لاہور کا تعلیمی وتفریحی سفر

لاہور پرانے وقتوں میں حفاظتی حصار یا چاردیواری کے اندر ایک شہر ہوتا تھا۔ جس کے چاروں طرف بارہ یا تیر ہ دروازے ہوتے تھے۔ جو سرشام سورج ڈھلتے کے ساتھ ہی بند کردییے جاتے تھے۔ لیکن امتداد زمانہ ، حالات کی تبدیلی اور شہر کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے سے و ہ دیواریں تو باقی نہ رہ سکیں۔ البتہ ان میں سے اکثر دروازے اب بھی کافی بہتر حالت میں موجو د ہیں۔

لاہور کا تعلیمی وتفریحی سفر

تعلیم وتربیت کیلئے سفر کی اہمیت

تعلیم وتربیت کے بے شمار ذرائع میں سے سب سے اہم ذریعہ سفر ہے۔  سفر سے انسان وہ کچھ سیکھتا ہے جو حضر میں نہیں سیکھ سکتا۔ کیونکہ سفر میں تھیوریز کو پریکٹیکل کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے سفر کیلئے پلاننگ کرنی پڑتی ہے جو بذات خود لرننگ کا عمل ہے۔

پھر پلاننگ کے مطابق ہر کام کو عملی طور پر خودکرنا پڑتاہے۔ اپنے سفر کی تیاری، سامان کاانتظام،  مختصر لیکن ضرور ت کے  مطابق سامان کا انتخاب،وقت کی تنظیم،   ٹکٹ اور گاڑی کا انتظام، اپنے کھانے پینے کی چیزوں کا بذات خود انتظام، منزل اور سفر کے مقصد کا تعین، لوگوں سے ملنے جلنے اور معاملات کو ڈیل کرنے  کا حوصلہ، پیسوں کی مینجمنٹ اور بہت کچھ۔ یہ سب انسان سفر کے دوران سیکھ رہا ہوتا ہے۔

بلکہ انسان کی صلاحیتوں اور خوبیوں کا انکشاف بھی سفر کے دوران ہی ہوتا ہے۔ انسان کے کردار واخلاق کی نشاندہی بھی سفر سے ہوتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے سامنے جب کسی شخص کی تعریف کی گئی تو آپ نے فورا پوچھا کہ کیا تم نے ان صاحب کے ساتھ کوئی سفر یا  مالیاتی لین دین کیا ہے؟ تعریف کرنے والے نے نفی میں جواب دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی کےساتھ سفر یالین دین کئے بغیر اس کی تعریف کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

سفر کی اہمیت کا اندازہ تعلیم وتربیت کے  حوالے سے اس بات سے لگاسکتے ہیں۔کوئی صاحب علم سفر کئے بغیر عالم نہیں بن سکا۔  اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا ہر صاحب علم نے علم اور تربیت کے حصول کیلئے ضرور کہیں نہ کہیں کا سفر کیا ہے۔ چاہے  وہ امام بخاری ہوں، امام مسلم ہوں، امام ترمذی ہوں ، امام ابوداود ہوں غرض دنیا کے جتنے بڑے اہل علم اور علما کو دیکھیں تو معلوم ہوگاکہ انہوں نے ضرورسفر کیا ہوگا۔

بلکہ اچھے وقتوں میں کسی عالم  کے علمی قد کو دیکھنا ہوتا  تو اس کے  علمی اسفار پر نظر ڈالی جاتی تھی۔ جس عالم کا جتنا زیادہ سفر ہوتا اسی کو بڑا عالم تصورکیا جاتا تھا۔ کیونکہ  سفر تعلیم وتعلم اور تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔

اسی وجہ سے حصول علم کیلئے سفر کرنے والوں کی احادیث میں بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ایک حدیث میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص علم کی راہ میں سفر پر نکلتاہے تو فرشتے اس کے قدموں تلے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ اس سے بڑی فضلیت اور کیا ہوسکتی ہے۔

