم ہے۔ہاں چونکہ وہ بات والدین کے لئے قابل عمل نہیں ہے تو سننے کے بعد والدین نہایت مثبت انداز سے اس کام سے معذرت کرسکتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے کو اپنی ذات کی اہمیت کا احساس ہوگا کہ اس کی بات پوری توجہ سے سنی گئی ہے، جس کو عام طور پر تصور ذات سے تعبیر کیا جاتاہے جو بچے کی خوداعتمادی کے لئے نہایت ضروری امر ہے۔

مثلا ایک دس سال کا بچہ ہے جواپنے والدین سے اسمارٹ فو ن مانگ رہا ہےجب کہ والدین اسے بچے کے لئے نقصان دہ سمجھ رہے اور دلانا نہیں چاہتے ۔ اب جب بچہ اس موضوع پر بات شروع کرے تو والدین فورا اس کی بات نہ کاٹیں اور نہ ہی فورا ڈانٹ پلا دیں کہ نہیں اس موضوع پر بالکل بات نہیں سنی جائے گی۔ بلکہ مناسب طریقہ یہ ہوگا کہ والدین بچے کی پوری توجہ سے سنیں اس کی چاہت اور ڈیمانڈ کو ایک مرتبہ اپنے لفظوں میں دہرابھی دیں۔کہ اچھا آپ کو اسمارٹ فون چاہیے اچھا آپ یہ چاہتے ہیں۔ یہ جملہ دہراکر بچے کو توجہ دینے کا احساس دلانے کے بعد مثبت طریقے سے معذرت کریں او ر صاف لفظوں میں کہہ دیں کہ بیٹا بات یہ ہے کہ چونکہ یہ تمہارے لئے نقصان دہ ہے اس لئے ہم ابھی نہیں دلائیں گے اس کے لئے آپ کو بڑے ہونے کا انتظارکرنا پڑے گا۔اور ساتھ ہی پیار سے اس کے نقصان دہ ہونے پر بھی اس سے بات کریں اور قائل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ایک مثال دی گئی ہے ورنہ گھرمیں بے شمار ایسے واقعات ہوتے ہیں جن میں والدین کو انکار کے ساتھ بچوں کو سمجھانا پڑتا ہے۔

:بچوں سے کھل کرگفتگو کریں
گفتگو اور مکالمہ بہت سارے مسائل کا حل ہے،والدین اور بچے ایک چھت کے نیچے زندگی گزاررہے ہوتے ہیں۔ دن کے چوبیس گھنٹے اور عمر کے ایام میں کئی نشیب وفراز آتے ہیں ، خاص کر بچے جب زیر تربیت ہوتے ہیں تو ان میں کئی تبدیلیاں آرہی ہوتی ہیں ۔ بچپن میں وہ والدین سے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں ان کا تمام ترانحصار والدین پر ہوتا ہے جب وہ عنفوان شباب ، ٹین ایج یا بلوغت کے دور میں پہنچتے ہیں تو ان کے انداز بدل جاتے ہیں وہ والدین سے ذرادور ہونے لگتے ہیں دوستوں کے زیادہ قریب ہونے لگتے ہیں ۔اس دوران ان میں کچھ نہ کچھ جارحانہ پن بھی پیداہوجاتا ہے وہ دوستوں کے انداز واطوار سے زیادہ متاثر ہونے لگتے ہیں جس سے والدین اور ان بچوں کے تعلقات میں دراڑ پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

یاد رکھیئے ان تمام مراحل میں تربیت کے حوالے سے جوچیز موثرترین ہے وہ مکالمہ ہے اگران مراحل میں کہیں بچوں سے کوئی فروگزاشت ہوجاتی ہے یا والدین اپنے بچے کی تربیت کے حوالے سے زیادہ فکر مند ہیں تو اس فکر کو آگے بڑھانے کا موثرترین ذریعہ مکالمہ اوربات چیت ہے۔ اپنے بچوں سے خوب بات چیت کیجئے ، گفتگو کیجئے،مکالمہ کیجئےاورگھر میں بات چیت کے لئے ماحول بنائیے ۔ یہ بات چیت اس طرح سے ہو کہ یکطرفہ لیکچر نہ ہو بلکہ دونوں سے طرف سے گفت وشنید ہو۔ بچے کی بات کو بھی سنیے اپنی بھی سنائیے عام گفتگوبھی کیجئے اور کام کی بات بھی کیجئے۔یہ بات چیت یا مکالمہ آپ اپنے بچوں سے زبانی طور پر ، لکھ کر ، ٹائپنگ کے ذریعے یا ڈرائینگ وغیر ہ کے ذریعے جاری رکھ سکتے ہیں ۔اگر مکالمہ کے میڈیم میں تنوع ہو تو بات چیت میں زیادہ تاثیر پیدا ہوسکتی ہے۔

