پٹرولیم مصنوعات مزید 30 روپے مہنگی،عوام حکومت سے مایوس

Latest petrol price in Pakistan

پٹرولیم مصنوعات مزید 30 روپے مہنگی،عوام حکومت سے مایوس

کراچی (نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 30 روپے کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پٹرول فی لیٹر 209 روپے 86 پیسے,ڈیزل 204 روپے 15 پیسے,اور مٹی کا تیل 181 روپے 94 پیسے کا ہو گیا ہے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان  وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 2 جون کو رات دس بجے ایک پریس کانفرنس میں کیا موجودہ حکومت کی طرف سے ایک ہفتے کے اندر دوسری دفعہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

 سات دن کے اندر 60 روپے سے زائد اضافے کے بعد پاکستان میں پہلی بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دوسو کے ہندسے کو عبور کر چکی ہیں پٹرول کی قیمتوں میں نئے اضافے کی خبر پاکستانی عوام پر بجلی بن کر گری ہے نیا اضافہ ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان لا سکتا ہے حال ہی میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں آٹھ روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

 پٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والا نیا اضافہ بجلی کے نرخوں پر مزید اثر انداز ہوگا جس کے نتیجے میں اشیائے خور و نوش سمیت تمام چیزوں کے نرخوں کو پر لگ جائیں گے اور پہلے سے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے در پے ہوش ربا اضافوں نے موجودہ حکومت سے وابستہ عوامی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

 عوام کا خیال تھا کہ یہ حکومت سابقہ حکومت والی غلطیاں نہیں دہرائے گی اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گی لیکن فی الحال اس کے برعکس ہوتا نظر آرہا ہے دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت بھی پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 54 روپے کی سبسڈی دے رہی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت بڑھائی گئی ہیں یہ معاہدہ ہم نے نہیں گزشتہ حکومت نے کیا تھا۔

 اگر ہم پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں دی جانے والی سبسڈی کم نہیں کریں گے تو ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب ڈالر قرضے کی قسط جاری نہیں ہوگی جس کے نتیجے میں ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہو جائے گا ملک کو مشکل معاشی صورت حال سے نکالنے کے لئے مشکل اور غیر مقبول فیصلے کر رہے ہیں

Be the first to comment

Leave a Reply