درسی کتب کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ، غریب طلباء کا مستقبل داؤ پر

Books market

کراچی (تعلیمی ڈیسک)منافع خوروں نے ملک میں کاغذ کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی۔ جس کی وجہ سے مارکیٹ میں درسی کتابوں اور کاپیوں کے نرخوں میں 40 سے 45 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کاغذ کے کاروبار سے وابستہ مافیا نے مارکیٹ سے کاغذ غائب کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں پیپر انڈسٹری میں کاغذ کی مصنوعی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

 ڈیمانڈ کے حساب سے سپلائی نہ ہونے کی بنا پر کاغذ کی قیمت آسمان کو چھونے لگی ہے ۔جس کے سبب درسی کتب،کاپیوں اور دیگر متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں 40 سے 45 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جس کا بوجھ برداشت کرنا خریداروں کے لئے مشکل ہوگیا ہے۔

  نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے اور طلبہ وطالبات کو نئے کورسز کی ضرورت ہے ایسے میں کتابوں اور کاپیوں کی قمیتوں میں ہوش ربا اضافے نے والدین کو سخت دشواری میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوام پہلے ہی اشیاء خور و نوش کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ہیں ۔

اب کاغذ مافیا کی جانب سے اسٹیشنری کے نرخوں میں کئے جانے والے ہوش ربا اضافے نے غریب والدین کے بچوں کا تعلیمی مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ دوسری جانب مارکیٹ میں کاغذ کی قلت کے باعث نصابی کتب کی اشاعت بھی متاثر ہونے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

 اشاعتی اداروں کا کہنا ہے جو کاغذ پہلے 130 روپے کا کلو ملتا تھا اب ڈھائی سو سے تجاوز کر چکا ہے۔ 1500 کا ملنے والا رم 4000 تک پہنچ چکا ہے۔ پبلی کیشن مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاغذ پر عائد ٹیکس یا تو بالکل ختم کیا جائے۔ یا اتنا کم کیا جائے کہ اشاعتی اداروں کےلئے کام جاری رکھنا  اور غریب طلباء وطالبات کے لئے درسی کتب اور کاپیاں خریدنا ممکن ہو جائے۔

 ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر مارکیٹ میں کاغذ کے نرخ کنٹرول نہ ہوئے اور یونہی بڑھتے رہے تو نہ صرف چھوٹے اشاعتی اداروں کو اپنا کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا بلکہ غریب والدین کے لئے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا بھی ایک خواب بن جائے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply