گھرکاماحول تربیت کے لئے موافق بنائیں

گھرکاماحول تربیت کے لئے موافق بنائیں

بچوں کی تربیت میں ماحول کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ ماحول عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ہیں چاروں طرف، آس پاس، ارد گرد یا گرد وپیش وغیرہ۔ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ فرمایا: مثلھم کمثل الذی استوقد نارا فلمااضاء ت ماحولہ ذھب اللہ بنورھم”ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے۔ جس نے اندھیری رات میں آگ جلائی۔، جب آگ کی روشنی سے اس کا ماحول(اردگرد) روشن ہوگیا تو اللہ تعالی نے وہ روشنی سلب کرلی۔

تربیت کے لئے ماحول کی اہمیت

بچے کی شاندار تربیت کے لئے بہترین ماحول انتہائی ناگزیر ہے۔ اگربچے کی تربیت کے لئے ماحول سازگار نہ ہو تو اچھی تربیت بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ لیکن کوئی شخص پھر بھی ایسے ماحول میں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کا خواہاں ہوجائے۔ تو اس کے حصول کے لئے سخت کٹھن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بچہ اپنے ماحول سے صحت مند اور اعلی اخلاقی قدروں کی حامل سرگرمیاں دیکھے گا۔کچھ اچھا سنے گا۔دوسروں کے لئے نیک جذبات، نیک خواہشات، اچھے خیالات اور اچھے کرداروں کا مشاہدہ کرے گا۔

تو اچھا   مواداس بچے کے دل ودماغ میں داخل ہوگا۔ یہ ان پٹ اس کے دل ودماغ پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گا۔اورپروسس ہوکر بہترین  نتائج کی شکل میں اس بچے کے اعضاء وجوارح سے مثبت سوچ، اچھے رویوں اور بہترین کرداروں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔

بچے کی تربیت میں ماں کا کردار

اب سوال یہ ہے کہ بچے کی تربیت اور اس کی تشکیل کردار میں کون کون سے عناصراس کے ماحول میں سے حصہ لیتے ہیں؟ اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کے ماحول میں پہلی درس گاہ ماں کی آغوش ہے۔بچے کوماں کے ساتھ زبردست لگاؤ ہوتا ہے ۔کیونکہ وہ نو ماہ تک ماں کے پیٹ میں رہتاہے۔ اور پھر جس لمحے اس نے شعور کی آنکھ کھولی ہوتی ہے۔ تو پہلا چہرہ اس کے سامنے ماں کا ہی آتا ہے۔ ماں ہی ہوتی ہے جس نے رات دن اس کی تمام ضروریا ت کا خیال رکھا ہوتا ہے۔

چنانچہ بچہ ماں کے مزاج سے بہت زیادہ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اب بچہ کے لئے ماں کی آغوش پہلا مدرسہ ہوتی ہے۔ جہاں سے وہ اپنی تعلیم و تربیت کو شروع کرتاہے۔ وہ ماں کی نشست وبرخاست، اس کی حرکات وسکنات اورا س کی عادات واطوار کو اپنائے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ماحول بنانے میں افراد خانہ کا کردار

ماں اگر پڑھی لکھی ہے سلیقہ مند ہے۔ وہ خود تربیت یافتہ ہے۔ تو پہلے ماحول کے طور پرماں کی یہ سب اچھی عادات بچے میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ماں کے بعد باپ کا نمبر آتا ہے۔ جو بچے کے ابتدائی ماحول میں بہت اہم کردار ادا کرتاہے۔ چنانچہ باپ کے مزاج، اس کی نشست وبرخاست، اس کے انداز گفتگواس کی نفرت ومحبت کے رویوں سے بچہ سیکھنا شروع کرتا ہے۔ پھر اس بچے کا ماحول گھر کے اندرہی  وسیع ہوکر دادا، دادی، بہن بھائی،چچا تایا، نانا،نانی اور دیگر افراد خانہ تک پہنچتا ہے۔

کچھ عرصے بعد گھر سے باہر قریبی پڑوسیوں اور ان کے بچوں سے ہوتا ہوا اس کا ماحول محلے کے بچوں اور دورکے رشتہ داروں تک جا پہنچتا ہے۔ اس کے بعد بچہ جب مکتب اور اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں اس ادارے کے بچوں، اساتذہ اور ملازمین سے اس کا واسطہ پڑتا ہے۔ یوں وہ بھی اس بچے کے ماحول میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اور اس کی تعلیم وتربیت پراثرانداز ہوتے ہیں۔

اچھا ماحول اچھی تربیت کا بنیاد

بچے کا پھیلتا ہو ا یہ ماحول خوش قسمتی سے اگراچھا رہے۔اس میں خیر کا پہلو غالب رہے۔ اس کے ماحول میں  پڑھے لکھے اور سلیقہ مند   لوگ رہتے ہوں۔ وہاں دینی اقدار کی پاسداری کی جاتی ہو۔ صحت منداور صاف ستھرے ماحول میں لوگ رہتے ہوں۔   دوسروں کوعزت دی جاتی ہو۔پیار محبت اور نرمی کا رویہ روا رکھا جاتا ہو۔ غرض جس ماحول  میں وہ بچہ پرورش پارہا ہے اگر اس میں خوبیاں زیادہ ہوں او ر خامیاں کم ہوں۔ یقینا اس ماحول میں پرورش پانے والا بچہ بھی ان تمام اچھی  خصوصیات کا حامل ہوگا۔

اس بچے کو اچھی  خصوصیات وعادات کے حصول میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ پچاس فیصدمزاج  انسان پیدائشی  طور پر لے کر دنیا میں آتا ہے ۔اور پچاس فیصد عادات  اپنے ارد گرد کے ماحول سے حاصل کرتا ہے۔ اس  عمل میں اس  بچے کی جبلتوں کا  بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر وراثت اچھی ملی ہو اور ماحول بھی آئیڈیل ملاہواہو۔ تو بچہ انشاء اللہ بہترین خصوصیات کا حامل ہوجائے گا۔ ورنہ وہ اپنے خراب ماحول سے متاثر ہوکر بری عادات ، رجحانات اورخراب رویوں کا حامل ہوسکتا ہے۔

والدین اپنی عادات کی اصلاح کریں

ان ساری تفصیلات سے یہ بات سامنے آئی۔ کہ والدین اگر بچوں کی اچھی تربیت کرنا چاہتے ہوں ۔ تو پہلے اپنے گھرکے ماحول کو درست کرکے بچوں کی  تربیت کے لئے موافق بنائیں۔ والدین پہلے اپنی تربیت پر توجہ دیں۔ خود اچھی عادات وخصوصیات اپنائیں۔ اور بری عادات وخصوصیات کو اپنی ذات اور اپنے گھرکے ماحول سے نکالنے کی کوشش کریں۔ اس میں ایک نکتے کی بات یہ ہے کہ  پہلی اولاد پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اگر اس کو اچھا بنانے اور اچھی تربیت کرنے میں والدین کامیاب ہوئے۔ تو عموما بعد میں آنے والی اولاد اپنے سے بڑے بہن بھائیوں کی پیروی کررہی ہوتی ہے۔ گھر کاماحول درست کرنا اس لئے ضروری ہے۔ کیونکہ بچہ وہ نہیں سیکھتا جو اسے والدین بتاتے ہیں۔ بلکہ بچہ وہ سیکھتا ہے جو اسے اپنے گھر، والدین اور ماحول سے دیکھنے کو ملتا ہے۔لہذابچے کو اچھا دکھانے اوراچھا مشاہدہ کرانے کے لئے اپنے گھر کے ماحول کو تربیہ دوست بنانے کی ضرورت ہے۔

