ArticlesColumnsIslamاسلامی معلومات

دین اسلام میں دعا کی اہمیت اور فضیلت

دعا عربی زبان کا لفظ ہے جس کے  معنی پکارنے ،التجا کرنے یا فریاد کرنے کے ہیں ۔ جبکہ شریعت کی  اصطلاح میں دعا  سے مراد اللہ  تعالی سے کچھ مانگنے  یا طلب کرنےکے ہیں ۔ قرآن کریم میں لفظ دعا متعدد بار  آیا ہے ۔ اور جب ہم حدیث  کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حدیث میں بھی دعا مانگنے کی  بہت زیادہ  ترغیب دی گئی ہے اور تاکید کی گئی ہے ۔

دعا اللہ اور بندے کے درمیان ایک تعلق کا نام  ہے دعا کے ذریعے بندہ اپنے رب سے اپنی حاجت مانگتا ہے اور دعا کے ذریعے ہی اللہ تعالی ہماری حاجتوں کو قبول فرماتے ہیں دعا کی اہمیت اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ ایک  حدیث مبارکہ  میں  دعا کو مومن کا ہتھیار کہا گیا ہے۔ جب کوئی بندہ مومن  اللہ تبارک وتعالی سے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ دیکھو میرا بندہ جانتا ہے کہ میں ہی اس کا مدد گار ہون اور میں ہی  اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں  َ۔

 دعا کی اہمیت اور اس کی فضیلت قرآن کریم کی روشنی میں 

قرآن کریم وہ روشن کتاب   ہے کہ جس نے ہمیں  زندگیکو صحیح ظریقے سے  گزارنے کے طور طریقے بتائے قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر مومنوں کو  اللہ تعالی  سے دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہے اللہ تعالی سے  بندے  کا دعا نہ مانگنا اللہ تعالی کی  ناراضگی کا باعث ہوتا ہے   جومومن اللہ سے دعا نہیں کرتااللہ تعالی اس کے حال پر رحم وکرم نہیں فرماتے حدیث میں   دعا کو  عبادت کا مغز کہا گیا ہے ۔

دعا کی فضیلت  اور دعا کی اہمیت  کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ قرآن کریم میں بیشتر  مقامات پر اللہ تعالی نے  بندہ مومن کو دعا مانگنے کا حکم دیا ہے  چناچہ ارشاد باری تعالی ہے

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۔

ترجمہ: اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کرجہنم میں جائیں گے ۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی مومنوں کو یہ حکم دے رہے ہیں  کہ وہ اللہ سے دعا مانگیں اس سے دعا کی اہمیت وفضیلت بخوبی  واضح ہوجا تی ہے امام فخر الدین رازی اس آیہ کی تفسیرکےتحت تفسیر کبیر میںارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی عبادات میں دعا ایک بہتریں عبادت ہےاسی وجہ سے اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اس آیہ میں دعا مانگنے کا حکم دیا ہے ۔

قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ جو اللہ تعالی سے اپنی حاجت کے لئےدعا نہیں کرتے ایسے لوگوں کو اللہ تعالی ناپسندکرتے ہیں اس لئے ہمیں  ہر لمحہاپنے رب کے سامنے دست دعا  دراز کیئے  رہنا چاہیئے نہ جانے کون سی گھڑی قبولیت دعا کی گھڑی ہو کیونکہاللہ تعالی کےعلاوہ کوئی دوسرا نہیں جو کسی مجبور ،بے کس، ولاچار کی دعا سنے۔ وہی ہے جومومن کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور مومن کیان دعاؤں کے بدلے  میںمومن کو ان  دعاؤں کا بہتریں اجر بھی عطاء فرماتا ہے۔

  چناچہ روایات میں مزکور ہے کہ ایک پیرومرشد روزانہ رات کو مصلے پر بیٹھ جاتے اور اپنے مریدیں کو بھی اپنے ساتھ میں بٹھا لیتے اور ساری رات اپنے رب  کے حضور  دعائیں  کرتے رہتے اور مریدیں ان کی دعاؤں پر آمین کہتے رہتے اسی طرح پوری رات گزر جایا کرتی اور دعاؤں اور آہ وزاری  کا  یہ سلسلہ ساری رات برابر  جاری رہا کرتا ان پیر صاحب کی دعا بڑی لمبی ہوا کرتی تھی۔

  ایک دن ایک مرید نے پیر صاحب سےعرض کیا کہ آپ دعا کرنا چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ کتنے عرصے سے میں آپ کے ساتھ دعاؤں میں شریک ہوتا ہوں  روز دعا ہوتی ہے اور اس دعا کے کوئی بھی  اثرات مرتب نہیں ہوتے ان پیر صاحب نے مرید سےسوال   کیا کہ کوئی اور در بھی ایسا ہےجس پر اللہ کو چھوڑ کےچلے جائیں  ہمیں تو بس اپنے رب کے حضوردعا کرنی چاہیئے وہ ہماری دعا کو قبول کرے تو بھی اور اگر وہ ہماری دعا کو قبول نہ کرے تب بھی اس کے علاوہ کون ہے ہمارا جو ہماری دعاؤں کو سنے گا کیا کوئی اور بھی ایسا ہے جو دعاؤں کا سننے والا ہو  ہمیں ہر لمحہ اسی رب کریم کے دامن کرم سے وابستہ رہنا چاہیئے اور اپنی دعائیں اسی سے مانگتے رہنا چاہیئے چناچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ)

ترجمہ: یا وہ بہتر جو مجبور کی فریاد سنتا ہے جب وہ اسے پکارے اوربرائی ٹال دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث کرتا ہے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟تم  بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔

حقیقت میں دعاؤں کا  سننے والا تو اللہ ہی ہے اور و ہی دعا سننے پر قادر ہےاس کے سوا  اور نہ ہی کوئی دعا سننے اور نہ ہی کسی کی دعا قبول کرنے پر  قادر ہے ۔ مذکورہ آیہ مبارکہ میں بھی اللہ تعالی  ایک سوالیہ  انداز اختیار کرتے ہوئے مکے کے مشرکوں سے خطاب کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ان کے وہ بت بہتر ہیں جنہیں وہ اللہ کے سوا  پکارتے ہیں یا اللہ  تعالی جو ہر مجبور اور لاچار کی دعا سنتا ہے ۔

جب کوئی بندہ مومن دعا کی خاطراپنے ہاتھوں کو اللہ کی بارگاہ مینبلند کر دیتا ہے تو اللہ تعالی اس کے ہاتھوں کو خالی نہین لوٹاتے بلکہ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں  ۔اگر دعا میں مانگی جانے والی چیز اس بندہ مومن کے حق میں بہتر  نہیں ہوتی تو اللہ تعالی اس دعا کے نتیجے میں اسے  اس سے بہتر شے اس بندہ مومن کو عطاء فرماتے ہیں ۔

اللہ تعالی اس بات کو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ  میرے اس مومن بندے کے حق میں کیا شے بہتر ہے اور کیا نہیں اس لئے عارف باللہ لوگ اس طرح دعاکیا  کرتے ہیں کہاے  اللہ تعا لی اگر یہ چیز میرے حق میں بہتر ہے تو مجھے عطاء فرمادے اور دعا کا دوسرا حصہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر یہ چیز   مجھے تجھ سے دور کردے تو توں اسے مجھ سے دور رکھ ۔

اللہ تعالی مومن کی شہ رگ سے  بھی نزدیک ہیں تووہ مومن کی دعا کو کیسے نہیں قبول فرما ئینگے جب کوئی بندہ مومن اللہ تعالی کی جناب  میں سچے  دل سے  دعا مانگتا ہے  تو اللہ تعالی اس  کی دعا کو ضرور قبولفرماتےہیں بندہ مومن کی دعاکسی صورت میں بھی رد نہیں کی جا تی دعا کے کچھ آداب ہیں اگر ان کو مدنظر رکھتے ہوئے دعا کی جائے تو اس کی قبولیت میں کچھ شک نہیں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ  ہم اللہ تعالی سے بے دلی سے دعائیں مانگتے ہیں اور جب وہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں  تو ہم اپنی  زبان پر شکوے اور شکایات  لانے لگ جاتے ہیں دعا کی قبولیت کا سب سے پہلاادب یہ ہے کہ اکل حلال وصدق مقال یعنی حلال کا کھانا اور سچائی کو اختیار کرنا جس شخص میں یہ بات ہو اس کی دعا قبول ہوا کرتی ہے۔