بہرحال سفر، سیر وسیاحت اورتفریح کے ساتھ ساتھ تعلیم وتربیت کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ آج کے دور میں بھی جو شخص زیادہ سے زیادہ سفر کرتا ہے ، اس کے علم، وژن، اپروچ اور سوچ میں دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ  وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔

کیونکہ سفر میں انسان بہت ساری چیزوں کا خود آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے۔ بہت سارے کام عملی طور پر خودکرنے لگتا ہے۔ سفر کے دوران  ہر مزاج وطبیعت کے لوگوں سے ملاقاتوں کا موقع ملتا ہے۔ مختلف علاقوں ، موسم اور آب وہوا کا تجربہ کرتا ہے۔ مختلف زبان اور رنگ ونسل کے لوگوں سے بات چیت اور معاملات طےکرتا ہے۔ جس سے اس کی معلومات اور حوصلے میں اضافہ ہونے کے ساتھ مزاج میں تواز ن لانے کا موقع  ملتا  ہے۔ اور دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی ملتاہے۔

رابطہ تعلیم وتربیت اورتفریح کا بہترین پلیٹ فارم

ہم نے جولائی 15 سے  24 تک رابطہ کے دوستوں کے ساتھ لاہور ، اسلام آباد اور کشمیر کا تعلیمی وتفریحی سفر کیا۔ رابطہ کا مختصر تعارف اگر آپ جاننا چاہیں تو”رابطہ “دارالعلم والتحقیق برائے سائنس وٹیکنالوجی کراچی کے زیر اہتمام ایک خالص تعلیمی وتفریحی پروگرام ہے۔جس کا سلوگن ہے کہ چلتے پھرتے سیکھئے۔  اس ادارے کے بانی و ڈائریکٹر اور رابطہ پروگرام کے روح رواں ہمارے مرشد ومہربان جناب ڈاکٹر سید عزیزالرحمان صاحب ہیں۔

 ڈاکٹرسید عزیزالرحمن صاحب کو اللہ تعالی نے بڑی خوبیوں سے نوازا ہے۔ وہ ایک خوش مزاج، ملنسار  اور وژنری انسان ہیں۔ لکھنے اور بولنے میں ماشااللہ  اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ اسلام آباد اسلامک یونیورسٹی کے زیراہتمام  دعوۃ اکیڈمی سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر ہیں۔ رابطہ  جیسے بہترین پروگرام آج کے دور میں ان کی بہترین اپروچ کی زندہ مثال   ہے۔

یہ پروگرام  دراصل مدارس کے فضلا اور فارغ التحصیل علما کیلئے تشکیل دیا گیا ہے۔ تاکہ ان کو ملک کے مختلف شہروں،  بڑے  قومی اور بین الاقوامی اداروں، تعلیمی مراکز اور یونیورسٹیوں سے متعارف کرایاجائے۔ مختلف اہم علمی اور نامورشخصیات سے ملاقاتیں کروائی جائیں ۔ اور ان سے استفادے کے مواقع پیداکیے جائیں۔ڈاکٹر صاحب کا ماننا ہے کہ اس سے  مدارس کے فضلا اور ان اداروں یا شخصیات میں باہمی ربط اور تعلق قائم ہوگا۔ جانبین کی  ایک دوسرے سے شناسائی ہو گی ۔ اور ایک  دوسرے کے کا موں سے استفادہ کرنے کے نئے مواقع پیداہونگے۔

اس پروگرام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مدارس اور عام معاشرے یا جدید تعلیمی اداروں کے درمیان جو خلیج حائل ہے وہ کم یا ختم کاجاسکے۔ دونوں طبقات ایک دوسرے کو اپنائیت کے ساتھ سمجھنے لگیں۔نیز ایک دوسرے سے دور رہنے کے نتیجے میں جو منفی تصور ایک دوسرے کے بارے میں قائم ہوگیا ہے  وہ ختم ہوسکے۔ نیز ایک اہم مقصد مدارس کے فضلا کو ان اداروں میں موجود دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی مل سکے۔

