بچے کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ

  دنیا کی کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ نیا سوچنا ، چیزوں کے پوشیدہ پہلووں پرغوروفکر کرنااورنیا آئیڈیاپیش کرنا تخلیقیت کہلاتا ہے۔جس انسان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ  نئے زاویے سے چیزوں کے بارے میں سوچتاہے۔ان میں پائے جانے والے غیر مربوط نکتوں کو ڈھونڈکر ان کو اس اندازسے جوڑتا ہے۔ کہ ایک نئی شکل سامنے میں آتی ہے۔ تخلیقیت کا بنیادی انحصار دوچیزوں پر ہے نیا سوچنا اور نئی چیز وجود میں لانا۔  یعنی تخلیقی ذہن کا حامل انسان پہلےنئے زاویے سے چیزوں پر غور وفکر کرتا ہے ۔ پھرنئی چیز دنیا کے سامنے پیش کرتاہے۔

تخلیقی عمل اجسام واعراض دونوں میں ہوسکتا ہے۔ مثلا  نئی فکر،نئے آئیڈیاز، نئی  تھیوریزاورنئے خیا لات پیش کرنااعراض میں تخلیق کی مثالیں ہیں۔ جبکہ اجسام میں تخلیق کی مثال میں کمپیوٹر، موبائل، مختلف مشیزی،تمام اپلائنسز  پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علادہ  زندگی کے عام  کاموں کی انجام دہی کے لئے روایتی انداز سے ہٹ کر نئے انداز سے سوچنا اور نئے طریقوں سے ان کو انجام دینا بھی تخلیقیت کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ ہرانسان اپنے ا حوال وظروف میں رہ کر دنیا کی عام چیزوں کے بارے میں سوچ کر کوئی نیا فیصلہ کرے۔ یا کسی کام میں پھنسنے کے بعد کر کوئی نیاراستہ ڈھونڈ نکالے ۔یہ سب بھی تخلیقی رجحان کا حصہ کہلائیں گے ۔

تخلیقی صلاحیت کیوں اہم ہے؟

تخلیقی صلاحیت کو انسانی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جس انسان میں تخلیقی صلاحیت جتنی زیادہ ہوگی۔ وہ  عام زندگی میں اتنی ہی  آسانی محسوس کرے گا ۔ اور معاملات کو کامیابی کے ساتھ نمٹانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔تخلیقی صلاحیت ہرکام کے لئے نئے راستے ڈھونڈنے اور زندگی کے عام مسائل کو بآسانی حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ظاہرہے زندگی مسائل اور چیلنجز سے بھرپور ہے۔ جب انسان میں تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے۔  وہ آسانی کے ساتھ زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرسکتا ہے۔ نہ صرف سامنا کرسکتا ہے بلکہ ان مسائل کا کامیاب حل بھی آسانی کے ساتھ نکال سکتاہے۔

تخلیقی صلاحیت کا ایک اور فائدہ یہ ہے۔ کہ اس کی وجہ سے انسان اپنی زندگی کے مسائل کو بڑی تصویر میں دیکھنے کے قابل ہوجاتا ہے۔جب مسائل کو بڑی تصویر میں دیکھا جائے۔ تو ان مسائل کے سراورپیر سے انسان کو آگاہی ہونے لگتی ہے۔ بڑی تصویر میں ان مسائل کادرست مقام متعین ہوجاتا ہے۔ اور اس مسائل سے باہر نکلنے کا راستہ بھی معلوم ہوجاتا ہے ۔

اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے۔ کہ ایک آدمی گھنے جنگل میں گم ہوجائے اور اس کو وہاں سے باہرنکلنے کا راستہ معلوم نہ ہوتو وہ کیا کرے گا؟  اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کسی اونچے درخت یا اونچی چوٹی پر چڑھ کر جنگل کا پورانقشہ دیکھنے کی کوشش کرے ۔ جب جنگل کی پوری تصویر اس کے سامنے آئے گی۔ تو نکلنے کا راستہ بھی اسے معلوم ہوجائےگا ۔اور وہ بآسانی وہاں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگا۔تخلیقی صلاحیت انسان کو بڑی تصویر میں زندگی کے مسائل کو دیکھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔

تخلیقی صلاحیت انسان کو ہردم متحرک اور پرجوش رکھنے میں مدد دیتی ہے۔نیز اس کا بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کی خوداعتمادی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ خوداعتمادی اور تخلیقیت ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ تخلیقی صلاحیت کے اور بھی بے شمار فائدے ہیں۔ اس کی وجہ سے انسان نہ صرف خود کامیاب  ہوجاتا ہے۔ بلکہ وہ اپنے معاشرے اور دنیا کو بھی خوش حال بنانے میںْ کردار ادا کرسکتا ہے۔ چنانچہ آج کی دنیا کی سائنس وٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی اسی تخلیق کاری کی ہی مرہون منت ہے۔

تخلیقی ذہن اور صلاحیتیں فطری ہوتی ہیں یا کسبی؟

تخلیقی ذہن فطری ہوتا ہے یا کسبی ؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین کی آرا مختلف ہیں۔بعض فطری ہونے کے قائل ہیں۔ جبکہ بعض کسبی ہونے  کے ۔ بعض کا خیال ہے کہ بچو ں کے تخلیقی ذہن کا کچھ حصہ فطری ہوتا ہے اور کچھ کسبی۔ پھربچے کی تخلیقی صلاحیتوں  میں فطری اور کسبی حصہ کاکیا تناسب ہوتا ہے؟ اس میں بھی مختلف آرا ہیں۔ ان تما م آرا کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں ۔کہ تخلیقی ذہنیت کا بڑا حصہ ہربچہ موروثی طو ر پرلے ساتھ کر آتا ہے۔ جی ہاں بعض والدین کے بچے نسبتا کمزور وراثت لے کرآتے ہیں۔ جبکہ دوسرے والدین کے بچے تخلیقیت میں نسبتا مضبوط رواثت لے کر بھی  پیدا ہوتے ہیں۔

بچے ضرور کچھ نہ کچھ تخلیقی ذہانت کا حصہ لے کرہی دنیا میں پیداہوتے ہیں۔دنیا میں آنے کے بعد ان کے تخلیقی رجحان کو  اگراچھا ماحول مل جائے۔ اوراس کی اچھی سی پالش کی جائے۔ تو ان کی تخلیقی صلاحیتیں اپنے کمال کو پہنچتی ہیں۔لیکن اگر غلط پیرنٹنگ ، غلط ٹیچنگ اسٹائل کے ذریعے اس کی تخلیقی ذہانت کو دبادیاجائے ۔یا تخلیقی ذہانت کو پروان چڑھانے کے لئے بچے کو اچھا ماحول نہ ملے ۔اس کی تخلیقی ذہانت کی اچھی سی پالش نہ کی جائے یا بعد میں  اس بچے کو تخلیقی کاموں کے لئے مواقع نہ مل سکیں۔ تو یہ صلاحیت ہونے کے باوجود دب کر کمزورہوجاتی ہے۔ اور انسان تخلیقی صلاحیت میں پیچھے رہ جاتا ہے۔

تخلیقی ذہن کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ روایت سے ہٹ کر سوچنے اور کچھ نیا کردکھانے کی کوششوں میں مگن رہتاہے ۔ چنانچہ وہ زندگی کے مختلف نکتوں کو ڈھونڈکر انہیں نئے انداز سے جوڑنے کی کوشش کرتا رہتاہے تاکہ کوئی چیز یا نئی فکر وجود میں آجائے۔ابتدائی ریسرچ کے مطابق اعلی ذہانت رکھنے والے لوگوں کوہی فطری طور پرتخلیق کار بھی سمجھاجاتا تھا۔ لیکن بعدکی ریسرچز سے پتہ چلا کہ ذہانت اور چیزہے جبکہ تخلیقی صلاحیت دوسری چیز ۔ ہاں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ذہین شخص ہی تخلیق کار بھی ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات اس کے برعکس بھی معاملہ ہوتا ہے۔ کہ انسا ن ذہین تو ہے اس کی یادداشت کا لیول بھی بہت بہتر ہے لیکن وہ  تخلیق کار نہیں ۔

