”ڈاکٹر کپورا“

zia chitrali

ضیاءچترالی

ایک شخص جس نے پورے امریکا کو پاگل بنا دیا تھا۔ جان رومولس برینکلے امریکا کا ایک اتائی ڈاکٹر تھا، جو بکرے کے کپوروں سے مردانہ کمزوری سمیت ہر قسم کے مریضوں کا ”علاج“ کرتا تھا۔ نامردوں کو بکرے کے کپورے کا ٹرانسپلانٹ کرنے والے انسانی تاریخ کے اس پہلے اور آخری ”ڈاکٹر“ کا انوکھا طریقہ علاج اتنا مشہور ہوا کہ وہ سالانہ 12 ملین ڈالر کمانے لگا۔

 اس کا اپنا بحری جہاز تھا۔ بیوی بچے شاہانہ زندگی گزارتے تھے۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں اس کا طوطی بولتا تھا۔ نیویارک ٹائمز میں ہر دوسرے تیسرے روز اس کی ”کرامات“ پر خصوصی ضمیمے شائع ہوتے۔ اسے امریکا کیلئے خدا کا خاص انعام باور کرایا جاتا۔ اس کا اپنا ریڈیو چینل تھا۔ جس میں اس کے مریضوں کی ”صحت افروز“ داستانیں نشر ہوتیں۔ اس ٹرانسپلانٹ کی وہ 750 ڈالر (موجودہ 10 ہزار) ڈالر فیس لیتا تھا۔

امریکی خاتون فلم ساز Penny Lane نے ڈاکٹر برینکلے پر ”پاگل“ (Nuts) کے نام سے ایک ڈاکومینٹری فلم بنائی ہے۔ اس کے مطابق 1918ءسے 1930ءتک امریکا میں ایک ہی طبی شخصیت کا ڈنکا بجتا رہا، وہ ڈاکٹر جان برینکلے تھا۔ جان برینکلے ”غیر شرعی“ بچہ تھا۔

 اس کے والد نے اپنی ایک عزیز کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کئے، جس کے نتیجے میں 1885ءکو برینکلے نیو یارک میں پیدا ہوا۔ والد اچھا ڈاکٹر تھا۔ لیکن برینکلے کے بچپن میں ہی اس کا انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد برینکلے ہی خاندان کا واحد کفیل بن گیا۔

ڈاکٹر کپور

اس نے مختلف قسم کی نوکریاں کرکے خاندان کی کفالت کی۔ وہ منشیات کی دکان میں بھی بیٹھتا رہا۔ شادی کے بعد برینکلے کو یکایک خیال آیا کہ اسے ایک مطب کھولنا چاہئے۔ یہ اور اس کی بیوی مطب کھول کر مختلف دیسی ادویات بیچنے لگے۔ اس کے ساتھ یہ جھاڑ پھونک اور انجیل پڑھ کر دم درود بھی کرنے لگا۔ لیکن اس میں کامیابی نہ مل سکی۔ کاروبار ٹھپ ہوگیا اور یہ خاندان قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ مجبوراً اسے نیویارک چھوڑ کر شکاگو جانا پڑا تاکہ وہاں جامعہ بینیٹ میں برینکلے طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرسکے۔

 لیکن قرضوں نے یہاں بھی پیچھا نہیں چھوڑا۔ تو برینکلے نے تعلیم ہی چھوڑ دی۔ اس کے بعد وہ ٹینیسی کے شہر نوکسفیل منتقل ہوگیا اور خود کو مردانہ کمزوری کے طبیب کے طور پر پیش کیا۔ مگر حالات بدستور خراب رہے اور بیوی اس سے تنگ ہوکر میکے چلی گئی۔

 اس نے دوسری شادی کرلی۔ اب یہ ایک نئے روپ میں سامنے آیا اور ایک جدید طریقہ علاج ایجاد کیا، جسے اس نے الیکٹرانک طب کا نام دیا۔ یہ مریضوں کو ایک خاص ٹیکہ لگانے لگا، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ یہ ”برقی دوا“ جرمنی سے آئی ہے۔ جو بوڑھے کو جوان کر دیتی ہے۔

 حالانکہ یہ کوئی دوا نہیں، سادہ پانی تھا، جس میں اس نے کچھ رنگ ملا رکھا تھا۔ یہ طریقہ بھی نہیں چل سکا۔ برینکلے بدستور قرضوں میں جکڑا رہا۔ اب تو اسے جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ کچھ رشتہ داروں کی ضمانت پر اسے رہائی مل گئی۔