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس پروگرام کو “رابطہ” کے نام سے جو عنوان دیا گیا ہے وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے موجود ہ چئیر مین جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب کی طرف سے  دیا گیا ہے۔

ہم نے لاہور میں کیا  دیکھا

Deli gate

اس مختصر تعارف کے بعد آمدم برسر مطلب۔ رابطہ پروگرام کے تحت  ہمارے 7 رفقا کا ایک گروپ 15 جولائی 2022کی رات کو کراچی سے لاہور کیلئے بذریعہ ٹرین روانہ ہوا۔  اس گروپ کی سربراہی جناب ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کررہے تھے۔ گروپ کے شرکا میں ڈاکٹر صاحب اور راقم  الحروف کے علاوہ  جناب ڈاکٹر عبدالقادر صاحب، جناب اویس شاہد صاحب ، جناب عبداللہ صاحب اور جناب فضل اللہ فانی صاحب اور جناب صلاح الدین سادات صاحب شامل تھے۔

 لاہور میں ہماری رہائش کا انتظام ہمارے بزرگ اور مہربان جناب مولانا جہانگیر  محمود صاحب کے ادارے  انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ریسرچ میں کیاگیا تھا۔ روانگی کے اگلے دن عصر کے وقت ہم لاہور پہنچے۔اسٹیشن پر ہمیں لینے کیلئے جناب فیض الرحمن صاحب جو ادارے کے ذمہ دار ہیں پہنچ گئے تھے۔ ہمارا گروپ تھوڑیر ہی دیر میں انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ریسرچ میں موجود تھا۔

ماشااللہ یہ ادارہ لاہورکے پوش علاقے کے اندر ایک خوبصورت بلڈنگ میں قائم ہے۔ یہ ادارہ تعلیم وتربیت کیلئے بہترین خدمات انجام دے رہاہے۔ اور مختلف مفیدکورسز آن لائن فراہم کررہا ہے۔ اسی ادارے میں مغرب کے بعد ایک اہم سیشن کا انعقاد ہوا۔ جس میں جناب مولانا شیخ  جہانگیرصاحب کی طرف سے پرمغز گفتگو کے بعدسوالات وجوابات کی نشست بھی ہوئی۔ عشاکے بعد مولانا کی طرف سے عشائیہ کابھی انتظام تھا۔

لاہور پہنچنے پر جناب افضل کاسی صاحب نے ہمیں جوائن کیا ۔ جوکوئٹہ سے کوئٹہ سے تشریف لائے تھے اور ہمارے رابطہ گروپ کی نمائندگی کررہے تھے۔ اور برادر صغیر جناب انعام الحق اسامہ  صاحب نے بھی ہمیں جوائن کیا جو خاص ا س مقصد کیلئے اسلام آباد سے تشریف لائے تھے۔ یوں ہمارے قافلے میں لاہور پہنچنے پر دو افراد کا اور اضافہ ہوگیا۔

 اگلے دن پرانے اور اصل  لاہور کی ہماری وزٹ پہلے سے طے تھی۔   چنانچہ صبح ناشتے کے بعدہم دوگاڑیوں میں  وزٹ کیلئے نکلے۔ ہمارے ساتھ رہنمائی کیلئے    لاہور کے دو گرانقدر صاحبان جناب مولوی فیض الرحمن صاحب اور جناب مولوی زاہد رشید  صاحب بھی تھے۔تھوڑی ہی دیر میں ہم پرانے لاہور یا اندرون لاہور کے دہلی گیٹ پر موجود تھے۔

پرانا لاہور کیا ہے؟

old lahore

 پرانا لاہور   وہ لاہور ہے جس کی ایک لمبی تاریخ ہے جو ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ یہ تاریخ ہزاروں سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ جس میں ہندوراجاوں، مسلمانوں ، سکھوں اور انگریزوں کے بعد حکومت پاکستان کا کردار ہمیں نظر آتاہے۔

