تربیت  اولاد اوردورجدید کے چیلنجز 

 تربیت اولاد اوردورجدید کے چیلنجز 

موجودہ دور عالمگیریت اورگلوبلائزیشن کا دور ہے۔ جس میں پوری دنیا ایک طرح کی مغربی طرززندگی اختیارکرتی جارہی ہے۔ دورحاضر کی تہذیب جو پوری دنیا پر اپنا پنجہ مضبوط کرتی جارہی ہے۔ یہ درحقیقت مغربی تہذیب اور مغربی افکارکے خمیر سے اسی کے خدوخال کے مطابق اٹھائی گئی ہے۔ اس تہذیب کی خاص بات جس کی وجہ سے دنیا اس کوقبول کرنے میں ہچکچائے بغیر بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی ہے وہ نفس پرستی ہے۔ یعنی دورحاضر کی اس تہذیب نے نفس کی خواہشات کی تکمیل کو نہ صرف فروغ دیا ہے۔ بلکہ ان خواہشات کے اوپر خوبصورت قسم کے لیبل لگا کرنفس کومزید برانگیختہ کرنے کا سامان بھی کردیا ہے۔چنانچہ نفس کی تسکین اور نفسانی خواہشات کی تکمیل ہر صاحب نفس انسان کو بھلی لگتی ہے۔

ہرانسا ن چاہتا ہے کہ اسے آزادی ملے۔ اس کے اپنے خواب ہوں اوراپنی تعبیرات ہوں۔ اس کی پسندوناپسند کا لحاظ رکھاےجائے اور اس کی خواہشات کو تسکین ملے۔ ہرانسان چاہتا ہے کہ اسے حقوق ملیں۔ نہیں تو چھین کرلینے کی اسے آزادی حاصل ہو۔ اس کی ذات کو اہمیت اور شناخت ملے۔ اس کو اظہار رائے کا حق حاصل ہو۔ ا سےجائز وناجائز طریقے سے خوب مال کمانے اور خواہشات نفس کی تسکین کرنے سے کوئی روکنے والا نہ ہو۔ غرض اس طرح کی کھلی آزادی اور نفس پرستی کی بنیاد پرجوتہذیب پروان چڑھے گی۔ تو اسےہرصاحب نفس انسان خوشی سے قبول کرنے کے لئے تیار ہوگا۔دور حاضر کی اس مغربی تہذیب میں محض آزادی اورنفس پرستی ہی نہیں بلکہ نفس کی  تسکین پر شاباشی اور حوصلہ افزائی بھی ملتی ہے۔ یہ دورحاضر کی مغربی تہذیب کا خاصہ ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور مغربی تہذیب

اس تہذیب کو دنیا میں فروغ دینے کے لئے جدیدٹیکنالوجی نے  بڑا اہم کرداراداکیا ہے۔بلکہ اس کی کشش کو انٹرنیٹ اور جدید میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلایاگیا ہے۔ ہر فرد کے پاس انٹرنیٹ  تک بڑی آسانی کے ساتھ رسائی حاصل ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے مغربی تہذیب ہر ایک کی پہنچ میں ہے۔اس تہذیب کی بعض اداؤں کو اسکرین پر اس طرح ملمع سازی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ کہ انسانی نفس اس کی طرف دم بخود  ہوکر کھچ جاتا ہے۔ چاہے وہ ادائیں حیوانیت کا نمونہ پیش  کیوں نہ کررہی ہوں۔ اس کے مقابلہ میں اسلامی تہذیب اور دیگرمشرقی تہذیبوں کی ہم بات کریں۔ تو اسلامی اقدار کی بنیاد نفس کی خلاف ورزی اور نفسانی خواہشات کو محدود کرنے پر مبنی ہے۔ جو بظاہر مشکل کام ہے اور انسانی نفس اس سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔

مغربی تہذیب کو جدید تہذیب کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے یہ تہذیب انہی چیزوں کو فروغ دے رہی ہے۔ جو زمانہ جاہلیت کا خاصہ تھیں۔ اس میں نفس پرستی، خواہشات کی تکمیل، بے حیائی وبے ہودگی، زنا، سود، شراب، جوا، قمار، سٹہ، خود غرضی اور آگے گنتے جائیے ایک لمبی فہرست بنتی چلی جائے گی۔ یہ سب چیزیں وہی ہیں جو بہت پرانی ہیں کوئی چیز نئی نہیں ہے۔لیکن نفس پرستی پرمبنی مغربی تہذیب میں ان چیزوں کو جدید ریپر اور نئی پیکنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ ان پر لیبل بڑا خوبصورت لگایا گیا ہے۔

نیز ان کو اسکرین پر رنگ وروشنی کی دلاویز آمیزش، نئے پن اور ایکشن کے ساتھ اس انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ کہ نفس پرست انسان اس کے شکنجے میں آئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ محض اللہ کی توفیق اورمدداور انسانی عزم کے بغیر ان چیزوں سے بچنااور دوررہنا کوئی آسان کام نہیں۔یہاں جدید تہذیب اور بچوں کی تربیت کے سامنے رکاوٹوں کے حوالے سے  چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔

:انسان اور حیوان کی پرورش وتربیت میں فرق

عام حیوان کا صرف جسم ہوتا ہے جس کو پرورش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی وجود میں دوچیزیں ہوتی ہیں۔ ایک انسانی جسم اور دوسری چیز انسانی شخصیت۔ یہی وجہ ہے کہ حیوان کا بچہ جیسے ہی اس قابل ہو کہ وہ خودسے چل پھر سکے۔ اپنا تحفظ کرسکے او ر اپنی خوراک خود تلاش کرسکے۔ تو والدین اس کو اپنے سے الگ کر دیتے ہیں ۔کیونکہ اس کی ضرورت اب پوری ہوگئی ہے۔ اب وہ خود اپنی زندگی جی سکتا ہے۔ لیکن انسا ن کا بچہ ایک لمبے عرصے تک ماں باپ کے ساتھ  ان کی زیر کفالت اور زیر تربیت رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان میں دوچیزوں کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک انسانی جسم جو غذااور خوراک سے پرورش پاتا ہے۔ جبکہ دوسری چیز انسانی شخصیت ہوتی ہے۔ اسی انسانی شخصیت کی وجہ سے انسان دوسری مخلوقات سے ممتازہوتاہے۔ انسان سازی کا عمل بہت مشکل ہے اورانسانی شخصیت کو پروان چڑھنے میں بڑا عرصہ لگتا ہے۔ اسے پروان چڑھانے کے دوران کئی پابندیوں سے بھی اسےگزرناپڑتا ہے۔ کئی ریاضتیں اسے کرنی پڑتی ہیں۔ اورکئی خواہشات کو کچلنا پڑتا ہے۔ اس تمام عمل کے دوران یہ شخصیت پروان چڑھتی رہتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو انسان جتنی زیادہ پابندیوں کاسامنا کرتا ہے۔ اس کی شخصیت اتنی ہی نکھرکر سامنے آتی ہے۔اسی تعمیر شخصیت کے لئے اسلام نے انسانی نفس اور اس کی خواہشات پر کئی حدود اور پابندیاں بھی لگارکھی ہیں۔

دورجدید کا بڑا چیلنج

لیکن دور جدید میں سب سے بڑاچیلنج یہ پید اہوگیا ہے ۔کہ انسان ہر قسم کی پابندیوں سے جان چھڑاناچاہتاہے۔ اور ہرطرح کی آزادی کی طرف لپکنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ بچہ ہو یا جوان، مردہو یا عورت، آزادی حاصل کرنے اوراپنی مرضی کے مالک بننے کا خواہشمند ہے۔ بچوں میں شعور کی سطح چونکہ کم ہوتی ہے۔ ان کو اگراپنی مرضی کی پوری آزادی دی جائے۔ تو اس کے غلط استعمال کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لئے والدین ان پربعض قدغنیں لگادیتے ہیں۔