برینکلے کی رہائی کے بعد انفلونزا کی مشہور وبا پھیل گئی۔ اس نے فوراً ایک کلینک کھول کر مریضوں کا علاج شروع کر دیا۔ اس دوران اس نے جگاڑ کرکے جامعہ کانساس سے میڈیکل کی سند بھی حاصل کرلی۔ جو بعد میں جعلی ثابت ہوئی۔

 اب اس کے دن بدلنے کا وقت آ پہنچا۔ ہوا یوں کہ ایک دن برینکلے اپنے کلینک سے انفلونزا کا علاج کرنے والے ایک کسان سے ملنے اس کے فارم میں گیا۔ کسان نے برینکلے سے کہا اس بیماری سے تو میں ٹھیک ہوگیا، لیکن میری مردانگی ختم ہوگئی۔

 فارم میں ایک موٹا تگڑا بکرا کھڑا تھا۔ برینکلے نے مذاقاً اس بکرے کے کپوروں کی طرف اشارہ کرکے کہا اگر تمہارے پاس اس جیسا ”سامان“ ہو تو تمہاری مردانگی بحال ہوگی۔ کسان نے اسے سنجیدہ لیتے ہوئے کہا پھر آپ یہ کپورے مجھے لگا دیں۔ بات چونکہ مذاق میں کہی گئی تھی۔ اس لئے برینکلے نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن اس مذاق سے برینکلے کے دل میں ایک اچھوتا خیال اور زبردست آئیڈیا آگیا تھا۔

 ایک ماہ تک اس پر سوچنے اور کسان سے تفصیلی بحث و تمحیص کے بعد اس نے بالآخر اس کو بکرے کا کپورا لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ چنانچہ انسانی تاریخ کا یہ پہلا کپورا ٹرانسپلانٹ کر دیا گیا۔ خدا کی شان کہ اس شخص کی مردانگی بحال ہوگئی۔ سال بعد اس کے ہاں ایک بچہ بھی ہوگیا۔ جس کا نام ”بیلی“ رکھا گیا۔

یہ بکرے کے کپورے انسان کو لگانے کے بعد دنیا کا پہلا بچہ تھا۔ پھر کیا تھا کہ پہلے مقامی شہر میں، پھر پورے ملک میں برینکلے کی شہرت ہوگئی۔ امریکا بھر کے نامرد حضرات تشریف لانے لگے اور بکرے کے کپورے لگواتے رہے۔

برینکلے کا دعویٰ تھا کہ یہ آپریشن میرے علاوہ دنیا کا کوئی ڈاکٹر نہیں کر سکتا۔ اس لئے وہ فیس بھی منہ مانگی لینے لگا۔ 1922ءمیں برینکلے امریکا کی سب کی مشہور شخصیت بن گیا۔ لاس اینجلس ٹائمز کے مالک ہاری رچانڈلر نے اسے خصوصی طور پر مدعو کیا تاکہ اس کے ایک نامرد ایڈیٹر کو وہ بکرے کپورے لگا کر مرد بنا سکے۔

اخبار کے مالک کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن بھی کامیاب رہا۔ پھر لاس اینجلس ٹائمز نے تو برینکلے پر صفحات کے صفحات کے شائع کر دیئے۔ ایک دن اس کی مین سرخی یوں بھی جمائی گئی: ”بکرے کے کپورے میں انسان کیلئے نئی زندگی ہے“۔ اس میں ان 1200 افراد کی تفصیلات درج تھیں، جنہیں برینکلے نے بکرے کے کپورے لگائے تھ

ے۔ اس دوران امریکا میں اس نسل کے بکروں کی قیمت بھی آسمان تک پہنچ گئی، جس کے کپورے برینکلے استعمال کرتا تھا۔ دو برس قبل جس برینکلے کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا تھا، وہ اب کروڑ پتی بن گیا۔ اس کے طریقہ علاج کو معجزانہ علاج (Miraculous Cure) قرار دیا جاتا رہا۔

کچھ عرصے کے بعد برینکلے نے دعویٰ کیا کہ کپورے میں صرف مردانگی کا علاج نہیں، بلکہ دنیا کے تمام امراض کا علاج اسی معلق خزانے میں چھپا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ لاعلاج پاگلوں کیلئے بھی یہ نسخہ اکسیر ہے۔ وہ ٹرانسپلانٹ کے صرف 36 گھنٹے بعد مکمل صحت یاب ہوکر ہوش میں آسکتے ہیں۔ اب اس نے ایک ریڈیو چینل بھی کھول دیا۔ KFKB نامی اس چینل میں برینکلے کے ”معجزانہ علاج“ پر پروگرام پیش کئے جاتے۔ ایک پروگرام میں وہ لیکچر دے کر کہنے لگا کہ تمام مسائل کی جڑ خصیہ ہے۔ پاگل پن ہو یا گھریلو ناچاقی، بس خصیہ ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک۔