:سماجی تربیت
ہمارے دین میں معاشرتی تعلقات کی بہتری، مضبوطی اور معاشرے کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے او ر قریب کرنے کے لئے کئی
اقدامات کئےگئے ہیں۔مثلا رشتوں کو نبھانے اور صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ، حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص سے بھی رشتہ نبھانے کی کوشش کرو جو تم سے قطع تعلقی کرے۔( )اور قطع تعلقی کرنے والوں کے لئے جنت کی خوشبو کو حرام قراردیا۔ ماں باپ، بہن بھائی او ر دیگر رشتوں کے احترام کے حکم کے ساتھ ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا۔ نکاح خونی رشتوں کے اندر حرام قراردیا بلکہ باہر سے نکاح کرنے کاحکم دیا گیا تاکہ معاشرے میں سسرالی رشتے قائم ہوں اور معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوں۔

قرآن کریم میں خونی رشتے کے ساتھ سسرالی رشتے کوبھی اللہ تعالی نے ایک نعمت کے طور پر ذکرفرمایا۔ دین نے رشتہ داروں کے علاوہ پڑوسیوں کے بھی بے شمار حقوق متعین کئے۔ اس کے علاوہ دن میں پانچ نمازوں ،جمعہ وعیدین کے لئے مسجد جانے کا حکم دیا تاکہ لوگ ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ مل سکیں۔اور سب سے بڑھ پوری امت کو یکجا کرنے ، باہمی تعارف اور رشتوں کی مضبوطی کے لئے عمربھرمیں ایک مرتبہ حج فرض قراردیا جہاں پوری دنیا کے مسلمان مل کر اللہ کے آگے سرجھکاتے ہیں۔ان تمام عبادات کے دیگر مقاصد کے علاوہ ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ معاشرتی تعلقات مضبوط ہوں۔

بچوں کی تربیت کے دوران معاشرتی تربیت نہایت اہم ہے بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی ایام ماں کی گود میں گزارتا ہے ذرا ساشعورآنے کے بعد گھراور خاندان کے رشتوں کو پہنچاننے لگتا ہے اس دوران والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان رشتوں کی اہمیت، باہمی احترام اور ان کے حقوق بھی اپنے بچوں کے گوش وگزارکریں۔ خاندان کے علاوہ پڑوسیوں کے حقوق محلہ داری کے مراسم ، لوگوں سے مل جل کررہنے کے آداب بھی بچوں کوسکھائیں۔بچوں کی تربیت کا اہم ترین مقصد ان میں خوداعتمادی ، تخلیق کاری اور اعلی کردار کو پیدا کرکے پروان چڑھاناہے تاکہ بچے زندگی میں اچھے معاشرتی رویوں کااظہار کرناسیکھ سکیں۔چنانچہ والدین کوچاہیے کہ اپنے بچوں میں خوداعتمادی ، تخلیق کار ی اوراعلی کردار کے اوصاف پیدا کرنے کی بھرپورکوشش کریں، بچوں میں اچھے معاشرتی رویوں کو فروغ دینے کے لئے مندرجہ ذیل کام مفیدہیں۔

 