بچے کونمازی بنانے سے پہلے خود نمازی بنیے

اگروالدین یہ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد نماز کی پابند ہو۔تو خود والدین کو چاہیے کہ وہ اہتمام کے ساتھ نمازوں کی پابندی کریں۔ اگر وہ چاہتے ہوں کہ بچے باجماعت نماز پڑھنے کے عادی ہوں۔ تو والداور گھر کے دیگر مرد حضرات کو مسجد میں جاکر نماز باجماعت کی پابندی کرنی چاہیے۔ اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ مسجد لے کرجانا چاہیے۔اپنے گھر میں نمازوں کے بارے میں گفتگو کریں۔ نمازکی پابندی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ 

خواتین کو گھروں میں نماز کا اہتمام کرناچاہیے۔ گھرکے ما حول میں نمازوں کی اس طرح پابندی دیکھ کر بچہ خود ہی نمازی بن جائے گا۔ اسی طرح اگر والدین چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد دینی اقدار کی پابندی کرے۔ تو خود والدین ایسا کرکے بچے کو اچھا ماحول فراہم کرسکتے ہیں۔ اگر والدین چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد جھوٹ نہ بولے۔ تو خود والدین جھوٹ کو اپنی زندگی سے خارج کردیں۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے جھوٹ کسی حال میں نہ بولاجائے۔

پہلے خود کریں پھربچوں کو کہیں

اگر والدین یہ چاہتے  ہیں کہ ان کی اولاد تعلیم میں دلچسپی لے۔ تو ان  کو چاہیے کہ وہ  گھر میں خود بھی ریڈنگ کریں اور پڑھنے لکھنے کاماحول بنائیں۔ریڈنگ کے لئے ایک گوشہ یا ایک کمرہ متعین کریں جس میں لائبریری کا بھی انتظام ہو۔او ر  والدین خود اس لائبریری میں بیٹھ کر کچھ نہ کچھ مطالعہ اور لکھنا پڑھنا کرتے ہوں۔  والدین کے اس عمل سے بچہ خود بخود اسی طرف آئے گا۔ اگروالدین خود یہ کام نہ کریں صرف بچے کو نصیحت کرتے رہیں ۔تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اگر والدین خود نماز نہیں پڑھتے لیکن بچے سے کہتے ہیں کہ تم نماز کی پابندی کرو ! بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ والدین خود تو جھوٹ بولنے کے عادی ہوں او ر بچے کو سچ کے فضائل سناتے رہیں۔ یا جھوٹ بولنے پر اسے سزادینا شروع کریں تو ایسے فضائل یا سزا کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

بچوں کی تربیت اپنے عمل سے کیجئے

والدین اگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد نرم مزاج ہو۔   دوسروں سے تعاون کرنے والی  ہو۔ مشکل آنے پر صبر وتحمل اور حکمت سے کام لینے والی ہو۔ملنسار ہو، ہمدرد ہو۔اور دیگر ساری صفات گنواتے جائیے۔ ان تمام خوبصورت عادات  کو اپنے بچے کی زندگی میں لانے کا سب سے بہتر اور آسان طریقہ یہ ہے۔ کہ خود والدین ان صفات کو اختیار کریں۔ اورخود ان صفات کواپنا کر بچوں کو دکھائیں۔ پھردیکھیں انشاء اللہ یہ تمام صفات خود بخود بچوں کی زندگی کاحصہ بنیں گی۔

موجود ہ دور کا سب بڑاالمیہ یہ ہے کہ والدین ان صفات کو پسندیدگی کی نگاہ دیتے ہوئے بھی خود اپنانے میں سستی دکھاتے ہیں۔ اور بچوں سے ان صفات کے حامل ہونے کا پرزور مطالبہ بھی  کرتے ہیں۔ جب بچے ان کو اختیار نہیں کرتے تو والدین پھر ان کو ڈانٹنا اور ٹوکنا شروع کردیتے ہیں۔ جس سے بچوں اور والدین کے آپس کے تعلقات مزید خراب ہوجاتے ہیں۔ اوروہ ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چھوڑنا دیتے ہیں۔ جو تربیت کے طویل سفر کے لئے انتہائی نقصان دہ عمل ہے۔

