Features

دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں کا جائزہ

دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں کا جائزہ

ضیاء چترالی

اللہ تعالیٰ نے ”اختلافِ السنہ“ یعنی زبانوں کے اختلاف کو اپنی ایک نشانی قرار دیا ہے۔ (سورة الروم: 22) اس مضمون کو پڑھنے کے بعد آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ نشانی کیوں ہے؟

دنیا میں 9 ہزار سے زائد زبانیں ہیں ، 60 فیصد افراد صرف 30 زبانیں بولتے ہیں

لفظ زَبان بھی درست اور زُبان بھی۔ اگرچہ بعض حضرات فرق کرتے ہیں کہ زَبان عضو اور زُبان بمعنی بولی۔ لیکن محققین کے نزدیک دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دنیا میں اس وقت 6 ہزار 9 سو 12 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مگر 8 ارب انسانوں میں سے 60 فیصد افراد صرف 30 زبانیں بولتے ہیں۔

انڈونیشیا میں 742, نائجیریا میں 516, بھارت میں 427,امریکا میں 311 زبانیں بولی جاتی ہیں

دنیا کے مختلف ممالک میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے بحر الکاہل میں واقع جزائر پر مشتمل ایک چھوٹی سی ریاست ”پاپوا نیو گنی“ (Papua New Guinea) میں رائج زبانوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں کے 70 لاکھ افراد ساڑھے آٹھ سو زبانیں بولتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر انڈونیشیا ہے جہاں 742 زبانیں رائج ہیں۔ پھر نائیجیریا، بھارت اور امریکہ کا نمبر آتا ہے، جہاں بالترتیب 516، 427 اور 311 زبانیں ہیں۔

ایک لاکھ سال قبل مسیح دنیا کی پہلی زبان کی بنیاد پڑی

نشرات عربیہ کی ویب سائٹ نے دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں سے متعلق ایک دلچسپ اور معلوماتی رپورٹ شائع کی ہے۔ جس کے مطابق دنیا میں سب سے پہلی زبان کی بنیاد ایک لاکھ قبل مسیح میں پڑ گئی تھی۔

پہلی تحریر 3200 قبل مسیح سومرانی زبان میں میں لکھی گئی

سب سے پہلے جس زبان میں تحریر شروع ہوئی، وہ مصر کی سومرائی زبان ہے، جس میں 3200 قبل مسیح میں لکھائی شروع ہوئی تھی۔ تاہم یہ زبان اب معدوم ہو چکی ہے۔ اس وقت استعمال ہونے والی زبانوں میں صرف چینی اور یونانی ایسی زبانیں ہیں، جن میں 1500 قبل مسیح کی تحریریں بھی دستیاب ہیں۔

چینی زبان بولنے والوں کی تعداد 873 ملین ہے، 370 ملین ہندی بولتے ہیں

فی الوقت دنیا میں سب سے زیادہ افراد چین کی قومی زبان (Mandarin Chinese) بولتے ہیں۔ جن کی تعداد 873 ملین ہے۔ دوسرے نمبر پر 370 ملین افراد کی زبان ہندی ہے، جبکہ ہسپانوی دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔350 ملین افراد یہ زبان بولتے ہیں۔ اس کے بعد انگریزی (340 ملین) اور عربی (206 ملین) کا نمبر آتا ہے۔ پنجابی گیارہویں اور اردو بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی سرکاری زبان انگریزی ،38 کروڑ انٹرنیٹ صارفین انگریزی استعمال کرتے ہیں

دنیا میں سرکاری سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان انگریزی ہے۔ انٹرنیٹ ورلڈ اسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ 38 کروڑ صارفین انگریزی زبان استعمال کرتے ہیں، جبکہ 18 کروڑ صارفین چینی، 11 کروڑ 30 لاکھ ہسپانوی، 8 کروڑ 80 لاکھ جاپانی اور 6 کروڑ 40 لاکھ فرانسیسی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر 516 زبانیں معدومیت کے خطرات سے دوچار