یہ وہ وقت تھا، جب امریکی اخبارات میں سب سے زیادہ برینکلے کے اشتہارات شائع ہوتے تھے۔ اس کے ہر اشتہار میں کسان کے بچے (بیلی) کی تصویر بھی ہوتی تھی، جسے وہ گویا وہ اپنی کامیابی کےلئے بطور ثبوت پیش کرتا۔ اب تو امریکی کانگریس کے نامرد ارکان بھی برینکلے کی طرف متوجہ ہوگئے اور ہالی ووڈ کے اسٹارز سمیت مشہور شخصیات کی بھی وہ توجہ کا مرکز بن گیا۔

 یہ سارا تماشا دیکھ کر اصل ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کڑھتے رہے۔ مگر ایک ارب پتی شخص کے سامنے وہ بے بس تھے اور نہ کوئی ان کی آواز پر کان دھرنے کو تیار تھا۔ جبکہ میڈیا کو برینکلے نے اشتہارات دے کر اپنا مداح بنا رکھا تھا۔ حالانکہ امریکی میڈیکل کونسل نے برینکلے کے طریقہ علاج کو مذاق قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر یہ آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ ”ڈاکٹر کپورا“ کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا اور کانساس کی ریاستی حکومت بھی اس کی حمایت کرنے لگی۔

1930ءمیں امریکی میڈیکل کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں کہا گیا کہ برینکلے کے معاملے میں مزید صبر نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت تک 42 افراد کی برینکلے کے ہاتھوں ہلاکت کی تصدیق ہو چکی تھی۔ اب اس کا سحر ٹوٹنا شروع ہوا۔

 پہلے حکومت نے اس کے ریڈیو کا لائسنس منسوخ کر دیا اور کوشش کے باوجود اس کا دوبارہ اجراءنہیں ہوسکا۔ پھر 1938ءمیں اس وقت کے مشہور طبی ماہر ڈاکٹر موریس فیشباین نے اس کے خلاف کتاب لکھی۔ جس میں اسے ”طبی دجال“ قرار دیا۔ اس پر برینکلے عدالت پہنچ گیا اور ڈاکٹر موریس پر ڈھائی لاکھ ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کیا۔

 عدالت نے حقائق و شواہد کی بنیاد پر موریس کے حق میں فیصلہ دیا۔ یہ دیکھ کر ایسے بہت سے لوگوں کو بھی عدالت جانے کی ہمت ہوئی، جن کو علاج کے نام پر برینکلے نے تباہ کر دیا تھا۔ ہر ایک اپنے اصلی خصئے کے بدلے برینکلے سے معاوضہ طلب کرتا رہا اور عدالت برینکلے کے خلاف فیصلے سناتی رہی اور وہ ہرجانہ ادا کرتا رہا۔

 نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کے پاس ایک پائی بھی نہ رہی۔ سارا پیسہ ہرجانے میں لٹ گیا۔ مالی طور پر تباہ ہونے کے بعد اس کی صحت بھی جواب دے گئی اور وہ بستر سے لگ گیا۔ مرنے سے پہلے اس کا ایک جملہ بہت مشہور ہوگیا کہ ”اگر آخرت میں ڈاکٹر موریس فیشباین جنت میں گیا تو میں جہنم جانا پسند کروں گا“۔ یہ کہہ کر امریکیوں کو پاگل بنانے والا پاگل 26 مئی 1942ءکو نہایت کسمپرسی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔

اس کی موت خبر کے ساتھ نیویارک ٹائمز نے یہ تبصرہ شائع کیا کہ ذرائع ابلاغ رائے عامہ کو بدلنے کی کیسی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ایک دجال کو مسیحا بنا کر پیش کیا اور لوگ اس پر ایمان لے آئے۔ حالانکہ یہ مسیحا ثابت کرنے والوں میں خود نیویارک ٹائمز بھی سرفہرست تھا۔ (اس سچی کہانی کا پاکستان کے سیاسی حالات سے تعلق جوڑنا اب آپ کی صوابدید پر منحصر ہے)

Be the first to comment

Leave a Reply