کرونا نے دنیا کو کیسے تبدیل کیا

ادیب اور لکھاری کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اپنے دور کے احوال مستقبل کے قاری کے لیے محفوظ کرے ،مستقبل کا انسان اپنے ماضی کو کتاب ہی کے ذریعے جان سکتا ہے آج اگر ہم گزرے ہوئے ادوار کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو یہ کتاب اور لکھاری ہی کی دین ہے۔ تاریخ کے اوراق ہی ہمیں بتاتے ہیں کہ فلاں صدی میں کیا واقعہ پیش آیا تھا اور اس واقعے نے سماج پر کیا اثرات مرتب کیے تھے۔

ادیب کا فرض منصبی

ادیب اگر اپنے وقت کے اہم واقعات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش نہیں کرے گا تو یہ اس کے فرض منصبی میں بڑی کوتاہی اور خیانت شمار ہوگی، آنے والے لوگ پچھلوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں ، ان کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں، اچھائیوں کو مشعل راہ بناتے ہیں، ان سے سرزد ہونے والی کوتاہیوں سے پرہیز کرتے ہیں ، ان کے غلط فیصلوں کو دہرانے سے گریز اور درست فیصلوں کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں ، ماضی کے تجربات کی روشنی میں اپنے حال اور مستقبل کی نقشہ گری کرتے ہیں۔ اگر ادیب اپنے دور کے سیاسی حالات، سماجی معاملات، تمدنی رویوں ، قدرتی آفات و حوادث اور لوگوں کے مزاج وعادات کو سپرد قلم نہیں کرے گا تو اگلی نسلیں ان کے بارے میں کیسے آگاہی حاصل کریں گی ان کے اچھے اور برے تجربات سے کیسے سیکھنے کی کوشش کریں گی۔

ووہان سے اٹھنے والی وبا

2019 کو چین کے شہر “ووہان ” میں ایک وبا نے سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کرونا نامی اس وباء نے حالیہ انسانی تاریخ کے ایک بہت بڑے المیے کو جنم دیا ، جس نے پورے خطہ ارضی کو متاثر کیا اور تاحال عالم انسانیت اس کے اثرات سے نہیں نکل پائی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کرونا نے 2019 سے 2022 تک ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو لقمہ اجل بنایا جبکہ اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ، عالمی ادارے کے مطابق کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں امریکا پہلے نمبر پر ہے جہاں 8 کروڑ افراد متاثر ہوئے جبکہ بھارت چار کروڑ متاثرین کے ساتھ دوسرے اور برازیل تین کروڑ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے ۔ بہت سے ممالک نے عالمی ادارے کے اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کیا ہے ہندوستان ہی کی مثال لیجیے عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہندوستان میں 33 لاکھ سے زائد افراد کرونا سے ہلاک ہونے جبکہ ہندوستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ساڑھے چار لاکھ ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ میں پاکستان میں اموات کی تعداد 30 ہزار سے زائد ظاہر کی گئی ہے اور سرکاری اعداد و شمار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں لیکن عوامی سطح پر ان اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کیا جا رہا۔ بہرحال اعداد و شمار کا فرق اپنی جگہ ، تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس وبا نے گزشتہ تین سالوں سے پوری دنیا میں موت کا رقص جاری رکھا ہوا ہے اور عالم انسانیت کو سنگین بحرانوں سے دوچار کیا ہوا ہے ۔

کرونا کی روداد مستقبل کے قاری کے لئے

ہمیں تو معلوم ہے کہ یہ وباء کیسے پھوٹی کہاں سے پھوٹی کتنے انسانوں کو نگل گئی اس کے آنے کے بعد کس طرح ایک ہنستی بستی دنیا غم کی تصویر بن گئی کیسے دوڑتی بھاگتی زندگی ساکت و جامد ہوگئی انسانوں کے قہقہے کیسے آہ وفغاں میں بدل گئے کاروں سے اٹی سڑکیں کیسے سنسان ہوئیں زندگی کا شور کس طرح سکوت شناس ہوا مصروف کاروباری مراکز کو کس طرح تالے پڑ گئے صنعتی سرگرمیاں کس طرح ٹھپ ہو کر رہ  گئیں لاک ڈاؤن نے کاروبار کا پہیہ کس طرح جام کیا ؟،دنیا میں سماجی فاصلے کا تصور کس وجہ سے ابھرا ایک دوسرے، پر جان چھڑکنے والے کیسے ایک دوسرے سے دور بھاگنے لگے، مسجدیں اور عبادت گاہیں کتنے عرصے تک ویران رہیں کیسے شہروں میں الو بولنے لگے آفت کی گھڑی میں انسانی رویوں میں کیا تبدیلی آئی؟؟ ذخیرہ اندوزوں نےآفت زدہ انسانوں کو بخشا کہ نہیں؟ موقع پرستوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کیا کہ نہیں؟؟ وغیرہ وغیرہ یہ ساری باتیں ہمیں بخوبی معلوم ہیں لیکن آج سے پچاس سو سال بعد کے انسانوں کو ان چیزوں کا بالکل بھی پتہ نہیں ہوگا جب تک أج کا ادیب اپنے الفاظ سےان حالات کی عکس بندی نہ کرے اور اپنے قلم سے ان واقعات کی منظر کشی نہ کرے۔

کرونا وبا سے پیدا ہونے والی صورت حال پر خوب صورت ناول

کرونا وبا نے دنیا کو کیسے تبدیل کیا

ممتاز شاعر و ادیب جناب نقش بند قمر نقوی بخاری صاحب نے کرونا اور اس کے بعد پیش آنے والی صورت حال کو ایک ناول کی صورت میں مسقبل کے قاری کے لیے محفوظ کر لیا ہے “امی مجھے گلے لگا لو” کے نام سے یہ ناول ریحان کتاب گھر اردو بازار کراچی نے شائع کیا ہے محترم ناول نگار خود تو گزشتہ چالیس سال سے امریکا میں مقیم ہیں لیکن ان کا دل اردو اور اردو والوں کے ساتھ دھڑکتا ہے انگریزوں کے دیس میں رہ کر اردو ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں اب تک درجنوں ناول اور متعدد علمی و ادبی تخلیقات منصہ شہود پر لا چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور تخلیقی کاوشوں میں برکت نصیب فرمائے۔

تعزیت کا فلسفہ اور غیر اسلامی رویے

Be the first to comment

Leave a Reply