تاریخ اسلامیسیرت واسوہ حسنہ

رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت

رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت

ضیا الرحمٰن چترالی

مورخین کا اختلاف

رسول اکرمؐ کی ولادت باسعادت ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی۔ مورخین اور سیرت نگاروں کا اس تاریخ میں اختلاف ہے۔ بعض نے 9 ربیع الاول اور بعض نے 12 ربیع الاول کی تاریخ بتلائی ہے۔ یہ پیر کا دن تھا۔

نجومیوں کی پیشن گوئی

آپؐ کی ولادت سے قبل عرب کے نجومیوں میں کسی بڑی شخصیت کی ولادت کا ذکر جاری تھا اور اہل کتاب بھی اپنی کتاب میں جس آخری نبی کی آمد کے متعلق پڑھتے آئے تھے، انہیں احساس ہوگیا تھا کہ اس نبی کی آمد کا وقت قریب آچکا ہے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ جو عرب کے نامور شاعر تھے اور مدحت رسولؐ میں آج تک شہرت رکھتے ہیں، ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ سات سال کے تھے اور مدینہ منورہ (اس وقت یثرب نام تھا) میں رہتے تھے کہ ایک یہودی کو بلند مقام پر چیختے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا ’’اے یہودیو!‘‘ جب اس کی آواز سن کر لوگ اس کے اردگرد جمع ہوگئے اور پوچھا کہ اے کم بخت! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ چیخ رہا ہے؟ اس نے کہا: آج رات احمدؐ کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے، جس میں وہ پیدا ہوگا۔

واقعہ کے راوی محمد بن اسحاقؒ نے حضرت حسان بن ثابتؓ کے بیٹے حضرت عبد الرحمان بن حسانؒ سے دریافت فرمایا کہ ہجرت نبوی کے وقت حسان بن ثابتؓ کی عمر کیا تھی؟ تو انہوں نے بتایا ساٹھ سال۔ گویا رسول پاکؐ کی ولادت کے وقت ان کی عمر سات آٹھ سال رہی ہوگی، کیونکہ ہجرت کے وقت خود رسول کریمؐ کی عمر مبارک ترپن برس تھی۔

سیرۃ النبی میں درج یہ واقعہ ایک مثال ہے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ولایت نبوی سے قبل ہی لوگوں کو احساس ہو چکا تھا کہ آپؐ کی تشریف آوری کا وقت ہو چکا ہے۔

ایران کے شاہی محل میں زلزلہ

بہت سے سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ جب آپؐ کی ولادت ہوئی تو ایران کے شاہی محل میں زلزلہ آیا اور محل کے کنگورے ٹوٹ کر زمین پر گر پڑے۔ کعبہ میں رکھے ہوئے بت منہ کے بل زمین پر گر پڑے۔ یہ گویا اس جانب اشارہ تھا کہ اب دنیاوی جاہ و حشمت کے جھوٹے محل زمیں بوس ہونے والے ہیں اور خود ساختہ خداؤں کی عظمت ملیامیٹ ہونے والی ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے، جب حق کا پرچم بلند ہوگا، صداقت کا ستارہ طلوع ہوگا۔ باطل کی ظلمت دور ہوگی اور حق کی سحر دنیا پر چھا جائے گی۔

ابو لہب کا رسول اللہ کی ولادت پر خوشی کا اظہار

رسول رحمتؐ کے والد محترم حضرت عبداللہ آپؐ کی ولادت سے قبل ہی انتقال کر چکے تھے۔ آپؐ کے دادا عبد المطلب نے جب پوتے کی ولادت کی خبر سنی تو کعبہ میں جا کر سجدہ ریز ہوگئے اور اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کیا۔ بیوہ ماں نے جب اپنے شوہر کی نشانی کو دیکھا تو آنکھیں بھر آئیں۔ چچا ابولہب نے جب بھتیجے کی پیدائش کی خبر سنی تو دل باغ باغ ہو گیا اور خبر سنانے والی باندی ثویبہ کو آزاد کرتے ہوئے کہا کہ جائو تم میرے بھتیجے کو دودھ پلائو۔

مکہ کے بچوں کو پرورش کے لئے دیہات بھیجنے کی وجہ

مکہ کے شریفوں میں یہ دستور چلا آرہا تھا کہ بچوں کی پرورش کیلئے آس پاس کے دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے تاکہ بچے وہاں کی صاف ستھری ہوا میں پرورش پاکر تندرست وتوانا ہو جائیں۔ نیز وہاں وہ خالص عربی زبان سیکھ جائیں۔ اصل میں مکہ ایک مرکزی شہر تھا، جہاں ہر خطے کے لوگ آتے جاتے رہتے تھے، جن کے اختلاط سے زبان بھی خالص نہیں رہ پاتی تھی۔ عرب میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا، مگر وہ زبان پر خاص توجہ دیتے تھے۔ یہاں شاعری اور سخنوری کا چرچا رہتا تھا اور گاؤں والوں کی زبان زیادہ مستند سمجھتی جاتی تھی۔

قحط زدہ حلیمہ سعدیہ کی مکہ آمد

اسی غرض سے رسول اکرمؐ کو بھی پرورش کیلئے ایک صحرائی خاتون حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے حوالے کیا گیا، جن کا تعلق قبیلہ بنی سعد سے تھا۔ حضرت حلیمہ سعدیہؓ ان عورتوں میں شامل تھیں، جو مکہ معظمہ کے شرفا کے بچے پرورش کیلئے حاصل کرنے کی غرض سے آئی تھیں۔ سیرۃ النبی کے مطابق یہ واقعہ خود حضرت حلیمہ نے یوں بیان کیا ہے کہ میں اپنے قبیلے کی کچھ عورتوں کے ساتھ دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکلی۔ یہ زمانہ قحط کا تھا اور ہمارے پاس کچھ نہ تھا۔ ایک بھورے رنگ کی گدھی پر سوار ہو کر نکلی اور ایک اونٹنی بھی ساتھ تھی، جس سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نہ نکلتا تھا۔ ہمارا شیر خوار بچہ بھوک کے سبب ساری ساری رات روتا تھا اور ہم سو نہ سکتے تھے۔ میری چھاتی میں اتنا دودھ نہ تھا کہ اپنے بچے کو پلاؤں اور نہ ہی ہماری اونٹنی کے پاس کچھ تھا۔ میں جس گدھی پر نکلی، وہ تھک گئی اور میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئی اور سب کے بعد مکہ پہنچی۔

دودھ پلانے والی عورتوں کا ایک یتیم بچے کو لینے سے انکار

حضرت حلیمہ سعدیہ کا بیان ہے کہ کوئی عورت ایسی نہ تھی، جس پر ننھے محمدؐ کو پیش نہ کیا گیا ہو، مگر کسی نے بھی آپؐ کو نہ لیا۔ کیونکہ ہمیں لڑکے کے باپ سے بھلائی کی امید رہتی تھی اور اسی سے انعام کی توقع رکھتے تھے۔ جب باپ نہ ہو تو دادا اور ماں سے کیا امید؟

بوڑھی اونٹنی کے تھن دودھ سے بھر گئے

لیکن جب کوئی بچہ نہ ملا تو مجبوراً آپؐ کو لے لیا۔ آپؐ کی برکت سے مجھے بار بار فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔ جب میں آپ کو گود میں لے کر اپنی سواری پر بیٹھی تو میری حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا کہ میرے پستان دودھ سے بھر گئے اور آپ نے خوب سیر ہوکر دودھ پیا۔ اسی کے ساتھ آپ کے رضاعی بھائی نے بھی خوب خوب دودھ پیا اور پھر دونوں سوگئے۔ میرے شوہر بوڑھی اونٹنی کی طرف گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے تھن بھی دودھ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہم دونوں میاں بیوی نے خوب جی بھر کر اونٹنی کا دودھ پیا اور رات بھر آرام سے سوئے۔

شیر خوار بچے کی انصاف پسندی

صبح کے وقت میرے شوہرنے کہا کہ حلیمہ! خدا کی قسم خوب سمجھ لے کہ تو نے ایک مبارک ذات کو پایا ہے۔ میں نے جواب دیا خدا کی قسم مجھے یہی امید تھی۔ جب میں نے حضور نبی کریمؐ کو اپنی گود میں لیا اور دودھ پلانے کی غرض سے اپنا دایاں پستان آپ کے دہن میں دیا تو آپ نے دودھ پینا شروع کر دیا۔ جب میں نے بایاں پستان آپؐ کی طرف کیا تو آپؐ رک گئے اور اس طرف دہن مبارک نہ لگایا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے اس وقت سے ہی انصاف فرما دیا کہ ایک پستان کو اپنے دودھ شریک بھائی کیلئے چھوڑ دیا۔

لاغر گدھی سرعت رفتار ہوگئی

حضرت حلیمہ سعدیہؓ فرماتی ہیں کہ میں اپنا دایاں پستان ہمیشہ رسول کریمؐ کیلئے محفوظ رکھتی اور بایاں اپنے بیٹے حمزہ کو دیتی تھیں۔ جب ہم مکہ سے اپنے گاؤں کی طرف گدھی پر سوار ہوکر واپس جا رہے تھے تو اس میں اتنی طاقت آگئی کہ پورے قافلے سے آگے نکل گئی۔ ساتھی عورتیں پوچھنے لگیں کہ حلیمہ! کیا یہ تیری وہ گدھی نہیں، جو مکہ آتے ہوئے تھی؟ آخر اسے کیا ہوگیا کہ اتنی تیز چلنے لگی؟ حضرت حلیمہؓ کے مطابق ان کا گاؤں بہت زیادہ قحط زدہ تھا، مگر جب رسول کریمؐ کو اپنے ساتھ لائیں تو یہاں حالات ہی بدل گئے۔

بکریوں میں برکت کا ظہور

وہ کہتی ہیں میری بکریاں چرنے جاتیں تو خوب چرکر آتیں اور خوب دودھ دیتیں۔ حالانکہ دوسروں کی بکریوں کے تھنوں سے قحط کے سبب ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا۔ پڑوسی اپنے چرواہوں سے کہتے کہ جہاں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں، وہیں تم بھی اپنی بکریوں کو چراؤ۔ حضرت حلیمہؓ کے مطابق وہ دو سال تک یونہی آپ کی برکات سے مالا مال ہوتی رہیں اور آپ تندرست وتوانا ہو گئے۔ دوسرے بچے اس قدر تندرست نہ تھے۔

دو سال کے بعد آپؐ کو واپس مکہ لے کر آئیں تو والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے اپنی حیثیت کے مطابق انعام و اکرام سے حضرت حلیمہ کو نوازا۔ حضرت حلیمہؓ آپ کی برکات کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں، لہٰذا دوبارہ اپنے ساتھ واپس لیتی آئیں۔

جب شام کے محلات روشن ہوئے

رسول محترمؐ نے خود اپنی ولادت کا ذکر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’اچھا (سنو) میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں۔ جب میں اپنی ماں کے شکم میں آیا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے اندر سے ایک نور نکلا، جس سے سرزمین شام کے محل ان پر روشن ہوگئے۔ بنی سعد بن بکر کے قبیلے میں دودھ پی کر میں نے پرورش پائی۔‘‘ (سیرت النبی، ابن ہشام)

یہ بھی پڑھیئے:

خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button