یہودی بالادستی کا اہم رازبچوں کی معیاری تعلیم وتربیت

یہودی تعلیم وتربیت

  ایک رپورٹ کے مطابق یہودی دنیا کے ستر فیصد بزنس کو چلارہے ہیں۔ تمام عالمی فیصلو ں پر وہ اثرانداز ہوتے ہیں۔پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیاتقریبا یہودیوں کے قبضے میں ہیں۔ دنیا کی اکثر ملٹی نیشنل کمپنیاں یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ ٹیکنالوجی اور سائنس کے علم پر وہ حاوی ہیں۔ دنیا کی بڑی فلم انڈسٹریز، فوڈ آئٹمز، مشروبات اور میڈیسن کی انڈسٹری کے وہ مالک ہیں۔ دنیا کے اکثر بڑے برانڈز ان کے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ان کے گھر کی چیز ہے۔

تعلیمی میدان کے وہ چیمپین ہیں ۔اب تک کوئی 180 سے زائد  نوبل پرائز  وہ جیت چکے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پورے عالم اسلام کے حصہ میں صرف د و یا تین نوبل پرائز ہی آسکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں یہودیوں کی بالادستی کیوں قائم ہے؟ اوریہ لوگ دنیا کے ہر فیلڈ میں کامیاب کیوں ہیں؟

دنیا میں یہودی آبادی 

ذراغورکیجئے دنیا میں اسرائیل کی  کل آبادی ویکی پیڈیا کے مطابق 3کروڑ سے بھی کم  ہے۔ دنیا میں یہودیوں کی کل آبادی دو کروڑ چالیس لاکھ ہے۔ جس کا تناسب دنیا کی آبادی میں ایک فیصد سے بھی کم بنتا ہے۔ اوریہودیوں کے مسکن اسرائیل کاکل رقبہ بیس ہزار دوسوستر مربع کلومیٹر ہے۔ جوپاکستان کے ضلع چاغی سے رقبے کے لحاظ سے آدھے سے بھی کم ہے۔ جبکہ ضلع چاغی کاکل رقبہ چوالیس ہراز سات سو مربع کلومیٹر ہے۔

اتنا کم ایریا رکھنے اور اتنی کم تعداد میں ہونے کے باوجود وہ دنیا کی بڑی بڑی تہذیبوں کو اپنی مٹھی میں دبا کے رکھے ہوئے ہیں ۔آخر اس کی وجہ کیا ہے؟کیا یہ لوگ ایکسٹرا جینئیس   ہیں؟ کہ کوئی ذہانت میں ان کا ہم پلہ نہیں ہوسکتا ۔اور کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔یا وہ دنیا کے عام انسانوں کی طرح ہی ہیں، لیکن ان میں کسی خاص قسم کی تعلیم وتربیت کا رجحان پایاجاتا ہے جس سے وہ اپنی کامیابی کو یقینی بناتے ہیں؟

کیا یہودی خداکی منتخب قوم ہے؟

یہودی اپنے آپ کو خدا کے منتخب بندے (چوزن فیو) کہتے ہیں۔ اور اسی نام کی ایک کتاب کو سال 2017 میں نیشنل جیوش بک ایوارڈ بھی ملا ہے۔ جس میں اس بیانیہ کی توضیح وتشریح کی گئی ہے۔ کہ یہودی اللہ کے خاص انعام یافتہ لوگ ہیں۔ لیکن قرآن کریم کی رو سے اللہ تعالی کے ہاں، ذات پات اور رنگ ونسل کی کوئی اہمیت نہیں۔ اللہ کے ہاں توصرف ایمان اور تقوی کو اہمیت حاصل ہے۔ قرآن کریم نے واضح طورپر فرمایا:  ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم (۹۱)” بے شک اللہ کے نزدیک زیادہ معزز وہ شخص ہے جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔

  جو سوال ہم نے اٹھایا بعینہ یہی سوال امریکہ کے ڈاکٹر اسٹیفن کارلیون کے ذہن میں بھی پیدا ہوا۔ ڈاکٹر اسٹیفن نے 1980ء کی دہائی میں تین سال اسرائیل میں گزار کر اس بات پر ریسرچ کی کہ آخر یہودیوں کی کامیابیوں کا راز کیا ہے؟کیاان کی یہ صلاحیت فطری ہے یا وہ اپنی کوشش اور محنت سے یہ صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں۔ ڈاکٹر اسٹیفن کارلیون نے اس موضوع پر ایک ریسرچ پیپر بھی لکھا۔ جو ساوتھ ایشین پلس نامی ویب سائٹ میں چھپا۔ اس ریسر چ پیپر میں تفصیل سے اس موضوع پر لکھا۔

اور ڈاکٹر اسٹیفن نے یہ واضح کیاکہ یہودیوں کی یہ صلاحیت کوئی گاڈگفٹڈیا فطری صلاحیت نہیں ۔ بلکہ یہودی بچے بھی عام بچوں کی طرح ہی صلاحیتیں لے کردنیا میں پیدا ہوتے ہیں ۔لیکن یہودی والدین اپنے بچوں کی معیاری تعلیم وتربیت اور کوششوں سے اپنی اور اپنی نسل کی  کامیابی کو اس طرح سے حاصل کرتے  ہیں۔ جس طرح فیکٹری سے کوئی پروڈکٹ اپنی مرضی سے بنا کر نکالاجاتا ہے۔ ڈاکٹر اسٹیفن یہودی تعلیم وتربیت اوران کے لائف اسٹائل کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھتے ہیں۔

یہودی معاشرے میں بچوں کی تربیت 

یہودی معاشرے میں بچے کی تربیت کی شروعات اس وقت سے کی جاتی ہے۔ جب ان کو یہ امید ہوتی ہے کہ عورت کو حمل ٹھہرگیا ہے۔جب عورت کو حمل ٹھہرتا ہے تو اس عورت کی غذا، آرام اور ذہنی آسودگی کا پورا خیال رکھنے کے ساتھ اس کو ایسے مشاغل بھی دیے جاتے ہیں ۔جن سے ان کو یقین ہوتا ہے کہ ان مشاغل کی وجہ سے عورت کے پیٹ میں ارتقاء بذیرجنین ذہین ، جینئس اور جذباتی طور پر نہایت متوازن  ہوگا۔

یہودی تعلیم وتربیت کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف بچہ کی پیدائش کے خواہاں نہیں ہوتے۔ بلکہ ایسے بچے کی پیدائش کے خواہاں ہوتے ہیں جو ذہین ہو۔جینئس ہو اور لیڈرشپ کی صلاحیتوں کا حامل ہو۔ چنانچہ حمل ٹھہرتے کے ساتھ ہی اس حاملہ عورت کی غذا میں دودھ، بادام، مچھلی، انڈے، مغزیات اور روغن ماہی جیسی مقوی دماغ چیزیں روزانہ کی بنیاد پر لازمی شامل کی جاتی ہے۔ حاملہ ماں کو روزانہ بنیادوں پر میتھامیٹکس کی پریکٹس کروائی جاتی ہے۔

حاملہ کی ذہنی آسودگی کے بچے مثبت اثرات

کیونکہ ان کی ریسرچ بتاتی ہے کہ بچہ جب ماں کے پیٹ میں جنین کی حالت میں ہو۔ توماں کی ذہنی آسودگی، بہترین غذا،خوشگوار ماحول اور میتھ جیسے مضامین میں مشغولیت سے بچے کی ذہانت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ  اسےمیوزک کی مشق بھی کراتے ہیں۔یوں وہ اپنے بچے کی تربیت حمل ٹھہرتے کے ساتھ ہی شروع کردیتے ہیں۔

 بچہ پیدا ہونے کے بعد دوسے تین سال میں اسے کنڈرگارٹن میں داخل کرادیتے ہیں۔ ڈاکٹر اسٹیفن کامزید کہنا ہے کہ  یہودی ایجوکیشن سسٹم میں گریڈ 6 سے بچے سے بزنس میتھ کا کام کروایا جاتا ہے۔ اور میڑک کا سرٹیفکیٹ اس وقت تک نہیں دیا جاتا ،جب تک کہ بچہ دس ہزار ڈالر کا کامیاب پروجیکٹ کرکے نہ لائے۔ان کے ہاں بچوں کو جاب ڈھونڈنے کا ذہن نہیں دیا جاتا ۔بلکہ اپنا بزنس شروع کرنے کا رجحان دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اکثر ملٹی نیشنل کمپنیز اور دنیا کی70فیصد بزنس پر قابض ہیں۔

مزیدپڑھیے۔

یہودی تعلیم وتربیت اورنیویارک شہر

  ایک اور ریسرچ کے مطابق نیویارک کو جرائم کا شہر ماناجاتا ہے جہاں ہر کمیونٹی کے افراد کسی نہ کسی جرم میں گرفتار ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اسی شہر میں یہودیوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ اور رپورٹ کے مطابق آج تک کسی یہودی بچے کو کسی جرم میں گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہودی اپنی اولاد کی تربیت بہت اہمیت کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور شام ڈھلتے  کے ساتھ ہی ان کے بچے گھر وں میں ہوتے ہیں۔ غیر ضروری راتوں میں گھومنا ان کے ہاں معیوب سمجھا تا ہے۔

یہودیوں کی اس طرز تعلیم وتربیت کو سامنے رکھ کر اب ذرا سوچئے ۔ان میں اکثر باتیں تو اسلام کی خوب صورت تعلیمات میں سےہیں۔مثلااسلام نے بچے کی تربیت کواچھے اور دین دار رشتے کی تلاش سے ہی شروع کرنے کو کہا۔اور بعد کے تمام مراحل میں بچے کی بہترین تعلیم و تربیت پرزور دیا ۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی تعلیمات کو نظرانداز کیا اپنی اولاد کی جامع تعلیم وتربیت کو نہ صرف ترک کردیا ۔بلکہ  اچھی تربیت کا احساس بھی مسلم امہ سے ختم یا کم  ہوگیا۔ 

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا          

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتارہا

جب تک ہم اپنے اس متاع گم شدہ کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔اس کی گمشدگی کا شدت سے احساس نہیں کرتے اور اپنی اولاد کی بہترین تعلیم وتربیت پر بھرپور احساس کے ساتھ سنجیدہ کام نہیں کرتے۔توخاکم بدہن مسلمان دنیا میں مغلوب ہی رہیں گے۔لہذا ہمیں خود بھی اور معاشرتی لیول میں بھی اس احساس کو تازہ کرنا ہوگا۔ اوراپنی اولادکی بہترین علمی، عملی اور کرداری تربیت کاشاندارآغاز کرنا ہوگا۔ 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*