Latest

گیارہ برس تک نہ بول سکنے والا سیاہ فام کیمبرج کا کم عمر ترین پروفیسر بن گیا

گیارہ برس تک نہ بول سکنے والا سیاہ فام کیمبرج کا کم عمر ترین پروفیسر بن گیا

جیسن آرڈے نے 11 برس کی عمرمیں بولنا سیکھا، 18 برس کی عمر تک نہ تو لکھنا آتا تھا اور نہ ہی پڑھنا لیکن پھر بھی 37 برس کی عمر میں کیمبرج کی کم عمر پروفیسر بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔

زندگی کے ابتدائی سالوں میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کی تشخص ہوئی

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیسن آرڈے میں زندگی کے ابتدائی سالوں میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کی تشخص ہوئی، وہ 11 برس کی عمر تک ٹھیک سے بول بھی نہیں سکتے تھے لیکن اس کے باوجود کیمبرج یونیورسٹی میں سوشیالوجی آف ایجوکیشن کے کم عمر ترین پروفیسر مقرر ہونے کے بعد تاریخ رقم کرکے ہمت و حوصلے کی مثال بن گئے۔

ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ جیسن آرڈے کو زندگی بسر کرنے کے لئے مستقل سہارا چاہیے ہوگا

میڈیا رپورٹس کے مطابق 8 برس قبل ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ جیسن آرڈے کو زندگی بسر کرنے کے لئے مستقبل بنیادوں پر کسی کے سہارے کی ضرورت ہے لیکن جیسن آرڈے نے کبھی کسی کو ڈاکٹرز کے ان خیالات میں حقیقت کا رنگ بھرنے نہ دیا۔

والدہ کے کمرے کی دیواروں پر زندگی کے مقاصد لکھتا جن میں آکسفورڈ یا کیمبرج میں پڑھانا بھی تھا

جیسن آرڈے کے مطابق وہ اپنی والدہ کے کمرے کی دیواروں پر اپنی زندگی کے اہم مقاصد تحریر کرتے جن میں سے ایک آکسفورڈ یا کیمبرج میں کام کرنا تھا۔ تاہم جب مقالہ تحریر کر رہا تھا اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دنوں میں ٹی وی پر نیلسن منڈیلا کی جیل سے رہائی اور 1995 کے رگبی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کی علامتی فتح کو دیکھنا اس کے مشاغل میں شامل تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے سے زیادہ دوسروں کے دکھوں سے بہت متاثر ہوا کرتے تھے۔

جو بھی مقالہ جمع کرواتا مسترد ہوجاتا لیکن ہمت نہیں ہاری ،انٹرویو میں انکشاف

جیسن آرڈے نے دوران انٹرویو انکشاف کیا کہ کیمبرج یونیورسٹی میں صرف 5 سیاہ فارم پروفیسرز ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی استاد سے مقالہ لکھنا نہیں سیکھا، ایسے میں وہ جو بھی مقالہ جمع کرواتے وہ مسترد کر دیا جاتا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری، اس کے برعکس میں لطف اندوز ہوتا اور اسے سیکھنے کے عمل کے طور پر لیتا۔

جیسن آرڈے کا کہنا ہے کہ صرف یہ ہی وجہ ہے کہ مختصر عرصے میں فزیکل ایجوکیشن اور ایجوکیشن اسٹڈیز میں 2 ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ جس کے بعد 2016 میں لیورپول جان مورز یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور پہلا علمی مقالہ 2018 میں شائع کیا۔

بعدازاں یونیورسٹی آف گلاسگو کے اسکول آف ایجوکیشن میں ملازمت حاصل کرنے کے بعد برطانیہ کے کم عمر پروفیسر بن گئے۔

انہوں نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ ’میرا کام بنیادی طور پر اس پر مرکوز ہے کہ ہم کس طرح پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے دروازے کھول سکتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کو حقیقی معنوں میں جمہوری بنا سکتے ہیں‘۔
خیال رہے کہ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر آف ایجوکیشن پروفیسر بھاسکر ویرا نے جیسٹن آرڈے کو “غیر معمولی اسکالر” قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کابل ، افغانستان کا دارالحکومت جس کے رنگ ہی نرالے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button