موثر تربیت کے دو اہم ستون

موثر تربیت کے دو ستون

کیا آپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کے لئے فکرمند ہیں؟ کیا آپ نے اپنے بچوں کی تربیت کی پوری کوشش کی؟لیکن آپ کو ناکامی کاسامنا  کرناپڑا؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو اس مسئلے کا حل مندرجہ ذیل دو چیزیں ہیں۔یہ دونوں چیزیں والدین، اساتذہ، مبلغین،مصلحین اور ہروہ آدمی جو کسی دوسرے کی تربیہ پر کام کرنا چاہتا ہےاسکےلئےلازمی ہیں۔ ان دونوں کے بغیر تربیہ کا کوئی کام درست طریقے سے انجام نہیں دیاجاسکتا۔پہلی چیز علم نافع اور دوسری چیز مزاج موزوں ہے۔

:علم نافع

تربیت کے حوالے سے علم نافع سے  ایسا علم مراد ہے۔ جو اپنے حامل کو درست فہم، صحیح ادراک اور ساتھ ہی واضح سمت بھی عطا کردے۔ علم نافع کے لئے زیادہ علم یا معلومات ہونابالکل ضروری نہیں۔ بلکہ موقع محل کے مطابق ضروری علم ہونا، واضح ہونا اور درست سمت کی طرف رہنمائی کرنے والا ہونا ضروری ہے۔ بہت زیادہ علم ہونے کے باوجو غیر واضح، مبہم، شکوک وشبہات سے بھرپور یا درست سمت کی طرف رہنمائی سے قاصر ہووہ علم نافع نہیں کہلاسکتا۔

 لہذا تربیت اولاد کی پہلی شرط والدین کے پاس تربیت کے حوالے سے علم نافع کا ہونا ہے۔یعنی والدین کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچے کی تربیت کیوں کریں؟ تربیت کے لئے کن کن ایریاز پر فوکس کرنا ہے؟ کب کب کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے؟ ان تمام سوالات کا درست جواب علم نافع کہلانے کے قابل ہے۔

:مزاج موزوں

تربیت اولاد کے لئے یہ دوسری بنیادی شرط ہے، کہ مربی والدین اپنے مزاج پر کام کرکے اسے بچوں کی تربیت کے لئے مناسب اور متوازن  بنائیں۔جس کے نتیجے میں آپ ہر حال میں خوش رہ سکیں۔ غصہ یا ناراضگی کی کیفیت کو اپنے مزاج اور طبیعت پر حاوی نہ ہونے دیں۔ بچے کوئی بھی حرکت کریں آپ بحیثیت والدین  اپنے مزاج کو قابو میں رکھتے ہوئے شعور ی سطح پر  بچوں کی حرکتوں کو ڈیل کرسکیں۔ یہی دین کا حکم ہے رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ ا ور تربیت اولادکے عمل کا بھی تقاضا ہے۔ 

مزاج یا طبیعت انسان کا وہ مستقل رویہ ہوتا ہے جسے ظاہر کرنے کے لئے اسے سوچنا اور تکلف نہیں  کرنا پڑتا۔ بلکہ تحت الشعورسے خود بخود ظاہرہوکرسامنے آجاتاہے۔اور مستقل طور پر باربار یہی رویہ اپنے آپ ظاہر ہوتارہتاہے۔ اس کے مقابلے میں ایک اور لفظ موڈ ہوتا ہے۔ وہ بھی انسان کے ایک خاص رویے کے اظہار کا نام ہے ۔لیکن یہ وقتی اور عارضی رویہ ہوتا ہے مستقل اور بلاتکلف نہیں۔اگر دونوں میں مزید فرق ڈھونڈا جائے۔ تو مزاج انسان کی داخلی کیفیت کا نام ہے۔ یعنی مزاج انسان کے اندر سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کا محرک باہر سے نہیں آتا۔ جبکہ موڈوہ عارضی رویہ ہوتا ہے جس کا محرک باہر سے آتا ہے۔ یہ بہت جلد بدلنے والا بھی ہوتا ہے جسے عام طور پر موڈسوئنگز بھی کہتے ہیں۔

