والدین پر اولاد کے حقوق اور ذمہ داریاں

والدین پر اولاد کے حقوق اور ذمہ داریاں
والدین پر اولاد کے حقوق اور ذمہ داریاں

والدین پر اولاد کے حقوق اور ذمہ داریاں

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

اولاد پر والدین کے کیا حقوق عائد ہیں؟ یہ بات ہم سنتے رہتے ہیں اورقرآن وحدیث میں والدین کے حقوق کا جابجا بیان ہمیں ملتا ہے لیکن یہاں ہم والدین کی معلومات کے لئے  یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ خود والدین پر اولادکے کیا حقو ق ہیں؟ کیونکہ اسلام کسی کو یک طرفہ حق نہیں دیتا بلکہ ہر انسان کے کچھ حقوق ہوتے  ہیں جو دوسرے کے ذمہ فرض ہوتے ہیں دوسری طرف کچھ فرائض ہوتے ہیں جو دوسروں کو حقوق کے طور پرادا کرنے ہوتے ہیں۔بالکل اسی طرح والدین پر اولاد کے بھی کچھ حقوق ہیں جو والدین کے فرائض میں شامل ہیں یہاں ان کاتذکرہ ہوگا۔

 اولاد کے حقوق کی پہچان والدین کے لئے اس لئے ضروری ہے تاکہ شروع سے ہی والدین بچوں کے ان حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرسکیں، ورنہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات والدین بچوں کے اصل حقوق کی ادائیگی کی پروا تونہیں کرتے لیکن اولاد کی محبت میں ایسی چیزیں ان کو دینے کا اہتمام کرتے ہیں جو شاید والدین کی ذمہ داری میں داخل نہیں ہوتیں مثلا بعض امیر والدین کی طرف سے اپنے ہربچے کو پلاٹ، گھر اور بینک بیلنس دینے کی کوشش تو کی جاتی ہے لیکن ان کی تربیت درست طریقے سے کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اور اس کام کے لئے بعض اوقات یہ والدین اپنے آپ کو بلاوجہ کوفت میں ڈال رہے ہوتے ہیں اور بعض اوقات حرام آمدنی سے یہ سب کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حرام لقمے سے بچوں کی پرورش اور اصل فریضے سے روگردانی کے نتیجے میں بعد میں اولاد نافرمان ہوجاتی ہے گھر میں لڑائی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں، بعض اوقات ا یسی اولاد والدین کو پریشان کرتی رہتی ہے، اور والدین پچھتاتے ہوئے یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم نے اپنی اولادکے لئے کیا کچھ نہیں کیا لیکن وہ بڑھاپے میں ہمیں یہ صلہ دے رہے ہیں۔ جی ہاں بدقسمتی سے ان والدین نے اپنے بچوں کے لئے وہ سب کچھ کیا جو نہیں کرنا چاہیے تھا اور وہ نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ 

                اولاد کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے والے والدین اور نتیجے میں اولاد کی نافرمانی کا ایک مشہور واقعہ سیرت کی کتابوں میں حضرت عمرفاروق ؓ کے حوالے سے ہمیں ملتا ہے۔ کہ ایک شخص امیرالمومنین حضرت عمرفاروقؓ کے پاس اپنے بیٹے کی شکایت لے کرحاضر ہوا اورکہنے لگا کہ امیرالمومنین میرابیٹا نافرمان ہوگیا ہے وہ ہمیں ستاتا ہے، آپ اسے بلاکر سمجھائیے یا اسے سزادیجئے تاکہ وہ فرمانبردار ہو اور ہمیں نہ ستائے۔امیرالمومنین نے لڑکے کو بلایا اور پوچھا کہ تمہارے والد یہ شکایت کررہے ہیں کہ تم اس کی نافرمانی کرتے ہواور اس کو اذیت پہنچاتے ہوایسا کیوں ہے؟کیا تمہیں والدین کے حقوق کا پتہ نہیں ہے؟ لڑکے نے امیرالمومنین سے استفسار کیا کہ امیرالمومنین! کیا والدین پر اولاد کے بھی کچھ حقو ق ہوتے ہیں؟

حضرت عمرفاروقؓ نے فرمایا ہاں ہیں! لڑکے نے پوچھا وہ کیا ہیں؟آپ نے فرمایا کہ بچے کا پہلا حق یہ ہے کہ والد اس کے لئے ماں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرے، یعنی نکاح ایسی عورت سے کرے جومومن ہو آزاد ہونیک متقی اور سلیقہ مندہووغیرہ تاکہ اچھی نسل تیارہوسکے۔ مزید حقو ق یہ ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان کہے، عقیقہ کرے، اس کا اچھا سابامعنی نام رکھے،رزق حلال سے اس کی پرورش کرے اور اس کی تعلیم وتربیت بہت اچھی طر ح سے کرے، اس کو زندگی کے آداب سکھائے، اسے کوئی فن ہنر سکھائے۔اور پھر جوان ہونے پر اس کا نکاح مناسب جگہ کرادے وغیرہ۔ جب عمر فاروق ؓنے ان سارے حقوق کا ذکر کیا تو وہ لڑکا کہنے لگا  امیر المومنین! میرے باپ نے ان حقوق میں سے میرا کوئی حق ادانہیں کیا۔

میرے باپ نے ایک مجوسیہ باندی سے شادی کی جس میں ایمان اور سلیقہ نام کی کوئی چیز نہ تھی جب میں پیداہوا تو میرا نام جعل رکھا جو گوبر کے ایک کیڑے کا نام ہے اور آج تک لوگ اس نام کی وجہ سے میرامذاق اڑاتے ہیں، میرے باپ نے مجھے کوئی تعلیم دی اور نہ ہی میری تربیت کی۔ایسے میں ظاہر ہے کہ مجھے نافرمان بننا ہی تھا۔ لڑکے کی یہ روداد سن کر عمر فاروق ؓ نے اس باپ کی درخواست خارج کردی اور فرمایا کہ تم نے اپنے فرائض ادانہیں کئے تو پھر حقوق کا تقاضا کیوں کرتے ہو؟

                اس واقعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے ذمہ اولاد کے کچھ حقوق ہیں والدین پہلے ان حقوق کو سمجھیں اور پھر ان کی ادائیگی کا اہتما م کریں، اگر والدین ان حقوق کی ادئیگی میں ناکام رہتے ہیں تو پھر نافرمان اولاد کی اذیت برداشت کرنے اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے لئے بھی تیار رہنا چاہیے۔ذیل میں ہم والدین پر اولاد کے حقوق کو اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے۔ لیکن والدین کے ذمہ اولاد کے حقوق کی دوقسمیں ہیں، پہلی قسم اخلاقی حقوق کی ہے کہ جن کی پابندی والدین کا اخلاقی اور معاشرتی فرض ہے اور دوسری قسم آئینی حقوق کی ہے جن کی ادائیگی والدین پر صرف اخلاقی فرض نہیں بلکہ آئینی اور قانونی فرض ہے۔ اگر والدین یہ حقوق اد انہ کریں تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوسکتی ہے۔

یہاں ان حقوق کو زمانی ترتیب سے ہم ذکر کریں گے جس کے نتیجے میں پہلے اخلاقی اور معاشرتی حقوق آئیں گے اورپھرآئینی حقوق آئیں گے۔ والدین ان حقوق کو سمجھ کر اسی ترتیب سے ادائیگی کی کوشش کریں تو انشاء اللہ نہ صرف والدین اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے بلکہ اولاد کی بہترین تربیت بھی ہوجائے گی۔ یہ اولاددنیا میں والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک، نیک نامی کا ذریعہ اورباعث راحت جان ہونے کے ساتھ آخرت میں ان کے لئے صدقہ جاریہ بھی  بنیں گی۔   

:بچے کی پیدائش سے پہلے کے حقوق

                یہ اولاد کے وہ حقوق ہیں جو والدین اپنا اخلاقی اور معاشرتی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ اگر والدین ان حقو ق کی ادائیگی کریں تو ان کو اللہ کے ہاں ثواب ملے گا اور تربیت اولاد کے فریضے کی ادائیگی کے لئے ٹھوس بنیاد فراہم ہوگی یعنی اولاد کی تربیت کے لئے مناسب ٹریک فراہم ہوگی جس پر ان کی تربیت بہت اچھی طرح سے ہوتی رہے گی۔ لیکن اگروالدین بچوں کے ان اخلاقی حقوق کو نظرانداز کریں تو آئینی وقانونی طور پر ان کو مجرم نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔البتہ اولاد کی تربیت کے فریضے کی ادائیگی میں رکاوٹ ضرور رہے گی نیز اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ یہ والدین اپنے بچوں کی کامیاب تربیت کرپائیں گے ۔

:اچھے شریک حیات کا انتخاب

                رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے بعد میاں بیوی ہی بعد میں والدین بنتے ہیں اس لئے اسلام نے اس منصب کی پہلی سیڑھی یعنی شادی کے وقت شریک حیات کے انتخاب سے ہی والدین کی ذمہ داریوں کو شروع کیا ہے۔ جس وقت اپنے لئے شریک حیات کا انتخاب کیا جارہاہو اسی وقت ان تمام کوالٹییز یا خصوصیات کا خیال رکھا جائے جن کی اہمیت اسلام نے ہمیں بتائی ہے۔مثلا بیوی یا شوہرکے انتخاب میں حسن صورت، مال ودولت اور حسب نسب کی جگہ حسن سیرت، اخلاقی اوردینی معیار کوسب سے اوپر رکھا جائے تو بعد میں ازدواجی زندگی اور تربیت اولاد کے مراحل میں پیش آنے والے آدھے سے زیادہ مسائل خود بخودحل ہوسکتے ہیں۔

