خطبہ حج میں اتحاد امت کا پیغام

امسال خطبہ حج اتحاد امت کے نام
تمام عالم اسلام کو ہماری طرف عیدالاضحی مبارک ہو!!

تمام عالم اسلام کو ہماری طرف عیدالاضحی مبارک ہو

حج کے موقع پر دنیائے اسلام کا عظیم ترین اجتماع ہوتاہے۔ حج  اسلام کا عظیم فریضہ ہونے کی وجہ سے مسلم امہ کا ہرفرد نہ صرف زندگی بھر اس  میں حاضری کی تمنا رکھتاہے۔ بلکہ زندگی بھر بیت اللہ حاضری کیلئے اپنی بساط کے مطابق پوری کوشش اور محنت کرتا ہے۔ حج  عالم اسلام کا وہ عالمگیر اجتماع ہے ۔ جس میں  مذاہب،مسالک ومکاتب فکر اور ہرقسم کے لسانی، ملکی وعلاقائی  اختلاف  سے ماورا ہوکر دنیا بھر سے مسلمان شریک ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یہ عالمگیر حج اجتماع عالم اسلام کا سب بڑا اور سب سے جامع اجتما ع ہوتا ہے۔

اس موقع پر جو خطبہ دیا جاتا ہے اس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں دنیائے اسلام کے ہر علاقے ، ہر مسلک ومکتب اور ہر رنگ ونسل کی نمائندگی ہوتی ہے۔ اس موقع پر دنیا کے بڑے بڑے لیڈرز، علما او رملکوں کے سربراہان بھی موجود ہوتے ہیں۔ نیز حج کی عظیم برکات کی وجہ سے شرکا کے دل بھی موم کی طرح نرم  ہوچکے ہوتے ہیں۔

ا س خطبہ کی یوں بھی اہمیت ہوتی ہے کہ یہ سال میں صر ف ایک بار ہی ہوتا ہے۔ اس سال 1443 ھ کے خطبہ حج کے لئے شیخ  محمد بن عبدالکریم   العیسی کو مدعو کیا گیا تھا۔

شیخ محمدبن عبدالکریم

ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل اور علما کونسل کے رکن بھی ہیں۔  شیخ محمد بن عبدالکریم اتحاد امت اور دنیا میں اسلام کو مذہب امن کے طور پر متعارف کرانے کے حامی لوگوں میں سے ہیں۔  شیخ عبدالرحمن السدیس کے مطابق ڈاکٹر محمدبن عبدالکریم کا یہ خطبہ میدان عرفات سے 14 زبانوں   عربی ، انگریزی، اردو، فرانسیسی، جرمن، ملائی ، چائنیز کے علاوہ کئی اور اہم  زبانوں میں بھی  براہ راست نشر کیا گیا ۔ یہ خطبہ ایک اندازے کے مطابق 150 ملین افراد نے دنیا بھر سے براہ راست  سنا۔

فساد پھیلانے والوں کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔

ڈاکٹرمحمد بن عبدالرحمن نے اپنے خطبہ حج میں اتحاد امت پر بہت زور دیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے باہمی  اتحاد کو توڑنے اوردنیا میں فساد پھیلانے والوں کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی۔ اسلامی تعلیمات کا تقاضا باہمی محبت، اخوت او ر تعاون ہے۔ او رہر وہ بات یا ہر وہ کام جس سے عالم اسلام میں باہمی عداوت  اور نفرت کو فروغ ملے اس سے مسلم امہ کے ہر فرد کو دور رہناچاہیے۔ شیخ نے لوگوں کو تقوی اختیار کرنے کی بار بار تاکید فرمائی۔

تقوی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تقوی اختیار کرنے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اللہ نے متقی لوگوں کیلئے جنت کی خوش خبری دی ہے ۔ اور دنیا میں بھی تقوی کو ہی فضیلت کا معیار قرار دیا۔  اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کے خطبہ حج کے وہ یاد گار جملے بھی دہرائے ۔ جس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا:

کہ لوگو! سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گیے تھے۔ کسی عربی کو عجمی پر اورنہ کسی عجمی کو عربی کوئی فوقیت حاصل ہے مگر تقوی کی بنیاد پر۔  اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انسانیت کی قدر کرنا بحیثیت مسلمان ہم سب پر فرض ہے۔

شیخ محمد بن عبدالکریم العیسی نے اس موقع پر اچھے اخلاق کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث مبارک کا حوالہ دیا جس میں آپ نے فرمایا۔ کہ جن کے اخلاق اچھے ہونگے وہ قیامت میں میرے زیادہ قریب ہونگے۔ اس موقع پر  انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو دینا میں خیر کے کاموں کیلئے اپنے آپ کو پیش پیش  رکھنا چاہیے۔