لیکن دورجدید میں آزادی کے ماحول کی وجہ سے وہ پابندیوں کو قبول نہیں کرناچاہتے۔ یوں والدین اور بچوں کے درمیان ایک رسہ کشی کی کیفیت شروع ہوجاتی ہے۔ رسہ کشی کی یہ کیفیت آج سے ایک یا دونسل پہلے بہت کم تھی۔اس وقت شخصیت کی تعمیر کے لئے بچوں پر مختلف قسم کی پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔او ربچے بھی ان پابندیوں کو آسانی سے قبول کرلیتے تھے۔ لیکن دورجدید کابڑامسئلہ یہ پیدا ہوا کہ بچوں کو آزادی چاہیے۔ وہ کسی قسم کی پابندی میں نہیں رہنا چاہتے۔ جس کے نتیجے میں بچوں میں سستی وکاہلی، تساہل پسندی، ضیاع وقت اورکام چوری کی بیماری عام ہوتی جارہی ہے۔

والدین ان چیلنجز سے کیسے نمٹیں؟

اس چیلنج سے والدین کیسے ؟نمٹیں اس کا حل یہ ہے۔ کہ پہلے خود والدین اپنی صورتحال کا جائزہ لیں۔ کہ وہ دین واخلاق اور اعلی اقدار کی پابندیوں کے حوالے سے اپنے آپ کو کتنا ذمہ دار محسوس کرتے ہیں۔ اگر ان چیزوں میں کمی محسوس کریں تو پہلے اپنے آپ کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ اورپھر بچوں پر توجہ دنیا شروع کر دیں۔ خود والدین اگر آزادی، تساہل پسندی کا شکار ہوں ۔اور بچوں پرپابندی لگانابھی چاہیں تو یہ پابندی کارگرنہیں ہوگی۔بچوں پربعض اوقات کچھ چیزوں کی پابندی لگانی پڑتی ہے۔

لیکن اس حوالے سے یہ ضروری ہے کہ اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے  پائے۔ بچوں کو زیادہ سخت قسم کی پابندیوں میں جکڑدینا بھی درست نہیں۔ کہ وہ اکتا جائیں اور والدین سے بدک جائیں۔ اور اس کے برعکس ان کو بالکل ہی اپنی مرضی پر چھوڑدینا بھی عقلمندی نہیں۔

ان کے لئے شعور کی بنیاد پر کچھ اصول طے کریں۔ کچھ حدود متعین کریں جن کی وہ پابندی کریں ۔اور بچوں کوان حدود کی اچھی طرح سے پہچان کرانا  بھی بہت ضروری ہے۔ تاکہ وہ ان پابندیوں پر عمل درآمد کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوں۔ اور ہر طرح کی خرابیوں سے وہ بچ سکیں۔ حددود کی یہ فائن لائن کہاں ہو اور کب تک ہو؟ یہ والدین کے علم شعور اور عقلمندی کا متقاضی سوال ہے۔ تاہم اتنا ضرورہے کہ ابتدا ء پابندیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ لیکن عمر کے بڑھنے کے ساتھ ان پابندیوں کو آہستہ آہستہ کم کردینا چاہیے۔

:اسکرین کا نشہ
اسکرین کا نشہ موجودہ دوربچوں اور نوجوانوں  کا سب سے بڑا چیلنج  اسکرین کا نشہ ہے۔ جو چرس اور افیم کی طرح کا نشہ ہے۔آج کی جنریشن کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ اسکرین پر فدا ہوتی جارہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے چائنا میں اسکرین کانشہ چیک کرنے کے لئے اسکرین کے عادی کچھ بچوں کو اسکرین سےدورکردیا گیا۔اور پھر ان کے ردعمل کا جائزہ لیا گیا ۔تو پتہ چلا کہ ان میں سے کچھ انتہائی اضطرابی کیفیت میں چلے گئے۔ ان سے چند منٹوں کے لئے صبر نہیں ہوپارہا تھا۔

