بچوں کو ذمہ داری سکھانا

بچوں کو ذمہ داری سکھانا

بچوں کو عمر کےساتھ آہستہ آہستہ ذمہ داریوں کے لئے تیار کرتے رہنا چاہیے۔اگر وقت کے ساتھ ان کو تیار نہ کیا جائے۔ اوربلوغت کے بعداچانک ان پر ایسی ذمہ داریاں ڈالی جائیں۔  جن کو اٹھانے کا  کوئی تجربہ ان کے پاس  نہ ہو۔تو ان کے لئے بہت مشکل ہوجائے گی۔اس کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ بچہ جب ٹین ایج میں داخل ہو۔ تو اس کی روٹین میں تعلیمی سرگرمیوں اور دینی فرائض  کے علاوہ گھرکے چھوٹے موٹے کام بھی  شامل کرنے چاہییں۔ اور آہستہ آہستہ ان کاموں میں اضافہ کرتے رہناچاہیے۔

 ان کاموں میں گھرکاسودا سلف لانا، اپنے کمرے کی  روزانہ صفائی، اپنے کپڑے استری کرنے کے علادہ اپنے ذاتی کام خود کرنااور چیزوں کو ترتیب سے اپنی اپنی جگہ رکھنا ہوسکتاہے۔ اس کی جیب خرچ پورے مہینہ کی ایک ساتھ اسے دیا جائے تاکہ اپنے پاس موجود پیسے کو مہینہ بھر مینج کرسکے۔ اس کے علاوہ کچھ    مالی ذمہ داریاں بھی اس کے ذمہ لگادینی چاہیے۔    مثلا اسے اپنا ذاتی خرچہ خود اٹھانے کا کہاجاسکتا ہے۔یاکمانے کا چھوٹا کام دے کر اس سے کچھ رقم کا ہفتہ واریا ماہانہ اس سے مطالبہ بھی کیا جاسکتاہے۔

بچے کےذمہ جب ذمہ داریاں ڈالی جاتی ہیں۔ اور اس کو اچھی طرح اس سے باخبر بھی کیا جاتا ہے۔ تو بچہ اس کو کرنا شروع کرتا ہے۔ ابتدایہ کام مشکل لگتاہے۔ لیکن جب یہ ڈیوٹی کا حصہ بن جائے۔ تو بچہ اس ڈیوٹی کو انجام دینے کا عادی ہوتاجاتاہے۔ ذیل میں کچھ چیزیں بتائی جاتی ہیں۔ جن کو کرنے سے بچے میں احساس ذمہ داری پیداکی جاسکتی ہے۔

:فیملی سے باہر تعلقات یا سرگرمیوں کو سپورٹ کریں

ٹین ایج میں بچے اپنے لئے نئی دنیا ، نئی سرگرمیاں اور نئے دوست تلاش کررہے ہوتے ہیں۔یہ ان کی فطر ت کا حصہ ہے، جس سے وہ دنیا میں اپنے لئے خودانحصاری کا راستہ  ڈھونڈ رہے ہو تے ہیں ۔ اگرآپ ان کو روکیں گے۔ تو وہ اس سرگرمی کو آپ سے چھپائیں گے ضرور، لیکن چھوڑیں گے نہیں ۔ اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کہ وہ نئی دنیا اور دوست ایکسپلورکریں۔ لیکن نئے دوست  کی خصوصیات کہ وہ کس طرح کے ہوں اور کس طرح نہ ہوں یہ ضرور ان کے سامنے واضح کریں۔ اس طرح جب والدین ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ کچھ اصول بھی ان کو دیں گے۔ توان میں اعتماد کی بحالی کے علاوہ غلط دوستوں سے احتیاط کی روش پیدا ہوگی۔

 :ہفتہ وار گھر کے چھوٹے موٹے کام کروائیں

بچوں سے خاص کرٹین ایجرز سے یومیہ یا ہفتہ وار گھر کے چھوٹے موٹے کام ضرورکروانے چاہییں۔ مثلاپورے گھر کی صفائی ، اپنے کمرے کی صفائی کےساتھ کچراکوڑے دان میں ڈالنا، کپڑے دھونا یا استری کرنا وغیرہ۔ اس کے علاوہ ہفتہ وارکوئی ایک ڈش تیارکرنایا اس طرح کے اورگھریلوکام ان کے ذمہ لگائے جاسکتے ہیں۔ اس طرح سے بچے ااس عمر سے کچھ کام کرنے اور مینجمنٹ کرنے کے عادی ہوجائیں گے۔ جب بالغ ہونے کے بعد پورے گھرکی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آئے گی۔ تو ان کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں گا۔

:درست فیصلہ کرنے میں ان کی مدد کریں

اپنے بچوں کو فیصلہ سازی کا عادی بنائیں۔ ان سے اپنے ذاتی کاموں اور گھرکے کاموں کے  فیصلے کروائیں ۔اور اس سلسلے میں ان کی مدد کریں۔ہرفیصلے کا کوئی نہ کوئی اچھا یا برا نتیجہ ہوتا ہے۔ بچے سے فیصلے کروا کر اس کو نتائج کا سامناکرنے کابھی موقع دیں۔تاکہ وہ درست فیصلے کے عادی ہوں۔مثلا بچہ امتحان کے دنوں میں دوستوں کے ساتھ باہر جانے کا پروگرام بنارہا ہے ۔، آ پ اس سے کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف باہر جانے کا پروگرام ہے۔ اور دوسری طرف تمہارے امتحان کے دن ہیں۔ باہرجانے کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ امتحان میں تمہارے نمبرخراب آئیں گے یا فیل ہوجائیں گے۔لہذا دونوں کودیکھ کرخودہی فیصلہ کرے اورنتیجے کے لئے بھی تیار رہے۔

:پابندیوں میں لچک پیداکریں

بچوں کے لئے اور گھرکے لئے تربیہ کے جو اصول وضوابط بنائے گئے ہیں ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی خاص واقعہ یا حالات کی وجہ سے وہ  موثرنہیں رہتے ۔ ایسے میں ان اصولوں کوتوڑنے کے بجائے ان میں لچک پیداکی جاسکتی ہے۔ مثلارات کو سونے کا ٹائم سب کے لئے رات گیارہ بجے کا رکھاہوا ہے۔ لیکن کسی سفر کی تیاری یا کسی سفر سے واپسی یا کسی شادی وغیرہ کے پروگرام کی وجہ سےاس اصول پر عمل درآمد ممکن نہیں رہتا۔ ایسے وقت میں اس خاص اصول میں کوئی نہ کوئی لچک پیدا کی جاسکتی ہے۔ اور اپنے معمولات کے مطابق اس میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ اصول بھی برقراررہے اور اس خاص دن کے لئے لچک بھی نکل آئے۔ یہی لچک بچے کے لئے بھی کسی خاص ایونٹ کے موقع پر رکھی جاسکتی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*