 خلاصہ یہ ہوا کہ تخلیقی صلاحیت ہرانسان مختلف تناسب سے پیدائشی طور پر اپنے ساتھ لیکر آتا ہے۔ لیکن پیدائش کے بعد اس کے ماحول میں، گھر میں ، اسکول میں ،تعلیمی ادارے میں اور بعد کی پروفیشنل زندگی میں اس کوتخلیق کے کیا مواقع ملے ہیں؟ یہ زیادہ اہمیت رکھتاہے۔ لہذا ہمیں اپنے بچوں کی تخلیقیت کو پروان چڑھانے پربھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تخلیق کا میدان کیا ہے؟

تخلیقی میدان میں حواس خمسہ ا ورعقل سے حاصل شدہ علم ، جدید مادی دنیا  کی تمام دریافتیں، عام انسانی زندگی کے مسائل کا حل، نیز کائنات کے تمام سربستہ راز شامل ہیں۔  ان میدانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کی ضرورت ہے۔ اور جدت وندرت لانے کی کوششیں کرنی چاہییں۔ تاہم وحی کے علوم یعنی قرآن وحدیث کا علم تخلیق کے میدان کا حصہ نہیں ہیں۔ کیونکہ وحی کے علوم انسانی حواس اور عقل سے ماورا ہیں۔ جہاں جاکر حواس وعقل جواب دے جاتے ہیں وہیں سے وحی کا علم شروع ہوجاتاہے ۔لہذا قرآن وحدیث کے علوم کے اندر تخلیق کاری کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ البتہ علوم وحی کے فہم، ان علوم کی دعوت وتبلیغ کرنے ، دینی علوم کی ترویج کے سامنے حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں علوم وحی کے اطلاقات کے بارے میں نئی سے نئی کوشش کی جاسکتی ہے وہ تخلیق کاری کے منافی نہیں ۔

بچوں میں تخلیقی ذہن کو کیسے پروان چڑھائیں؟

 بچے پیدائشی طور پر تخلیقی ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں ان میں بھرپورتجسس پایاجاتا ہےاور دنیا کی ہر چیز کووہ دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر بچوں کے اس رحجان کو بہتر ماحول فراہم کرکے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے تو بچوں کی تخلیقی صلاحیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ مثلا والدین اپنے گھر میں تخلیقی کاموں کے لئے ایک گوشہ یاایک کمرہ مختص کریں جہاں بچوں کی تخلیقی دلچسپی کے حوالے سے تمام چیزیں موجود ہوں ۔

بچوں کو پوری آزادی سے وہاں کام کرنے کی نہ صرف اجازت دی جائے بلکہ حوصلہ افزائی کی جائے اور اس موضوع پر والدین اپنے بچوں سے بات چیت بھی کریں ، خود والدین بھی ان کاموں میں بچوں کے ساتھ وقتا فوقتا حصہ لیتے رہیں تو بچوں کی تخلیقی صلاحیت میں بہت جلد ترقی ہو گی۔

والدین اور اساتذہ بچوں کے حوالے سے اپنی روایتی حکمت عملی میں ترمیم کریں وہ خود بھی تخلیقی کاموں میں حصہ لیں اور بچوں کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔ ان کو ہر چیز میں اپنے جیسا سوچنے اوراساتذہ اپنے ہی الفاظ میں سوالات کو رٹہ لگوانے کی کوشش قطعانہ کریں۔بلکہ ان کا ذہن جس طرح سے کام کررہا ہے اس کے لئے کچھ حدود متعین کرکے ان کو مزید سوچنے اور نیاکچھ سوچنے اور کسی مسئلے کا نیا حل نکالنے کی حوصلہ افزائی کریں۔بچوں کی خیالاتی دنیا آباد کریں،ان کو کہانیاں سنائیں ،ان کے تخیل کو پروان چڑھائیں۔ کسی ایک چیز کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کا تجربہ کروائیں۔ اور ہر زاویہ سے نظرآنے کو الفاظ اور کیفیات میں محسوس کروائیں۔

