پاکستان میں رواں سال آم کی پیداوار میں نصف کمی

آم کی پیدوار میں کمی

کراچی (نیوز ڈیسک) رواں سال پاکستان میں آم کی پیداوار میں ریکارڈ ساز کمی، 25 سال میں پہلی بار آم کی پیداوار 50 فیصد کم ہوگئی۔ آم کی تجارت سے وابستہ تاجر سخت پریشان

پچھلے 25 سالوں کے دوران پہلی مرتبہ غیر معمولی کمی ریکارڈ

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں رواں سال آم کی پیداوار پچاس فیصد کم ہوگئی، گزشتہ پچیس سالوں کے دوران پہلی مرتبہ آم کی پیداوار میں اتنی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سو ایکڑ سے صرف 30 گاڑیاں آموں کی نکل رہی ہیں

 آم کے کاروبار سے وابستہ تاجروں نے اس سال ہونے والی آم کی پیداوار کا گزشتہ سالوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے سال اگر سو ایکڑ سے 100 اور 130 گاڑیاں آموں کی نکل جاتی تھیں تو اس سال صرف 30 سے 50 گاڑیاں مشکل سے نکل پاتی ہیں۔

پاکستان کو برآمدات کی مد میں اربوں روپے کے نقصان کا خطرہ

آم کی پیداوار کم ہونے سے نہ صرف متعلقہ تاجروں کا کاروبار شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے بلکہ پاکستان کو برآمدات کی مد میں اربوں روپے کے نقصان کا بھی خدشہ ہے۔

ملک بھر میں 5 لاکھ لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ

پاکستان کے 100 ارب روپے کی صنعت آم سے وابستہ ہے ،تقریبا چار سے ساڑھے چار لاکھ پاکستانیوں کا روزگار آم کی مرہون منت ہے۔

پاکستان میں آم کی کل پیداوار کا 70 فیصد حصہ پنجاب پیدا کرتا ہے

پاکستان میں آم کی سالانہ پیداوار کا تخمینہ 8 لاکھ ٹن ہے۔جس کا 70 فیصد پنجاب پیدا کرتا ہے۔29 فیصد فصل سندھ میں ہوتی ہے جبکہ باقی ایک فیصد پیداوار خیبر پختونخوا میں ہوتی ہے۔

پیداوار میں کمی کی وجہ سے برآمد کا ہدف بھی کم کر دیا گیا

ریکارڈ کے مطابق سال 2021 میں پاکستان نے 149 ملین کلو گرام آم برآمد کیے تھے، جس کی مالیت 22 ارب روپے پاکستانی بنتی ہے ۔ متعلقہ حکام کے مطابق رواں سال آم کی پیداوار میں کمی کو دیکھتے ہوئے برآمدات کے ہدف میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔

گلوبل وارمنگ اور بر وقت اسپرے کا نہ ہونا پیدوار کم ہونے کی اہم وجہ

آم کی پیداوار میں کمی کی متعدد وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ایک وجہ بہار کے آنے سے قبل ہی گرمی کی آمد کو قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق قبل از وقت گرمی نے آموں کی افزائش کو متاثر کیا۔اس کے علاوہ آم کے باغات میں بر وقت اسپرے نہ ہونے کو بھی آم کی پیداوار میں کمی کا ایک سبب قرار دیا جا رہا ہے۔

سندھ میں اسکول بندنہیں کیے جائیں گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply