ColumnsEducation MazameenEducational ChallengesFor TeachersPre SchoolPrimary & Secondary

بچوں میں پڑھائی کا شوق کیسے پیدا کریں؟

بچوں میں پڑھائی کا شوق کیسے پیدا کریں؟

قرۃ العین کامران

بچپن انسانی زندگی کی وہ منزل ہےجس میں تربیت کے پیمانے، حالات اور واقعات ہوتے ہیں۔ یہ حالات و واقعات بچوں کے اندر مثبت یا منفی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ اس معصوم تصوراتی دنیا میں بچے کے خیالات مستقبل کے حوالے سے محدود ہوتے ہیں ، مگر ماں باپ ان کی تعلیمی مستقبل کے لیے فکرمندی کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں ۔ان کے خواب ,اراد ے،خواہشیں اور تمنا یہی ہوتی ہے کہ بچے تعلیم کا شوق رکھیں اور ان کی سمجھ بوجھ علم پر ہی منحصر ہو۔
اس شاداب و زرخیز مٹی میں ، اور حسب حال موسم میں، شجر سایہ دار اور ثمردار کے بیج ڈالنے کا وقت پیدائش سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ بچہ گو کہ پڑھنا لکھنا فورا شروع نہیں کردیتا لیکن سمجھ دار والدین بچے کو ایسا ماحول مہیا کرتے ہیں جہاں ارد گرد کتابیں ہوں۔گھر میں کتابوں کی الماری ہو۔ خود والدین بھی مطالعہ کے شوقین ہوں ۔ ایسے ماحول کا پروردہ بچہ خود بخود پڑھائی کا شوق رکھتا ہے۔

پڑھنے کا شوق اور تنظیم وقت

بچوں کی تنظیم وقتtime management بہتر بنائیں۔ بچوں کو نماز کا پابند بنا یا جائے ۔ فجر کی نماز سے تنظیم اوقات کا گوشوارہ شروع ہو جاتا ہے۔ ورزش کریں، ہلکا پھلکا ناشتہ کریں، موسمی پھل کھائیں اور تعلیمی اداروں کو روانہ ہو جائیں۔
24 گھنٹوں کو عقلمندی سے استعمال کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم سب وہ کر سکیں  جو ہم بچوں کو سکھانا چاہتے ہیں۔ والدین خود بھی  وقت کی پابندی کریں ۔ اسکول سے واپسی پر ہوم ورک وغیرہ کرنے کا وقت مقرر ہو۔ نصابی کتب کے علاوہ بھی کتابیں پڑھنے کا رواج ہو۔ بیڈ ٹائم اسٹوریز سے بھی بچہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اگر وقت کی پابندی ہوگی تو ہی پڑھائی میں مستقل مزاجی کی عادت پروان چڑھ سکے گی۔

تفریح اور تعلیم ساتھ ساتھ

تعلیم کے ساتھ ساتھ تفریح پر بھی  بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ والدین بچوں کو اس نہج پر تربیت دیں کہ جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں تو ایک مکمل اور با شعور شہری ہوں اور معاشرے کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کر سکیں۔
بچوں کو ایسی جگہوں کی سیر کے لیے لے جایا جائے جہاں ان کی آموزش ہوسکے۔ مثلا میوزیم، لائبریریوں، تاریخی جگہیں وغیرہ۔ کتاب سے پڑھنے کے ساتھ ان جگہوں کی سیر سے بچوں پر دیرپا اثرات پڑتے ہیں۔ جو کہ ان کی ذہنی نشوونما میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔
زیادہ تفریح اور ایسے امیوزمنٹ پارک جو کہ مہنگے بھی ہوں کی سیر ، بچوں کو ضدی اور اپنی بات زبردستی منوانے کی خود سری کے ساتھ شیخی خوری و ریاکاری جیسی قبیح عادات میں مبتلا کرسکتی ہے۔ لہذا ایسی تفریح سے بچنے کا اہتمام کیا جانا چاہئیے۔ تعلیم کا شوق  مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے والدین تفریح و پڑھائی میں توازن پیدا کریں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے مثالیں دی جائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دوران سفر تفریح کے ساتھ زندگی کے اہم امور کے متعلق تعلیم دیا کرتے تھے ۔

مزید پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کیجئے۔

کھیل کھیل میں تعلیم

بعض اوقات بچے والدین  یا اساتذہ کے ساتھ کھیل کود کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہلکی پھلکی تفریح گھر یا اسکول میں آرام سے کروائی جاسکتی ہے۔ اسوہ رسول اکرم ﷺ سے  مثال سمجھی جا سکتی ہے۔
ابو رکانہ مکہ مکرمہ کا بہت طاقت ور پہلوان تھا اسے کوئی ہرا نہیں سکتا تھا ۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ کی گھاٹیوں میں سے گزر رہا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ” ابو رکانہ کیا تم خدا سے ڈرو گے نہیں؟ اور میری دعوت قبول نہیں کرو گے؟” ابو رکانہ نے جواب دیا” اگر آپ کشتی میں مجھے پچھاڑ دیں تو میں آپ کا کہا مان لوں گا” ۔ اس کا خیال تھا کہ اس طرح میں آپ صلی اللہ وسلم کی دعوت قبول کرنے سے بچ جاؤں گا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تو پھر ٹھیک ہے کشتی کے لئے تیار ہو جاؤ”۔ دونوں کشتی لڑنے لگے تھوڑی دیر میں رسول خدا نے اسے پچھاڑ دیا ۔ابو رکانہ نے دوسری مرتبہ مقابلہ کیا۔ دوسری مرتبہ بھی وہ شکست کھا گیا ۔اس کے کہنے پر تیسری مرتبہ کشتی ہوئی تب بھی وہ ہار گیا۔ اسے بہت تعجب ہوا کھڑا ہو کر سوچ میں پڑگیا کہ آج تک کوئی بھی مجھے شکست نہیں دے پایا آج میں تین مرتبہ کیسے ہار گیا۔  تھوڑی دیر بعد بولا آپﷺ کا معاملہ   تو بہت ہی عجیب ہے یعنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو مجھ سے زیادہ زور آور ہیں ۔ابورکانہ نے حسب وعدہ اسلام قبول کرلیا ۔
گھر والے یا اساتذہ بچوں کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ باتیں سمجھائیں ۔ ہر لمحہ بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ مختلف امور میں اور کھیل کود میں علم حاصل کرسکتے ہیں اور اپنے اندر تعلیم کا شوق پیدا کرسکتے ہیں۔
گھر والے یا اساتذہ بچوں کو کھیل ہی کھیل میں حساب بھی باآسانی سکھا سکتے ہیں۔بچوں کےساتھ کرکٹ کھیلنے کے دوران ان کو سمجھایا جائے کہ ایک اوور میں چھ گیندیں ہوتی ہیں۔ پھر بچوں سے  سوال کیا جائے کہ دو اوورز میں کل کتنی گیندیں ہوں گی۔ اس سے بچوں کو چھ کا پہاڑا بھی یاد کروایا جاسکتا ہے اور جمع کرنا بھی سکھایا جا سکتا ہے ۔
بچوں سے سودا  سلف منگوایا جائے تو جمع اور تفریق کی بہترین مشق کروائی جا سکتی ہے۔ بچوں کو شاپنگ پر لے جایا جائے تو ضروری اور غیر ضروری اشیاء کا فرق سمجھا یا جائے۔ بے جا اسراف پر  خرچ کرنے کے بجائے اہل و  عیال پر خرچ کرنا کرنے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے نیز یہ بھی بتایا جائے کہ اہل و عیال پر خرچ کرنا صدقہ اور ثواب ہے۔ غیر ضروری اشیاء پر خرچ کرنا اسراف و تبذیر کے زمرے میں آئے گا۔ایسا کرنا شیطان کے بھائیوں کا کام ہے۔

کہانیوں سے تربیت

بچوں کی تعلیم کے لیے کہانیاں سنائی جائیں۔بچوں کو دلچسپ، با مقصد اور تاریخی کہانیاں سنائی جائیں۔بچوں کےمزاج کے مطابق کہانی کو مختصر یا طویل کیا جاسکتاہے۔کہانی میں اصلاح کا پہلو واضح ہو۔ بچوں کی زندگیوں میں کہانیاں گہرے نقوش ثبت کرتی ہیں۔ یہی بچے بڑے ہو کر بہتر کہانی نویس بن جاتے ہیں۔ کہانی کے دوران اقوال زریں بھی موقع کی مناسبت سے سنائے جائیں یہ باتیں بچوں میں روشن خیالات کو جنم دیتی ہیں۔ یہ وقت جو بچے بڑوں کے ساتھ گزارتے ہیں ان کی زندگی کا قیمتی وقت ہوتا ہے جو ان کو زیادہ مطالعہ اور مسلسل محنت پر ابھارتا ہے۔

گھر میں لائبریری یا کتب خانہ بچوں کے لئے ترغیب کا ذریعہ

گھر میں لائبریری بنائی جائے۔ گھر میں لائبریری کے قیام سے نہ صرف بچوں میں کتب بینی کا رجحان پیدا ہوتا ہے بلکہ دوست احباب اور محلہ میں بچوں کے دوستؤں میں  بھی کتاب پڑھنے کی ترغیب پیدا ہو جاتی ہے۔ من پسند کتاب بچوں کے خوابوں کو تعبیر دینے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ لائبریری ایک علمی پیشکش کے طور پر بچوں کی دلچسپی اور تعلیمی عمل کو بڑھاتی ہے۔
یہ خیال رکھا جائے کہ  کتابوں کی قیمتیں غیر معمولی نوعیت کی نہ ہوں۔  کتابوں کی فہرست میں قرآنی کہانیاں، انبیاء کرام علیہم السلام کے قصص،  سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سائنسی انسائیکلوپیڈیا شامل ہونی چاہئیں۔

آرٹ ورک

آرٹ ورک میں بچے بہت دلچسپی رکھتے ہیں لہذا اس کو سکھانے پر توجہ دینی چاہیئے۔ پرانی اشیاء بیکار نہیں ہوتیں ۔ کسی نہ کسی طریقے سے انھیں دوبارہ نئے سرے سے ترتیب دیا جا سکتا ہے یا ان کی مدد سے سجاوٹ کی مختلف اشیاء بنا کر انہیں کام میں لایا جا سکتا ہے۔ آرٹ کا پیریڈ بھی اسکولوں میں بچوں کو دیا جاتا ہے اور آرٹ بھی بچوں کا ایک مضمون ہے جو بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ مل کر اساتذہ یا والدین گھر میں موجود پرانی اور غیرہ استعمال شدہ اشیا کو مختلف طریقوں سے دوبارہ استعمال کرتے ہوئے سجاوٹ کی یا کسی بھی اور طرح کی مختلف اشیاء بنا سکتے ہیں اور اپنے گھر کو سجا سکتے ہیں۔
چیزوں میں ترتیب و توازن کامیاب زندگی کی علامت ہے ۔بچوں کے نزدیک آرٹ پیریڈ کرنا ایک بہت ہی دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے اور بچے دوسرے امور کو سمجھنے میں اس پیریڈ سے کام لے سکتے ہیں۔ ان اوقات میں بچوں کے اذہان  تازہ دم ہوجاتے ہیں-  آرٹ پیریڈ کے بعد مشکل اور خشک مضامین  کے لیے اپنی ہمتیں مجتمع کرپاتے ہیں۔

شرح صدر کی دعائیں

بچوں کو شرح صدر کی  دعائیں سکھائیں سورہ طہ میں بیان کی گئی حضرت موسی کی دعا یاد کرائی جائے ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ
” میرے رب میں سینے کو کھول دیں، میرے کام کو آسان کر دیں ،میری زبان کی گرہ کو کھول دیں تاکہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں”
بچوں کو بتایا جائے کہ حضرت موسی کو خدائی کا دعوی کرنے والے فرعون کے دربار میں تنہا کلمہ حق کہنے کے لیے بھیجا جا رہا تھا جس پراعتماد کی بحالی کے لئے رب تعالی نے یہ دعا سکھائی۔
بچوں میں خوداعتمادی، شوق،اور علم میں اضافہ کے لیے” رب زدنی علما “یاد کروائی جائے یہ دونوں دعائیں تعلیم کے شوق کو ابھارتی ہیں اور تعلیمی عمل کو مہمیز دیتی ہیں۔