کسی چیز کو روایت سے ہٹ کر سوچنے کا انداز بھی بچوں کوسکھائیں مثلا نیوٹن نے کیا کیا کہ درخت سے سیب ٹوٹ کرگرا جو عام سی بات تھی اور ہرکوئی اس کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے لیکن جب سیب گرا تو نیوٹن نے روایت سے ہٹ کر سوچنے کی کوشش کی اور سوچا کہ سیب نیچے کی طرف کیوں گرا ؟ اوپر کی طرف یا ادھر ادھر کیوں نہیں گیا ؟روایت سے ہٹ کر سوچ کے اس نئے انداز سے ہی عظیم قانون کشش ثقل (Law of Gravity) ہمیں ملا جس سے عظیم ایجادات کی راہیں کھلیں۔اسی طرح روایت سے ہٹ کر خواب دیکھنا بھی بچوں کو سکھائیں ۔ایلس ہوئے جو سلائی مشین کا موجد ہے1845 میں جب وہ اپنے سلائی مشین پروجیکٹ پر کام کررہا تھا۔

پوری مشین ایجا د کی لیکن اس میں سوئی کے ناکے کاوہی پرانا اور روایتی انداز رکھا کہ اس کا ناکہ اوپر کی طرف سے رکھا ، جس کی وجہ سے یہ پوری مشین کپڑے سینے کے بجائے جوتے سینے کےہی قابل بن سکی۔اب یہ مسئلہ اس کے ذہن پر سوار تھا کہ کس طرح سےاس کا حل نکالاجائے؟ ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ جنگلی وحشیوں نے ایلس کو پکڑاہے اور اس سے یہ مطالبہ کررہے کہ ہمارے لئے سلائی مشین بنادو ،ورنہ ہم تمہیں بلی چڑھائیں گے۔ خواب میں کوشش کے باوجود اس سے سلائی مشین نہ بن سکی جب وحشی اسے قتل کرنے کے لئے میدان میں لائے تو ان کے پاس نیزے تھے جن کی نوک کی طرف سوراخ بنے ہوئے تھے۔خواب میں نیزے کی نوک میں سوراخ دیکھ کر سلائی مشین کی سوئی کے لئے نیاآئیڈیا اسے مل گیا اور اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ بس اسی آئیڈیا سے مدد لیتے ہوئے روایتی سوئی کے برخلاف سوئی کی نوک میں چھید کروایا جس سے سلائی مشین کی کارکردگی بہترین ہوگئی اور وہ کپڑے سینے کے قابل ہوگئی۔

بچوں کی تخلیقی صلاحیت کو ختم کرنے والے کام

 گھر اور اسکول میں ڈسپلن کے نام پر بچوں کو دباکررکھنا اور تخلیقی ذہنیت کا گلاگھونٹنا۔ • ہرکام سے بچوں کوروکنے اور ڈرانے کی کوشش کرنا خصوصا شہری زندگی میں یہ چیز بہت ہوتی ہے ۔ مثلا دیواریں خراب مت کرو، بجلی کی چیزوں کو ہاتھ مت لگاو، گھر میں گندگی مت پھیلاو۔ گھر کی فینسی چیزوں کو ہاتھ مت لگاووغیرہ وغیرہ ۔ اب ہر چیز میں مت کرواور مت کرو ہی جب بچے کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے تو اس سے تخلیقی صلاحیت رخصت ہوجاتی ہے۔

ہمارا ایجوکیشن سسٹم بچوں کی تخلیقی صلاحیت کوپروان چڑھانے کی بجائےان کی یادداشت کی صلاحیت پر فوکس رکھتا ہے۔ جس سے بچے رٹنے کے ماہرہوتے ہیں لیکن تخلیق کار نہیں بن پاتے۔
ہماری پیرنٹنگ کا انداز ان سب پر مستزاد ہوتاہے۔جب ہم بچوں کو بالکل گھیرکے رکھتے ہیں ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ تخلیقی ذہن سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*