والدین پر بچوں کے حقوق
والدین پر بچوں کے حقوق میں سے ایک اچھے شریک حیات کا انتخاب بھی ہے

اور ایسے شریک حیات کا انتخاب اولاد کابنیادی حق ہے۔ یعنی مستقبل میں ہونے والی اولاد کا پہلا حق ماں باپ پر یہ ہےکہ ان کے لئے اچھی ماں اور اچھے باپ کا انتخاب کیا جائے۔یہی خشت اول ہے جس کو درست کیا جائے تو اوپر تعمیر ہونے والی ازدواجی زندگی اور بچوں کی تربیت کی عمارت درست انداز پر تعمیر ہوتی چلی جائے گی،ورنہ خشت اول چوں نہد معمار کج  تاثریا میرود دیوارکج والامعاملہ ہوجائے گا۔

 اس حوالے سے قرآن کریم نے یہ واضح ہدایت دی ہے کہ تم ایمان والوں سے ہی اپنا رشتہ ازدواج منسلک کرو چنانچہ قرآن کریم[1] میں فرمایا:  اور تم مشرک عورتوں سے نکاح مت کرویہاں تک کہ وہ ایمان لائیں، کیونکہ ایمان والی عورت مشرکہ سے بہرحال بہتر ہے چاہے مشرکہ عورت تمہاری نظروں کو بھاتی ہو۔ اور تم مشرک مردوں سے نکاح مت کیا کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں،عبدمومن بہرحال مشرک سے بہتر ہے اگرچہ مشرک مرد تمہیں پسند ہو۔ اس کی وجہ بھی قرآن کریم نے اسی آیت میں بیان فرمائی کہ دونوں کا انجام مختلف ہے مشرک اور مشرکہ تمہیں جہنم لے جانے کا سبب بنیں گے جبکہ مومنین ایک دوسرے کو جنت کی طرف بلائیں گے۔

                بالکل اسی طرح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ ازدواج کے انتخاب کے وقت دینداری، حسن سیرت اور حسن اخلاق کے معیارکو پہلی ترجیح بنانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ لوگ عام طورپر رشتہ ازدواج تلاش کرتے ہوئے چار چیزوں کو معیار بناتے ہیں حسن وجمال کو، مال ودولت کو، حسب ونسب کو اور دین واخلاق کو۔اس کے بعد آپ نے اس حدیث کے راوی حضرت ابوہریرہ ؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ابوہریرہ تم دین واخلاق اور حسن سیرت کو پہلی ترجیح پر رکھنا۔[2] نبی کریم ﷺ کی اس حدیث سے ہمیں واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ ازدواج کے لئے درست شریک حیات کا انتخاب اس سفر کا پہلا بنیادی قدم ہے جہاں سے عمدہ نسلوں اور ان کی تربیت کاآغاز ہوجاتا ہے۔

:نیک اولاد کی تمنا اور دعا

                شادی کے بعد ہرجوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی گود ہری ہوچنانچہ وہ اولاد کی تمنا کرنے لگتا ہے اور تاخیر ہونے پر سوجتن کرتا ہے کہ کسی طرح سے اولاد کی نعمت میسرآجائے۔لیکن نیک اولاد کی تمناکرناانبیاء کرامؑ کی سنت اور اچھے لوگوں کا شیوہ رہا ہے اولاد نہ صرف والدین کی شخصی توسیع اور تسلسل کا ذریعہ ہوتی ہے بلکہ معاشرے کے ارتقاء اور اس کے دوام وتسلسل کا باعث بھی ہوتی ہے۔قرآن کریم نے انبیاء کرام کی اس فطری داعیہ اور نیک اولاد کی تمنا اور دعاوں کو ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی سے جب بھی اولاد مانگیں تو نیک اولاد کی دعاکرنی چاہیے۔ اولاد جب نیک ہوتو والدین کے لئے دنیا میں باعث راحت،باعث نیک نامی اور آخرت کے لئے صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔ نیک اولاد اپنے لئے،والدین کے لئے، خاندان کے افراد کے لئے، ملک وملت اورمعاشرے کے لئے باعث راحت اور باعث خیرو برکت ہوتی ہے۔ وہ ٹھنڈی چھاوں کی مانند ہوتی ہے جہاں ہر کسی کو راحت ملتی ہو۔