اسکرین کا نشہ بالکل چرس کے نشے کی طرح ہے۔ اس سے انسان اپنی تما م ذمہ داریوں سے غافل ہوکررہ جاتا ہے۔ اگر بچہ ہے تو اس کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوجاتی ہے۔ اسکرین کے نشے سے انسانی صحت پربہت  برااثر پڑتا ہے۔ وہ صحت مند لائف اسٹائل  چھوڑ کر غیر صحت مند طرز زندگی اپنالیتا ہے۔ وہ رات کو دیر سے سونے او ر صبح دیر سے اٹھنے کا عادی ہوجاتا ہے۔ اس کی نیند پوری نہیں ہوتی اوربھوک بھی کم لگنے لگتی ہے۔ اس کی جسمانی ورزش چھوٹ جاتی ہے۔ اسکرین کے نشے سے بچوں کا مزاج بگڑجاتا ہے۔ وہ غصہ، چڑچڑا پن اورموڈ سوئنگز کا شکار ہوجاتے ہیں۔

غرض اسکرین کا نشہ ایک بچے کوابنارمل بنادیتاہے۔باقی میڈیکل ایفیکٹس اس کے علاوہ ہیں۔ کہ اس سے آنکھوں کی بینائی کمزور ہوجاتی ہے۔ دماغ پربوجھ اور برے اثرات پڑتے ہیں۔ نیزانسان سستی، کاہلی اور روزمرہ کے کاموں میں بے ترتیبی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان جسمانی اثرات کے علاوہ اخلاقی اورروحانی اثرات اس پر مستزاد ہیں۔ کہ اسکرین پر اخلاق باختہ چیزیں دیکھنے سے عام انسانوں اور خاص کربچوں کے ذہنوں پر کیابرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان سے  سبھی واقف ہیں۔

: بچوں کا اسکرین ٹائم محدود کیجئے

ایک جگہ تربیتی سیشن لینے کے بعد چائے کے وقفے میں ہمارے ساتھ موجود ایک والد نے اپنے تین بچوں کی تربیت کے بارے میں پریشانی کا اظہار کیا ۔کہ میں اپنے بچوں کی تربیت کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ لیکن  ان کی روٹین درست کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔ اور دوسری طرف بچے چڑچڑے پن اور غصہ کا بھی شکارہوتے جارہے ہیں۔ وہ نمازیں اپنے وقت پر پابندی سے نہیں پڑھتے اوردیگر کام بھی اسی طرح نیم دلی سے کرنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ اورمیری سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس الگ موبائل ہے۔ اور وائی فائی سسٹم سے کنیکٹ  بھی ہے۔ اور اس موبائل کواستعمال کرنے کے لئے کوئی ٹائم مقررنہیں۔ بس بچوں کا جب دل چاہے موبائل استعمال کرتے ہیں۔

 ان صاحب کو مشور دیا کہ آپ اپنے بچوں کو  ساتھ بٹھا کر موبائل  نشے کے نقصانات پر بات کریں۔ پھر بچوں کو اعتما د میں لے کر اسکرین ٹائم چوبیس میں سے صرف ایک گھنٹہ یا زیادہ سے زیادہ دوگھنٹے کریں بس۔ اس سے زیادہ نہیں آپ کے یہ سارے مسائل ان شااللہ حل ہوجائیں گے۔کچھ عرصے بعد ان صاحب کا فون آیا ۔اورشکریہ کے ساتھ  خوشی کا اظہارکرنےلگے کہ آپ کے مشورے  سے میرا بڑا مسئلہ حل ہوگیا ۔اب ماشاء اللہ میرے بچے اپنی روٹین کو بہت اچھے طریقے سے لے کر چل رہے ہیں۔ اوران کے مزاج میں بھی کافی بہتری آرہی ہے۔