حج اتحاد امت کا عظیم مظہر

حج جہاں تک ایک عظیم  فریضہ اور اللہ کی  عبادت ہے وہاں یہ دنیا ئے اسلام کے اتحاد کاعظیم مظہر بھی ہے۔  عالم اسلام کو اور خاص کر سعودی حکومت کو اس اہم موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس موقع پر لوگوں کے دل اللہ عبادت کی وجہ سے موم ہوچکے ہوتے ہیں۔  ایسے موقع پر ذراسی کوشش بھی کی جائے تو اتحاد امت  قائم ہوسکتاہے۔

آج عالم اسلام پچاس سے زائد ملکوں میں بٹاہوا ہے۔ اگر چہ وہ سب او آئی سی کے رکن بھی ہیں۔ لیکن اس پلیٹ فارم کی کمزور حالت ہم سب کے سامنے ہے۔ عالم اسلام کے پاس پوٹینشل طاقت بہت زیادہ ہے۔ لیکن مغرب کی طرف سے رکاوٹ اور خود عالم اسلام کے بعض ملکوں کے ذاتی مفادات کے پیش نظر عالم اسلام میں اتحاد قائم نہیں ہوپارہا۔  ہمیں ان تمام چیزوں کا جائزہ لے کر ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ظاہر ہے یہ عالم اسلام کے ملکوں کامعاملہ ہے اس میں علما کے علاوہ مسلمان ملکوں کے سربراہان ہی اہم  کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اگر آج  او آئی سی کے پلیٹ فارم کو متحرک کیا جائے۔ بعض ملکوں کے ذاتی مفاد کی جگہ عالم اسلام کے مفاد کو پیش نظر رکھا جائے ۔ یا اوآئی سی میں متحرک کرنے  میں کوئی رکاوٹ ہے تو نیٹو کی طرز پر مسلم بلاک یا مسلم کنفیڈریشن تشکیل دیا جائے۔

 اور اس میں ان مسلم ممالک کے باہمی تعلقات، مضبوط تجارت،   اجتماعی دفاع، یونائیٹڈکرنسی او ر ویزا فری پالیسی   کو فروغ دیا جائے۔ تو مسلم  ممالک میں نہ صرف اتحاد قائم ہوگا۔ بلکہ   ایک مضبوط مسلم بلاک سامنے آنے پر دنیا کو بھی  بہت فائدہ ہوگا۔

کیونکہ اس سے دنیا کے قیام  امن میں فائدہ ہوگا۔ مسلم ممالک کی معیشت مضبوط ہونے سے عالمی معیشت میں استحکام پیداہوگا۔ اس سے اسلاموفوبیا جیسی لعنت سے نہ صرف عالم اسلام کو بلکہ پوری دنیا کو چھٹکاراملے گا۔ کیونکہ اس سے سماجی افراتفری جنم لیتی ہے۔ اور اس سے دنیا کے امن کو نقصان پہنچتاہے۔

عالم اسلام میں اتحاد کے فوائد

عالم اسلام میں اتحاد قائم ہونے سے نہ صرف مسلم امہ کو فائدہ ہوگا ۔ بلکہ اس سے دنیا میں امن کے قیام  میں بھی مدد ملے گی۔ کیونکہ عالم اسلام ایک مضبوط پارٹنر کے طور پر جب  دنیا میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوگا۔ تو اس اتحاد سے دنیا میں  ڈیٹرنس قائم ہوگا جس سے سماجی انصاف قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

ا س وقت دنیا میں افراتفری کی ایک اہم وجہ سماجی ناانصافی ہے ۔ مسلم امہ یہ سمجھتی ہے کہ دنیا اس کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔ اور مسلم امہ متحد نہ ہونے کی وجہ سے اس سماجی ناانصافی سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

 جب یہ تصور مضبوط ہوجاتاہے ۔ تو معاشرے میں اس کے خلاف ردعمل بھی وجود میں آتا ہے اور دنیا کا معاشرتی امن متاثر ہوجاتاہے۔ مسلم امہ  جب اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے گی تو  نتیجے میں اس صورت حال کی روک تھام کے قابل ہوجائے گی۔

 اس طرح  مسلم امہ کے اندر سے اپنے ساتھ ناانصافی کا خیال ختم ہوجائے گا۔  اور رد عمل کی وجہ معاشرے سے ختم ہوجائے گی۔ جس کا کا براہ  راست مثبت   اثر  دنیا کے امن وامان اور معاشرتی استحکام پر پڑے گا۔

اتحاد امت کی ضرورت اور دائرہ کار

Be the first to comment

Leave a Reply