اپنی دعاؤں میں اثر پیدا ا کرنے کے لئے  ذکر ربی کا اہتمام بہت ضروری ہے لہزا ہر وقت ذکر ربی سے زبان کا تر رہنا دعاؤں کی قبولیت کا باعث ہوتا ہے لہذا ہر وقت ذکر ربی کا اہتمام رکھنا چاہیئے  اس طرح دعائیں قبول ہوتی ہیں دعا اللہ تک فوری رسائی کا ایک ایسا ذریعہ ہے  کہ جیسے ہی بندہ مومن نےدعا کے لئے  ہاتھ اٹھائے بندہ مومن بارگاہ الہی میں جاپہنچا کیا یہ سعادت کچھ کم ہے کہ بندہ مومن دعا کے ذریعے رب سے تعلق قائم کرلیتا ہے ۔رب سے تعلق جوڑنے کا سب دے  بہتریں ذریعہ صرف دعا ہے حدیث میں آتا ہے کہ افضل ذکر لا الہ الا اللہ  افضل الدعا استغفار کہ اذکار میں افضل ذکر لا الہ الا اللہ اور افضل دعا استغفار ہے ۔

رب کریم سے بندے کا مانگنا یعنیبندہ مومن کی دعا  اللہ کو بڑی پسند ہے اسی لئے ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں مختلف اوقات میں اللہ تعالی سے مختلف دعائیں مانگنے کی ہدایت فرمائی ہےجن میں سے کچھ دعائیں جو احادیث میں مذکور ہئیں وہ یہ ہیں سو کر اٹھنے کی دعا ، سونے کی دعا ، دودھ پینے کی دعا ، پانی پینے  کی دعا ، بیت الخلاء میں جانے کی دعا ، بیت الخلاء سے نکلنے کی دعا ، وضو کی دعا  ، استخارے کی دعا ،وضو کے بعد کی دعا ، قبرستان جانے کی دعا ،سفر کی دعا ،اذان کے بعد کی دعا  ،جنازے کی دعا  نئے کپڑے پہنے کی دعا ، یہ تمام دعائیں اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی امت کو تعلیم فرمائیں ہم سب کو چاہیئے کہ ہم ان دعاؤں کو خود بھی یاد کریں اور اپنے بچوں کو بھی یاد کرائیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعا کی کیا  اہمیت ہے اور دین اسلام میں دعا کی  کتنی  بڑی فضیلت ہےکہ ہر ہر کام کی دعا بیان کی گئی ہے دراصل ہم ان دن بھر کی دعاؤں سے اپنی دنیا ؤآخرت کو کامیاب بناسکتے ہیں دعا سے   ہمارااپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ قائم ہو جاتا ہے  ہے اور ہر کام کے لئے شریعت مطہرہ نے جو دعا کا حکم دیا ہے اس کی حکمت بھی یہی ہے کہ بندے کا دعا کے ذریعے اپنے رب سے تعلق ہر لمحہ بہ لمحہ جڑا رہے  وہ دعا کے ذریعے اپنے رب کو دن بھر پکارتا رہے ۔

ایک دعا کی حدیث میںبہت زیادہ تاکید آئی ہے  اوریہ دعا  بڑی فضیلت والی دعا بھی ہے وہ دعا یہ ہے جسےدین اور دنیا کی بھلائی کی دعا بھی کہا جاتا ہے دعا ہے ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ وفی الاخرت حسنتہ وقنا عذاب النار  یہ ایک  ایسی دعا ہے جس کی فضیلت  حدیث سےمبارکہ سے  ثابت ہے اور یہ ایک مجرب تریں دعا ہے اس دعا سے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب کسی بندہ مومن پر شیطان کا بس نہیں چلتا تو وہ کہتا ہے کہ میں اس کو مرتے وقت گمراہ کردوں گا لیکن جب وہ بندہ مومن اس دعا کومانگتاہے تو شیطان کی ہڈیاں ٹوٹنے لگ جاتی ہیں ہیں اور وہ کہتا ہے کہ  ہائے اس دعا کے ذریعے اس شخص نے اپنی دنیا اور اپنی آخرت کو مجھ س ے محفوظ کرلیا ۔

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ دعا زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے جب تک رسولﷺ کی ذات اقدس پر درود نہ پڑھا جائے اس لئے کوئی بھی دعا کرنے سےپہلے اور دعا کرنے کے بعد حضور اقدس ﷺ کی ذات اقدس پر ضروردرود بھیجنا چاہیئےآپ ﷺ کی ذات اقدس پر درود پڑھنے سے دعا رب کی بارگاہ میں مقبول ہو جایا کرتی ہے   اسی لئے  جب بھی عا رفین کسی کو کوئی وظیفہ  یا دعا بتاتے ہیں تو اس کے اول اور آخر نبی ﷺ پر درود پڑھنے کی تاکید بھی ضرور  فرماتے ہیں کسی بھی پریشانی اور تکلیف کی حالت میں سب سے پہلے بندے کو اپنے رب سے دعا کرنی چاہیئے کہ اے اللہ پاک اس مشکل سے مجھے خلاصی عطاء فرما  ۔

