تخت لاہور پر قبضے کی جنگ اور ارکان کی منڈی؟

تخت لاہور پر قبضے کی جنگ اور ارکان کی منڈی؟
تخت لاہور پر قبضے کی جنگ اور ارکان کی منڈی، آج فیصلہ ہوگا

ضیاء چترالی

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے اقتدار پر قبضے کی جنگ حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ آج پنجاب اسمبلی کے ارکان تخت لاہور کے تحت نشین کا فیصلہ کریں گے، جس کے لیے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے حمزہ شہباز شریف جبکہ حال ہی میں اپوزیشن کے درجے پر فائز ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے موجودہ اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔

 جمہوریت تماشا بن گئی

 تحریک عدم اعتماد، ان ہاﺅس تبدیلی اور اس جیسی دیگر سیاسی سرگرمیاں جمہوری عمل کا حصہ ہیں، جن کے دوران حریفوں کے درمیان تلخی بھی پیدا ہو جاتی ہے اور بسااوقات ناخوشگوار واقعات بھی جنم لے لیتے ہیں، تاہم یہ سب کچھ ”جمہوریت کے حسن“ کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ایک بار پھر جس طرح سے ارکان اسمبلی کی خریدوفروخت کا بازار گرم ہوا ہے، اس نے ایک بار پھر اس مثبت جمہوری عمل کو عوام کی نظر میں تماشا بنا دیا ہے، جو پہلے ہی جمہوریت کے ثمرات سے خود کو بہت دور سمجھ رہے ہیں۔

“عوام “کی حکومت میں عوام کا واجبی کردار

اگرچہ جمہوریت کی اصل تعریف کے مطابق یہ ”عوام کی جانب سے عوام کی اور عوام کے لیے حکومت“ ہوتی ہے، مگر ایک بار جب حکومت وجود میں آجائے تو عوام کا اس سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ نہ تو ان کی مرضی کے مطابق ان کے منتخب نمائندے قانون سازی کرتے ہیں اور نہ ہی ایوان اقتدار میں عوام کی منشا کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ”بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔“

خرید وفروخت کی سیاست

جمہوریت کی اصل روح کے مطابق دیکھا جائے تو جب دو حریف مقابلے کے لیے میدان میں اترتے ہیں تو ہر فریق دوسرے کو چت کرنے کے لیے ”رولز آف دی گیم“ کے اندر رہتے ہوئے تمام حربے آزماتا ہے۔ اپنے امیدوار کی مارکیٹنگ اور حریف کی خامیاں بیان کی جاتی ہیں اور فتح کے لیے تمام ممکنہ طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، مگر ضروری ہے کہ یہ سب کچھ آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہ کر کیا جائے۔ ایک بار پھر گزشتہ تین چار روز سے ارکان اسمبلی کی خریدوفروخت کے حوالے سے جس قسم کی خبریں آرہی ہیں۔ وہ جمہوریت پسند حلقوں کا سر شرم سے جھکانے کے لیے کافی ہیں۔

تحریک انصاف کے الزامات

 گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا کہ نواز لیگ کی جانب سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی مسعود مجید کو کروڑوں روپے ادا کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد موصوف چھٹیاں منانے ترکی پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے لیگی رہنما عطاءاللہ تارڑ پر براہ راست الزام لگایا تھا، جس پر انہوں نے جوابی پریس کانفرنس میں حلفاً اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ رکن اسمبلی تو چھ ماہ پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے الزام تراشی پر فواد چودھری اور دیگر کو ہتک عزت کا نوٹس بھی بھیج دیا ہے ۔

نون لیگ کے الزامات

 اس کے بعد ایک لیگی رکن پنجاب اسمبلی کا ویڈیو بیان سامنے آیا کہ انہیں چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے حجاز مقدس میں رابطہ کر کے 10 کروڑ روپے کی آفر کی گئی، جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔ جمعرات کو ایک اور خاتون رکن اسمبلی نے ٹی وی پر آکر بیان دیا کہ انہیں ایک درمیانی رابطے کے ذریعے 40 کروڑ روپے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے انتخابات کے موقع پر ”غائب“ ہو جائیں، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ خود تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ارکان اسمبلی کی خریدوفروخت کا ریٹ ایک ارب روپے کی حد کو چھو چکا ہے۔

2018کے الیکشن کے بعد ارکان کی خرید وفروخت

 پاکستان کے عوام ان الزامات اور جوابی الزامات کو شاید اتنی سنجیدگی سے نہ لیتے، اگر ہماری جمہوری اور پارلیمانی تاریخ خریدوفروخت کے شرمناک واقعات سے بھری نہ ہوتی۔ یہ عمل کسی بھی فریق کی جانب سے کیا جائے یکساں طور پر ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے، مگر ارکان کی خریدوفروخت کی شکایت کرنے والے سابق وزیراعظم عمران خان یہ بھول جاتے ہیں کہ 2018ءکے الیکشن کے بعد کس طرح جہاز بھر بھر کر ان کے لیے ارکان اسمبلی کے ووٹوں کا اہتمام کیا گیا اور پھر وہ بڑے فخر سے یہ کہتے پائے گئے کہ انہوں نے مخالفین کی وکٹیں گرا دی ہیں۔

سینٹ الیکشن میں ارکان کی بولی

اس سے قبل سینیٹ الیکشن میں صادق سنجرانی کو اکثریت دلانے کے لیے جس طرح سابق صدر اور پی پی سربراہ آصف زرداری سرگرم ہوئے اور راتوں رات بلوچستان حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے ”باپ پارٹی“ تشکیل دی گئی، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

چھانگا مانگا کا سیاسی استعارہ

اگر نواز لیگ کی بات کی جائے تو لوگ ”چھانگا مانگا“ کی تاریخ کو ابھی تک نہیں بھولے، جہاں ارکان اسمبلی کو خرید کر کئی روز تک کھونٹے سے باندھ کر رکھا گیا۔ اس زمانے میں نہ تو موبائل فون ہوا کرتے تھے اور نہ ویڈیوز بنانے کی سہولت موجود تھی، مگر ہارس ٹریڈنگ کی بدترین اور شرمناک روایات کو فروغ دینے کے حوالے سے ”چھانگا مانگا“ میں لگنے والا تماشا اس قدر مقبول ہوا کہ کئی برس تک بچے بچے کی زبان پر اس کا ذکر تھا۔ سوال یہ ہے کہ خریدوفروخت کے اس شرمناک عمل کو روکنے کے لیے کون آگے بڑھے گا۔ اس حوالے سے سخت ترین قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اب یہ قانون سازی کون کرے گا۔ ظاہر ہے یہ کام تو ارکان پارلیمنٹ کا ہے۔ مگر جب ”گھوڑا“ گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟

کراچی، 24جولائی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی

1 Trackback / Pingback

  1. لاہور کی مختصر تاریخ - EduTarbiyah.com

Leave a Reply