سندھ میں کاروبار رات 9 بجے بند کرنے کا فیصلہ

کاروبار رات 9 بجے بند

کراچی (نیوز ڈیسک) سندھ حکومت کا توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے بڑا فیصلہ، مارکیٹیں رات نو بجے بند کرنے کا حکم، نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

فیصلہ 18 جون سے نافذ العمل ہوگا، نوٹیفکیشن جاری

تفصیلات کے مطابق سندھ کی صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں تمام بازار ، مارکیٹیں ، شاپنگ مالز اور دکانیں رات 9 بجے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا، فیصلہ 18 جون سے نافذ العمل ہوگا۔

شادی ہال ساڑھے دس بجے، کیفے گیارہ بجے تک کھلے رہیں گے

صوبے بھر میں تمام شادی ہال ، بینکوئٹ میں شادی اور دیگر تقاریب رات ساڑھے دس 1030 بجے بند کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔جبکہ ہوٹل ، کافی شاپ اور کیفے را ت 11 بجے بند کیے جائیں گے۔

میڈیکل اسٹور،اسپتال،پٹرول پمپس،سی این جی اسٹیشنز، بیکری اور دودھ کی دکانیں مستثنیٰ قرار

میڈیکل اسٹورز ، اسپتالوں ، پیٹرول پمپس ، سی این جی اسٹیشنز ، بیکری اور دودھ کی دکانوں پر فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔سندھ حکومت کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یہ احکامات ایک ماہ کیلیے نافذ العمل ہوں گے۔

 وفاقی کابینہ بھی سویرے کاروبار کھولنے اور جلدی بند کرنے کی تجویز دے چکی ہے

واضح رہے مارکیٹیں سویرے کھولنے اور جلدی بند کرنے کی تجویز دو ہفتے قبل اتحادی حکومت کے کابینہ اجلاس میں زیر غور آئی تھی جس کا مقصد ملک میں توانائی کے بحران کو قابو کرنا تھا۔ اگر اتحادی حکومت خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر تین صوبوں میں اس تجویز پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے روزانہ بنیادوں پر ہزاروں میگاواٹ بجلی کی بچت ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں جاری توانائی کے شدید بحران پر بہ آسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔

 علمائے کرام کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم، فیصلہ پورے ملک میں نافذ کرنے کا مطالبہ

ملک بھر کے علماء کرام نے وفاقی حکومتی کی تجویز اور سندھ گورنمنٹ کے فیصلے کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پورے پاکستان میں سویرے کاروبار کھولنے اور جلدی بند کرنے کا قانون نافذ کیا جائے اور اس پر مستقل بنیادوں پر عمل کیا جائے۔ کیونکہ اس سے نہ صرف بجلی کے غیر ضروری استعمال کا سلسلہ بند ہوگا بلکہ بہ حیثیت قوم ہم بہت ساری خرافات اور سماجی خرابیوں سے بھی محفوظ ہو جائیں گے۔اس فیصلے سے قوم جلدی اٹھنے اور جلدی سونے کی عادی ہو جائے گی۔یوں فجر کی نماز میں برتی جانے والی غفلت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply