Columns

امارات میں ساڑھے سات دن

امارات میں ساڑھے سات دن
(بارہویں قسط)

عبد الخالق ہمدرد

گزشتہ سے پیوستہ —

امارات میں پہلے بھکاری سے ملاقات

آج کا دن حقانی صاحب کی شدید مصروفیت کا تھا۔ میں نے سوچا کہ کتاب میلہ ایک بار پھر دیکھ لیا جائے اور ممکن ہو تو کچھ خریداری بھی کر لی جائے لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ حقانی صاحب نے مجھے سنٹر پوائنٹ پہنچایا اور میں وہاں سے دبئی سٹی سنٹر تک میٹرو میں گیا۔ وہاں سے شارجہ جانے والی بس کا معلوم کیا۔ بس کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص پاس آیا اور بس کارڈ دکھا کر بولا کہ شارجہ میں ایک دوست کو حادثہ پیش آ گیا ہے، مجھے ہنگامی طور پر وہاں جانا ہے مگر کرایہ نہیں، آپ اس میں پیسے ڈلوا دیں۔ یہ امارات میں پہلے بھکاری سے ملاقات تھی۔ جیب میں جو ریزگاری تھی، وہ اس کے ہاتھ پر رکھ دی تو وہ ایک اور آدمی کے پاس جا کر وہی کہانی سنانے لگا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بھکاری تھا یا حقیقی ضرورتمند کیونکہ میں نے اسے پیسے کارڈ میں ڈالتے نہیں دیکھا حالانکہ مشین وہیں پاس لگی تھی۔

کراچی کے ایک مہذب بھکاری کا واقعہ

اس پر کراچی کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ طالب علمی کا زمانہ تھا۔ ہم ایک دن ناظم آباد میں بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ایک صاحب پاس آئے دبلے پتلے اور شکل وصورت سے بڑے سفید پوش معلوم ہو رہے تھے۔ ان دنوں ہم کراچی میں نو وارد تھے۔ ان کے ہاتھ میں دو دو روپے کے کچھ نوٹ تھے۔ بڑی عاجزی اور لجاجت سے سلام کیا اور نہایت نرم لہجے اور نستعلیق اردو میں کہنے لگے ’’ارے صاحب، میں قائد آباد جا رہا تھا۔ کوچ والا اٹھارہ روپے مانگ رہا ہے۔ میرے پاس سولہ روپے ہیں۔ اگر آپ مجھے دو روپے دے دیں گے تو میں گھر پہنچ جاؤں گا بھائی۔‘‘ ہمیں بڑا ترس آیا کیونکہ ہم بھی گھر سے دور تھے۔ اس لئے اسے دو روپے دے دئے۔ ہمیں ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ وہ پیشہ ور بھکاری ہے۔ خدا کا کرنا ہماری گاڑی نہ آئی اور مزید کچھ دیر وہیں کھڑے رہے۔ اب دیکھا کہ ’’وہ صاحب‘‘ ایک اور آدمی کو اسی انداز سے وہی کہانی سنا رہے کہ ’’ارے صاحب، میں قائد آباد جا رہا تھا۔ کوچ والا اٹھارہ روپے مانگ رہا ہے۔ میرے پاس سولہ روپے ہیں۔ اگر آپ مجھے دو روپے دے دیں گے تو میں گھر پہنچ جاؤں گا بھائی۔‘‘ ہم دو دوست تھے، ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا کر رہ گئے کہ بس سٹاپ پر دھوکہ کھا گئے تھے۔

اماراتی نوجوان کا پاکستان میں عربی سیکھنے پر اظہار حیرت

میں نے بس والے سے شارجہ کتاب میلے کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ مجھے معلوم نہیں مگر بس چلنے سے قبل وہ ایک عربی نوجوان کو میرے پاس لایا کہ ان کو کتاب میلہ معلوم ہے۔ اس نوجوان سے تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ وہ یونی ورسٹی میں پہلے سال کا طالب علم ہے اور شارجہ کتاب میلے کی انتظامیہ میں شامل ہے۔ اِس سے مجھے خوشی ہوئی کہ اندر کا آدمی مل گیا۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو اس کے سامنے حیرت کے دروازے کھلتے چلے گئے۔ اس کے لئے پہلا جھٹکہ یہ تھا کہ میں نے عربی پاکستان میں سیکھی ہے۔ اِس بات پر سعودی عرب میں بھی کئی لوگوں کو قائل نہ کر سکا تھا کہ میں نے عربی اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان میں ہی سیکھی ہے۔

