Latest

اسلام آباد , دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت

اسلام آباد , دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت 

نوید نقوی

یہ سنہ 2013 کی بات ہے جب ہم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طالب علم تھے اور صحافت کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تب میرا اور میرے دوست کاشف لاشاری کا خواب تھا، ایک دن بڑے صحافی بن کر دنیائے صحافت کا سب سے بڑا ایوارڈ پولیٹزر ضرور حاصل کریں گے بعد میں زمانے کے حوادث نے ہم دونوں کا یہ خواب چکنا چور کر دیا لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے آج بھی اچھے مقام پر ہیں حالانکہ اس کے بھی اہل نہیں ہیں ۔اسلامیہ کالج کے دور طالب علمی میں پہلی بار اسلام آباد کا مطالعاتی دورہ کیا، آئیے آج آپ کو بھی اس اسلام آباد کی سیر کراتے ہیں ۔

اپنے خوابوں کی وادی کا پہلا سفر

iub کے ہیڈ آف میڈیا اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبیر بلوچ صاحب کی طرف سے سٹڈی ٹور کی اجازت ملتے ہی ہمارے اساتذہ کرام پروفیسر ڈاکٹر واجد خان صاحب اور میڈم شفق منظور صاحبہ کی زیر نگرانی ایم اے اور بی ایس کے سٹوڈنٹس پر مشتمل گروپ عازم سفر ہوا، ہماری منزل اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد تھی، میں بہت خوش تھا کیونکہ یہ میرا اسلام آباد کا پہلا سفر بھی تھا اس لیے میں بہت excited تھا۔

پاکستان کا دارالحکومت 1968 کو اسلام آباد منتقل ہوا

اسلام آباد سطح مرتفع پوٹھو ہار میں مارگلہ پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔ 1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کیا۔ 1960ء میں اسلام آباد پر ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان Constantinos A. Doxiadis نے کیا۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔

کشادگی اسلام آباد کی خوب صورتی، شادابی اس کا حسن ہے

یہ بات تو طے ہے کہ یہ شہر دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت ہے۔ اسے خوبصورت اس کی کشادگی بناتی ہے۔ اسے حسین اس کی شادابی بناتی ہے۔ اس کی پر نور صبحیں اور خنک شامیں، مارگلہ کی اونچایوں سے آتی تازہ ہوا، شیشے کی پرتعیش دکانیں اور ان دکانوں کے اندر جھانکتے خوبصورت لوگ۔

سکون اور خاموشی کے مجسم پیکر کو کسی زمانے میں Dead City بھی کہا جاتا تھا

یہاں اقتدار کے تمام ایوان ہیں یعنی ملک کو چلایا کیسے جائے وہ تمام فیصلے یہاں ہوتے ہیں۔ یہ شہر سکون اور خاموشی کا ایک مجسم ہے۔ اس شہر کو کسی زمانے میں dead city بھی کہا جاتا تھا۔لیکن آج اس خوبصورت شہر کی آبادی تقریباً 2ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔

ہرے بھرے پہاڑوں کے دامن میں بسے اسلام آباد شہر کو دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔اگر آپ اس پُرسکون سے شہر میں پہلی مرتبہ آئے ہیں تو شاید آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ یہاں پر دیکھنے کے لیے کیا کچھ ہے اور وہ بھی مختصر وقت میں؟

اسلام آباد کے چند سیاحتی مقامات

آئیے دیکھتے ہیں کہ یہاں پر کون کون سی پرسکون اور دلچسپ جگہیں سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کی منتظر ہیں۔

1۔شاہ اللہ دتہ کے غار!

یہ جگہ اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 سے تھوڑا ہی دور بالکل مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔
یہاں جانے کے لیے سڑک تو برائے نام ہی ہے لیکن اتنی بھی خراب نہیں جس کا بہانہ کر کے آپ اس جگہ کو اپنی فہرست سے نکالنے کا سوچیں۔برگد کے درختوں کی اونچی لٹکتی ہوئی جڑیں ان غاروں کو ڈھانپے رکھتی ہیں یہاں پہاڑوں کے درمیان چند غار ہیں، ایک باغیچہ ہے اور ایک قدرتی چشمہ بھی جس کا پانی سڑک کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا نیچے جاتا ہے۔
اس جگہ کو شاہ اللہ دتہ کے غار یا بدھا کے غار، دونوں ہی ناموں سے جانا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شاہ اللہ دتہ کون تھے اور ان غاروں کی تاریخ کیا ہے؟یہاں کے مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ یہ غار قدیم زمانے میں بودھ راہبوں کے عبادت کا مقام ہوا کرتے تھے جبکہ شاہ اللہ دتہ نامی ایک شخص صدیوں پہلے اس بستی کے سربراہ تھے جن کے نام پر اس جگہ کا نام شاہ اللہ دتہ پڑا۔
برگد کے درختوں کی کئی منزلہ اونچی لٹکتی ہوئی جڑیں ان غاروں کو ڈھانپے رکھتی ہیں۔ باغیچے میں آم کے پیڑ ہیں جن کے سائے میں بیٹھ کر آپ سستا سکتے ہیں اور پاس ہی موجود سٹال پر چائے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جہاں بطخیں آپ کو گھیرے رہیں گی۔یہاں ایک قدیم کنواں ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا تھا۔شاہ اللہ دتہ کے غاروں سے ہی ایک سڑک اوپر جاتی ہے جہاں آپ جتنا اوپر جاتے جائیں گے آپ کے سامنے وادی اور اسلام آباد شہر کے اتنے ہی خوبصورت نظارے وا ہوتے جائیں گے۔ یہاں پر ایک مقام کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کا ہری پور ڈویژن شروع ہو جاتا ہے۔یہ پورا علاقہ درحقیقت ایک قدیم شاہراہ تھی جس کے ذریعے افغانستان اور انڈیا منسلک تھے۔ یہاں ایک قدیم کنواں ہے مقامی لوگوں کے مطابق شیر شاہ سوری نے بنوایا تھا۔ اس کنویں کی سیڑھیوں میں اتر کر کچھ دیر بیٹھیں اور خود کو قرونِ وسطیٰ کے دور میں تصور کریں۔

2۔ ماارگلہ ہلز نیشنل پارک!

شاہ اللہ دتہ سے تقریباً 25 منٹ کی مسافت پر مارگلہ کی پہاڑیوں میں ہائیکنگ کے لیے راستے بنائے گئے ہیں جنھیں ٹریلز کہا جاتا ہے۔ یہاں پر کُل چھ ٹریلز ہیں جن میں سب سے زیادہ جانی پہچانی ٹریل تھری اور ٹریل فائیو ہیں۔یہاں آتے وقت اپنے ساتھ پانی کی ایک بوتل ضرور رکھیں کیونکہ ہائیکنگ کے دوران آپ کو پیاس لگے گی۔ اگر آپ ستمبر اور اکتوبر یا بارش کے موسم میں یہاں آ رہے ہیں تو لاتعداد چشمے آپ کے کانوں میں رس گھولنے اور آپ کی پیاس مٹانے کے لیے آپ کے منتظر ہوں گے۔اپ ایک کام لازمی کریں یہاں کچرا کسی صورت نہ پھیلائیں۔جب ٹریل ختم کر کے واپس اتریں، تو پارکنگ کے ساتھ بنے ہوئے سٹال سے گُڑ کی چائے اور پکوڑے کھانا مت بھولیے گا۔

3۔ پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری!

صرف 30 روپے کا ٹکٹ لے کر آپ یہاں داخل ہوں تو کچھ ہی کمروں کے بعد آپ ایک کمرے میں پہنچتے ہیں جہاں ایک ہاتھی اور ایک زرافے کے ڈھانچوں سے سامنا ہوتا ہے۔ دروازے پر آپ کا استعمال وہیل کا ڈھانچہ کرتا ہےیہاں مختلف شیلفوں میں انسانی ارتقا کے مختلف مراحل کے دوران مختلف انواع کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں بھی رکھی ہیں۔ ارتقائی حیاتیات میں گہری دلچسپی کی وجہ سے اپنے سامنے ان قدیم فوسلز کو دیکھنا ایک مسحور کُن تجربہ تھا۔میوزیم کی دوسری منزل پر ایک ڈائنوسار گیلری ہے جس میں آپ کو اپنے سامنے مشہورِ زمانہ فلم جراسک پارک میں دکھایا جانے والا سب سے بڑا ڈائنوسار، ٹی ریکس، منھ کھولے کھڑا نظر آتا ہے میوزیم سے باہر نکلیں تو ایک اور عجوبہ باغیچے میں آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ یہ بلوچی تھیریم نامی ایک جانور کا دیوہیکل مجسمہ ہے جو درحقیقت گینڈے کی ایک معدوم ہو چکی نسل تھی۔ اس کے فوسلز سنہ 1908 میں صوبہ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے دریافت ہوئے تھے، اس لیے اس جانور کو بلوچی تھیریم کا نام دیا گیا۔یہ ہمارے کرہ ارض پر چلنے والے سب سے بڑے ممالیہ جانوروں میں سے ایک تھا۔

4۔ شاہدرہ!

اسلام آباد کے شہر سے تھوڑا ہی باہر قائدِ اعظم یونیورسٹی سے کچھ آگے شاہدرہ کا مقام ہے۔ یہاں خوبصورت اور سرسبز پہاڑوں کے درمیان ایک وادی ہے جس میں ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے آپ کا استقبال کرتے ہیں۔
اس پرفضا مقام کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر آپ اگر کچھ کھانا پینا چاہیں تو ریسٹورینٹ اور سٹال مالکان نے اپنی میزیں، کرسیاں اور چارپائیاں بہتے ہوئے چشموں کے عین وسط میں لگا رکھی ہیں جن سے ریفریشمنٹ کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔شاہدرہ کے مقام پر آپ چلتے چلتے پہاڑوں میں جتنا دور نکلنا چاہیں جا سکتے ہیں لیکن یہاں زیادہ تر لوگ صرف بہتے چشموں کی وجہ سے ہی آتے ہیں۔

5۔سید پور گاؤں !

یہ پرانی بستی مارگلہ کے دامن میں ہی موجود ہے جو ماضی میں ہندو آباد علاقہ تھا اب یہ ایک تاریخی مقام کی حیثیت سے اسلام آباد کی شناخت بن چکا ہے۔ اب یہاں جدید ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں۔ ایک عجائب گھر بھی یہاں قائم ہے۔

6۔لوک ورثہ!

اسلام آباد کو دیکھنے کے لئے یہ ایک بہترین مقام ہے۔ شکر پڑیاں روڈ کے قریب لوک ورثا میوزیم ہے۔ میوزیم پاکستان کی تاریخ اور ثقافت کا ایک مظہر ہے۔

7۔فیصل مسجد!

فیصل مسجد ایک خوبصورت مسجد ہے یہ جدید فن تعمیر کا ایک مظہر ہے جو مارگلہ کے دامن میں واقع ہے۔ یہ ایشیا کی سب سے بڑی مساجد میں سے ایک ہے ، جو ریاست کے جدید ترین ڈھانچے اور ڈیزائن کی ایک مثال ہے۔ اس مسجد میں ایک لاکھ افراد کی گنجائش ہے اور یہ سعودی عرب کے شاہ، شاہ فیصل کا تحفہ تھا۔

8۔ امام بری سرکار!

آپ اسلام آباد جائیں اور بری سرکار پر حاضری نہ دیں یہ زیادتی ہوگی یہ مزار ایک پر فضا مقام پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ گولڑہ شریف بھی ایک روحانی مرکز ہے ۔

9۔ پیر سہاوہ!

اندرون ملک سے آنے والے یہاں بھی لازمی جاتے ہیں یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں روح کو سکون ملتا ہے۔

10۔ پاکستان یادگار Pakistan monument !

یہ ایک ایسا مقام ہے جو فن تعمیر کا شاہکار ہے یہاں چاروں صوبوں کی تاریخ کو خوبصورت عکاسی کے ذریعے بیان کیا گیا ہے، شکر پڑیاں بھی ایک پیارا اور دلفریب مقام ہے۔

11۔ راول جھیل!

آپ کے لیے اسلام آباد کی سیر نا مکمل ہوگی اگر آپ راول جھیل کی سیر نہ کریں تو، یہ ایک بہت ہی پیارا مقام ہے جس کے خوبصورت نظارے انسان کا دل جیت لیتے ہیں۔

12۔ دامن کوہ!

دامن کوہ پہنچ کر آپ پورا اسلام آباد دیکھ سکتے ہیں اور شام کے وقت یہ دلکش نظارہ آنکھوں کو بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔

13۔ اسلام آباد چڑیا گھر!

یہ چڑیا گھر پاکستان کا سب سے صاف ستھرا اور خوبصورت چڑیا گھر ہے، یہاں کئی نایاب قسم کے جانور اور پرندے موجود ہیں۔اس کے علاوہ یہاں کافی تعداد میں بڑے بڑے پارکس بھی موجود ہیں 2011 میں سنٹوریس مال بھی اسلام آباد کی مجموعی خوبصورتی میں ایک شاندار اضافہ ہے۔
دارالحکومت کے طور پر اسلام آباد پاکستان کی پہچان ہے یہاں اسلام آباد کی اہم عمارات ،ایوان صدر ، پارلیمنٹ ہاؤس ، سپریم کورٹ ،سینٹ ، وزیراعظم ہاؤس، اور سیکرٹریٹ شاہراہ جمہوریت پر واقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:

دنیاکاتباہ ہوتا ایکو سسٹم اور معدومیت کا شکار جنگلی حیات

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button