:والدین بچوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں

والدین  اولاد کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں۔بچے  پچاس فیصد مزاج و عادات موروثی طور پر لے کرآتے ہیں  ۔اور پچاس فیصد اپنے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ اس پچا س فیصد میں بھی والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ کیونکہ پیدائش کے وقت والدین ہی دنیا میں اسے وصول کرتے ہیں۔ اور شعور کی آنکھ کھلتے کے ساتھ ہی سب سے پہلے والدین خاص کر ماں کا چہرہ اس کے سامنے ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ ماں کی  عادات وخصوصیات بہت زیادہ  قبول کرتا ہے۔ بچہ شعور آنے سے پہلے والدین کی باتوں اور حرکتوں کو دیکھ کر سیکھ رہاہوتا ہے۔ اورپھرشعور آنے کے بعد والدین کے فکروعمل کا تجزیہ کرنے لگتا ہے۔ کہ والدین جو کچھ کہتے ہیں کیا اس پر خود بھی عمل کرتے ہیں کہ نہیں۔

یہ والدین کے لئے  امتحان کا وقت ہوتا ہے۔  جب  بچہ ان کی گفتار وکردار میں یکسانیت یاتضاد کا امتحان لے رہا ہوتا ہے۔ یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ کہ والدین بچے کے  رول ماڈل ہوتے ہیں۔ اور بچہ اپنے رول ماڈل کو پسند کرنے کے ساتھ اس سے بڑی توقعات بھی وابستہ کرلیتا ہے۔ ایسے میں والدین کو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ کہ وہ بچے سے جو کہیں یا جوہدایات اسے دیں۔ ان پر پہلے وہ خود عمل پیرا ہوں ورنہ بچوں کو اس بات کی ہدایت ہی نہ کریں۔ کیونکہ جب بچہ دیکھتا ہے کہ اسکے ہیرویعنی والدین کہہ کچھ رہے ہوتے ہیں۔ اور کرکچھ اور رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ ڈبل اسٹینڈرڈ ہے جس کی توقع بچے اپنے والدین سے نہیں رکھتے۔

لیکن جب والدین ا س طرح  کاڈبل اسٹینڈرڈ اختیار کرتے ہیں۔ تو بچے کی نظرمیں والدین کی ہیروشپ کم یا ختم ہوکررہ جاتی ہے۔ اس صورت حال میں بچے والدین کی باتوں کو ماننا ہی  چھوڑدیتے ہیں۔ یا والدین کی تقلید میں یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ یہ باتیں صرف کرنے کے لئے ہوتی ہیں عمل کے لئے نہیں۔

:بچوں کو ہدایات دینے سے پہلے اپنا جائزہ لیں

یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ والدین جو ہدایات بچوں کو دیں۔ اس سے پہلے جائزہ لیں کہ وہ خود ان پر کتنا عمل پیرا ہیں۔ اگر خود کا عمل نہیں تو بچوں کو ہدایات دینے پہلے خود اپنے عمل میں لائیں۔ پھربچوں سے کہیں کہ یہ کام بھی تمہیں کرنا ہے۔ قرآن کریم نے اس بات پر بہت بڑا سوال اٹھایا ہے۔ کہ لوگ ایسی بات کیوں کرتے ہیں۔ جس پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ چنانچہ فرمایا: یاایھاالذین آمنوالم تقولون مالاتفعلون کبر مقتا عنداللہ ان تقولوا مالاتفعلون( )۔”ایمان والو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جوخود کرتے نہیں؟اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ کہ ایسی بات کرو جو خود تمہارے عمل میں نہیں۔