اس کے بعد روئے سخن سیاست کی جانب مڑ گیا تو وہ نوجوان کہنے لگا کہ حیرت ہے آپ کو اتنی معلومات کیسے ہیں؟ میں نے کہا کہ بھئی میں پاکستان کا شہری ہوں اس لئے اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتا ہوں۔ یہاں اصل مسئلہ میری معلومات کے زیادہ ہونے کا نہیں تھا، بلکہ اس کی معلومات کی کمی کا تھا۔ اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ خلیجی ممالک کے باشندے عام طور پر پارلیمان، سیاسی جماعتوں، انتخابات، صوبوں، صوبائی اسمبلیوں اور ان جیسے دوسرے معاملات کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں ان چیزوں کا حقیقی وجود ہی نہیں۔ ان ممالک میں حکمران خاندان حکومت کرتا ہے اور باقی لوگ سکون سے زندگی گزارتے ہیں، ان کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ حکومت کون کر رہا ہے اور کس طرح کر رہا ہے۔

جمہوریت اور اقبال

ہمارے ہاں بھی اشرافیہ اور چند حکمران خاندانوں کی شکل میں وہی نظام کچھ تبدیلیوں کے ساتھ موجود ہے لیکن یہاں سیاست کے نام پر کچھ جھمیلے بھی ہیں جن کو سیاسی جماعتوں، انتخابات اور حکومتوں کی تبدیلی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس سب کا خلاصہ ’’جمہوریت‘‘ ہے۔ ایسی ہی جمہوریت کے بارے میں اقبال نے مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ ؎

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

الیکشن ممبری کونسل صدارت
بنائے خوب آزادی نے پھندے

میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے شخصی حکومت سراسر غلط ہے اور نہ جمہوریت سراسر درست، بلکہ دونوں میں ہی کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہیں۔ اس کی ایک مثال لے لیجئے کہ اگر شاہی نظام ہو اور بادشاہ اچھا آ جائے تو واہ واہ۔ ملک ترقی کرے گا اور رعایا آسودہ ہوگی لیکن اگر بادشاہ خراب آ گیا تو ملک تباہ اور رعایا کی زندگی اجیرن ہو جائے گی کیونکہ عوام بادشاہ کو نہیں ہٹا سکتے۔ اس کے مقابلے میں جمہوری نظام میں یہ خوبی ہے کہ حکمران اچھا ہو یا برا، بہر حال وہ تا حیات نہیں ہوتا۔ اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری جمہوریت کی یہ خرابی ہے کہ یہاں ترقی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ ہر جماعت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور اس کی وجہ سے بے پناہ سرکاری وسائل ضائع ہو جاتے ہیں۔

خیر یہ کہانی تو فقط زیب داستاں کے لئے تھی۔ باتوں باتوں میں شارجہ پہنچ گئے اور اس نوجوان کی رہنمائی میں ایک جگہ اتر کر نمائش گاہ پہنچے تو وہاں نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ ہو کا عالم ہے اور نمائش گاہ بھائیں بھائیں کر رہی ہے۔ وہاں موجود چوکیداروں نے بتایا کہ نمائش شام کو چار بجے کھلے گی اور اس وقت اندر جانے کی اجازت نہیں۔ اس نوجوان نے اپنا کارڈ دکھایا اور مہا چوکیدار سے بات کی تو اس نے اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی اور وہ مجھے بھی اندر لے گیا۔ یعنی ’’اچھوں کا سنگ ترے‘‘۔

کتب میلہ اور اداکار شاہ رخ خان

اندر سب کچھ بند تھا اور معلوم ہوا کہ شام کو مشہور بھارتی ادا کار شاہ رخ خان بھی آئیں گے۔ حسن اتفاق کہ جس طرح میرے دل میں شاہ رخ خان کو دیکھنے کی کوئی اہمیت یا کشش نہیں تھی، اسی طرح وہ نوجوان بھی اس سے بیزار تھا، کہنے لگا کہ لوگ پتہ نہیں ایسے لوگوں کو کیوں سر پر بٹھا لیتے ہیں، شام کو آپ دیکھیں گے کتنی بھیڑ ہو گی، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھانڈ ہی تو ہے اور کیا ہے! اس کے بعد ہم نمائش گاہ سے باہر نکل گئے۔