لیکن اگر خدانخواستہ اولادبد نکلے تو والدین کے لئے سوہان روح، اذیتوں کا باعث،خاندان کے لئے بدنامی اور ملک وملت کے نام پر دھبہ بن جاتی ہے۔ اس لئے ہمیشہ اللہ تعالی سے نیک اولاد کی تمنا کرتے رہناچاہیے اور یہ دعا اولاد کا بھی حق ہے کیونکہ والدین کی دعائیں اور تربیت اولاد کو درست راستے پر ڈالنے اور سعادت مند بنانے کے لئے اہم سوغات ہوتی ہیں۔ذیل میں ہم انبیاء کرامؑ کی اولاد کے لئے بعض دعاؤں کا ذکر کرتے ہیں۔

:حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا

                اللہ تعالی کے ساتھ حضرت زکریا علیہ السلام کا تفصیلی مکالمہ سورۃ آل عمران اور سورہ مریم میں مذکور ہے سورۃ آل عمر ان میں جس جگہ یہ واقعہ آیا ہے وہاں حضرت زکریا علیہ السلام کی اللہ تعالی سے نیک اولاد کے لئے یہ دعا منقول ہے فرمایا:

ھنالک دعازکریا ربہ قال رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ انک سمیع الدعاء۔ [3]

اس موقع پر زکریا ؑنے اپنے رب کو پکارا کہ پروردگار!مجھے اپنے پاس سے نیک اولاد عطافرما بے شک تو دعاوں کو سننے والا ہے۔“

اور سورۃ مریم میں جہاں یہ واقعہ مذکور ہے وہاں دعاکے الفاظ کچھ یوں ہیں:۔

ھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب واجعلہ رب رضیا([4])

ترجمہ:  پروردگار! مجھے اپنی طرف سے وارث عطا کر جو میرااور یعقوب علیہ السلام کے خاندان کا بھی وارث ہواور میرے رب!اسے(لوگوں میں) پسندیدہ بنا۔“

چنانچہ اس دعا کا نتیجہ تھا کہ ان کو اللہ کی طرف سے بیٹا عطاہونے کی بشارت ملی جس کا نام خود خدانے یحی رکھا۔اور ان کو اپنا برگزیدہ پیغمبر بنایا۔ نیک اولاد طلب کرنے کی ایک اور دعا سورۃ الانبیاء میں آئی ہے:۔

رب لاتذرنی فردا وانت خیر الوارثین۔

[5] ” اے میرے پروردگار! مجھے اکیلے نہیں چھوڑنا اور تو ہی بہترین وارث ہے۔“

:حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا

                حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد نہیں تھی لگ بھگ سو سال اسی طرح بے اولاد گزارے لیکن رب پر یقین تھا اور نیک اولاد کی تمنا اوردعاکرتے رہے ان کی دعا سورۃ الصافات میں ان الفاظ کے ساتھ مذکورہے فرمایا:۔

رب ھب لی من الصالحین [6] ” اے میرے رب! مجھے نیک اور صالح اولاد عطافرما۔“

چنانچہ اللہ تعالی نے بڑھاپے میں ان کو پہلے حضر ت اسماعیل علیہ السلام کی شکل میں اور پھر حضرت اسحاق علیہ السلام کی شکل میں اولاد عطافرمائی، یوں ان کی نسل میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے پیغمبروں کا ایک طویل اور تاریخی سلسلہ الذہب شروع ہوا۔

                اولاد کے لئے عمر بھر نیکی اور برکت کی دعاکرتے رہنا چاہیے ماں باپ کی دعا اولاد کے حق میں نہایت اہم ہوتی ہے اور اللہ تعالی کے سامنے زیادہ قبولیت کی حق دار ہوتی ہے۔چنانچہ اپنی اولاد کے  لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قرآن کریم میں منقول ہے جو وہ ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے مانگا کرتے تھے وہ دعا یہ ہے:

رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی ربنا وتقبل دعا۔

[7] ” پروردگار! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دیجئے اور میری دعائیں قبول فرمائیے۔“قرآن کریم نے اس حوالے سے ایک اوراہم دعا ہم سب کو اور تمام والدین کو سکھائی ہے کہ اولاد ہونے کے بعد بھی والدین اور اولاد کی باہمی محبت ومودت کو بڑھانے اوراسے قائم رکھنے کے لئے اس بات کی ضرورت رہتی ہے کہ اللہ تعالی سے باربار مانگا جائے۔ چنانچہ یہ دعا ہمیں اپنی روزمرہ کی دعاؤں میں شامل کرنا چاہیے دعا یہ ہے: ۔

ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما [8]

