مارکیٹیں سویرے کھولنے اور جلدی بند کرنے کی اچھی تجویز

خواب کی حقیقت اور اس کی قسمیں

لطیف الرحمن لطف

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کابینہ میں تجویز پیش کی ہے کہ مارکیٹیں جلدی کھولنے اور جلدی بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے اس فیصلے سے ملک کو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی خواجہ آصف کے مطابق اس سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں میگاواٹ بجلی کی بچت ہوگی

خواجہ آصف کی یہ تجویز بہت ہی صائب ہے کاروباری مراکز کو اگر صبح آٹھ، نو بجے سے شام چھ، سات بجے کھولا جائے تو نہ صرف بجلی کی بہت بڑی بچت ہوگی بلکہ اس سے ہماری معیشت اور سماجی زندگی پر پر بھی بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے اس وقت المیہ یہ ہے کہ ہماری مارکیٹیں بارہ ، ایک بجے کے بعد کھلتی ہیں اور رات بارہ ایک، بجے بند ہوجاتی ہیں گویا ہمارے کاروبار کا دورانیہ اگر بارہ گھنٹے کا ہے تو چھے گھنٹے رات کے اندھیرے کی نذر ہوجاتے ہیں اور ہم غیر ضروری طور پر مصنوعی روشنی کا سہارا لے کر کاروبار کرتے ہیں جس سے ملکی توانائی کا ایک خطیر حصہ خواہ مخواہ ضائع ہو جاتا ہے۔

ہم کتنے لوگ عجیب ہیں دوسرے بہت سارے معاملات میں ہم امریکا اور یورپ کی مثالیں دیتے ہیں ان کی تقلید اور نقالی کو ترقی کی ضمانت سمجھتے ہیں لیکن اس معاملے میں ہم ان کو فالو نہیں کرتے امریکا اور یورپ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں دن کی روشنی میں کاروبار کیا جاتا ہے وہاں مارکیٹیں رات ہوتے ہی بند ہوجاتی ہیں بلکہ وہاں ہمارے کراچی والوں کی طرح رات گئے کھانا کھانے کا رواج بھی نہیں ہے۔

وہ لوگ ہمارے دیہات والوں کی طرح مغرب کے بعد کھانا کھاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ریستوران مغرب کے بعد ہی کھلنا شروع ہوجاتے ہیں اور فجر سے پہلے بند ہوجاتے ہیں ہمارے کراچی میں یہ روایت ہندوستان سے در آئی ہے بہت سے سادہ لوح لوگ اس کو بھی انگریزوں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ لا علمی ہے

ہمارے دین نے تو ہمیں جلدی سونے اور سویرے اٹھنے کی تاکید کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے “سمر ” سے منع فرمایا ہے اور عربی میں سمر عشاء کے بعد قصہ گوئی کی مجلس جمانے کو کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں عیاش اور اوباش قسم کے لوگ رات دیر تک رقص و سرود اور شراب و کباب کی محفلیں جمائے رکھتے، قصہ گوئی اور گپ شپ میں راتیں گزار دیتے اور پھر دن کو دیر تک خواب غفلت میں سوئے پڑے رہتے۔

آپ نے اپنے پیرو کاروں کو اس غلط روش سے روکا اور عشاء کے بعد بلا ضرورت گفت گو اور گپ شپ سے منع فرمایا آپ کے اس حکم کا منشا یہی تھا کہ مسلمانوں کو دینی اور دنیاوی نقصان سے بچایا جائے رات جلدی سونے کے نتیجے میں ایک مسلمان تہجد یا کم از کم فجر کی نماز کے لیے آسانی سے اٹھ سکتا ہے اور رات کو نیند پوری کرنے کی بدولت صبح سویرے تازہ دم ہو کر اپنے دنیاوی کام کاج اور کاروباری سرگرمیاں اچھے انداز میں انجام دے سکتا ہے

مسند ابوداؤد میں حضرت صخر بن وداعۃ الغامدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا” اللھم بارک لامتی فی بکورھا(اے اللہ! میری امت کے لئے صبح سویرے کے وقت اور اس وقت کے اعمال میں برکت عطا فرما!) اسی روایت میں یہ بھی ہے ” وکان اذا بعث سریۃ او جیشا بعثھم من اول النھار” (ترجمہ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی فوجی دستہ یا لشکر روانہ فرماتے تو صبح سویرے روانہ فرماتے) اسی روایت کے آخری حصہ میں آتا ہے کہ حضرت صخر بن وداعۃ ایک تاجر تھے وہ اپنا تجارتی ساز و سامان صبح سویرے روانہ کیا کرتے تھے اس عمل کی وجہ سے ان کی تجارت بہت پھلی پھولی اور وہ بہت امیر ہوگیا

صبح سویرے کے وقت میں برکت کی دینی وجہ کے لئے یہی کافی ہے کہ رسول صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت کے لئے برکت کی دعا مانگی ہے اور آپ علیہ السلام کا معمول بھی اس وقت کام کرنے کا تھا اس کی عقلی وجہ بھی بہت واضح ہے اس وقت چونکہ انسان سو کر اٹھتا ہے اس کی نیند کی ضرورت پوری ہو چکی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بدن میں چستی اور طبیعت میں انبساط ہوتا ہے پھر صبح دم کا جاں فزا ماحول انسانی جوارح اور قوی کو نشاط سے معمور کر دیتا ہے پرندوں کی ترنم سرائی، باد صبا کی اٹھکھیلیاں ، نیلگوں فلک کا نکھرا ہوا مکھڑا، مشام جاں کو راحت بخشتی معتدل فضا غرض ہر چیز انسان کو چست و توانا کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے جوش ملیح آبادی نے اسی لیے تو کہا تھا

ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے
اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی

مگر افسوس ہم اس نشاط انگیز وقت کو خراٹوں کی نذر کر دیتے ہیں اور اس وقت کاروبار اور روزگار کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں جب آسمان آگ برسا رہا ہوتا ہے اور سورج اس دن ہمیں روشنی اور توانائی مہیا کرنے کی آدھی ذمے داری سے سبکدوش ہو چکا ہوتا ہے

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مارکیٹوں کے کھولنے اور بند کرنے کے حوالے سے جو مثبت تجویز پیش کی ہے حکومت کو بھی اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور تاجر برادری کو بھی اس کی حمایت کرنی چاہیے اس سے نہ صرف ہمارے ملک کو توانائی کے شعبے میں بہت بڑی بچت ہوگی بلکہ قومی معیشت اور ہماری سماجی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی

1 Comment

Leave a Reply