Columns

مشرقی پاکستان کا سانحہ

مشرقی پاکستان کا سانحہ

ضیاء چترالی

یکم مارچ 1971ءکو گورنر مشرقی پاکستان ایڈمرل احسن کو ہٹا دیا گیا۔ پورے مشرقی پاکستان میں کر فیو نافذ کر دیا گیا، لیکن کرفیو کو عوامی لیگ کے کارکنوں نے تسلیم نہیں کیا اور اس کی مکمل اور کھل کر خلاف ورزی کرنے لگے، بلکہ بعض جگہوں پر جہاں محب وطن غیر بنگالیوں کی آبادی تھی، وہاں عوامی لیگ نے اپنا کرفیو نافذ کر دیا، تاکہ غیر بنگالی پاکستانی افواج کی کسی بھی قسم کی مدد نہ کر سکیں۔ یاد رہے کہ غیر بنگالیوں کی مدد اور تعاون کے بغیر پاکستانی افواج دوبارہ مشرقی پاکستان میں قدم نہیں جما سکتی تھیں، جس کا خمیازہ آج بھی غیر بنگالی پاکستانی بنگلہ دیش کے 66 کیمپوں میں محصور اور مجبور پاکستان آنے کی آس میں قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آج بھی ان کے کیمپوں میں قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور لیاقت علی خان کی تصاویر آویزاں ہیں۔

3 مارچ 1971ءغیر بنگالیوں کی آبادی وائر لیس کالونی، فیروز شاہ کالونی اور چٹا گانگ کے دیگر علاقوں پر حملہ کیا گیا، جسے 20 بلوچ رجمنٹ نے پسپا کرتے ہوئے شرپسندوں سے آبادی کو بچایا، پھر بھی بڑی تعداد میں غیر بنگالی شہید ہوئے۔ لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان نے بریگیڈیئر مُجمدار کو سب زونل مارشل لا ایڈ منسٹریٹر چٹا گانگ اور ”ہل ٹریک“مقرر کر دیا۔ اس سے پہلے اس کی ذمہ داری بریگیڈیئر اقبال شفیع، کمانڈر 53 بریگیڈیئر (کومیلا) کے پاس تھی۔

شیخ مجیب کی سول نافرمانی کی تحریک

شیخ مجیب الرحمٰن نے ”Non Cooperative Movement“ ”سول نافرمانی کی تحریک“ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص کسی بھی قسم کا کوئی ٹیکس حکومت کو ادا نہیں کرے گا اور مطالبہ کیا کہ ”فوجی ٹروپس“ ”بیرکوں“ میں واپس بھیجے جائیں اور 7 مارچ 1971ءسے قبل عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار منتقل کر دیا جائے۔ اسی دوران مولانا نورانی، مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، اصغر خان اور دیگر پاکستانی سیاست دان اور رہنماؤں نے شیخ مجیب سے ملاقات کر کے حالات اور ملک بچانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔
صدر پاکستان نے 6 مارچ 1971ءکو اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا منسوخ شدہ اجلاس اب 25 مارچ 1971ءکو ہوگا۔ حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے تھے، سینٹرل جیل ڈھاکہ پر حملہ کرکے قیدیوں کو چھڑا لیا گیا۔ صدر یحییٰ خان نے لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان کو گورنر مشرقی پاکستان اور مارشل لاءایڈ منسٹریٹر مقرر کر دیا۔ ایم۔ اے صدیقی چیف جسٹس، ایسٹ پاکستان ہائی کورٹ نے جنرل ٹکا خان کا حلف لینے سے انکار کر دیا۔
7 مارچ 1971ءکو شیخ مجیب الرحمٰن نے ”رمنا ریس گراونڈ“ ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے ”جئے بنگلہ“ کا نعرہ بلند کیا اور کہا کہ آپ نے ہمیں اپنے ووٹوں سے منتخب کر کے اسمبلی میں آئین بنانے کے لئے بھیجا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم قانون سازی کر سکیں گے اور نئے آئین میں بنگال کے عوام کو معاشی آزادی، سیاسی آزادی، کلچرل آزادی اور مکمل خود مختاری مل سکے گی، عوام کو اپنے حقیقی حقوق میسر ہوں گے۔ میں (شیخ مجیب الرحمٰن) نے جنرل یحییٰ خان کو کہا ہے کہ 15 فروری 1971ءکو اسمبلی کا اجلاس بلائیں، لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی۔ میں ناصرف بنگال، بلکہ پورے پاکستان کا اکثریتی پارٹی کا قائد ہوں، لیکن یحییٰ خان نے بھٹو کی بات تسلیم کی اور 3 مارچ 1971ءکو قومی اسمبلی اجلاس طلب کر لیا، لیکن یکم مارچ 1971ءکو یحییٰ خان نے دوبارہ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے شیخ مجیب الرحمٰن کے مطالبات