موبائل چیلنج سے والدین کیسے نمٹیں؟

موجودہ دور میں بچوں کی تربیت کے خواہاں والدین کے لئے بہت بڑاچیلنج ہے۔ کہ اپنے بچوں کو اسکرین کے نشے سے کیسے بچائیں؟ یقینا یہ چیلنج اس سے پہلے کبھی نہیں تھا یہ آج کے دور کا ہی چیلنج ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایسا تو ممکن نہیں۔کہ بچوں کو بالکل ہی اسکرین اورموبائل وغیر ہ سے منع کریں۔ کیونکہ یہ آ ج بچوں کی ایجوکیشن کی ضرورت بھی بن چکا ہے۔ آج  موبائل اپنے تمام اچھے برے اثرات کے ساتھ ہماری زندگی کا حصہ بن چکاہے۔  عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو زندگی میں باقی رکھا جائے۔ اس کے برے اثرات سے بچتے ہوئے فوائد سے استفادہ کیا جائے۔

اس کا مناسب طریقہ میرے خیال میں یہ ہے کہ والدین اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کریں۔ خودوالدین کو موبائل کے اچھے برے اثرات کا علم ہوناچاہیے۔وہ خود اپنے لئے بھی کچھ رولز بنائیں۔ موبائل پر فون کال کے علاوہ جو سرگرمیاں ہیں ان کے لئے کوئی مناسب وقت مقررکریں۔ تاکہ اس کے برے اثرات سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اور اچھے اثرات سے استفادہ کرسکیں۔

کیاوالدین خود موبائل کادرست استعمال کررہے ہیں؟

والدین خود بھی اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔ کہ کیا وہ خود اس موبائل کو کسی مقصد کے تحت استعمال کررہےہیں یا نہیں؟ کہیں ایسا تو کہیں کہ موبائل خو آپ کواستعمال کررہا ہو۔ اگر آپ موبائل کو اپنے مقصد کے لئے مفید استعمال کررہے ہیں تو یہ آپ کے لئے نعمت ہے۔لیکن اگر موبائل کو بے مقصد استعمال کررہے ہیں ۔ اس اندازسے استعمال کررہے ہیں کہ اس سے آپ کی ذمہ داریاں متاثر ہورہی ہیں۔

وقت کا ضیاع ہورہا ہے، فرائض آپ سے چھوٹ رہے ہیں۔  توا س کا مطلب ہے کہ موبائل آپ کو استعمال کررہا ہے۔ ہمارے ایک دوست کے مطابق موبائل آپ کا غلام ہے یاآپ موبائل کے غلام ہیں۔ ان میں سے پہلی صورت بہرحال بہترہے۔ موبائل کے حوالے سے جب آپ کا اپنا نکتہ نظر درست بن جائے۔ پھر اسی کو اپنے بچوں پر اپلائی کریں گے تو انشاء اللہ یہ بچوں کے لئے بھی مفید ثابت ہوگا۔

بچوں کو موبائل کتنی دیر کیلئے دیناچاہیے؟

بچوں کو موبائل کب دینا ہے؟ کتنی دیر کے لئے دینا ہے؟ اور اس پر نظر کس طرح سے رکھنی ہے؟یہ سب اہم سوالات ہیں جو والدین کو پہلے سے طے کرلینے چاہییں۔ اور وہ موبائل کے حوالے سے باقاعدہ فیملی پالیسی کاحصہ ہوں۔ اور اسی کے مطابق بچوں کے ساتھ رویہ رکھیں۔ جب شروع سے ہی ایک طے شدہ پالیسی کے مطابق کام ہوگا تو انشاء اللہ آئندہ بھی اس حوالے سے کئی پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔ کوشش یہ کریں کہ زیادہ چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں موبائل بالکل نہ دیں۔