عملی تربیت اور بزرگ کا واقعہ

اس حوالے سے ایک بزرگ کا مشہور واقعہ بھی ہے ۔کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کراس کے پاس آئی اور کہنے لگی۔ کہ میر ابچہ شکرکھانے کا بہت زیادہ عادی ہوگیا ہے۔ آپ اسے نصیحت کیجئے کہ شکر نہ کھائے۔ بزرگ نے اس بچے پر ایک نظر ڈالی اور کہا ۔کہ آپ اس بچے کو ایک ہفتے بعد  میرے پاس لے آئیے۔ عورت چلی گئی ایک ہفتہ بعد دوبارہ اسے لے کر آئی ۔اور وہی درخواست کی کہ میرا بیٹا شکربہت کھا تا ہے اسے نصیحت کیجئے۔ بزرگ نے اس بچے کی طرف دیکھ کر چھوٹی سی نصیحت کی اور کہا ۔

بیٹا !شکرزیادہ مت کھانااس کا   بہت نقصان ہوتا ہے۔ یہ کہہ کر بزرگ خاموش ہوگئے۔ عورت حیران ہوکر پوچھنے لگی۔کہ حضرت آپ نے اتنی سی بات کہنی تھی تو پچھلے ہفتے ہی کہہ سکتے تھے۔ہفتہ بھر تاخیر کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا۔ بزرگ کہنے لگے کہ پچھلے جب آپ اس بچے کو لے کر میرے پاس آئی تھیں۔اس وقت میں خود شکر کھاکر بیٹھا ہوا تھا ۔بھلامیں کیونکر اسے نہ کھانے کی نصیحت کرسکتا تھا ۔آج میں نے پہلے خود اس سے پرہیز کی ہے۔ اورپھر اس بچے کو نصیحت کررہا ہوں۔ انشاء اللہ اس نصیحت سے بچے کو فائدہ ہوگا۔

اچھی مثال اچھی تربیت کی گارنٹی

بچوں کی تربیت کے میدان میں والدین اور اساتذہ صرف اس ایک نکتے پر عمل کرنا شروع کریں۔ تو تربیت ننانوے فیصد اپنے اثرات دکھانا شروع کرے گی۔ بلکہ والدین اگراپنے فکروعمل میں تضاد کو دور کریں۔ اور بچوں کو اپنی پریکٹس اورعمل سے اچھی مثالیں دکھادیں ۔تو ان کو زبان سے نصیحت کی چنداں ضرورت بھی نہیں رہے گی۔بعض والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہم گھر میں اچھی مثال قائم کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔اور بچوں کو نصیحت بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی بچے اس سے اثرنہیں لیتے۔

یہ  سوال بھی بعض لوگوں کے ذہنوں میں ہوتا ہے۔ مثلا والدین خود گھر میں نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی بچے نمازی نہیں بن پاتے۔ اس کے جواب کے لئے عرض ہے۔ کہ والدین اپنی طرف سے عملی طور پر خود اچھی مثالیں قائم کریں۔ بچوں کو پیار سے اس کی ترغیب بھی دیں اور ان کے لئے اللہ سے دعا بھی کریں۔ انشاء اللہ معاملہ ٹھیک ہوجائے گا۔

ذمہ داری پوری کرنے کے بعد اللہ پر چھوڑدیجئے۔

لیکن اگر پھر بھی معاملہ ٹھیک نہ ہوا تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ اپنا عمل جاری رکھیں کچھ وقت گزرنے کے بعد بچوں میں خودہی احساس پیدا  ہونا شروع ہوجائے ہوگا۔ اور عمل کرنا شروع کریں گے۔ اگر والدین کی زندگی میں عمل شروع نہ بھی کریں توبعد میں ضرور شروع کریں گے۔ اس لئے کہ انہوں نے ا پنے گھر اور ماحول میں اچھی چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ وہ ضرور ان کے قلب ودماغ میں نقش ہوچکی ہیں۔ وقتی اثرات کے تحت وہ ان پر عمل نہیں کرپارہے۔ لیکن آگے جاکر انشاء اللہ عمل شروع کریں گے۔ لیکن پھربھی بچہ عمل نہیں کرتا ۔تو والدین اپنے فرض منصبی سے بہرحال سبکدوش ہوگئے اب اللہ تعالی کے ہاں ان کی گرفت نہیں ہوگی۔
۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*