تربیت کے لئے مزاج موزوں کی ضرورت

تربیت کے لئے مربی، والدین اور اساتذہ کے پاس موزوں مزاج کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر محض علم نافع بھی موثر تربیت کے لئے کافی نہیں ہوتا۔  کیونکہ موثر تربیت کے لئے مضبوط تعلق درکار  ہوتا ہے۔ اور تعلق اسی انسان سے بن سکتا ہے جو مزاج موزوں رکھتا ہو۔مزاج موزوں حلم سے بھرپور طیبعت کا نام ہے۔ کہ اس میں شدت،تندی، درشتی اور روکھاپن نہ ہو۔ بلکہ طبیعت میں نرمی اور الفاظ کے انتخاب میں شائستگی اور اپنے غصے پر کنٹرول ہو۔

 مزاج موزوں کے ایک مظہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  جناب سلمان آصف صدیقی صاحب فرماتے ہیں۔ کہ مزاج موزوں  ایسےمزاج کا نام ہے۔ جس میں انسان اپنے آپ کو اہم سمجھنے کے ساتھ دوسروں کی اہمیت کاپوری طرح احساس وادراک کرے۔ اور اس کیفیت کو ہرجگہ نہ صرف برقراررکھے بلکہ اس کا عملی مظاہر بھی کرے۔یعنی دوسروں کو پوری طرح اہمیت اور عزت وتکریم دینا اس کے لئے آسان ہوجاتاہے۔حدیث پاک میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :کہ کامل مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

مزاج موزوں کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس سے متصف آدمی سے رابطہ کرنا،  اس سے بات کرنا اوراس سے تعلق قائم کرنا دوسروں کو آسان لگے۔وہ ایسا انسا ن ہو کہ جس کے لئے معاف کرنا اور معافی مانگنا کوئی مشکل کام نہ ہو۔ وہ بہت جلد لوگوں سے مانوس ہوجاتا ہو۔اور لوگوں کو اپنے ساتھ مانوس کرسکتاہو۔خوش طبع، خوش مزاج اور وضع دار ہو۔غیر ضروری ناراضگی کا اظہار، غصہ، بدمزاجی اور چڑچڑاپن اس کی زندگی سے حرف غلط کی طرح محو ہوگئے ہوں۔

تربیت اور شخصیت سازی بڑے لوگوں کے کام ہیں۔

انسان سازی، تعمیرشخصیت اور تربیت اولادکے کام بڑے انسانوں کے ہوتے ہیں۔ جن کا ظرف بہت وسیع ہوتا ہے۔ مزاج موزوں کے بغیر بڑاانسان بننا بہت مشکل کام ہے۔ جناب احمدجاوید صاحب بڑے آدمی کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔کہ بڑا انسان وہ ہے جس کی موجودگی میں کوئی دوسرا انسان اپنے آپ کو کمتر محسوس نہ کرے۔ بلکہ عزت اور برابری کااحساس برقراررہے۔ دوسرے الفاظ میں مزاج موزوں ہربڑے انسان او ر ہرمربی کی پہچان ہوتی ہے۔

مزاج موزوں کا تجربہ ہونے کے بعد انسان شکرگزاری کی کیفیت میں چلاجاتا ہے۔اس کے لئے کسی بھی حال میں خوش رہنا مشکل نہیں رہتابلکہ آسان ہوجاتا ہے۔ یہی خوشی اور خوش مزاجی کی کیفیت اولادکی تربیت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اولاد کی اچھی تربیت کے لئے ان دونوں چیزوں پر خاص توجہ دیں اور اپنے آپ کو بچوں کی اچھی تربیت کے لئے موزوں بنائیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*