لاہور کا پرانے وقتوں میں حفاظتی حصار یا چاردیواری کے اندر  ایک شہر ہوتا تھا۔ جس کے چاروں طرف بارہ یا تیر ہ دروازے ہوتے تھے۔ جو سرشام سورج ڈھلتے کے ساتھ ہی  بند کردییے جاتے تھے۔    لیکن امتداد زمانہ ، حالات کی تبدیلی اور شہر کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے سے و ہ  دیواریں  تو باقی نہ رہ سکیں۔ البتہ ان میں سے اکثر دروازے اب بھی کافی بہتر حالت میں موجو د ہیں۔

پہلے ان تیرہ دروازوں کے صرف نام ملاحظہ کیجئے۔ ان دروازوں کی تفصیلات معلوم کرنے کیلئے کسی اور مضمون کا انتظار کرناپڑے گا۔

دہلی دروازہ، کشمیری دروازہ، اکبری دروازہ، بھاٹی دروازہ، لوہاری دروازہ، موتی دروازہ ، ٹکسالی دروازہ، شاہ عالمی دروازہ، موری دروازہ، شیرانوالہ دروازہ، روشنائی دروازہ، یکی دورازہ  اور مستی دروازہ۔

ہم دہلی دروازے سے شہر میں  داخل ہوئے۔ ہمارے دوستوں نے  ایک گائیڈ کا بھی انتظام کررکھاتھا۔ جو عام طورپرہزار  پندرہ سو فیس پر مین گیٹ سے مل جاتا ہے۔ گائیڈ کرنے کا فائدہ  یہ ہوتا ہے کہ تھوڑے وقت میں بہت ساری چیزوں سے انسان متعارف ہوجاتاہے اور ٹائم بچ جاتا ہے۔ ہمارے گائیڈ جناب یوسف صاحب نہایت خوش اخلاق انسا ن تھے انہوں نے  بڑی خوش اسلوبی سے ہمیں پورا  اندرون شہر گمایا اور ایک ایک چیز کی تفصیل  سے ہمیں آگاہ کیا۔

شاہی حمام لاہور کی سیر

shahi hammam

دہلی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی بائیں  جانب مڑنے پر شاہی حمام سامنے آجاتا ہے۔  لاہور کا موجودہ شاہی حمام وزیر خان حمام بھی کہلاتاہے۔ یہ ایک ترکی طرز کا حمام ہے جسے علم الدین انصاری المعروف وزیر خان نے 1635 میں بادشاہ وقت کے کہنے پر تعمیر کروایا تھا۔ یہ حمام مسجد وزیر خان کے بالکل قریب ہے۔ کہاجاتاہے کہ اسے بعد میں مسجد کیلئے وقف کیا گیا تھا۔

پرانے زمانے میں حماموں کا بڑارواج  ہوتا تھا اور شہر وں میں کئی حما م ہوا کرتے تھے۔ مغلیہ دور میں بھی ایک سے زائد حمام  لاہورشہر میں موجود  تھے۔ لیکن لاہور کا شاہی حمام زمانے کے دست برد سے بچ جانے والا ایک ہی خوش نصیب حمام ہے۔

تقریبا 21 سے زائد کمروں پر مشتمل  منفرد ساخت اور تزئین وآرائش کے حامل اس حمام کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ حمام صرف نہانے دھونے کیلئے ہی نہیں بلکہ یہ ذہنی آسودگی اور لوگوں کے باہمی میل ملاپ اور ملاقاتوں  کیلئے بھی  بھرپور استعمال ہوتا تھا۔

اس حمام میں بیک وقت گرم اور ٹھنڈ اپانی موجود ہوتا تھا۔نہانے کیلئے اس زمانے کی ٹیکنالوجی کے حساب سے شاور بھی ہوتے تھے۔ نیز اس حمام میں اسٹیم بھاپ اور مساج کا بھی انتظام  موجودتھا۔ یہ حما م نہایت اہم تاریخی ورثہ ہے جس سے لاہور کے پرانے  دور کی تمدنی زندگی   اور اس کے اعلی  معیار کا اندازہ ہوتاہے۔