” پروردگار!ہمیں ہمار ی اولاد اور بیویوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطافرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔“ 

                نیک اولاد کے حصول کے لئے والدین یا والدین بننے کے خواہشمندوں کو دعاؤں کا خوب اہتمام کرنا چاہیے۔ نیک اولاد کے حصول کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے نیک و دین دار شریک حیات کا انتخاب کیا جائے نیک اولاد کے لئے اوپر مذکور ان دعاؤں کا اہتمام کیا جائے اور اولاد کی پیدائش کے بعد اس کی خوب اچھی تعلیم وتربیت کی جائے اور ساتھ اللہ تعالی سے اس کے لئے حسن سیرت، رشدوہدایت، اچھے اخلاق وکردار اور اچھے نصیب کے لئے دعاکرتے رہنا چاہیے۔

:دوران حمل ماؤں کا مثبت طرز فکر وعمل

بچہ جسمانی،ذہنی، جذباتی ونفسیاتی اور روحانی طور پر کتنا صحت مند ہوگااس کا بہت حد تک انحصار دوران حمل ماؤں کے درست طرزعمل پرہے۔ کیونکہ نوماہ تک ماں کے پیٹ میں اس بچے کی جسمانی، ذہنی اورجذباتی ونفسیاتی افزائش ہوتی رہتی ہے اس دوران ماں کے روحانی اعمال کا بھی بچے کی فطرت پر اثرانداز ہونا یقینی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق بچہ پچاس فیصد جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی واخلاقی اطوار نیز مزاج ومیلانات والدین سے موروثی طور پر لے کرآتا ہے۔ دوران حمل پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کا حق ہے اور ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی جان کی حفاظت کے ساتھ اس کو جملہ غذائی ودیگر ضروریات بہم پہنچائیں۔

اگر دوران حمل ماں کی جسمانی وغذائی ضروریات کی بھرپور تکمیل کے علاوہ جذباتی طور پربھی ماں خوش رہے اور ذہنی طور پر پرسکون رہے تو اس کے مثبت اثرات یقینا آئندہ آنے والی نسل پر پڑیں گے اس کے علاوہ دوراں حمل دینی واخلاقی حوالے سے خصوصی طور پر ماں اور عمومی طور پر ماں باپ دونوں کی کارکردگی اچھی ہونی چاہیے، رزق حلال کا خوب اہتمام کیا جاتا ہو فرائض واجبات، نمازوں اوردعاؤں کی پابندی کی جاتی ہواس دوران صدقہ خیرا ت کااہتمام کیا جاتا ہو اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہو تو یقینا اس کے مثبت اثرات بچے کی نیک فطرت اور خوب صورت و سیرت کی تشکیل میں مدد دیں گے۔

:دوران حمل ماں کی جسمانی وغذائی ضروریات

                چونکہ دوران حمل ماں کو دوافراد کی غذائی ضرورریات پوری کرنی پڑتی ہے ایک خود ماں ہے اور دوسرا پیٹ میں پرورش پانے والابچہ، لہذا ماں کو متناسب،متوازن اور صحت بخش غذ الینی پڑتی ہے اور اس ضرورت کی تکمیل میں باپ اورخاندان کے دیگر افراد کو پورا تعاون کرنا چاہیے۔اس دوران صحت بخش، متوازن اور بھرپور غذا شکم مادر میں پرور ش پانے والے بچے کی بھرپور نشوونما کی ضمانت ہوتی ہے۔حمل کے دوران خواتین کا سب سے اہم مسئلہ خون کی کمی کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے حاملہ کے ساتھ جنین میں شدیدکمزوری داخل ہوجاتی ہے اور یہ کمزوری بعد میں بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ پیٹ میں ہونے والی نشوونما کے دوران یہ کمزوری ا س کی ذات کا حصہ بن جاتی ہے۔

خون کی کمی کاربوہائیڈریٹ، غذائیت اورپروٹین والی غذائیں کم استعمال کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس لئے دوران حمل ماں کو صحت مند غذا ؤں کابھرپور استعمال کرانا چاہیے،خواتین چونکہ نسل تیار کرنے کی ذمہ دارہوتی ہیں اس لئے صحت مند نسل تیار کرنے کے لئے ان کو دوران حمل کے تمام مراحل، ان کے تقاضے اور تمام غذائی ضروریات کا علم ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ شعور کی سطح پروہ ان مسائل سے خود نمٹ سکیں اور خود صحت مند رہتے ہوئے صحت مند نسل کی تیار ی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ذیل میں حاملہ خواتین کے لئے متناسب غذا کی کچھ تجاویز دی جاتی ہیں۔

                حاملہ خواتین کے لئے بہترین غذاوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ زمانہ حمل میں ماں کی متوازن اور صحت بخش غذا اس کے شکم میں پرورش پانے والے بچے کے لئے زندگی کے بہترین آغاز کی ضمانت ہے۔ نہ صرف آغاز میں بلکہ آئندہ زندگی میں بھی یہ بچہ ماں کی اس متوازن اور صحت بخش غذا سے فائدے اٹھاتا رہتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد اگرماں متوازن اور صحت بخش غذا کا سلسلہ جاری رکھے تو نہ صرف اس کا دودھ بچے کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ آئندہ بچے کی غذائی عادات اور معمولات پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ لہذا جوعورتیں ماں بننے کا منصوبہ بنارہی ہیں یا جوماں بننے والی ہیں یعنی حاملہ ہیں ان سب کو فور طور پر اپنی غذا کی جانب پوری توجہ دینی ہوگی اور ماں بننے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔

                ایک اور مضمون نگا ر حاملہ خواتین کی متناسب غذا کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ حاملہ خواتین کی غذا میں گوشت، دودھ، انڈے، پھل، دہی، مچھلی وغیرہ کوشامل کرنا چاہیے۔قبض سے بچنے کے لئے ہرے پتوں والی سبزیاں اور پھل ضرور لیں۔ دودھ، دہی اور لسی کا استعمال بڑھادیں۔ پہلے چار مہینے بچے کی نشوونما میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے اس وقت بچے کی ہڈیوں کی صحیح نشونما ہوسکے اس لئے  دودھ، دہی کا استعمال لازمی کریں۔ دودھ دہی کے استعمال سے  نہ صرف بچے کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ بچے کا رنگ بھی صاف ہوتا ہے۔

کچھ خواتین کو دوران حمل الٹیوں کی شکایت رہتی ہے اس شکایت میں ان کو کاربوہائیڈریٹ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس کے لئے پھلوں کے جوس، دودھ اور کیلوریز کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ نمکیات اور حیاتین کا استعمال بچے کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ٹشوز میں جمع ہوجاتے ہیں اور ڈلیوری کے بعد بھی بچے کی صحت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح کیلشئیم کی کمی بھی دودھ اور دہی سے پوری ہوتی ہے، نیز کیلشئیم کے علاوہ آئرن اور وٹامنز کی کمی بھی پوری کی جاسکتی ہے۔ جو دوران حمل نہایت ضروری ہوتی ہیں۔

                صحت مند اور متوازن غذا زندگی کے ہرمرحلے میں ضروری ہوتی ہے، لیکن اس کی اہمیت دوران حمل،حاملہ خواتین کے  لئے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ماں صحت مند ہو تو بچہ بھی صحت مند ہوگا۔ تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہروقت نہایت اسپیشل کھانا کھانے کا اہتمام کیا جائے بلکہ ضرور ت اس امر کی ہے کہ حاملہ خواتین کی خوراک میں ورائٹی اور تنوع ہو مختلف قسم کی غذا لی جائے تاکہ ہر قسم کی غذا ئیت آ پ تک پہنچ سکے۔ یہ بہت اچھا ہوگا کہ آ پ اپنی غذا میں وٹامنز اور منرلز کا باقاعدگی سے استعمال کریں اس کے علاوہ فوڈ سپلیمنٹ کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔

کوشش یہ کریں کہ اپنی پسند وناپسند کو چھوڑ کر بہترین، متوازن اور غذائیت سے بھرپور چیزوں کا استعمال کریں۔ اس دوران پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بہت ضروری ہے کیونکہ یہ آپ کو انرجی، کیلوریز کے ساتھ ساتھ وٹامنز،فائبر اور منرلز بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ آپ کے نظام انہظام کو درست رکھتی ہیں قبض سے بچاتی ہیں روزانہ کم ازکم پانچ طرح کے پھلوں اور سبزیوں کی ورائٹی استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔

:کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین کا استعمال

                ایسی خوراک جس میں کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین شامل ہو،دوران حمل خواتین کے لئے نہایت ضروری ہیں ان سے بڑی مقدار میں کیلوریز حاصل کی جاسکتی ہیں جو ماں اورپرورش پاتے ہوئے بچے کے لئے ضروری ہے۔ان میں دودھ، دہی، لسی، پنیر،مختلف قسم کے  پھل اور ان کے جوسز، مختلف قسم کی سبزیاں او ر سلاد، گندم، چاول، دالیں، گوشت، سبزیاں، انڈے اور مچھلی وغیر ہ شامل ہیں۔تاہم یہ ضروری ہے کہ ان کو پکاتے ہوئے بہت زیادہ تیل کے استعمال سے بچا جائے اور تیل میں زیادہ تل کر ان کی غذائیت کو جلا کر ختم نہ کیا جائے۔ ان کے علاوہ ڈرائی فروٹ مثلا اخروٹ، پستہ، بادام وغیرہ خاص کر مغزیات پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کی اچھی نشونما اور خود ماں کے لئے بھی بہت اہم ہیں۔

:جذباتی ونفسیاتی توازن

                بچے والدین کے نسلی تسلسل کا ذریعہ ہوتے ہیں ایک ریسرچ کے مطابق بچے اپنے والدین سے پچاس فیصد عادات واطوار، طبیعت، مزاج اور جذباتی کیفیات وغیرہ موروثی طور پر لیکر پید اہوتے ہیں جبکہ پچاس فیصد ان چیزوں کی تشکیل میں والدین کی تربیت، گھر، خاندان، معاشرہ اور ماحول اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک اچھا انسان جذباتی ونفسیاتی طور پر متوازن ہوتا ہے وہ ڈپریشن اور نفسیاتی عوارض سے پاک ہوتا ہے،  وہ جذبات کو اپنے کنڑو ل میں رکھنا جانتا ہے نہ کہ اپنے آپ کو جذبات کے حوالے کرتاہے۔

بہرحال جذباتی توازن یا عدم توازن کا نصف حصہ موروثی طورپر والدین خاص کرماں سے بچے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس لیے والدین کے لئے خاص کر ایام حمل کے دوران والدہ کے لئے جذباتی طور پر نہایت متوازن ہونا ضروری ہے۔اگر دوران حمل ماں خوش رہے، اس کی جذباتی کیفیت متوازن ہو، اس کی سوچ اچھی ہو، وہ پرامید رہنا جانتی ہو،وہ ہمیشہ خوشی کی کیفیت کے ساتھ رہتی ہو، مثبت سوچ کی حامل ہواور مایوسی کو اپنے قریب بھی نہ آنے دیتی ہو تو اس کے مثبت اثرات نومولود بچے پر پڑیں گے اوروہ ان تمام مثبت کیفیات کے ساتھ دنیا میں آنکھ کھولے گا۔

 یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب شوہر، خاندان اور سسرال کے دیگر افراد اس حوالے سے ا س حاملہ ماں کی مدد کریں۔اس کے روزمرہ کاموں میں اس کی مدد کی جاتی ہو اس کی خوراک کا خیال رکھا جاتا ہو اس کے ساتھ اچھااور محبت والا رویہ روا رکھا جاتا ہو۔غرض حاملہ عورت میں دوران حمل اچھی کیفیات کی پرورش کے لئے میاں بیوی سمیت پورا خاندان کام کرتا ہے۔ اس طرح ماں میں موجود ان خوش گوار کیفیات کا اثر پیٹ میں پرورش  پانے والے بچے پر پڑے گا۔وہ بچہ بھی خوش مزاج ہوگا، جذباتی طور پر متوازن ہوگا مایوسی کے سایے میں آنے والا نہیں ہو گا، بے جا غصہ، چڑچڑاپن اور مایوسی کی کیفیات سے محفوظ ہوگا۔ مثبت سوچوں کا حامل اور متوازن زندگی گزارنے کا عادی ہوگا۔

اس سلسلے میں شوہر اور خاندان کے دیگر افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر وہ ایسی نسل تیارکرنا چاہتے ہیں جو جذباتی رجحانات کے حوالے سے صحت مند ہو اور مزاجا متوازن ہو تو حاملہ عورت کی غذا وخوراک کے ساتھ اس کی جذباتی ونفسیاتی کیفیات کا بھی خوب خیال رکھیں۔ جس ماں کے پیٹ میں بچہ ہو اس کو سکون وراحت پہنچانے کی کوشش کریں اس کو نفسیاتی الجھنوں سے بچاکے رکھیں، اسکو ہر وقت خوش رکھنے کی کوشش کریں۔اس سے آنے والی نسل معتدل مزاج اور اچھے اخلاق وعادات کی حامل ہوگی۔ دوران حمل ان باتوں کا خیال رکھیں گے تو پیدائش کے بعد بچے کے بارے میں بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔وہ متوازن مزاج، اچھی عادتوں اورخوب صورت کیفیات کا حامل ہوگا انشاء اللہ۔