گھر کا کام اور سبق ساتھ ساتھ

 بچوں کو گھریلو کاموں میں شامل کرکے سبق یاد کروایا جائے بچوں کو پڑھائی کا شوق دلانے کے لئے اور یاد الہی کی تعلیم دینے کے لیے ہم اپنے کاموں میں انہیں لازماً شامل کریں۔ مائیں گھر کے کام کاج کرتے ہوئے بچوں کو اسکول ، مدرسے کا سبق یاد کروائیں۔سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تکبیر پڑھنا سکھائیں اور نیچے اترتے ہوئے سبحان اللہ کہنا سکھایا جائے۔
علم کا شوق اور لگن سبق کی یاد دہانی اور یاد الٰہی ساتھ ساتھ ہونا ضروری ہے ۔بچوں کو باتوں باتوں میں والدین اور اساتذہ کی اطاعت کا سبق دیں۔
لڑکے اپنے والد صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی صاف کروائیں اور گاڑی کی صفائی کرتے ہوئے والد صاحب اوزار وغیرہ کے ناموں اور کاموں سے بچوں کو آگاہ کریں ۔انجن کے حصوں کے بارے میں بتائیں اس سے بچوں کی جستجو بڑھے گی اور ان کی فطرت سیکھنے کی طرف راغب ہو گی۔ پیچ کس، پانا، پلاس اور ہتھوڑی کے بارے میں بتایا جائے کہ یہ سادہ مشین ہیں اور یہی سادہ مشین مل کر پیچیدہ مشین بناتی ہیں۔
گھر والے تعلیم کی افادیت کے متعلق گفتگو کریں گھر کے  افراد شائستہ زبان میں تعلیم کے شوق کو  ابھارنے والی گفتگو کریں۔ مائیں یا بڑے بہن بھائی اپنے تعلیمی دور سے متعلق باتیں بتائیں- بچوں کی تعلیم و تربیت میں بڑوں کی سب سے بڑی ذمہ داری صحیح بنیادوں پر اخلاق و کردار کی تعمیرہے۔ بچوں کی اخلاق و کردار کی بنا گھر کے مضبوط ادارے سے پڑتی ہے۔
گھر کے بڑے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کا سبق سنیں اور محبت و شفقت سے ان کی تعلیمی دلچسپیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کریں-

مقبول تعلیمی رسائل سے وابستگی بڑھائیں

بچوں کے تعلیمی مستقبل اور علمی شوق کے لیے معیاری رسالوں سے وابستگی کو گہرا بنائیں۔ سبق آموز  کہانیوں کا ایک ایک  حرف بچوں کو علم سے یگانگت سکھاتا ہے اور یہ علم کا دریا ہر بچے کے دل میں موجزن ہوتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے مضامین علمی انقلاب کی طرف مائل کرتے ہیں ۔اردو زبان کی اہمیت تمام زبانوں کی افادیت ،علم و ادب سے محبت اور پرعزم لوگوں کے حالات زندگی ،بچے انہی رسالوں کے ذریعے سیکھتے ہیں ۔بچے اپنے دلچسپی کے اعتبار سے مطالعہ کرنے میں متحرک ہوتے ہیں۔

 بچوں کے سوالات کے جواب دیں

 بچوں کا ننھا ذہن علم کا آنگن ہوتا ہے جس میں نت نئے سوالات کے سلسلے جاری وساری رہتے ہیں۔ کچھ سوالات کے جوابات بچے از خود ڈھونڈ لیتے ہیں۔ مگر کچھ کی تلاش جاری رہتی ہے۔ ماں باپ اور اساتذہ بچوں کے ممکنہ تعلیمی مسائل کا حل  تلاش کرنے کی کوشش کریں ان کے یہ سوالات زندگی کے کسی بھی پہلو سے متعلق ہو سکتے ہیں مثلا پڑھائی ،اسکول، کمرہ جماعت،  اخراجات اور تعلقات وغیرہ جو اپنے ساتھی دوستوں سے استوار کرنا چاہتے ہیں۔

 بچوں کو بہترین ناموں سے پکاریں

 والدین بچوں کو محبت و شفقت سے بہترین ناموں سے پکاریں۔ میرے علم کے شاہ سوار، میرا تعلیم یافتہ بچہ، میرے نونہال، میرے بے مثال بچے ،میری آنکھوں کی ٹھنڈک، میرے دل کا قرار، میری آنکھوں کی امید، میرے ذہین و فطین بچے ،اور میرے ہونہار بچے۔ یہ پیارے القاب بچوں کی امیدوں کا مرکز بنیں گے اور اس راہ کو مسخر کریں گے جس پر ان کے والدین ان کو چلانا چاہتے ہیں ۔وہ اپنے ماں باپ کے خوابوں کو پورا کرنے کی جدوجہد کریں گے انشاءاللہ

صحت اور تعلیم

بچوں کی دماغی و جسمانی صحت کا خیال رکھیں ۔بچوں کو تعلیمی عمل میں آگے بڑھانے کے لئے اور بہترسوچ کو مزید تقویت دینے کے لیے ان کی صحت کا باقاعدہ خیال رکھیں۔ ماہرین ، صحت کے لئے باقاعدہ چہل قدمی اور سیر و تفریح کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ یہ صحت مند ورزش بچوں کو کئی خطرناک بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے اور ان کے دماغی خلیات اور خون کی روانی بہتر اور ہمیشہ فعال رکھتی ہے۔ بچوں کو باقاعدہ چہل قدمی کی عادت ڈالیں۔خود اعتمادی اور مثبت سوچ چہل قدمی سے جنم لیتی ہے ۔خوش خرم جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یاداشت بہتر ہوتی ہے۔

صرف زبان سے تاکید کرتے رہنا کہ پڑھ لو کبھی کتاب بھی ہاتھ میں لے لیا کرو فائدہ مند عمل نہیں ہے کہ جب تک والدین بچوں کو ذہنی صحت کے عوامل کی طرف نہیں لے کر جاتے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ صحت مند غذا کی فراہمی کا خیال رکھا جائے۔ بچوں کے تعلیمی رجحان میں بہتری کے لیے صحت مند اور متوازن غذا بھی ضروری ہے جیسے سبزیاں ، پھل ضروری وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور غذائیت والی چیزیں بچوں کو فراہم کریں۔
بچوں کا باڈی ماس انڈیکس ضرور چیک کرائیں ۔ باڈی ماس انڈیکس سے پتہ چلتا ہے کہ بچے اپنی عمر کے مطابق صحت مند ہیں یا نہیں ۔ بعض اوقات کمرہ جماعت میں بچے اپنے دوسرے ساتھی طلبا کے مقابلے میں پڑھائی لکھائی میں کمزور ہوتے ہیں اور ان پر اساتذہ اور والدین کمزور اور پڑھائی میں پیچھے ہونے کا ٹیگ لگا دیتے ہیں ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے بعض اوقات بچے کمزوری محسوس کرتے ہیں جسمانی کام یا پڑھائی میں دقت اور تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں ۔ بچوں کی غذائی ضرورت پوری ہونے سے بچے تعلیمی عمل میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ضرورت پڑنے پر معالج سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

والدین اور اساتذہ کی بچوں میں ہر لحاظ سے دلچسپی بچوں کو علم حاصل کرنے میں متحرک رکھتی ہے۔ بچوں کی ذہنی تربیت کے ساتھ روحانی ، اخلاقی، جسمانی ، معاشرتی ، جذباتی تربیت بھی ضروری ہے۔ جس قدر والدین اور اساتذہ ان امور پر توجہ دیں گے اسی قدر بچوں میں پڑھائی کا شوق بیدار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:

اچھے استاد کی خصوصیات

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button