:والدین بہترین معاشرتی رویوں کا اظہارکریں
یہ بات پہلے بھی گزرچکی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے اولین رول ماڈل ہوتے ہیں، خاص کر بہترین معاشرتی رویوں کے اظہار میں والدین کی اچھی رول ماڈلنگ سے بہتر کوئی چیز نہیں ہوسکتی ۔ معاشرتی تعلقات اور رشتے نبھانے میں جیسا کردار خودوالدین کا ہوتا ہے بچے وہی کردار اپناتے ہیں۔ اگروالدین کا کااس حوالے سے کردار بہتر ہو وہ رشتوں کی نبھاہ کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہوں ، پڑوسیوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتے ہوں ،نیز معاشرتی معاملات میں وہ مثبت کردار اداکرنے کے حامل ہوں۔ لوگوں سے پیار محبت اور اخلاق سے پیش آنے کے ساتھ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہوں یقینا یہ اوصاف ان کے بچوں میں بھی منتقل ہوجائیں گی ۔ بچوں کو الگ سے کچھ کہنے اور سمجھانے کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آئےگی۔ اس لئے مضبوط رول ماڈلنگ کی ہی اس کا حل ہے۔

 

:اعلی کردار کی نشوونما اورحوصلہ افزائی
اگرآپ کے بچے اچھے معاشرتی کردار کا مظاہرہ کریں تو ان کے کردار کی ضرور حوصلہ افزائی کریں۔ مثلا بچے لوگوں سے ملنا جلناپسند کرتے ہیں پڑوسیوں کی خدمت میں آگے رہتے ہیں، بیماروں کی تیمارداری میں خوشی محسوس کرتے ہیں، پابندی سے مسجد میں نمازوں اور جمعہ کے لئے حاضر ہوتے ہیں ، یا کمیونٹی معاملات مثلا مسجد کی خدمت یا محلے کے اچھے پروگراموں میں وہ آگے بڑھ کرکام کرنے کو کوشش کرتے ہیں تو اس حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔لیکن اگروہ ان معاملات میں کمزورہیں یا ان کاموں میں اپنا کردار ادا نہیں کرنا چاہتے تو والدین کو چاہیے کہ وہ ان کو ان مواقع میں آگے کریں حوصلہ افزائی کریں۔پہلے والدین خود ان معاملات میں اپنا حصہ اداکریں رول ماڈلنگ کریں تو بچے دیکھ کرخود یہ کام کرنے لگیں گے جب بچے کرنے لگیں تو والدین کو چاہیے کہ ان کی حوصلہ افزائی کریں اس سے بچوں سوشل سینس پروان چڑھے گا۔

 

:خوشگوار تعلقات کی تنظیم
خوشگوار تعلقات مضبوط خاندان کوتشکیل دیتے ہیں اور مضبوط خاندانوں سے مضبوط معاشرہ وجود میں ہے۔اس لئے گھر میں بچوں اور خاندان کے افراد میں خوشگوار تعلقات کی تنظیم نہایت اہم ہے۔اس مقصد کے لئے سب سے پہلے اپنی ذات پر کام کرنا ضروری ہے تاکہ اسٹریس میجنمنٹ ، صبروتحمل اورشکرگزاری کے عظیم اوصاف کوپہلے اپنی ذات کا حصہ بنایاجاسکے اور پھر آہستہ آہستہ رول ماڈلنگ سے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد میں فروغ دیا جاسکے۔یہ خوشگوار تعلقات جب بچوں اور افراد خانہ میں قائم ہوتے ہیں تو دوسری فیملیز ، پڑوسیوں، رشتہ داروں اور عام معاشرے کے افراد کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

 

:ماحول دوستی کو فروغ دینا
جب ہم معاشرتی رویوں میں بہتری کو فروغ دینے کی بات کریں تو ہمارے پاس موجود قدرتی وسائل ، ماحولیاتی مسائل اور ہمارے اردگرد پائی جانے والی تمام قدرتی چیزیں اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔اس میں قدرتی وسائل بجلی ، پانی ، گیس اور دیگر روزمرہ استعمال کی چیزیں شامل ہیں، نیز ہمارے ماحول میں پائی جانے والی ہرطرح کی قدرتی یا مین میڈ ہریالی اور خوب صورتی کے علاوہ چلنے کے راستوں کی حفاظت بھی شامل ہے۔ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے ہمارے لئے ان تمام چیزوں کا تحفظ ضروری ہے۔

