اچھے استاد کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں؟

ایک اچھا استاد طلبا کے والدین کے رابطہ رکھتا ہے۔

اچھے استاد کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں؟
ایک اچھا استاد اپنے طلبا کے ساتھ صبر اور ہمدردی سے پیش آتا ہے۔

تحریر: عائشہ گوہر

یہ سوال میرے ذہن میں کیوں آیا؟

“اللہ تعالیٰ میرے محترم استاد چنہ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے۔”

بات چیت کے دوران اپنےزمانہ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے یہ جملہ ادا کیا ۔تب میں سوچ میں پڑگئی کہ ایسی کون سی خوبیاں ہو تی ہیں۔ جن کی وجہ سے ایک شاگرد تا حیات اپنے استاد کا احسان مند رہتا ہے؟

کیا ایک ا اچھا استاد وہ ہوتا  ہے جو بہت زیادہ علم رکھتا ہو؟

کیا ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تربیت یافتہ بھی ہو؟

کیا ایک اچھے استاد کواپنے طلبا کی خوبیوں  اور کامیابیوں سے پہچانا جاتا ہے؟

یا ایک ااچھا استاد وہ ہوتا ہے جس سے طلبا دلی تعلق کا اظہار کریں؟

میں نے اس موضوع پر کافی تحقیق کی ،ساتھی اساتذہ سے مشورے لئے ۔مفکرین کے  نکات اور اقتباسات کے سمندر کھنگال ڈالے۔ اپنے لائق طلبا سے اظہار ِخیال کیا تب کہیں جا کر میں  چند خوبیاں بیان کرنے کے قابل ہوئی۔ جو میری ناقص رائے کے مطابق ایک اچھے استاد میں موجود ہونی چاہییں ۔

 ایک اچھا استاد اپنے طلبا کے ساتھ صبر اور ہمدردی سے پیش آتا ہے۔

میری رائے میں، سب سے اہم خوبی جو ایک استاد میں ہونی چاہیے وہ صبر اور ہمدردی ہے۔ آپ نے ایسے بچوں کی لاتعداد کہانیاں پڑھی ہوں گی۔ جو غربت اور تکلیف کے باوجود عظمت کی بلندی پر پہنچے ۔ اگر ان تما م کہانیوں کی گہر ائی سے کھوج لگائی جائے توکہیں نہ کہیں ہمیں ایک ہمدرد دل رکھنے والا استاد چھپا  ہوانظر آئے گا۔

جو خود پس منظر میں رہا مگر دنیا کے لئے ایک مثالی شخصیت  پیدا کر گیا۔میں نے بہت سے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے دیکھا ہے۔ کہ پرائمری اسکول ٹیچر بننا بہت آسان ہے۔

نہیں جناب!  ہرگز ایسا نہیں ہے۔

پرائمری  ٹیچر ہونا شاید دنیا کے  سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے۔ بچوں کی بنیادی سوچ کی تعمیر کی  بہت بڑی ذمہ داری ان پرائمری  اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ ایک کچے ذہن  کی تعمیر کے لئے، بہت صبر اورتحمل کے ساتھ ساتھ ماں جیسا محبت بھرا رویہ ضروری ہوتا ہے۔

ایک اچھا استاد ایک اچھا سامع ہوتا ہے۔

ایک اچھے استاد کی بڑی اہم  خوبی ’صبر سے سننا‘ ہے۔

جی ہاں! آپ نے اسے صحیح پڑھا۔

 ایک اچھا استاد ایک اچھا سامع ہوتا ہے ایک ایسا سامع جو طلبا کے کہے اور ان کہے دونوں الفاظ سننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بہت سے طلباء ایسے  ہوتے ہیں جو اساتذہ سے ایک لفظ بھی کہے بغیر خاموشی سے گھر چلے جاتے ہیں۔بہت سے بچے ایسے ہیں جو ہزاروں الفاظ بولنے، بات کرنے، سیکھنے کے لیے بے تاب اور پرجوش  ہوتے ہیں۔

دونوں قسم کے بچوں  کو سننے کے لیےاستاد کے پاس حوصلہ  ہونا ضروری ہے۔جماعت کو جیل خانہ نہ بنائیں اپنے  طلبا کو بولنے دیں  اوران کو سنیں، انہیں بہتر طریقے سے سمجھیں۔ اعتماد پیدا کریں۔ یقین جانیں ایسا کرنے سے  پڑھانے اور سیکھنے کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔

ایک اچھا استاد اپنے طلبا کے ساتھ  باہمی یگانگت رکھتا ہے۔

ہم سب ہی نے ایسے بہت سے اساتذہ کو دیکھا ہے جو اپنے مضمون پر کمانڈرکھتے ہیں ۔لیکن پھر بھی طلباء کو ان کی شخصیت اور رویے کی وجہ سے ان سے سیکھنا بہت مشکل لگتا ہے۔صرف  کتاب کا علم طلبا تک پہنچا کر  آپ  ایک اچھے استاد نہیں بن سکتے۔

میرا ماننا ہے کہ ایک اچھا استاد تدریس سے پہلے  طلباء کو خود سے مانوس کرتا ہے۔ ان کے لئے ایک ایسا  محبت بھرا ماحول بناتا ہے جس میں بچے استاد کے ساتھ  ذہنی و جسمانی طور پر ریلکس رہتے ہیں۔ وہ اپنے مسائل آپ کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔

  ایک اچھا استاد  اپنے طلباء کے لیے  ہر وقت قابل رسائی ہوتا ہے۔ میں آپ سے طالب علموں کے ساتھ بہترین دوست بننے کے لیے نہیں کہہ رہی ہوں۔ لیکن اگر آپ  کے طلبا آپ سےمحبت کم اور خوف زیادہ محسوس کرتے ہیں تو معاف کیجئے ،  آپ  ایک اچھے استاد نہیں ہیں۔

ایک اچھا استاد انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔

ایک قابل استاد کی بہت  بڑی خوبی آپ کی انسانیت کا احساس ہے۔ یہ ہر استاد کے لیے کلیدی وصف ہونا چاہیے۔

ایک اچھے استاد میں یہ خوبی بھی لازمی ہو کہ وہ طالب علموں کو مستقبل کے بالغ  شہری کے طور پر دیکھنےکی صلاحیت رکھتا ہو۔

   آج کا طالب علم کل   ایک مکمل خاندان بنائے گا اور وہ خاندان معاشرے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ لہذا استاد کی ایک اندرونی متوازی آنکھ ہونی چاہیے ۔جو محض  حال نہیں بلکہ مستقبل کو بھی دیکھ سکے تاکہ معاشرہ انسانیت کی اعلیٰ اقدار کو پہنچ سکے ۔

ایک اچھا استاد ہر طالب علم کے لئے انفرادی سوچ رکھتا ہے۔

کلاس میں موجود  ہر طالب علم ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ان کی جلد ایک جیسی ہو سکتی ہے۔ ایک جیسی وردی، ایک ہی نصابی کتاب، ایک جیسی پنسل اور ایک جیسی ٹائی  ہو سکتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ سب الگ الگ انسان ہیں۔ہر ایک  مختلف شخصیت کا حامل ہے۔  ہر ایک دوسرے سے مختلف پس منظر رکھتا ہے۔ہر ایک کے سیکھنے کی صلاحیت دوسرے سے  مختلف ہوتی ہے۔

ایک اچھا استاد طلبا کے اس تنوع کو نہ صرف دیکھتا ہے محسوس کرتا ہے ۔ بلکہ پوری طرح پیش نظربھی  رکھتاہے۔ ایک اچھے استاد کی سب سے نمایاں خوبی یہ  ہے، کہ وہ بچوں  کے صرف ظاہر  کونہیں بلکہ باطن کو بھی دیکھتا ہے۔ ان کے  مسائل  کو محسوس کرتا ہے۔ اور طلبا  کی مدد کے مختلف طریقے تلاش کرتا ہے ۔یہ ہی وہ اساتذہ ہیں جن کی نہ صرف طلبا  بلکہ پوری انسانیت ہمیشہ سے شکر گزاررہی ہے۔

میں ایسے سینکڑوں طلبا سے ملی ہوں  جو ایک لفظ کی صحیح ہجے نہیں کر سکتے تھے۔میں نے ان سے  سابق اسکول یا اساتذہ کے بارے  ہمیشہ یہ ہی سنا کہ اسکول بورنگ تھا۔ تعلیمی  کام تھکا دیتا تھااور اساتذہ سخت گیر تھے۔

 ایک اچھا استاد  پیشہ ورانہ جدت  کو پسند کرتا ہے۔

ایک اچھے  استاد  میں یہ خوبی ہونا  بہت ضروری ہے کہ  وہ طلبہ کے ذہنوں کو متحرک  کر سکے۔ ایسا اسی وقت ممکن ہے جب خود استاد پیشہ ورانہ جدت ا ور تخلیق کا عادی ہو۔ طلبا  کےذہنوں کو صرف  درسی کتب کے مطالعہ کے دائرے تک محدود نہیں رکھنا ۔  بلکہ انھیں  دنیا میں علم  تلاش کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے۔

ایک اچھا استاد  مستقبل بین ہوتا ہے۔

سیکھنا  مشقت بھرا عمل ہے۔ ہم سب اس دور سے گزرے ہیں  ۔کامیاب وہی ہوئے جو ابتدا ہی سے اپنی منزل کا ادراک  رکھتے تھے۔ اچھے استاد کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے طلبا کو  ایک مقصد دیتا ہے۔ ان کے لئے اہداف مقرر کرتا ہے۔ انہیں دس  یا بیس سال بعد کا وہ مقام دکھاتا ہے۔ جہاں وہ  تعلیم مکمل کرنے کے بعد کھڑے  ہوں گے۔

اچھا استاد اپنے طلبا کے لئے ایک لائحہ عمل ترتیب دیتا ہے  ۔جس کی مدد سے طلبا یہ جان لیتے ہیں کہ وہ اپنی منزل تک  کیسے پہنچیں گے ۔اس منزل کی طرف اٹھائے گئے ہر قدم کی نشاندہی کرتا ہے ۔طلبا کی  ہر فتح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اگرچہ ان سب کا تعلق  براہ راست نصاب سے نہیں ہے۔

 یہ وہ اضافی کام ہیں جو ایک اچھا استاد  انسانیت  کے ناطے کرتا ہے۔  یہ ہی وہ خوبیاں ہیں جو طلبا کے اسکول کی رپورٹ  کارڈ پر نہیں بلکہ ان کے دل و دماغ پر ثبت ہوتی ہیں۔ اور جنہیں وہ زندگی بھر یاد رکھتے ہیں۔

ایک اچھا استاد نظم وضبط کا عادی ہوتا ہے۔

نظم و ضبط بھی ایک اچھے استاد کی بہت بڑی خوبی ہوتی ہے۔ مگر یہ  وہ نظم و ضبط نہیں جو طلبا پر مسلط کیا جاتا ہو  ۔بلکہ  وہ نظم و ضبط ہے جس کا استاد خود عملی نمونہ ہوتا ہے۔اپنے کام میں کوتاہی برتنے والے اساتذہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔نہ ہی ایسے اساتذہ سے  طلباء کبھی نظم و ضبط سیکھ پاتے ہیں۔

مگر یہاں نظم و ضبط سے میری مراد ظالمانہ سختی ہرگز نہیں ہے۔نظم وضبط کے ساتھ ساتھ  ایک اچھا استاد رویہ اور طرز عمل میں لچک بھی رکھتا ہے۔ وقت  حالات طلبا کے موڈ حتیٰ کے موسم تک کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ میری طرح سب ُ کو  یاد ہو گا کہ زمانہ طالب علمی میں جب ہمارے اساتذہ سردی کے موسم میں صبح کی نرم گرم دھوپ میں کلاس لگاتے تھے تو کتنا اچھا محسوس ہوتا تھا۔

ایک اچھا استاد طلبا کے والدین کے رابطہ رکھتا ہے۔

ایک عمومی سوچ جو معاشرے میں بہت عام ہے وہ یہ ہے کہ طلبا کے والدین اور استاد سے تعلق محض تدریس کی حدتک ہے۔ جبکہ  سیکھنا اور تعلیم  حا صل کرنا صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ تدریس تو استاد ، طلبا اور والدین  کے اشتراک سے چلنے والا منظم سلسلہ ہے ۔

ایک اچھا استاد وہی ہوتا ہے جو   بچوں کے والدین کو  اپنے تدریسی عمل میں شامل کرلیتا ہے۔ ان کو تدریس اور طلبا کے بارے میں با خبر رکھتا ہے۔ اور ان کی تجاویز کو مثبت انداز میں لیتا ہے۔

ایک اچھا استاد اپنے طلبا کو احترام دیتاہے۔

آخری بات! اپنے طلبا کو احترام  دیجئے۔کیوں کہ ایک اچھا استاد وہی  ہوتا ہے جو اپنے طالب علموں کا احترام کرتا ہے۔ اور بدلے میں وہ  خود بھی ان سے بیش بہا عزت حاصل کرتا ہے۔آپ کی جماعت  میں موجود ہر بچہ ایک مکمل انسان ہے جذبات و احساست رکھنے والا انسان۔ ان کے جذبات کا احترام کیجئے۔

استاد کا کہا گیا ایک برا جملہ کسی طالب علم کے اعتماد کو کرچی کرچی کر سکتا ہے۔اور آپ کا ایک تعریفی جملہ کسی گرتے بھٹکتے انسان کو روشنی کی راہ  دکھا سکتا ہے۔

2 Trackbacks / Pingbacks

  1. بھارتی استاد نے دیانت داری کی اعلیٰ مثال قائم کر دی - EduTarbiyah.com
  2. استخارہ کی حقیقت - EduTarbiyah.com

Leave a Reply