ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی موت کے اسباب

Aamir Liyaqat Husain

تحریر: لطیف الرحمن لطف

رکن قومی اسمبلی اور معروف ٹی وی میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اچانک انتقال کر گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

9 جون کو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے ان کے ملازمین نے انہیں اسپتال منتقل کیا ۔تاہم ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی بتایا جاتا ہے کہ وہ جمعرات کے دن بارہ بجے تک زندہ تھے تاحال ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی موت کی وجہ معلوم نہ ہوسکی ۔

ایمبولینس ڈرائیور کے مطابق جب وہ خدا داد کالونی میں واقع ان کے گھر پہنچے تو وہاں  جنریٹر کی آواز آرہی تھی اور وہ ایک ایسے کمرے میں سو رہے تھے جہاں جنریٹر کے دھوئیں کے باہر نکلنےکا کوئی راستہ نہیں تھا ممکن ہے موت کی وجہ جنریٹر سے نکلنےوالا دھواں ہو۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے ذاتی ڈرائیور کے مطابق ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی طبیعت گزشتہ کل سے ناساز تھی اور وہ ڈپریشن کا بھی شکار تھے وہ رو بھی رہے تھے جس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ذہنی تناو کی وجہ سے ان کو حرکت قلب کا عارضہ لا حق ہوا ہو ویسے بھی وہ اپنی تیسری بیگم کے خلع لینے کے فیصلے کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اسی دباؤ کے تحت وہ پاکستان چھوڑنے کا اعلان بھی کر چکے تھے۔

ایک قیاس یہ کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی طبیعت ناساز تھی جیسا کہ ان کے گھر کے ملازمین نے بتایا بے طبیعت کی ناسازی کے باوجود انہوں نے کسی ڈاکٹر سے رجوع نہیں کیا تھا ممکن ہے انہوں نے خود سے کوئی دوائی استعمال کی ہو جس کے ری ایکشن سے ان کی موت واقع ہوئی ہو۔

پولیس کا ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی لاش کا پوسٹ مارٹم کا فیصلہ

دریں اثنا پولیس نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلہ کیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت ایسے مشہور شخصیت کی موت کا سبب معلوم کرنا ضروری ہے اس لئے ان کی میت کو پوسٹ مارٹم کے بعد ہی ان کے ورثاء کے حوالے کیا جائے گا بعض ذرائع موت کے کچھ اور اسباب کا امکان بھی ظاہر کر رہے ہیں

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا سیاسی کیریئر

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین1972 کو کراچی میں شیخ لیاقت حسین کے ہاں پیدا ہوئے ان کے والد ایم کیو ایم کے بانیوں میں سے تھے وہ 1997 سے 1999 تک ممبر قومی اسمبلی رہے ایک سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے خود بھی سیاست میں سرگرم حصہ لیا 2002 کے عام انتخابات میں وہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

 اس وقت ان کی عمر صرف 27 برس تھی اس عرصے میں وہ جنرل پرویز مشرف کے بہت چہیتے رہے اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور بھی رہے 2007 کو انہوں نے ایک ٹی وی شو میں سلمان رشدی کو واجب القتل قرار دیا جس کے بعد پارٹی کی جانب سے ان پر استعفاء کے لئے دباؤ ڈالا گیا اور یوں انہیں استعفاء دینا پڑا کچھ عرصے بعد ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی گئی۔

 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر دوبارہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور تاحال رکن قومی اسمبلی رہے ان کی وفات کے سوگ میں قومی اسمبلی کا 9 جون کو ہونے والا اجلاس ایک روز کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا صحافتی کیرئیر

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے کیریئر کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا وہ ندائے ملت نامی اخبار کے بانی ایڈیٹر بنے بعد ازاں کراچی کے شام کے مقبول ترین اخبار “روزنامہ پرچم” کے ساتھ منسلک ہوگئے سب ایڈیٹر سے سفر کا آغاز کرنے والے عامر لیاقت حسین کچھ عرصہ بعد رونامہ پرچم کے ایڈیٹر بن گئے اس عرصے میں وہ “لاؤڈ اسپیکر” کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہے جو عوام خصوصاً ایم کیو ایم کے حلقے میں بہت پسندیدگی سے پڑھا جاتا تھا

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین بہ طور مذہبی اسکالر

 سن 2000 کے بعد وہ ایک نئے روپ میں عوام کے سامنے آئے انہوں نے خود کو ایک مذہبی اسکالر کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا اور اس حوالے سے کافی مقبولیت حاصل کی

پاکستان کے میڈیا گروپ جنگ پبلیکیشن نے جب اپنے نیوز چینل ” جیو” کا آغاز کیا تو عامر لیاقت حسین پہلے بطور نیوز کاسٹر اس سے وابستہ ہوئے بعد ازاں انھوں نے عالم آن لائن کے نام سے ایک مذہبی پروگرام شروع کیا جو عوامی سطح پر تو  بہت مقبول بھی ہوا لیکن مذہبی حلقوں میں تنازعات کا بھی شکار رہا

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پاکستان کے تقریباً ہر بڑے نیوز چینل سے وابستہ رہے اور ان کے مذہبی پروگرامات زیادہ تر تنازعات کی زد میں رہے جس کے اثرات ان کے سیاسی کریئر پر بھی پڑےوہ کافی عرصے تک روزنامہ جنگ کے لئے بھی کالم لکھتے رہے

ڈاکٹرعامر لیاقت جیو نیوز کے علاوہ اے آر وائی، ایکسپریس، بول ٹی وی اور 24 نیوز سے وابستہ رہے، رمضان کی خصوصی نشریات کے دوران وہ ہاٹ پراپرٹی تصور کیے جاتے ہیں رمضان ٹرانسمیشن کے پروگرام ’انعام گھر‘ میں ان کے بعض جملے اور حرکات کو بھی ناپسندیدگی سے دیکھا گیا پیمرا ( پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی )نے سنہ 2016 میں اس پروگرام پر تین روز کے لیے پابندی بھی لگائی تھی

ڈاکٹر عامر لیاقت کی ناہموار ازدواجی زندگی

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی ازدواجی زندگی کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی انہوں نے پہلی شادی بشری اقبال سے کی  بشری سے ان کی ایک بیٹی دعا عامر اور ایک بیٹا احمد عامر ہے 2020 کو دونوں میں طلاق ہوگئی جس کے بعد انہوں نے ایک ماڈل طوبی سے شادی کی ان کی یہ شادی بھی ناکام رہی۔

 2022 کو انہوں نے تیسری شادی دانیہ ملک سے کی جو ان سے عمر میں 32 سال چھوٹی تھی لیکن یہ شادی بھی چند ماہ ہی چل سکی تین ماہ بعد ہی دانیہ ملک نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے خلع کے لئے بہاولپور کی فیملی کورٹ سے رجوع کیا اور ان پر سنگین قسم کے الزامات عائد کئےجس کا عدالتی پراسیس ہنوز جاری تھی۔

Be the first to comment

Leave a Reply