الا رسول اللہ یا مودی

محمد نعمان حیدر

تحریر: محمد نعمان حیدر

ایک مسلمان کا کل اثاثہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان سے محبت ہی در اصل ایمان کی معراج ہے اگر یہ عشق و وفا باقی نہ رہے تو ایمان کی رمق باقی نہیں رہتی اسی لیے مسلمان کو ایمان کی شمع عشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے جلائے رکھنا چاہیے۔

خطہ ارضی پہ موجود غیر مسلم ممالک وقتا فوقتاً مسلمانوں کا ایمان چیک کرتے رہتے ہیں کہ آیا وہ رمق باقی ہے یا پھر ختم ہوگئی ہے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کے ذریعے کبھی اپنے منہ سے ہذیان بک کر کبھی گستاخی پہ مبنی فلمیں بنا کر غرض ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہتے ہیں در حقیقت وہ مسلمان کے دل سے روح محمدی نکالنا چاہتے ہیں

کیوں کہ ان کو پتا ہے کہ جب تک ایک مسلمان کے دل میں روح محمدی موجود ہے تب تک وہ مر تو سکتا ہے لیکن اپنے ایمان پہ کسی صورت سمجھوتا نہیں کرسکتا مغرب اور اس کے حواریوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے روح محمدی کو ختم یا کم زور کیا جائے اس مقصد کے لئے وہ کبھی کبھار مسلمانوں کے ایسے طبقے اور ایسے خطے کو نشانہ بناتے ہیں جہاں اسلامی اقدار کی جڑیں مضبوط اور وہاں کے باشندوں کی اسلام سے وابستگی غیر مشروط اور جذباتی ہوتی ہے ہمارے اس خطے میں پختون بیلٹ اسلام کے ساتھ جنون کی حد تک وابستگی کے لئے مشہور ہے اسی وجہ سے اس بیلٹ کو مختلف خوشنما نعروں اور کرداروں کے ذریعے کم زور کرنے کی کوششیں جاری ہیں

پختون قوم جسے ہم کبھی ایک غیرت مند ، بہادر اور صحیح معنوں میں مسلمان قوم کہتے تھے جس کی جرات و بہادری کی داستانیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔جس قوم نے شاملی کے میدان میں سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ساتھ دیا اور سکھوں کو سخت انجام سے دو چار کیا جس نےاحمد شاہ ابدالی کے ساتھ مل کر پانی پت کی جنگ لڑی اور مرہٹوں کو شکست فاش دی جس نے چار پانچ دہائیاں قبل روس جیسی سپر پاور کو دھول چٹا دی جس نے اپنی بے سر و سامانی کے باوجود امریکا جیسے سپر پاور اور اس کے جدید اسلحے سے لیس ناٹو اتحاد کو افغانستان کی سر زمین پر ناکوں چنے چبوائے اور بیس سالہ جنگ کے بعد امریکا بہادر کی یہ حالت کر دی کہ واپسی کے لئے محفوظ راستے کی بھیک مانگتا نظر آیا

یہ پٹھان کٹ تو گئے ، اپنی نسلیں تو کٹوا دیں اپنے گھر بار کو تباہ کروانا منظور کیا لیکن اپنی تہذیب پہ ایک حرف نہ آنے دیا انہوں نے اپنی دین داری کو داغ دار نہ کیا انہوں نے اپنی ثقافت ، پردہ ، داڑھی اور صوم و صلوٰۃ کی پابندی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔جس قوم کی دین داری،اسلام پسندی سب کے لیے قابل رشک تھی اور جس کی غیرت ایمانی اور بہادری سےپوری دنیا خوف زدہ تھی ان سے روح محمدی نکالنے کے لیے عالمی طاقتوں نے اپنے پسندیدہ کرداروں کو لانچ کیا جنہوں نے خود کو خان کہہ کر پختونوں سے ان کی روایات سلب کیں ان کی بیٹیوں کے سروں سے ردائیں چھین لیں ان کی پاکیزہ ثقافت اور غیرت کو پاؤں تلے روند ڈالا

اگر یہ سب جنگ کے ذریعے کیا جاتا تو شاید پٹھان لڑ مرتے لیکن کبھی بھی یہ گھاٹے کا سودا نہ کرتے بلکہ انہیں یہ شکست ان کے من پسند کردار کے ذریعے سے ہی دی گئی اور یہ کام رفتہ رفتہ یوں کروایا کہ انہیں کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی اور ان کی حقیقی روح ان کے دل سے نکال دی گئی اس پہ صرف انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ہی پڑھ سکتے ہیں

آج آپ خود ہی دیکھ لیں اس غیرت مند قوم کی بچیوں سے ڈانس کروایا گیا نوجوانوں کو رقص و سرود کی محفلوں میں الجھایا گیا ان کی تہذیب پہ اس قدر میٹھی چھری چلائی گئی ہے کہ ان کو اپنے نقصان کا اندازہ تک نہیں ہو پا رہا گھر داری جن عورتوں کی پہچان تھی ان کو آج جلسوں کی زینت بنادیا گیا ہے اور بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آج انہیں اپنے لیڈر کی توہین پر تو سخت غصہ آجاتا ہے وہ مرنے اور مارنے پہ تُل جاتے ہیں بلکہ ایسے چیدہ چیدہ چند واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پہ اب تک ان میں سے کسی کے بھی کان پہ جوں تک نہیں رینگتی اور یہی وہ روح محمدی ہے جسے نکالنے کے لیے دو صدیوں سے کوششیں جاری تھیں اس قوم کے دل سے ملاں ، مسجد ، مدرسہ اور اسلام کو نکالنا تھا ہائے افسوس کہ وہ آج نکل گیا ہے اور اغیار کامیاب ہوگئے ہیں

علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ اسی خطرے کو پہلے ہی بھانپ گئے تھے اور انہوں نے اسی وقت ہی کہہ دیا تھا

افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملاں کو اس کے کوہ دمن سے نکال دو
فاقہ کش موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو

ابھی حال ہی میں انڈیا میں ایک ہی ہفتے کے اندر توہین رسالت کے دو واقعات رونما ہو چکے ہیں حکمران جماعت BJP کی رکن اور مودی کی معتمد خاص نوپور شرما اور ایک اور سیاست دان نوین جندال نے شان رسالت میں گستاخی کی ہے عالم اسلام میں اس وقت شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے خدا بھلے کرے عرب ممالک کا جنہوں نے بھارت کے اس اقدام کو بہت زیادہ سیریس لیا ہے اور مودی سے معافی کا فی الفور مطالبہ کیا ہے لیکن مودی نے معذرت کے بجائے اس پہ ڈھٹائی دکھائی ہے اور عرب ممالک نے اسے ” اعلان جنگ ” سے تعبیر کیا ہے اور فی الفور اس کے خلاف ٹویٹر پر ” الا رسول اللہ یا مودی” کا ٹرینڈ چلایا ہے جو ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

الحمدللہ اور اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ بھارتی سفارت خانے بند کردینے کی دھمکی دی ہے عربوں نے انڈیا اور اس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی مہم بھی شروع کی ہے یہ ہوتی غیرت اور یہ ہوتی ہے اصل روح محمدی پاکستان کو بھی ریاستی اور عوامی سطح پر اسی قسم کے ردعمل اور غیرت ۔ایمانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے جو مظاہرہ عرب ممالک اور اس کے عوام نے کیا ہے

Be the first to comment

Leave a Reply