سات آٹھ سال کے بعد اگر ان کے ہاتھ میں موبائل دیں تو ایک وقت مقرر کریں۔ دن میں ایک گھنٹہ ان کو موبائل دے سکتے ہیں۔لیکن اس بات کا دھیان رکھیں کہ موبائل انٹرنیٹ سے کنیکٹ نہ ہو۔ صرف بچوں کے حوالے سے کوئی مفید ویڈیوزاس میں ہوں۔ وقت مکمل ہونے پرفورا ان سے لے لیا جائے جائے۔ اور اس اصول پر بچوں سے سختی سے عمل درآمد کروانا چاہیے۔ چاہے بچے روئیں یا کچھ اور کریں۔

بچوں کے ساتھ گفتگو کا طریقہ اپنائیں

بعض بچے یہ کہہ کروالدین کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔کہ فلاں بچے کے پاس اپنا موبائل و انٹرنیٹ ہے۔ تو ا س وقت بچوں کو پیار سے سمجھانا چاہیے۔ کہ ہمارے گھر کی پالیسی یہی ہے کہ اس عمر میں بچوں کوموبائل نہیں دیں گے۔ اور پھر اس پرڈسکشن کرکے بچوں کو قائل کرنے کی کوشش کریں۔ کہ واقعی آپ کے گھر کی پالیسی زیادہ بہتر ہے۔ اس عمر میں موبائل لینے کے نقصانات زیادہ ہیں۔اس حوالے سے ایک اور چیز اہم ہے۔ کہ موبائل استعمال کرنے کے حوالے سے والدین خودرول ماڈل بنیں۔ اگر بچوں کے لئے ضروری قراردیا گیا ہے۔ کہ وہ مخصوص وقت میں ہی موبائل استعمال کرسکیں گے۔ تو والدین بھی حتی الامکان اس کی پابندی کی کوشش کریں۔ ورنہ پالیسی بے سو د ہوجائی گی۔

بچے جب دیکھیں گے کہ والدین تو وقت بے وقت موبائل میں لگے رہتے ہیں ۔اورہمارے لئے پالیسی بنائی ہوئی ہے تو یہ پالیسی چلے گی نہیں۔ بلکہ بچے اس کے لئے چور دروازہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا والدین اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے کوئی بھی پالیسی بنائیں اس کا رول ماڈل وہ خود بنیں۔والدین کی رول ماڈلنگ جتنی بہتر ہوگی بچوں کی تربیت اتنی ہی اچھی ہوگی۔

:دورجدید کے انوکھے تہذیبی معیارات

دورجدیدکے انوکھے تہذیبی معیارات نے تمام انسانی اقدار کوبدل کررکھ دیا ہے۔  دورجدید کی تہذیب مغربی تہذیب کے خمیرسے اسی کے تمام خدوخال کے ساتھ اٹھائی گئی ہے۔ اس تہذیب کی روح میں آزادی اور نفس پرستی موجود ہے۔ جدید مغربی تہذیب سے پہلے علاقائی تہذیبیں ہواکرتی تھیں ۔جن میں کچھ مشرقی اور مغر بی تہذیبیں شامل تھیں۔ اسلامی تہذیب تاریخ میں تمام معاصر تہذیبوں پر فائق تہذیب سمجھی جاتی رہی ہے۔

ان معاصر تہذیبوں میں بہت ساری اقدارایسی تھیں جو مماثل تھیں۔ مثلا ہرتہذیب میں چھوٹے بڑے کی تمیز بہت اہم قدرکے طور پر سمجھی جاتی تھی۔ اسلام نے تو اس موضوع پر باقاعدہ اسٹینڈرڈ سیٹ کیا ہے۔ کہ چھوٹوں کی ذمہ داری ہے وہ بڑوں کا ادب واحترم کریں گے۔ اور بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سے چھوٹوں پر شفقت ومہربانی کریں گے۔

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے ۔کہ جوشخص بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت ومہربانی نہ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ یعنی یہ چیز دین اسلام کی پہچان ہے۔لیکن دورجدید کی تہذیب نے اس قدرکو بدل کررکھ دیا ہے۔ اب بچہ ہو یا بڑا اس کو اپنی خواہش کی تسکین مطلوب ہے۔ چاہے اس کے لئے جو بھی قیمت اداکرنی پڑے۔ اس راستے میں چھوٹا آئے یا کوئی بڑاحائل ہو۔ استاد ہو، باپ ہویا کوئی بزرگ ہو۔ اس کی کوئی پروا کی ضرورت نہیں۔ بس اپنی چاہت کی تسکین ہونی چاہیے۔

جدید تہذیب اورکم لباسی

پہلی تہذیبوں میں کثرت لباس کی اہمیت تھی۔ وہ لمبے لمبے گاؤن اور کرتے پہنتے۔ اورسرپر عمامہ رکھتے تھے وغیرہ۔ اسلام نے لباس کو باپردہ اور مہذب بنانے کے ساتھ اس میں اعتدال اختیار کرنے کاحکم دیا ۔کہ لباس میں جسمانی ساخت کی پردہ پوشی اور تہذیب وشائستگی کا سامان ہوناچاہیے۔ لیکن بے جا اسراف یا کنجوسی سے حتی الامکان بچا جائے۔لیکن اب کی نئی تہذیب دیکھئے کہ بے لباسی کو وسعت نظر قراردیا جاتا ہے۔ جو جتنا مختصر، غیرمہذب اور اوٹ پٹانگ لباس پہنتا ہے۔ اسے اتنا ہی ماڈرن اور شاید مہذب تصور کیا جاتا ہے۔

اس تہذیب کی حرکتوں کو دیکھ کر سرشرم سے جھک جاتا ہے۔ جینز میں سوراخ کرنا بھی فیشن ٹھہرا ۔اور نیوڈ ڈانس کے کلب مغربی معاشرے میں عام ہیں۔ جن کے اثرات ہماری نئی نسل کے اندر بھی سرایت کرتے جارہے ہے۔ اس کے علاوہ اخلاق باختہ اشتہارات، فحش ٹی وی پروگرامز اور ڈیٹنگ کے اشتہارات ایسے کھلے عام ہیں۔لگتاہے کہ یہی اعلی تہذیب کی پہچان ہوں۔

اب ذرا تصور کیجئے کہ بچوں کے معصوم ذہن ان تما م آلودگیوں  سے کتنے متاثر ہوتے ہونگے۔ آج بچے جس اسکول میں جاتے ہیں وہاں کی بعض ٹیچرز بھی اسی طرح کم لباس فیشن کے ساتھ اورلمبے لمبے ناخنوں پر نیل پالش لگا کر باقاعدہ ٹی وی ماڈل کے روپ میں آکر بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ جی ہاں دورحاضر میں یہی اعلی اور فائق قدر سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ اب تہذیبی معیارات بدل گئے ہیں ۔اب تہذیبی معیارات کو قائم کرنے کابظاہر حق بھی انہی لوگوں کو حاصل ہے ۔جو دنیا میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترقی کے عروج پر ہیں۔

:مردعورت اختلاط جدید قدر

دورجدیدکے تہذیبی معیارات میں مرداورعورت کا اختلاط بھی ایک اہم قدر بن چکا ہے۔ جب ایک مرتبہ اس کا راستہ کھول دیا گیا تو آگے اس کی کوئی انتہا ء نہیں ہے۔چنانچہ ہمارا معاشرہ، ہمارا میڈیا، ہمارا ایجوکیشن سسٹم اور ہمارے تمام ادارے اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔ کہ اب اختلاط مردوزن کو کوئی برا بھی نہیں سمجھتا ۔بلکہ اس سے احتیاط کرنے والے کو ہی تنگ نظر،بیک ورڈ اور تاریک خیال سمجھاجاتا ہے۔ حالانکہ معاشرے میں بہت ساری خرابیاں اسی مغربی قدر کی کارستانیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس میں گرلز فرینڈز،بوائے فرینڈزکے تعلقات اور پھر اس کے نتیجے میں آنے والے سارے معاملات اسی اختلاط مردوزن کے بائے پروڈکٹ ہیں۔