ہمیں خود بھی ماحول دوست بننا چاہیے کہ اپنے گھر کے علاوہ اردگردکے ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار اداکریں۔گندگی خود بھی نہ پھیلائیں اور کہیں گندگی پھیل جائے تو اس سے اپنے ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں۔ جب والدین بحیثیت منٹور یا رول ماڈل اس طرح سے ماحول دوستی کا رویہ اپنائیں گے تو یقینا بچے بھی اس شاندار رویے کو اپنائیں گے۔ ان کے فکروعمل میں بھی وہی چیز آئیگی جو والدین نے اپنا یا ،یوں یہ وصف ہمارے خاندان کی ترجیحات میں شامل ہوجائے گا کہ ہمیں خود بھی اپنے ماحول کو ہرطرح سے پاک صاف رکھنا ہے اورکسی بھی قسم کی آلودگی سے پاک رکھنے میں اپنا بھرپورکرداراداکرنا ہے۔

ان تمام باتوں کے پیش نظر والدین کے لئے بچوں کی سماجی تربیت نہایت ضروری ہے، جو والدین خود جتنے زیادہ سماجی طور پر متحرک اور انسان دوست ہونگے لوگوں سے اچھے تعلقا ت کی اہمیت کو نہ صرف جانتے ہونگے بلکہ بھرپور طریقے سے نبھاتے ہونگے، اتنے ہی ان کے بچے بھی سوشل ہونگے آج کل سوشل جینئس ہوناباقاعدہ ایک اصطلاح بن چکاہے ۔ یہ خصوصیت آج کے انسان کی کامیابی کی ضمانت کہلاتی ہے چنانچہ اپنے بچوں کو سوشل جینئس بنانا والدین کی تربیت کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ معاشرے کا ابتدائی یونٹ گھر ہوتا ہے، گھر کے اندر ایک فیملی یا جوائنٹ سسٹم میں ایک سے زائد فیملیاں بھی ہوتی ہیں، گھرمیں والدین کے علاوہ بہن بھائی، چچا تایا، پھوپھی خالہ،بھانجے بھتیجے، کزنزاور دیگر رشتہ داربھی ہوتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو ا ن رشتوں کی پہچان کروائیں ان کی اہمیت بتلائیں ان کی اہمیت کو بچوں سے محسوس کروائیں۔ چھوٹے بڑے کی تمیز اور ادب آداب جو دین نے ہمیں سکھائے ہیں اور وہ ہماری اقدار کا حصہ ہیں بچوں کو ان کی تلقین کریں اور گھر میں اس کا ماحول بنائیں۔ گھر اور خاندان سے باہر نکل کر پڑوسی، دیگر محلہ دار پھر شہر اور پھر پور ے معاشر ے سے انسان کو واسطہ پڑتا ہے۔ آج دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے تقریبا پور ی دنیا ایک معاشرہ کاروپ اختیارکر چکی ہے۔ چنانچہ اپنے معاشرے سے جڑنا اور اپنے معاشرے کے افراد سے مانوس رہنا ہر شہر ی کی ذمہ داری اور ضرورت بھی بن چکی ہے۔

والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو سوشل بنائیں، لوگوں سے ملنے جلنے کی حوصلہ افزائی کریں، ان کو دوست بنانے کا موقع دیں البتہ اچھے دوستوں کے انتخاب میں ان کی مدد کریں کہ دوست وہ ہونے چاہییں جو زندگی کے بڑے مقصد میں ہمارے دست وبازو ہوں نہ کہ اس میں رکاوٹ ہوں۔ اس حوالے سے نبی کریم ﷺ کی ہد ایت بھی موجودہے آپ فرماتے ہیں: المرء علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل( )” انسان اپنے دوست کا ہم مذہب ہوتا ہے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ دوستی کررہا ہے۔“

اس حدیث میں واضح ہدایت موجود ہے کہ دوست کا انتخاب سوچ سمجھ کرکرنا چاہیے معاشرے میں ہرآدمی سے ملاتوجاسکتا ہے لیکن ہر ایک کو دوست نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے لئے یہ معیار ہونا چاہیے کہ جو شخص زندگی کے بڑے اور حقیقی مقصد میں آپ کا ہمنوا بن سکتاہے وہ دوست بنانے کے قابل ہے اور جو اس میں رکاوٹ ڈالے یا زندگی کے حقیقی مقاصد سے انسان کو دور کرنے کا ذریعہ بنے وہ دوست بنانے کے قابل نہیں۔

