بچوں کو نماز کی ترغیب کیسے دیں

بچوں کو نماز کی ترغیب کیسے دیں
بچوں کو نماز کی ترغیب کیسے دیں (مترجمہ ربیعہ فاطمہ بخاری )

بچوں کو نماز کی ترغیب کیسے دیں

(دوسری قسط)

(مذہبی اسکالر نعمان علی خان کے خطبے کا ترجمہ)
(مترجمہ ربیعہ فاطمہ بخاری )

بدلتے رہنے والا تعلق اور ہمیشہ کا تعلق

ایک ہستی ایسی ہے جس کے ساتھ تمہارا تعلّق ہمیشہ سے ہے اگرچہ تمہارا اور میرا تعلّق نوعیّت کے اعتبار سے مسلسل بدلتا رہے گا۔ مجھے بطورِ اولاد اچھّی طرح یاد ہے کہ میرا اپنے والدین کے ساتھ بطورِ شیرخوار تعلّق بالکل الگ نوعیّت کا تھا اور جب میں جوان ہوا تب بالکل مختلف تھا اور اب عمر کے اس حصّے میں ہمارا تعلّق بالکل مختلف نوعیّت کا ہے۔ اگرچہ ہمارے درمیان رشتے کی نوعیّت بالکل وہی ہے لیکن ہمارا آپس کا تعلّق بدلتا رہا۔ لیکن ایک ہستی ایسی ہے، جو ہمیشہ سے تمہاراخیال رکھ رہی ہے، تم سے محبّت کر رہی ہے، تمہارے لئے منصوبہ بندی کر رہی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی اور وہ میں ہرگز نہیں ہوں۔

میں صرف تمہاری زندگی کا ایک حصّہ ہوں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگرچہ یہ ہماری زندگی کا ایک خوبصورت ترین حصّہ ہے، جو اللّٰہ ربُّ العزّت نے ہمیں اکٹھّے گزارنے کا موقع عطا کیا ہے لیکن یہ ایک مستقل حصّہ نہیں ہے۔ یہ تو تھی پہلی بات جو میں تم سے کرنا چاہ رہا تھا۔

ہمارا حقیقی کنٹرول کسی اور کے پاس ہے

دوسری بات کہ جب میں تمہیں نماز پڑھنے کا کہتا ہوں تو تمہیں یوں لگتا ہے کہ میں تمہیں پابند کر رہا ہوں اور تم پہ زبردستی کر رہا ہوں۔ لیکن میں تمہیں بتاؤں کہ میں تمہیں کنٹرول نہیں کر سکتا۔ میں تمہیں نصیحت کر سکتا ہوں، بعض اوقات تم پہ سختی بھی کر سکتا ہوں لیکن میں تمہیں کنٹرول نہیں کر سکتا۔ کچھ ہی عرصے بعد تم اتنے بڑے ہو جاؤ گے کہ میں جتنا بھی غصّہ کر لوں، جتنا بھی چلّاؤں، تمہیں فرق نہیں پڑے گا کیونکہ تم خود مختار ہو چکے ہو گے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت بھی جب تم سکول ہوتے ہو، دوستوں کے ساتھ تم کیا کچھ کرتے ہو، میں اس سب کو وہاں کنٹرول نہیں کر سکتا۔
اگر میں تمہیں آئی فون یا آئی پیڈ دلا دوں تو کیا میں اس کے استعمال پہ قدغن لگا سکتا ہوں۔ اگر میں Parenting control apps بھی ڈاونلوڈ کرلوں، تب بھی میں صرف ایک حد تک تمہاری سرگرمیوں کو کنٹرول کر سکتا ہوں۔ لیکن ایک ہستی ایسی ہے جو تمہارے جسم کے ایک ایک خلئے کو کنٹرول کرتی ہے۔ تم جب اپنی ماں کے رحم میں ایک خون کے لوتھڑے کی حیثیّت سےپروان چڑھ رہے تھے، اس وقت بھی تمہیں کنٹرول کر رہی تھی۔ تم کس جینیاتی ترتیب سے دنیا میں آؤ گے، تمہارا قد، آنکھیں، بالوں کا رنگ ہر ہر چیز کو وہی کنٹرول کرتی ہے. اصل میں کنٹرول صرف اسی کی ذات کا ہے، میرا ہرگز نہیں ہے۔

پہلی قسط ملاحظہ فرمائیے:

بچوں کو نماز کی ترغیب کیسے دیں ؟

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت فاطمتہ الزہرا سے ارشاد

میں تمہیں حضور نبئ اکرمﷺ کی ایک بات یاد دلاتا ہوں۔ آپؐ نے جنابِ فاطمة الزّہراء سلام اللّٰہ علیہا سے فرمایا، اے محمّد کی بیٹی فاطمہ۔۔! اللّٰہ سے ڈرتی رہو، میں تمہارے معاملے میں اللّٰہ کے سامنے کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اور یہیں سے میرا اگلا استدلال سامنے آئے گا۔ میں تمہارے تحفّظ کے حوالے سے جتنا فکر مند ہوتا ہوں، ہمیشہ تمہارا بھلا چاہتا ہوں حقیقتاً میرا اس سب پہ بالکل کوئی اختیار نہیں۔ اور نہ ہی میں اس سب کا ذمّہ دار ہوں۔ کیونکہ اللّٰہ ربُّ العزّت نے ہم میں سے ہر انسان کو اپنے معاملات کا خود مکلّف بنایا ہے۔ دیکھو۔۔ اگر کل کو جب تمہارا ڈرائیونگ لائسنس بن جائے گا اور فرض کرو تم کسی جگہ اشارہ توڑتے ہو اور پولیس کا سپاہی تمہیں پکڑتا ہے تو تم یہ کہہ کے جان نہیں چھڑا سکتے کہ آپ میرے والد سے بات کریں۔۔ !! تمہیں اس صورتحال سے ازخود نمٹنا ہو گا۔
تمہارا یونیورسٹی کا پروفیسر تمہیں فیل کرنے لگے گا تو تم یہ نہیں کہہ سکو گے کہ رک جائیں، مجھے میری امّی سے بات کرنے دیں۔ تم اپنے نتائج کے خود ذمّہ دار ہو۔ تم جو کچھ کھاتے ہو، اس کی بنا پر اپنی صحت کے معاملات کے ازخود ذمّہ دار ہو۔

تم جتنے بڑے ہوتے جاؤ گے اتنا ہی اپنے معاملات کے خود ذمے دار بنتے جاؤ گے

جس قدر تم بڑے ہوتے جاؤ گے، جتنی زیادہ آزادی تمہیں ملتی جائے گی، اسی قدر تم اپنے معاملات کے از خود ذمّہ دار بنتے جاؤ گے۔ کوئی بھی دوسرا تمہیں کنٹرول نہیں کر سکتا نہ ہی کوئی اور تمہارے معاملات کا ذمّہ دار ہے۔ ربِّ کائنات نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے کہ کوئی بھی ایک شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ میں اللّٰہ کے سامنے تمہارے معاملات کے حوالے سے ذمّہ دار ہرگز نہیں ہوں۔ یومِ حشر کو ہم سب اپنی ذاتی حیثیّت میں اللّٰہ پاک کے سامنے پیش ہوں گے۔ یہ درست ہے کہ ہم اکٹھّے رہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے محبّت کرتے ہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں لیکن یہ سب صرف اسی دنیا تک محدود ہے۔

روزِ حشر ہم سب اپنی اپنی جگہ بالکل یکا و تنہا ہوں گے۔ یہاں تک کہ اگر تم مدد کیلئے میری طرف بھاگتے ہوئے آؤ گے تو میں تم سے دور بھاگ جاؤں گا کہ مجھے اس وقت صرف اپنی نجات کی فکر ہو گی۔ کیونکہ تمہارا اور میرا ایک دوسرے کے ساتھ تعلّق صرف ان چند گھڑیوں کا ہی لکھّا گیا ہے، جو میرے یا تمہارے اللّٰہ سبحانہ وتعالٰی کے ساتھ تعلّق کے مقابلے میں صرف چند مائیکرو سیکنڈز پہ محیط ہو گا۔ اور مجھے بروزِ حشر اس صدیوں پہ محیط تعلّق کی فکر ہو گی۔ قرآن میں ہے کہ روزِ محشر ہر کوئی اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور اپنے شوہر/بیوی سے دور دور بھاگے گا۔

اللہ تعالیٰ کو ہماری کسی چیز کی ضرورت ہے ؟

اگلی بات جو میں تم سے کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ محسوس کروں کہ تم مجھ سے محبّت کرتے ہو اور میری عزّت کرتے ہو۔ بالکل ویسے ہی جیسے تمہیں اس احساس کی ضرورت ہے کہ میں تمہارا خیال رکھتا ہوں، تم سے محبّت کرتا ہوں۔ تمہیں یہ محسوس ہونا چاہیے کہ میں تمہارے حوالے سے اپنی ساری ذمّہ داریاں پوری کر رہا ہوں۔ اور مجھے، جواباً تم سے عزّت، محبّت اور فرمانبرداری کی توقع ہوتی ہے۔
لیکن اللّٰہ کے ساتھ تمہارا تعلّق بالکل جدا ہے۔ تمہیں اس کی ذات سے بےشمار حاجات ہیں جبکہ اسے تمہاری طرف سے کسی شے کی ضرورت نہیں۔ اسے درحقیقت تمہاری بالکل بھی ضرورت نہیں بلکہ اسے تو کسی بھی شخص یا کسی بھی چیز کی کسی صورت کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لہذٰا جب تم کہتے ہو کہ مجھے نماز کیوں پڑھنی ہے؟؟ اللّٰہ کو میری نماز کی کیا ضرورت ہے؟ تو دراصل اللّٰہ کو تمہاری ذات سے کسی شے کی ضرورت نہیں ہے۔
کیوں؟کیونکہ اسکا تعلق اللّٰہ کی کبریائی کے عنصر سے ہے۔

ہماری عظمت کے اظہار کے لئے آس پاس قبول کرنے والوں کی ضرورت ہے

ایک مثال لو: ابھی حال ہی میں میں قطر تھا، فٹبال ورلڈ کپ کیلئے۔ ارجنٹینا یہ ٹورنامنٹ جیت گئی۔ یہ ایک شاندار ایونٹ تھا۔ اس جیت کی خوشی منانے کیلئے بہترین تقریبات منعقد کی گئیں۔ لیکن جیت اور برتری کا یہ احساس سامعین و حاضرین کا محتاج تھا، جو اس احساس کی تصدیق کرتے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ وہاں نہ عوام کا ہجوم ہوتا، نہ کھلاڑی ہوتے، نہ تقریبات ہوتیں۔ صرف ایک شخص ایک جزیرے پہ اکیلا ہوتا اور وہ فٹبال پہ کِک لگاتا اور خوب خوشیاں مناتا کہ واہ واہ۔۔ میں نے کیا شاندار فتح پائی ہے۔؟؟ یہ ناممکن ہے۔ سننے میں ہی مضحکہ خیز لگ رہا ہے۔
گویا ہماری عظمت کیلئے ہمارے ارد گرد اس عظمت کو قبول کرنے والوں کا ہجوم ہونا ضروری ہے۔ ہماری صلاحیّتوں کے اعتراف کیلئے لوگوں کا ہمارے پاس ہونا ضروری ہے. تم اپنے آپ کو ازخود شاباش کی تھپکی نہیں دے سکتے۔ کسی اور کو تمہارے کاندھے پہ تھپکی دینا ہو گی۔

اللہ تعالیٰ کی عظمت کائنات کے بغیر بھی قائم رہے گی

لیکن اللّٰہ سبحانہُ وتعالٰی فرماتا ہے۔ ” کائنات کی ہر شے فنا ہو جائے گی اور صرف تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔” وہ فرماتا ہے کہ کائنات کی ہر شے جب فنا ہو جائے گی، تب بھی اس کی عظمت، بزرگی اور کبریائی باقی رہے گی۔ وہ واحد ذات ہے جس کی کبریائی کسی کے بھی بیان کرنے کی محتاج نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ہی “اکبر” ہے، صرف اس کی واحد ذات ہے۔ ہم میں سےہر ایک کو اس سلسلے میں دوسرے انسان کی حاجت ہوتی ہے۔ ربِّ کائنات کو نہ میری نمازوں کی ضرورت ہے، نہ اس چیز کی حاجت کہ میں حلال گوشت کھاؤں، نہ ہی میرے برائی سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اسے ان میں سے کسی شے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئیے:

بچوں کی تربیت میں بڑوں کاکردار

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*