بچوں کی کردارسازی

بچوں کی کردارسازی

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

 بچوں کی تعمیر شخصیت کا مرکزی ستون ان  کی کردارسازی ہے۔ والدین جب اپنے بچے کی تربیت کررہے ہوں۔ تو تعمیرشخصیت کے اس  اہم ترین ستون پر بھرپور توجہ دینا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔کردار کیا ہے؟ یہ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی میں طرز، طریق، قاعدہ، کام ، شغل، خصلت اور عاد ت وغیرہ  کا مفہوم شامل ہیں۔کردار انسان کی سیرت، چال چلن اور خصلت کو بھی کہتے ہیں۔جبکہ اصطلاحی طور پر کردار انسان میں نشوونماپانے والی ان  خصوصیات اور کیفیات کانا م ہے۔ جومختلف حالات میں ردعمل کے وقت اس کے رویے سے ظاہر ہوجاتی ہیں۔

انسان  کی سوچ اور ا س کے مطابق ظاہر ہونے رویوں کو بھی عام طور پر کردارکہاجاتاہے۔ اخلاق اور کردار بھی   ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ جو بطور متراد ف ایک دوسرے کی جگہ  استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں میں باریک سا فرق یہ ہے کہ کردار کا اظہارعام طور پر  ردعمل کے وقت  ہوتا ہے۔ جبکہ اخلاق کا اظہار کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ انسانی طبیعت کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔

انسان قابل تکریم کیوں؟

قرآن کریم میں اللہ تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات میں  زیادہ قابل تکریم قراردیااور فرمایا :  ولقد کرمنا بنی آدم وحملناھم فی البر والبحر ورزقناھم من الطیبات وفضلناھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا ( بنی اسرائیل)۔ “ہم نے انسان کوبزرگی دی۔ اس کو خشکی اور سمندر میں سواریاں عطاکیں ۔اس کو پاکیزہ چیزوں میں سے رزق عطا کیا ۔اور ہم نے اس کو فضلیت عطا کی اپنی تمام مخلوقات پر۔” اس آیت میں رب کریم نے انسانوں کو تمام مخلوقات پر فضلیت دینے کا اعلان کیا ہے۔

ایک اور آیت میں انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ قراردیا ۔ ذرا سا غور فرمائیے کہ انسان میں وہ کیا خاص بات ہے جس کی وجہ سے خالق کائنات نے اسے یہ عظیم منصب عطا کیا؟ اور اس کو دنیا جہان میں فضلیت عطا کی؟ تو یہ بات کھل کرسامنے آتی ہے۔ کہ انسان کی فضیلت کی وجہ بنیادی طور پر دو چیزیں ہیں۔ جو اسے دوسری تمام مخلوقات سے ممتاز کردیتی ہیں۔  پہلی چیز انسانی عقل ہے جو اسے دیگرمخلوقات سے ممتاز کردیتی ہے جبکہ دوسری چیزاس کاکردار ہے۔

عقل وشعور اور اخلاق وکردار وہ دوبنیادی معیارات ہیں جن سے انسانی عظمت قائم ہے۔ اگرخود جنس انسان کے افراد میں تقابل کرکے دیکھا جائے۔ تو بھی یہ بات سامنے آئے گی کہ جس انسان کے اندر یہ چیزیں جتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ اتنا ہی زیادہ قابل احترام بن جاتاہے۔ او ر جن افراد میں ان کا تناسب جتنا کم ہوتا ہے۔ وہ نسبتا  کم رتبے کے مالک ہوتے ہیں۔ذیل میں ہم بلند کردار کے کچھ معیارات ذکررہے ہیں جن کو اپنا کرانسان بہترین کردار کا مالک بن سکتا ہے۔

بلند کردار کے مظاہر

یہ وہ معیارات ہیں جن سے انسان کا کردار بلند ہوجاتاہے۔ ایماندار ی۔ دیانتداری۔تقوی۔حیا۔ وفاداری۔ جرات۔صبروتحمل۔ ایثاروقربانی ۔ہمدردی۔رحم دلی۔ خودشناسی۔ خوداحتسابی۔ اپنی ذات پر کنٹرول۔دوسروں کو عزت واحترام دینا۔ احساس ذمہ داری۔ تواضع  وانکساری۔شفقت ومحبت۔ صداقت وسچائی۔عفوودرگزر۔احسان ۔ سخاوت۔استقامت۔نرم مزاجی ۔پرامیدی ۔دوسروں کا خیال رکھنا۔حوصلہ افزائی کرنا۔دوستانہ رویہ رکھنا۔قناعت۔خوش مزاجی۔ شکرگزاری۔ ہردم متحرک رہنا۔مستقل مزاجی۔اعتدال ۔خوداعتمادی۔عفت وپاکدارمنی۔دوسروں کا دکھ محسوس کرنا۔ بھائی چارہ۔ انسان دوستی وغیرہ

اخلاق وکردار کوبہتر  بنانے کے لئے کچھ چیزیں اپنی زندگی سے نکالنی پڑتی ہیں۔ اور ان کو نکالے بغیر انسان کا کردار معیاری نہیں بن سکتا۔ دین  کی اصطلاح میں ان چیزوں کو منہیات سے تعبیر کیا گیا ہے۔جو مندرجہ ذیل ہیں: جھوٹ۔ دھوکہ دہی ۔ وعدہ خلافی۔ بزدلی۔ امانت میں خیانت۔ بغض ۔حسد۔ تکبر۔ ریاکاری۔ رشوت ستانی۔ بدکرداری۔ زنا ۔ شراب۔ جوا۔ چوری۔ ڈاکہ ۔حرام خوری ، بخل،بے حیائی، بے صبری، خود غرضی، لالچ، غیر ذمہ داری، بدمزاجی ، ناشکری، مزاجی اکھڑپن اور ظلم وتشدد وغیرہ وغیرہ