:دوست آن باید کہ گیرد دست دوست در پریشانی ودرماندگی

اب ظاہر ہے بچوں کو اس معیار کی سمجھ تو نہیں ہوتی چنانچہ والدین کو اس سلسلے میں اپنے بچوں کی مدد کرنی چاہیے۔
اسی طرح رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے کی حوصلہ افزائی کریں ان کو فون کال کروائیں، نیز لوگوں میں گھل مل کررہنے میں ان کی مدد کریں اس سے ان میں خود اعتمادی بڑھے گی جو انسان کی کامیابی کا راز ہے، تاہم ان تمام کاموں میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیں۔ کہیں زیادہ سوشلائز کرنے کے چکر میں زندگی کا اصل مقصد ہاتھ سے نہ جانے پائے، ظاہر ہے بچے نے اپنے والدین اور اساتذہ کی مدد سے اپنی زندگی کے کچھ اہداف اور ٹارگٹس متعین کئے ہونگے۔ زندگی کا ہر وہ کام جو انسان کو اس کے مقصد زندگی، وژن اور نصب العین کی طرف بڑھارہا ہو وہ قابل ستائش ہے اور ہروہ کام جو اسےزندگی کے اصل مقصد اور ہد ف تک پہنچنے میں رکاوٹ بنے وہ کام حوصلہ شکنی کے قابل ہے۔اللہ تعالی ہمیں درست راہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

:ذہنی وشعوری تربیت
عقل وشعور اللہ تعالی کی خاص عطا ہے جس کے بل بوتے پر انسان دیگر مخلوقات سے برتر وافضل ہے۔ اور عقل وشعور کی وجہ سے ہی آج انسان ترقی کے اوج کما ل پر پہنچ چکا ہے۔ تعلیم و تربیت کے ذریعے اس خداداد شعوراورعقل کو جلا بخشنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے۔جب عقل وشعور کو علم کی روشنی مل جاتی ہے تووہ اپنا جوہر دکھلانے لگتاہے یوں انسان ترقی کے مدارج طے کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔موجودہ زمانے میں انسان کی دنیاوی ترقی اور اس کی چکاچوندخداکی دی ہوئی عقل وشعور کو علم کی روشنی سے منور کرنے اور سائنس وٹیکنالوجی کی مدد سے کائنات کے رازوں کو ڈھونڈ نکالنے کی مرہون منت ہے۔

سائنس وٹیکنالوجی اور عصری تعلیم کے علاوہ ایک اور علم ہے جو وحی الہی کہلاتا ہے جس کو ہم قرآن و حدیث کا علم کہتے ہیں اس علم کے پیکیج سے وجود میں آنے والے نظام کودین یا شریعت کا علم کہا جاتا ہے۔وحی پر مبنی اس علم کا دائرہ سائنس وٹیکنالوجی اور جدید علم سے کہیں ماوراء اور فائق ہے، جہاں جاکر جدید علم ،سائنس وٹیکنالوجی کے حدود ختم ہوجاتے ہیں وہاں وحی الہی کا دائرہ شروع ہوجاتا ہے۔ بہرحال سائنس وٹیکنالوجی اور وحی الہی کی شکل میں موجود دونوں علموں سے انسانی ذہن وشعور کو تربیت فراہم کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں انسانی ذہن ترقی پاتا ہے اور دونوں جہانوں میں کامیابی انسان کامقدر بن جاتی ہے۔

اولاد کی ذہنی وشعوری تربیت میں ان دونوں علموں سے استفادہ کرنا عہدحاضر میں نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ ان دونوں کے ملاپ سے ایسا جوہر پیدا ہوتا ہے جوانسانی حیات اورلازوال کامیابیوں کے لئے ضروری ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولا د کی ذہنی تربیت کے سلسلے میں سنجیدہ ہوجائیں ان کے عقل وشعور کو وحی الہی کے نور سے منور کرنے کا انتظام کریں اور ساتھ ہی دنیاوی ترقی کے حصول کے لئے ان کو جدید علم سے بھی آراستہ کریں۔ اس سلسلے میں کسی ایک علم کوبھی چھوڑ دینا ذہنی وشعوری تربیت کے عمل کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔

تاہم ان دونوں کی آئیڈیل ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ پہلے بچے کو دین کا علم سکھا یا جائے بچہ جیسے ہی بولنے لگ جائے اس کو کلمہ طیبہ سکھایا جائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افتحواعلی صبیانکم اول کلمۃ بلاالہ الا اللہ ولقنوھم عندالموت لاالہ الا اللہ ( )” اپنے بچوں کو سب سے پہلے کلمہ لاالہ الا اللہ سکھاؤ اور موت کے وقت بھی انہیں لاالہ الا اللہ کی تلقین کرو۔“

ایک دوسری حدیث میں فرمایا: من ربی صغیراً حتی یقول لا الہ الا اللہ لم یحاسبہ اللہ ( )”جو شخص اپنی اولاد کی اس طرح تربیت کرے کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگے تو اللہ تعالی اس سے کوئی حساب کتاب نہیں لیں گے۔“ اس بارے بزرگ فرماتے ہیں: سب سے پہلے مسلمان بچے کو قرآن سکھانا چاہیے ضروریات دین کی تعلیم دینی چاہیے، خواہ اردو میں یا عربی میں مگر انگریزی سے قبل ہو۔ یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ آنکھ کھلتے ہی ان کو انگریزی میں لگادیا جائے،اول تو قرآن شریف پڑھاؤ۔

حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اس سلسلے میں فرماتے ہیں
”بچپن میں ایک مرتبہ بچوں کو قرآن کریم ضرور پڑھاؤ، اس کے قلب کو قرآن کریم کے نور سے منور کرو، اس کے بعد اس کو کسی بھی کام میں لگاؤ ان شا ء اللہ قرآن کریم کے انواروبرکات اس کے اندر شامل حال ہونگے۔ جب قرآن اسے پڑھادیا یاکان کے ذریعے ایمان کا بیج اس کے دل میں پیوست کردیاجائے تجربہ یہ ہے کہ جو بچے مکتب میں قرآن کریم پڑھ کرجاتے ہیں تو وہ کسی بھی ماحول میں چلے جائیں ایمان کا بیج ان کے دل کے اندر محفوظ رہتا ہے۔

بہرحال اس بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ بچے کو دینی تعلیم اور جدید تعلیم دونوں سے آراستہ کرنا چاہیے دونوں کی اپنی اپنی ضرورت ہے بچے کو کسی ایک علم سے محروم کرنا اس کے ساتھ زیادتی ہے۔ البتہ ترتیب میں دینی علم مقدم ہے کہ شروع اسی سے کیا جائے اور پھر اس کو دنیا کی اعلی تعلیم بھی دلائی جائے اس سے انشاء اللہ بچے شعوری طور پر تشفی محسوس کریں گے۔ اوریہ بچے والدین کے لئے دنیا میں سہارا نیک نامی کا ذریعہ اور آخرت کے لئے صدقہ جاریہ اور سرخروئی کا سبب بنیں گے۔

 

:خلاصہ کلام
جیساکہ اوپر عرض کیا گیا کہ اولاد کی درست اور معیاری تعلیم وتربیت والدین کا فرض منصبی ہے والدین کو چاہیے کہ اس فرض کی ادائیگی سے پہلے خود اپنی تربیت حاصل کریں۔ والدین دیکھیں کہ اولاد کی تربیت کتنا ضروری عمل ہے نہ کرنے کا نقصان کیا ہوسکتا ہے؟ اولادکی تربیت کی بنیادی شرائط کیا ہیں مراحل کیا ہیں؟بچے کی عمر کے مراحل کیا ہیں کس مرحلے میں کیا تربیت ہونی چاہیے؟وہ پانچ ایریاز کون کونسے ہیں جن میں بچوں کی تربیت کرنا ضروری ہے ورنہ کسی ایک ایریا کو فوکس کرنے کے نتیجے میں دیگر پہلو اور ایریا ز نظر انداز ہوجائیں گے اور بچے کی جامع تربیت نہیں ہوسکے گی۔اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ ہماری اولاد ایسی تربیت یافتہ ہو کہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے، ددنیا میں نیک نامی ،باعث سکون وراحت اور آخرت کے لئے صدقہ جاریہ ہو۔ آمین یارب العالمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*