بچوں کی جذباتی تربیت اور والدین کی ذمہ داری

بچوں کی جذباتی تربیت

 جذبات، جذبہ کی جمع ہیں۔ جذبہ ایک کیفیت  ہوتی ہے جو انسان کے دل ودماغ میں پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کے شعورکی سطح کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ جذبات کسی قانون کے ماتحت نہیں ہوتے، کیونکہ قانون کا تعلق شعور کی سطح سے ہے۔دوسرے الفاظ میں جذبات ان حیاتیاتی کیفیات کو کہتے ہیں جو انسان کے اعصابی نظام سے منسلک ہوتے ہیں۔انسان  کے خیالات ، احساسات اور رویے اس میں داخل ہیں۔ 

جذبات اور جذبہ میں تھوڑا سا فرق ہے۔ کہ جذبہ بنیادی طورپر انسان کے اندر اٹھنے والی ایک لہر کا نام ہے۔ جسے اگر بروقت جنون میں تبدیل کرکے کسی ارفع مقصد کے لئے استعمال  کیا جائے تویہ  ہمیشہ کے لئے امر ہوجاتا ہے۔ اسکے مقابلے میں جذبات وقتی طور پر اٹھنے والی لہروں کی طرح ہیں جو بلبلے کی مانند بہت جلد پھولتے ہیں۔ اور جلد ہی ختم بھی  ہوجاتے ہیں۔تاہم انسانی مزاج اور رویوں پر ان کے دیرپااثرات باقی رہتے ہیں۔

جذبات کی قسمیں

جذبات  دو طرح کے ہوسکتے ہیں منفی جذبات اور مثبت جذبات۔دوسرے لفظوں میں انہیں تعمیری اور تخریبی جذبات بھی کہہ سکتے ہیں۔ جب ہم  جذبات کی حالت میں ہوتے ہوئے اپنا  کوئی خاص رویہ ظاہر کرتے ہیں تو اس کو جذباتی کیفیت کا نام دیا جاتا ہے۔ جذباتی کیفیت انسان کی برین کیمسٹری کو تبدیل کرتی ہے۔اس سے انسانی دماغ مختلف قسم کے ہارمونز کا اخراج کرتا ہے جو نارمل حالت کے ہارمونز سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس  سے اس کی جسمانی کیفیت بھی بدلتی رہتی ہے۔

مثلا جب  انسان کو غصہ آجاتا ہے تو اس کی برین کیمسٹری متاثر ہوتی ہے۔ اور اس کے دماغ سے مختلف قسم کے ہارمونز کا اخراج شروع ہوجاتا ہے ۔غصے کی وجہ سے اس کی جسمانی کیفیت بھی بدل جاتی ہے اور انسان  نارمل حالت سے ابنارمل حالت میں چلاجاتاہے۔

اسی طرح جب انسان کو خوف لاحق ہوجائےتو اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔اسٹریس یا غم ہو تو دماغ پر بوجھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔خوشی کی حالت میں اس کے تمام اعضاوجوارح نارمل کام کررہے ہوتے ہیں۔ یوں جذباتی کیفیت کی جھلک انسان کے چہرے اور رویے سے ظاہر ہوتی ہے ۔

اور یہ جذبات بعد میں مستقل طورپر انسانی رویوں اور عادات کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔انسانی جذبات کی تعداد اتنی ہی  ہے جتنی انسان کے احساسات اور ان کے تحت ظاہر ہونے والے رویے ہیں۔ تاہم ایک ریسرچ کے مطابق بنیادی طور پر سات قسم کے جذبات پائے جاتے ہیں۔  باقی سب ان کی فروع یا شاخیں ہیں۔ یہ جذبات مندرجہ ذیل ہیں۔ خوشی، غم، غصہ ، نفرت، حیرت وتعجب،مایوسی اور خوف۔ان کے علاوہ بھی کئی جذبات پائے جاتے ہیں مثلا فخریاتکبر، شرمندگی، پرجوش ہونا، آرام وسکون محسوس کرنا اور اطمینا ن کی کیفیت وغیرہ ۔

جذباتی ذہانت کیا ہوتی ہے؟

یہ  جدید  نفسیات کی ایک  اصطلاح ہے جو آج کی سوسائٹی میں کا فی  استعمال ہورہی ہے۔اس کا مطلب یہ  ہےکہ جب انسان کو اپنے جذبات پرمکمل کنٹرول حاصل ہوجاتا ہے۔ اور وہ اپنے جذبات کی لگام کو اپنے پاس رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق ان کو استعمال کرنے پر قادر ہوجاتا ہے۔ تو اس کے رویے بھی مثبت رویوں کی شکل اختیار کرلیتے  ہیں۔ اسی جذباتی کیفیت کو جذباتی ذہانت کانام دیا جاتاہے ۔  عام طورپر جذبات انسانی شعور کو ڈرایئو کررہے ہوتے ہیں۔  اسی وجہ سے ان کا نام جذبات رکھا گیا  ،کہ وہ انسانی شعور کواپنے اندر جذب کررہے ہوتے ہیں۔

اگر جذبات انسان کے کنٹرول میں ہوں تو اسے  جذباتی ذہانت کا نام دیاجاتا ہے۔ایسے لوگوں کا ای کیولیول  بہت بلند ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر جذبات اپنے کنٹرول میں نہ ہوں بلکہ انسان خوداپنے جذبات کے کنٹرول میں ہو توا سے جذباتیت کا نام دیا جاتاہے۔

 بچوں کی تربیت کے پانچ ایریاز

یہ حقیقت ہےکہ بچے ہمارا مستقبل ہیں۔  ہمیں ان ننھے پودوں کا مالی کی طرح خیال رکھنا پڑتا ہے۔ بچوں کی تربیت میں ہمیں بنیادی طور پر پانچ جہتوں کا خیال رکھنا چاہیے یعنی  ان پانچوں ایریا ز میں بیک وقت تربیتی کام کرنا چاہیے۔ وہ پانچ ایریاز مندرجہ ذیل ہیں۔ 1۔ دینی تربیت، 2۔ جسمانی تربیت ،3۔  ذہنی تربیت، 4۔ سماجی تربیت  ، 5۔ جذباتی تربیت 

یہاں ہم بچوں کی صرف جذباتی تربیت اور اس کی تفصیلات ذکر کریں گے۔

بچوں کی جذباتی تربیت

بچوں کی جذباتی تربیت سے مراد بچوں کے خیالات ، احساسات، مزاج اور رویوں کی تربیت کرنا ہے۔ بچوں کی تربیت میں یہ اہم ترین ہونے کے ساتھ ساتھ عام طور پر انتہائی نظر انداز میدان بھی  ہے۔والدین اور اساتذہ عام طور پر بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت پر پر زور دیتے ہیں۔ اورکسی حد تک دینی تربیت پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔لیکن سماجی وجذباتی تربیت عام طور پر نظر انداز ہوجاتی ہے۔

یہاں  پرایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرنا  ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ تعلیم اور تربیت کے درمیان فرق کو عام طور پر ذہن میں نہیں رکھا جاتا۔تعلیم ہی کو تربیت خیال کرکے تربیت کو بسااوقات کلی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ابھی بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، بڑے ہونے کے بعد خود بخود ان کی تربیت اچھی  ہوجائے گی۔

حالانکہ یہ شدید غلط فہمی ہے، تعلیم پر کام کرنے سے تربیت قطعا نہیں ہوسکتی۔ یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں اور دونوں پر الگ الگ کام کرنا پڑتاہے۔اگر ہم تعلیم اور تربیت میں فرق کو جاننا چاہیں تو تعلیم کا تعلق انسان کے فہم ، شعور اور ادراک سے ہے۔تعلیم میں بچے کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے فہم وشعورکو بہتر کیا جاتا ہے اور بس۔ جبکہ تربیت میں بچے کے مزاج پر کام کیا جاتا ہے۔یعنی تعلیم یہ ہے کہ متعلم شعوری طور پر اچھے کو اچھا سمجھے اور برے کو براسمجھے ۔ یا اچھے کو اچھا بتائے اوربرے کو برا بتائے ۔

جبکہ تربیت یہ ہے کہ اچھائی اس  کواچھی لگنے لگے اور برائی اسے بری لگنے لگے۔صرف جاننا کافی نہیں بلکہ یہ اچھائی اس کے مزاج کا حصہ بنے اور اسے اچھی لگنے لگے۔ اسی طرح برائی اسے بری لگنے لگے اور وہ برائی سے بچنے کی ازخود کوشش کرنے لگے۔مزیدپڑھئے

جذبات اور عقل کا تعلق 

جذبات ہمارے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو  بہت متاثر کرتے ہیں۔ ہم اپنے شعوروعقل سے اس وقت تک درست کام نہیں لے سکتے جب تک کہ ہم جذباتی طور پرمتوازن نہ ہوں۔ اسی طرح بچوں کے جذبات  کی بات کی جائے ،تو جب تک بچے جذباتی طور پر متوازن نہ ہوں ۔اس وقت تک تعلیم یا زندگی کے کسی بھی  میدان میں ان سے  اچھی کارکردگی کی  توقع رکھنا مشکل  ہے۔ جذبا ت وہ توانائی ہوتے ہیں جو  ارادوں کےعمل میں ڈھلتے وقت ہماری مدد کرتے ہیں۔چاہے وہ تعلیم وتعلم کا میدان ہو یا  زندگی گزارنے کا کوئی بھی میدان ہو۔

کئی بچے تعلیمی میدان میں بڑے اچھے ریکارڈ کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے گریڈز اور رزلٹ بڑے اچھے ہوتے ہیں ۔لیکن بعد میں  گھریلوخاندانی زندگی اورمعاشرتی زندگی میں وہ ناکام ہوجاتے ہیں۔  اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو اس کی بنیادی وجہ بھی یہی  جذباتی عدم توازن ہی  ہوتی ہے ۔ لہذ ا بچوں کو کامیاب مستقبل دینے کے لئے ضروری ہےکہ ان کی جذباتی تربیت کا خوب اہتمام کیا جائے۔

مزید پڑھیے

5 Comments

  1. It is very a pity to me, I can help nothing to you. But it is assured, that you will find the correct decision.
    [url=https://squirtinghdtube.com]squirtinghdtube[/url]

2 Trackbacks / Pingbacks

  1. بلوغت کے دوران بچوں کی تربیت کے مسائل اور ان کا حل | Al-Rashad Tarbiyah
  2. Al Rashad Tarbiyah Institute | بلوغت کے دوران بچوں کی تربیت کے مسائل اور ان کا حل

Comments are closed.