دوپہر ہو چلی تھی اور جمعے کی نماز کا وقت تھا۔ ایک عمارت کی پہلی منزل میں نماز ہو رہی تھی، ہم بھی بھاگم بھاگ وہاں پہنچے اور بڑی مشکل سے جماعت ہاتھ آئی۔ نماز کے بعد میری اس نوجوان سے رفاقت اختتام پزیر ہو گئی کیونکہ وہ وہیں رک گیا اور میں واپس دبئی جانے کے ارادے سے چل پڑا۔ وہ نوجوان کہہ رہا تھا کہ میں برف دیکھنے پاکستان آؤں گا۔ میں نے کہا چشم ما روشن دل ما شاد۔ پھر اس نے ایک سوال پوچھا کہ پاکستان میں برفباری ہوتی ہے تو امارات میں برف کیوں نہیں ہوتی؟ اس سوال کے جواب میں بھی ہمیں اپنی معلومات کے ’’جوہر‘‘ دکھانے کا کچھ موقع مل گیا۔ واقعی اندھوں میں کانا راجا۔

میں بس اسٹاپ پر کافی دیر کھڑا رہا لیکن بس نہ آئی۔ اتنے میں ایک ٹیکسی والا آیا، اس نے پیشکش کی کہ بس کا کرایہ دے دو چلے چلیں گے۔ اس کی ٹیکسی سرکاری کمپنی کی تو نہیں تھی، لیکن تھی کسی اور ٹیکسی کمپنی کی۔ میں اس میں جانا چاہ رہا تھا اس لئے ساتھ کھڑے مصری مہندس کو بھی دعوت دی کہ چلو، مگر اس نے کسی اور جگہ کا نام لیا اور کہا کہ اس میں نہیں جا سکتا۔ اس کے بعد ایک بس آئی تو وہ اس پر چڑھ گیا۔ اب میں اور ایک افریقی وہاں رہ گئے۔ ذرا سا وقت گزرا تھا کہ ایک افریقن بھی گلی سے نکل کر ہمارے ساتھ دھوپ میں کھڑی ہو گئی۔ اتنے میں ایک ’’بے نام‘‘ ٹیکسی آ گئی۔ ڈرائیور نے گاڑی روک کر کہا کہ بس بارہ درہم لیتی ہے، مجھے دس دس درہم دے دو اور چلے چلو۔ افریقی اور افریقن نے آپس میں کچھ بات چیت کی اور چلنے پر راضی ہو گئے۔ میں آگے بیٹھ گیا اور وہ دونوں پیچھے اور دبئی روانہ ہو گئے۔ چند منٹ بعد اس نے ہمیں ’’دبئی سیتی سنتر‘‘ اتار دیا۔ اس وقت دبئی میں نماز جمعہ کا وقت ہو رہا تھا۔

میں کچھ دیر ادھر ادھر گھومتا رہا۔ پھر کھانا کھایا اور اس کے بعد ’’ڈے ٹو ڈے‘‘ نامی شاپنگ مال میں چلا گیا اور کچھ خریداری کی۔ یہ بہت بڑا سٹور ہے جس میں زندگی کی تقریباً ساری ہی ضروریات دستیاب ہیں۔ کپڑوں والے حصے میں لوگ کپڑے پہن پہن کر چیک کر رہے تھے۔ مجھے ایک چرمی کوٹ اچھا لگا۔ پہن کر دیکھا تو فیصلہ نہ کر سکا۔ اسے اتار کر رکھ دیا اور دو تین اور کوٹ پہن کر دیکھے۔ آخر کار ایک پر دل آ گیا اور بالکل پورا معلوم ہونے لگا۔ اتنے میں ایک سردار جی وہاں آ گئے تو ان سے پوچھا کہ سردار جی کیسا لگ رہا ہے؟ کہنے لگے ایک دم فٹ، ویری نائیس۔ اس کے بعد دکان والے لڑکے سے پوچھا تو اس نے بھی پورا ہونے کی تصدیق تو کوٹ خریدنے کا فیصلہ ہو گیا۔ مشورہ اچھی چیز ہے، کسی سے بھی کر لینا چاہئے۔ یہاں کام کرنے والے دو پاکستانی لڑکوں سے بھی بات چیت ہوئی۔ وہ اپنے کام سے خوش تھے اگرچہ کام کا وقت طویل ہے۔ خیر جب گھر بار چھوڑ کر آ گئے تو کام کے بغیر کریں بھی کیا۔ اوکھلی میں سر دے دیا تو دھمکوں سے کیا ڈرنا۔