:دینی  ضروریات کی تکمیل

                انسان جسم اورروح کا مرکب ہے جس طرح انسانی جسم کی بنیادی ضروریات میں اچھی غذا،بہتر خوراک، مناست آرام اور ورزش کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ صحت مند وتوانا طرز زندگی اختیار کرے، بالکل اسی طرح روح کی بھی کچھ ضروریا ت ہیں۔چونکہ روحانی ضروریا ت کاسامان ہمارے دین کے پاس ہے لہذا دینی احکامات کو ہم دینی وروحانی ضروریات کے عنوان سے بیان کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان خاندان ہمیں اپنی نسل کے لئے دینی وروحانی ضروریا ت کا بھی انتظام کرنا ہے۔یہ انتظام دوران حمل سے ہی خصوصا ماں کو اور بالعموم ماں باپ دونوں کو کرنا چاہیے اس کی وجہ ظاہر ہے کہ باپ کے ذمہ روزی روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔

اگر باپ اپنے گھروالوں کے لئے اپنی حاملہ بیوی کے لئے حلال روزی کا انتظام کرے تو حلال روزی سے بننے والاخون یقینا نیک جذبات اور نیک خواہشات کا باعث بنے گاپیٹ میں پرورش پانے والے بچے کو بھی حلال روزی ملتی رہے گی جس سے اس بچے کی سرشت میں نیکی ا ورتقوی داخل ہوگا۔ اس حوالے سے ماں کا کردار نہایت اہم ہے کہ اسی کے دل کی دھڑکن کے ساتھ بچے کا دل بھی دھڑکتا ہے اسی کے لقمے سے بچے کی روزی کا انتظام بھی ہوجاتا ہے تو یقینا اسی ماں کے خیالات واحساسات، سوچ وفکر اور کردار وعمل سے پیٹ میں پلنے والا بچہ یقینا متاثر ہوگا۔

                ماں کے خیالات واحساسات میں خداکی قدرت پر ایمان کامل ہو، وہ ہمہ تن شکر گزاری کے احساسات سے معمور ہو، وہ ہر وقت خدا کی اطاعت کی فکر میں محو ہو۔ وہ نمازوروزہ اور دیگر فرائض وواجبات کی پابندی کی کوشش کرتی ہو،وہ قرآن پاک کی تلاوت اور ذکرواذکار سے اپنے اوقات کو مزین کرتی ہو۔ غرض وہ اپنی روحانی دنیا کوہردم آباد رکھتی ہوتو اس کے اثرات اس کے پیٹ میں پلنے والی جان پر ضرور پڑیں گے۔جس طرح ماں کے دل کی دھڑکن کے ساتھ بچے کا دل بھی دھڑکتا ہے اسی طرح ماں کے احساسات وخیالات کااثر وہ ضرور قبول کرے گی بلکہ ماں کے احساسات اور ماں کا روحانی کردار اس بچے کی روح میں فطری طور پر نقش اور ثبت ہوجائیں گے۔ اس طرح ایمان دار، شکرگزار اور روحانی دنیا کو آباد کرنے والی ماں کے پیٹ سے جنم لینے والا بچہ بھی روحانی انواروبرکات سے معمور ہوگا۔ انشاء اللہ شیطان کے ہتھکنڈوں سے وہ محفوظ رہے گا۔

                لیکن خدانخواستہ اگر معاملہ برعکس ہو خودماں باپ کی روحانی دنیا ویران ہو وہ لقمہ حلال کا اہتمام نہ کرتے ہو ں حرام لقمے سے اپنا پیٹ بھرتے ہوں اوراسی سے اپنے بچے کی روزی روٹی کابھی انتظام کرتے ہوں۔ جھوٹ بولنا، غیبت کرنا،کام چوری، احساس غیر ذمہ داری، لاپروائی، نمازروزہ ودیگرفرائض واجبات کو ترک کرنا ان کے لئے کوئی اہم مسئلہ نہ ہو۔ نئی آنے والی جان کے لئے ان کے پاس کوئی روحانی پلاننگ نہ ہو تو یقینا جو بچہ پیدا ہوگا وہ موروثی طور پر اچھے اوصاف سے خالی ہوگابلکہ والدین کے یہ برے اوصاف اس میں سرایت کرچکے ہونگے۔ اوردینی و روحانی طور پرکمزور نسل تیار ہوگی۔ اس لئے ضروری ہے کہ پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کو جسمانی، جذباتی اوردینی و روحانی طورپر صحت مند بنانے کے لئے ماں باپ شروع سے ہی یعنی دوران حمل سے ہی پلاننگ کے ساتھ کام کریں۔ جو ماں باپ اپنی اولاد کے لئے اس طرح کی کوشش کریں گے وہ بچے کی پیدائش کے بعددوران تربیت اور زندگی کے ہر ہرمرحلے میں اپنی کوششوں کے ثمرات ضرورسمیٹیں گے انشاء اللہ۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیے

بچوں کے حقوق اسلام کی نظرمیں (حصہ دوم)

1 Trackback / Pingback

  1. زوجین کا تعاون تربیت کی بنیاد - EduTarbiyah.com

Leave a Reply