آج کے معاشرے میں وہ معصوم بچہ بھی جیتا ہے۔ جس کی اعلی اخلاقی تربیت کی ہم نیت کرچکے ہوتے ہیں۔ اب ذرا تصور کیجئے جب سارا معاشرہ اسی اختلاط مردوزن کا شکار ہو ۔اس میں بوائے اور گرلز فرینڈز کی جوڑیاں گھومتی ہوں۔ اور اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتی ہوں۔ اور ہم اپنے ننھے سے معصوم بچے کی تربیت پر زوردیں۔ کہ وہ یہ سب کچھ سے آنکھیں بند کرے کتنا مشکل کام ہوگا؟ بہرحال جب انسان عزم کرلیتا ہے تو اللہ تعالی اس کی ضرورمدد کرتے ہیں۔ اسی معاشرے میں بڑے نیک لوگ بھی موجود ہیں۔ جن سے ہمیں حوصلہ ملتا ہے کہ اس دور میں بھی اگرانسان عزم وحوصلہ او رنیک نیتی کے ساتھ اپنے ہدف کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش اور عزم کرے۔ تو اللہ تعالی ضرور اس کی مدد کرتے ہیں۔اور مقصد میں اسے کامیابی عطافرماتے ہیں۔

چیلنجز کو پیش نظررکھ کر حکمت عملی

اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین اگرا پنی اولاد کی اچھی تربیت کرناچاہتے ہیں۔ تو زمانے کے ان چیلنجز کو ضرور پیش نظررکھ کر ان کے لئے سوچ سمجھ کر حکمت عملی بنائیں۔ ان سے آنکھیں بند نہ کریں۔ ان چیلنجز کاادراک کرتے ہوئےکوئی معقول حل نکالے بغیر محض بچوں پر پریشرڈالنے سے مسئلہ زیادہ گھمبیر ہوسکتا ہے۔بعض جگہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ خود والدین اور پورے گھر کا ماحول اسی مغربی تہذیب یا غیر محتاط طرزپر چل رہا ہوتاہے۔

درمیان میں ایک بچے کو کسی اہل علم کی تقریرسے وقتی طور پر متاثرہوکر تربیت کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ اور پھر اس پر پریشر ڈالنا شروع کردیتے ہیں کہ تم یہ بھی مت کرو اوریہ بھی مت کر و ۔جب نتیجے میں ناکامی ملتی ہے۔ تو والدین مایوسی کا شکار ہوکر کہنے لگتے ہیں۔ کہ ہم نے تو اپنی پوری کو شش کی۔ لیکن کیا کریں ان کی قسمت میں نہیں تھا۔ یعنی اس بچے کو الزام دینا شروع کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سراسر ناانصافی کی بات ہے۔

والدین کو چاہیے اپنے گھر کا ماحول تربیت دوست بنائیں۔ اس میں خود رول ماڈل بن جائیں۔ بچوں کے لئے تعلیمی ادار ہ وہ منتخب کریں جو تربیہ دوست ہو۔ چاہے تعلیمی لحاظ سے بہت معیاری نہ بھی ہو۔ کیونکہ تعلیمی کمی کو کسی اور ذریعے سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن تربیت کی کمی کو پوراکرنا بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالی اولاد کی تربیت کے تمام مراحل ہم سب کے لئے آسان بنادے۔ اور ہمیں اپنے فرض منصبی کو احساس ذمہ داری کے ساتھ اداکرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*