’’ڈے ٹو ڈے‘‘ میں کافی وقت گزر گیا۔ اس کے بعد حقانی صاحب کا فون آیا کہ سنٹر پوائینٹ آ جائیں، میں بھی ادھر آ رہا ہوں۔ میں میٹرو سٹیشن گیا مگر پلیٹ فارم کا اندازہ نہ ہو سکا اور گھوم پھر کر باہر نکلنے لگا تو مشین پر کارڈ رکھنا پڑا کیونکہ اس کے بغیر باہر نہیں جا سکتے۔ اس طرح مفت میں کچھ رقم کٹ گئی اور پھر واپس اندر آیا مگر کئی بار لفٹ میں اوپر نیچے جانے کے بعد بھی اندازہ نہ ہوا تو صفائی والے اہلکار سے پوچھا کہ پلیٹ فارم نمبر ایک کہاں ہے؟ اِس نے کہا نیچے ہے۔ اس وقت مجھے اپنے اوپر ہنسی آئی کیونکہ اس لفٹ میں کوئی چار پانچ بار اوپر نیچے گیا تھا۔
سنٹر پوائینٹ سے حقانی صاحب کے ہمراہ ’’غروب‘‘ پہنچا۔ وہاں کے امام صاحب چھٹی پر تھے اور حقانی صاحب متبادل کے طور پر آئے تھے۔ ما شاء اللہ ان کی قراءت بہت اچھی ہے۔ جہری نماز میں لطف آ گیا۔

اچھی اور بری صحبت کی نبوی مثال

اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو مختلف خوبیوں سے نوازا ہے جبکہ ہر انسان میں کچھ خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ انہی خوبیوں اور خامیوں سے انسان کی شخصیت تشکیل پاتی ہے اور انہی کے واسطے سے انسان ایک دوسرے سے جڑتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی بھی دو آدمی مزاج میں بالکل یکساں تو نہیں ہو سکتے لیکن انسانوں کی مشترکہ خوبیاں یا خامیاں ان کا حلقہء احباب تشکیل دیتی ہیں۔ اس لئے حدیث شریف میں صحبت کے اثر کو بڑے واشگاف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اچھے دوست کی مثال عطر فروش کی سی ہے کہ آدمی یا تو اس سے کچھ لے لے گا، یا وہ اس کو کچھ دے دے گا اور اگر یہ دونوں کام نہیں ہوئے تو بھی خوشبو تو کہیں نہیں گئی۔ اس کے مقابلے برے ہمنشین کی مثال لوہار کی بھٹی کی سی ہے کہ وہاں سے کوئی چنگاری اڑ کر نقصان پہنچائے گی اور چنگاری نہ بھی اڑے تو دھواں تو کہیں نہیں گیا۔ شیخ سعدی نےصحبت کے اثر کو یوں بیان کیا ہے ؎

گلے خوشبوئے در حمام روزے
رسید از دست محبوبے بدستم

بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری
کہ از بوئے دلاویزے تو مستم

بگفتا من گلے ناچیز بودم
ولاکن روزے چند با گل نشستم

جمال ہمنشین بر من اثر کرد
وگرنہ من ہمان خاکم کہ ہستم

افغانی ریستوران اور “عربی کا قیمہ”

بہر حال، غروب میں دو نمازیں پڑھ کر واپس مردف آ گئے۔ ہمارا خیال تھا کہ رات کو ’’السطوۃ‘‘ جائیں گے لیکن رستے میں افغانی ریستوران پر کھانے کے لئے رک گئے جبکہ پہلے بھی وقت کافی ہو چکا تھا، اس لئے کھانے کے بعد اس مشورے کے ساتھ واپسی کا فیصلہ کر لیا کہ سطوہ کل جائیں گے۔ اس ریستوران کے کباب بہت مزیدار تھے البتہ کھانوں کی فہرست دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اس میں عربی کا بھی اسی طرح قیمہ بنایا گیا تھا جس طرح گوشت کا بنایا جاتا ہے۔ کچھ کھانوں کے نام یوں تھے افغانی مکس مشاوی، دجاج بوتی، اوصال مشاوی افغانی، چکن شامی کباب، ہاندی دجاج مسحب، واحد کیلو مشکل لحم، واحد کیلو مشکل دجاج، لحم مع دال، دال شانا فرای، دال بالاک، لحم بالاک اور لحم بشاوری کراہی، وغیرہ وغیرہ۔

ہو سکتا ہے یہ بات کسی کو قابل گرفت معلوم نہ ہو لیکن ہمارے لسانیاتی ذوق پر یہ بہت گراں گزرتی ہے کیونکہ ہر زبان ایک خوبصورت تصویر کی طرح ہے۔ اگر اس میں آپ جا وبیجا پیوند لگائیں گے تو تصویر تو بگڑے گی۔ اس لئے اگر آپ انگریزی بھی بولنا یا لکھنا چاہتے ہیں تو بھی ہمارے ذوق کے مطابق اس میں بھی کسی اور زبان کی ملاوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ گویا ؎

میں محبت میں بھی توحید کا قائل ہوں فراز
ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنا

گزشتہ قسط 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button