ہمارا معاملہ عجیب ہے کہ  ہم پہلے تو تکلیف میں ڈاکٹروں کی جانب دوڑ ے چلے جاتے ہیں  اور جب ڈاکٹرناکام ہوکر  تھک ہار کر کہتا ہے کہ اب رب سے دعا کریں تو پھر ہم رب سے زور وشور سے دعا  کے ذریعے رجوع کرتے ہیں حالانکہ دعاپہلے  کرنی چاہیئے تھی اس کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کرنا بنتا تھا ۔

اللہ سے مشکل وقت میں دعا مانگنا یہ انبیاء کا شیوہ اور ان کی سنت ہے اسی لئے قرآن میں جابجا انبیاء کی دعائیں مذکور ہیں  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ، حضرت ذکریا علیہالسلام کی دعا ،حضرت موسی علیہ السلام کی دعا حضرت آدم علیہ السلام کی دعا اس سے دعا جیسی عظیم عبادت  کی ٖفضیلت اور دعا کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ دعا کی اہمیت اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ مشکل اوقات  میں انبیاء کرام نے بھی دعا کے وسیلے سے ہی اللہ کو پکارا ہے۔ چناچہ  حضرت اباہیم علیہ السلام نے جباللہ سے اولاد کے لئے دعا کی تو اس کا تذکرہ قرآن کریم میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا  چناچہ قرآن کریم میں  دعائے ابراہیم کے بارے میں ارشاد ہے کہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ

ترجمہ: تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل و اسحاق دئیے۔ بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔

حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے  اپنے رب کی بارگاہ میں ایک اور فرزند کی دعا کی تھی  تو اللّٰہ تعالیٰ نےآپ ؑ کی دعا قبول  فرمائی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہِ الٰہی میں  عرض کیا ’’تمام تعریفیں  اس اللّٰہ تعالیٰ کیلئے ہیں  جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود حضرت اسمٰعیل اور حضرت اسحاق عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دئیے۔ بیشک میرا رب عَزَّوَجَلَّ میری دعا قبول فرمانے والا ہے۔

حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر99 برس ہو چکی تھی اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر مبارک 112 برس ہو چکی تھی ایسے حالات میں بھی ابراہیم علیہ السلام نے  رب سے دعا کی جبکہ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ  اب کچھ نہیں ہو سکتا لیکن ڈعا کے بعد اللہ تعالی نے نہ صرف ان کی دعا کو قبول  فر ما یا بلکہ انہیں اسمعیل  اور اسحاق علیہ السلام دعا کے نتیجے میں عطاء فر مائے ۔

خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۸۹، اسی لیئے دعا بڑی فضیلت والی چیز ہے  اور اس کی اہمیت کا اندازہ بھی اسی واقعہ سے ہوتا ہے کہ عمومااتنی بڑی عمر میں انساں کی صاحب اولاد ہونے کی  صلاحیت تقریبا ختم ہو جایا کرتی  ہے لیکن اس عمر میں بھی نبی ابراہیم علیہ السلام  کا اللہ سے دعا کرنا اسبات کا ثبوت  ہے کہ  ہمیں دعا مانگتے ہوئے یہ خیال نہیں ہونا چاہیئے کہ ہماری مصیبت یا مشکل بڑی ہے بلکہ یہ یقیں ہونا چاہیئے کہ جس  مشکل کشاء کے دربار میں میں نے دعا کر کے اپنی حاجات رکھی ہیں  وہ سب سے بڑا ہے اور دعا کا سننے والا ہے ہے  اسی طرح کا ایک اور واقعہ قرآن کریم میں مذکور ہے کہ جب حضرت ذکریا علیہ السلام نے رب کی بارگاہ میں دعا  کی چناچہ  قرآن نے اس واقعے کو کچھ اس طرح بیان فرمایا کہ

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ-قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ

ترجمہ: ’’ یارب ! مجھے خاص اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرمادے ۔ بیشک تو دعا کا سننے والا ہے ۔

حضرت ذکریا علیہ السلام نے جب محراب مریم میں بے موسم کے پھل دیکھے تو مریم علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ سب کہاٰں سے آیا تو مریم علیہ  السلام نے کہا کہ یہ سب میرے رب کی طرف سے ہے یہیں حضرت ذکریا علیہ السلام نے سوچا کہ جو اللہ مریم علیہ السلام کو بے موسم کے پھل دے سکتا ہے وہ مجھے بڑھاپے میں اولاد کیوں نہیں دے سکتا  بس ذہن میں یہ بات آنی تھی کہ جو رب مریم علیہ السلم کو بے موسم کے پھل دے سکتا ہے وہ مجھے بڑھاپے میں اولاد کیوں نہیں دے سکتا۔

تو وہیں کھڑے کھڑے محراب میں اللہ تعالی سے دعا کی کہ اے میرے رب مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطاء فرما حضرت ذکریا علیہ السلم کی  بیوی بھی بانجھ تھیں  لیکن اللہ تعالی نے  اس دعا کے وسیلے سے ان کی دعا کو قبول کرتے ہوئے انہیں یحیٰی علیہ السلام کیخوشخبری دی  دعا کے حوالے سے  قرآن کریم میں ایک اور جگہ دعا کے بارے میں ارشاد ہے کہ

وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ ط اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ(البقرۃ، 2 : 186)

ترجمہ: اور (اے حبیب!) جب میرے بندے آپ سے میری نسبت سوال کریں تو (بتا دیا کریں کہ) میں نزدیک ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے پس انہیں چاہئے کہ میری فرمانبرداری اختیار کریں اور مجھ پر پختہ یقین رکھیں تاکہ وہ راهِ (مراد) پا جائیں۔

   اس ایہ مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے رسول ﷺ سے ارشاد فرما رہے ہیں کہ میرے مومن بندوں کو جب وہ آپ ﷺ سے میرے بارے میں پوچھیں  تو انہیں بتا دیں کہ  میں نزدیک ہوں ان کے اور میں ان کی اس پکار( دعا ) کا جواب بھی دیتا ہوں  تو انہیں چاہیئے کہ  وہ میری ہی فرمانبرداری کریں  اور مجھ ہی پر یقیں رکھیں  تاکہ ان کی مرادیں پوری ہوں  اس آیہ مبارکہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دعا کی اللہ تعالی کی نظر میں کتنی اہمیت اور کتنی فضیلت ہے کہ وہ خود اپنے بندوں سے کہ رہا ہے کہ  کہ مجھ سے مانگو میں تمہارے قریب ہوں۔

   دعا کی اہمیت اوراس کی فضیلت حدیث کی روشنی میں

  •  ترمذی شریف میں  کتاب الدعوۃ میں حدیث مذکور ہے کہ دعا سراسر عبادت ہے۔
  • ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی  چیز اللہ کے نزدیک دعا سے بہتر نہیں
  •  مسلم شریف کتا ب الوصیۃ کی حدیث ہے کہ جو چیزیں مرنے کے بعد بھی میت سے منقطع نہیں ہوتیں ان میں ایک دعا ہے۔
  • مسلم کتاب الصلوۃ کی حدیث ہے کہ نبیﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ  بندہ اللہ سے نزدیک سجدے کی حالت میں ہوتا ہے اس وقت اللہ سے خوب دعا مانگو۔
  • ابو داؤد کی حدیث ہے کہ دو چیزیں ہیں  جو رد نہیں کی جاتیں  یا بہت کم رد کی جاتیں عیں  لڑائی کے وقت جب فوجیں گتھم گتھا ہوں اس وقت کی دعا  اور اور اذان کے وقت کی دعا ۔
  •  ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کی نبیﷺ نے ارشاد فر مایا کہ کہ بلا شبہ اللہ تعالی زندہ رہنے والا اور کریم ہے  اسے حیا آتی ہے اس بات سے کہ آدمی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے اور وہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دے۔

وہب بن منبہ فر ماتے ہیں کہ ا یک حدیث میں ہے رسول ﷺ نے ارشاد فر ماتے  ہیں جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو اسے چاہیئے کہ  حلال رزق کھائے ۔من درجہ بالا احادیث مبارکہ سے دعا کی اہمیت اور  اس کی فضیلت کے بارے میں معلوم ہوتا ہے ہمیں  ہر حال میں اللہ سے اپنی ار اپنے  تمام مومن مسلمانوں کی بھلائی کی دعا مانگتے رہنا چاہیئے۔

یہ بھی پڑہیں: عرب اسرائیل جنگوں کی مکمل تاریخ اور حماس کا قیام

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button