پیشہ ورانہ کرپش زیادہ خطرناک کیوں؟ 

یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کا یہ ہے۔ کہ اچھے کردار کا تعلق انسا ن کی صرف انفرادی زندگی سے نہیں ہوتا ۔بلکہ  اس کا زیادہ تعلق  اس کی معاشرتی  اور پیشہ ورانہ  زندگی سے بھی ہے۔کہ وہ پیشہ ورانہ طورپر اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے کتنا فٹ ہے۔ اور کتنی محنت و جانفشانی اور جذبے کے ساتھ وہ اپنی ذمہ داری ادا کررہا ہے۔ مثلا اس کی ذاتی زندگی تو بہتر ہے۔ وہ نیک متقی ہےاور تہجد گزار ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے وہ  اپنی  پروفیشنل یا پیشہ ورانہ  ذمہ داریاں درست طریقے سے ادا نہیں کررہا ۔ یقینا یہ بہت بڑی کرپشن ہوگی ۔ بدکرداری  اور حرام خوری ہوگی۔ بلکہ انفرادی بدکرداری سے یہ زیادہ خطرناک او ر قابل گرفت ہوسکتی  ہے۔ کیونکہ پیشہ ورانہ بدکرداری اور کرپش  سے پورے معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے۔

والدین بچوں کی کردارسازی کیسے کریں؟

کہاجاتا ہے کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ بچے اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں۔اگر والدین اپنے کردار کو درست بنانے کی کوشش  کریں۔ اپنے بچوں کو اچھی رول ماڈلنگ پیش کریں تو یقینا بچے  خود بخود بہترین کردار کے حامل ہوجائیں گے۔ بچوں کی کردارسازی نسبتا آسان کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کورے کاغذکی مانند ہوتے ہیں۔ کورے کاغذ پروالدین خوبصورت نقش ونگار اور گل بوٹے بنائیں۔ یا الٹی سیدھی لکیریں کھینچ کران کو نفسیاتی الجھنوں کاشکارکریں یہ ان کی صوابدید ہے۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ بچے بچپن میں اپنے والدین سے تعلق میں ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بچوں کی کردارسازی والدین کے لئے زیادہ مشکل  نہیں ہوتی ۔ جب والدین اپنے کردار پر توجہ دے کر  اسے بہتر بناتے ہیں تو  بچوں کو اچھی رول ماڈلنگ مل جاتی ہے۔ بچوں کی کردار سازی کا ایک موثر طریقہ یہ ہے کہ  کسی صاحب علم ،  مربی اور شیخ سے  ان کا تعلق جوڑدیں۔ بچے جب کیس استاد اور صاحب علم کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو کردارسازی  کے حوالے سے بہت ہی مثبت اثرات ان پر پڑتے ہیں۔  

کردار سازی کی بنیاد اللہ پرکامل ایمان 

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ صاحب کردار ہونادرحقیقیت اللہ پریقین کی ایک جھلک  ہے۔ جس کا اظہار خارجی  کردار کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اگرانسان  میں خداپرکامل ایمان ہوتا ہے تولازمی نتیجہ کے طور پر وہ صاحب کردار  بھی ہوتاہے۔ اس کے برعکس جتنی  ایمانی کمزوری ہوگی تو  کردار بھی داغ دار ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ابتدائی تیرہ سالوں میں  اپنے صحابہ کرام پر صرف ایمان اور یقین کی محنت کی تھی ۔ جب ایمان کی پختگی فصل تیار ہوگئی توکرداری اوصاف کا ظہور از خود ان میں ہونے لگا ۔۔ چنانچہ وہ دنیا کے لئے ستاروں کی مانند مثال قائم کرگئے

اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جن لوگوں کے کردار پر دنیا میں کسی کو بھروسہ نہیں تھا۔ وہ دنیا میں کردار کے حوالے سے مثال بن گئے۔والدین کے لئے بھی یہی ماڈل  کارآمد ہے کہ ہم اپنے آپ پر اور اپنے بچوں پرپہلے ایمان کی مضبوطی کی محنت کریں۔ کسی عالم سے ، کسی اللہ والے سے، کسی شیخ و مربی سے اورکسی منٹور سے تعلق قائم کریں۔ تاکہ دل میں ایمان کی کیفیت پہلے راسخ ہوجائے تو کردارسازی کا عمل بہت جلد اور بڑی آسانی سے انجام پائے گا انشااللہ۔

:خلاصہ کلام

خوداعتمادی، تخلیق کاری اور کردارسازی تعمیرشخصیت کے تین اہم بنیادی ستون ہیں۔ جن پر مثبت اورمتوازن شخصیت کی عمارت کھڑی ہوجاتی ہے۔ یہ تینوں ستون باہم ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم بھی ہیں۔ کہ ایک ستون پر کام کرنے سے دوسرے کو خودبخود سہارا مل جاتا ہے۔ لیکن کسی ایک کو بھی نظرانداز کردیا جائے ۔تو اس کا منفی اثر دوسرے ستونوں پربھی پڑجائے گا۔کہ وہ بھی اپنی جگہ سے ہل سکتے ہیں یا کمزور ہوکرگرسکتے ہیں۔

والدین جو اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے متحرک ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے ان کو اس کی توفیق ملی ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ ان تینوں ستونوں کی مضبوطی پر کام کریں ۔ انشااللہ حقیقی مومن ،خوداعتماد، تخلیقی صلاحیتوں سے مالا اور باکردار نسل وجود میں آئے گی۔ اللہ تعالی ہماری نسلوں کو ان تمام خصوصیات کا حامل بنادے ۔آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*