اقوام متحدہ کے انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 7 سے 8 ہزار زبانیں بولی جاتی تھیں۔ تاہم اب یہ زبانیں آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہیں۔ کل بولی جانے والی زبانوں کا نصف حصہ ایسی زبانوں پر مشتمل ہے، جنہیں 10 ہزار افراد سے زائد استعمال میں نہیں لاتے۔ اس دنیا میں بولی جانے والی 6912 زبانوں میں سے 516 کو بھی معدوم ہونے کے خطرات لاحق ہیں۔
زمانے کی جدت اور سرکاری زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماند پڑ رہی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ زبانیں پاپوا نیوگنی میں بولی جاتی ہیں، جہاں دنیا کی کل زبانوں کا 13 فیصد یعنی 850 زبانیں بولی جاتی ہیں، جبکہ 742 زبانوں کے ساتھ انڈونیشیا دوسرے، 516 کے ساتھ نائیجیریا تیسرے، 425 کے ساتھ بھارت چوتھے اور 311 کے ساتھ امریکا پانچویں نمبر پر ہے۔ آسٹریلیا میں 275 اور چین میں 241 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

دنیا کا وہ خطہ جہاں سب سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں

مغربی بحر الکاہل میں واقع جزائر پر مشتمل پاپوا نیوگنی دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جس میں 820 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں اور یہ سب زبانیں ماہرین لسانیات کی تاریخ کے مطابق زندہ زبانیں شمار ہوتی ہیں۔ یعنی انہیں استعمال کرنے والے لوگ خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ملک چین، روس یا بھارت کی طرح کوئی انتہائی بڑی سرزمین نہیں ہے اور نہ ہی یہاں کروڑوں کی تعداد میں آبادی موجود ہے، لیکن اس کا جغرافیہ اور تاریخ کچھ اس طرح کی ہے کہ اس ملک میں سینکڑوں زبانوں کا ارتقا ایک فطری بات نظر آتی ہے۔ اس ملک کی آبادی 70 لاکھ اور اس کا کل رقبہ 462840 مربع کلومیٹر ہے اور یہ بے شمار چھوٹے چھوٹے جزائر کا مجموعہ ہے، جن میں بلند پہاڑی سلسلے میں بھی واقع ہےںیں، جو مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے کاٹے ہوئے ہیں۔
تاریخی طور پر ہی یہاں کی آبادی مختلف حصوں میں بٹی رہی ہے اور نقل و حمل اور آمدورفت کی مشکلات کی وجہ سے مختلف علاقوں کا آپس میں رابطہ نہایت محدود رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر علاقے کی اپنی زبان کا ارتقا علیحدہ طور پر ہوا ہے۔ اس ملک میں سینکڑوں مختلف زبانیں بولی جانے کے باوجود تمام ملک کے لوگ باہم رابطے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کرتے، کیونکہ یہاں کی تین زبانیں ایسی ہیں، جنہیں قومی زبانوں کا درجہ حاصل ہے اور ملک کی تقریباً تمام آبادی ان پر دسترس رکھتی ہے۔ یہ زبانیں ٹوک پِسن، ہیری موٹو اور انگریزی ہیں۔ جبکہ حکومت نے مئی 2015ءمیں ایک اور زبان یعنی جرمن کو قومی زبان کا درجہ دیدی ہے۔

پاپوا نیو گنی کی سب سے بڑی زبان ٹوک پِسن ہے، جو ایک لاکھ بیس ہزار افراد کی مادری زبان ہے۔ ماہرین لسانیات کے مطابق عام طور پر سو کلومیٹر کے فاصلے پر زبان کا لہجہ بدل جاتا ہے، مگر پاپوا نیو گنی میں 22 صوبے ہیں، ہر صوبے کی زبان الگ ہے، بلکہ یہاں ہر چند کلومیٹر کے بعد زبان بدل جاتی ہے۔ یہاں کے ہر گاﺅں کی زبان الگ ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے، جسے 48 فیصد افراد بولتے ہیں، جبکہ 12 فیصد سندھی، 10 فیصد سرائیکی اور اردو بولتے ہیں، پشتو بولنے والوں کی تعداد 8 فیصد ہے۔ بلوچی 3 فیصد، ہندکو 2 فیصد اور ایک فیصد براہوی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں:

چھوٹی زبانیں اور قرآن کریم کا ترجمہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button