شاہی حمام میں نقارے

اس زمانے کی روایت تھی کہ جب شاہی مہمان باہر سے آتے تو پہلے حمام میں داخل ہوتے ۔وہا ں نہا دھوکراچھی طرح صفائی حاصل کرتے اورپھر باہر نکلتے ۔ جب باہر نکلتے تو ان کے اعزاز میں نقارے بجائے جاتے۔ اور ان کا استقبال کیا جاتا۔

جب ہم شاہی حمام کی سیر کرکے باہر نکلے تو شاہی مہمان کے طور پر ہمارے گروپ کا استقبال کیا گیا اور  نقارے بجائے گئے ۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ہم تھوڑی  دیر کیلئے تاریخ کے گزشتہ ادوار میں کھوگئے۔ مغلیہ سلطنت کی تاریخ، ان کی ٹھاٹ باٹھ اور اس  دور کی یادیں جو ہم نے کتابوں میں پڑھ رکھی تھیں تھوڑی دیر کیلئے ہمارے میں تازہ ہوگئیں۔

شاہی حمام میں سرگوشی کا گوشہ

شاہی حمام میں ایک چیز جس کا ہمیں پہلی مرتبہ تجربہ ہوا وہ یہ تھا۔ کہ اس دور میں شاہی حما م اہم ملاقاتوں او ر سرگوشیوں کیلئے بھی استعما ل ہوتاتھا۔ لوگ مجمع کے سامنے اپنے راز کی بات ایک دوسرے سے شیئر کرنے کے بجائے حمام میں موجود ایک گوشے میں جاتے ۔  اس گوشے میں بالکل آہستہ آواز کے ساتھ سرگوشی کرنے سے دوسرے گوشے میں موجود شخص اس سرگوشی کو آرام سے سن لیتا تھا۔ جب کہ برابر میں جومود  تیسرے شخص کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی تھی۔

یہ سب کچھ جیومیٹریکل  ٹیکنالوجی کی مد د سے  ممکن بنایا گیاتھا۔  جو اس دور کے لوگوں کے پا س موجود تھی۔ شروع میں جب ہمارے گائیڈ یوسف صاحب نے ہمیں  اس بارے میں بتایا  تو پہلے پہل بات پر یقین نہیں آیا۔ پھر ہم نے اس عمل کا پریٹیکل تجربہ  کیا تب جاکر یقین آگیا۔ شاہی حما م کی سیر کرنے والوں کو یہ تجربہ ضرور کرنا چاہیے۔

 تعلیم اور تفریح ساتھ ساتھ

پرانا لاہور شہر کی سیر سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ جب ہم ان چیزوں کو کتاب یا مضامین کی شکل میں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو سرسری سے گزرجاتے ہیں۔لیکن جب ان مقامات کی باقاعدہ سیر کرتے ہیں تو عین القین ہوجاتا ہے۔  اور بہت ساری باتیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔

ہمیں خود بھی ایسے مقاما ت کی سیر کرنی چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی ایسے مقامات کی سیر کروانی چاہیے۔ یہ علم کا بہترین ذریعہ ہے۔ لیکن ایک مفت مشور ہ میں یہاں ضروردینا چاہوں گا کہ جب کسی تاریخی مقام کی سیر کو نکلنا کا منصوبہ بنائیں۔ تو پہلے اس  کی تاریخ کے بارے میں ضرور پڑھ کرجائیے۔ اس سے ان مقامات کی سیر محض تفریح کیلئے نہیں بلکہ علم کے حصول کا ذریعہ بنے گی۔ اور ساتھ اس مقام کی تفریح کا مزہ دوبالاہوجائے گا۔ جاری ہے!

مزید پڑھئے۔۔۔۔ لاہور کی مختصر تاریخ

1 Trackback / Pingback

  1. لاہور کی مختصر تاریخ - EduTarbiyah.com

Leave a Reply