بعد ازاں یحییٰ خان نے دوبارہ اجلاس 25 مارچ 1971ءکو طلب کرلیا۔ اس اجلاس میں شرکت کے لئے شیخ مجیب الرحمٰن نے مندرجہ ذیل مطالبات پیش کئے۔
(1) فوراً مارشل لاءختم کیا جائے۔
(2) فوج واپس بیرکوں میں جائے اور اس کی آمدو رفت روکی اور بند کی جائے۔
(3) اب تک جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں، ان کو جوڈیشنل انکوائری کی جائے۔
(4) منتخب نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی پُر امن طریقہ سے یقینی بنائی جائے۔
(5) قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کو بھی قانون سازی کے اختیارات دیئے جائیں۔
(6) پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت مشرقی پاکستان کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے۔

8 مارچ 1971ءکو شیخ مجیب الرحمٰن نے عوام کو نئی ہدایات جاری کیں۔ حکومت کو کسی بھی قسم کا ٹیکس ادا نہ کیا جائے۔ گورنمنٹ، سیمی گورنمنٹ، سیکریٹریٹ، ہائی کورٹ اور دیگر کورٹ و دیگر جگہوں میں کام مکمل بند کر دیا جائے۔ ریڈیو، ٹیلی وژن، اخبارات، عوامی لیگ اور تحریک کی خبروں کو مکمل شائع کریں۔ تمام تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند رہیں گے۔ اسٹیٹ بنک اور دیگر بینک کسی بھی قسم کی رقم مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان ترسیل نہیں کریں گے۔ تمام سرکاری افسران مجھ سے ہدایات حاصل کریں، وغیرہ وغیرہ۔

عوامی لیگ کے ورکرز، مُکتی باہنی، لال باہنی شانتی باہنی، عسکری اور نیم عسکری جماعتیں، پولیس و دیگر تربیت یافتہ عوامی لیگ کے ”فریڈم فائٹروں“ نے ریلوے برج، ریلوے لائنیں، شاہرائیں، بندگاہوں و دیگر نقل و حمل کے ذرائع تباہ کرنا شروع کردیے۔ پورا مشرقی پاکستان آگ و خون کے دریا میں تبدیل ہوگیا۔ عسکری جماعتوں کے باغی رابطہ کے لئے ایسٹ پاکستان رائیفلز (E.P.R) اور ایسٹ بنگال رجمنٹ (E.B.R) کے وائرلیس استعمال کررہے تھے۔ چٹا گانگ میں مقیم ممتاز سماجی اور ادبی شخصیت انجینئر قمعرالعین خان صاحب کسی طرح جان بچا کر ایک چھوٹی سی کشتی کے ذریعہ اپنے کچھ احباب کے ساتھ ”اکیاب“ (برما) کے لئے روانہ ہوگئے بارہ گھنٹہ کا یہ سفر انہوں نے تین دنوں میں مکمل کیا، پانی اور راشن سب ختم ہوچکا تھا، بڑی درد ناک کہانی ہے کسی موقع پر بیان کروں گا۔ ان کا قصور پاکستانی پرچم بلند اور پاکستانی افواج کی مدد کرنا تھا۔ باغی فوجی انہیں شکاری کتوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے۔ ”اکیاب“ میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی جو کشتی کے ذریعہ زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد پہنچے۔ ان میں پاکستانی فوجی بھی تھے۔

عوامی لیگ کا قومی اسمبلی اجلاس سے پہلے پاور کی تبدیلی کا مطالبہ

شیخ مجیب الرحمٰن کا نیا مطالبہ یہ تھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے ”ٹرانسفر آف پاور“ کیا جائے۔ ان کے سارے مطالبات منظور ہونے کی شرط پر مجیب الرحمٰن نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں شرکت پر غور کرے گا۔ شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کی مذاکراتی ٹیم کے آراکین سید نور السلام، تاج الدین احمد اور ڈاکٹر کمال حسین نے صدر یحییٰ خان سے ملاقاتیں جاری رکھیں۔ مطالبات میں ردوبدل اور مجوزہ ڈارفٹ میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔

مولانا مفتی محمود ویگر کی شیخ مجیب سے ملاقات ،فہمائش کی کوششیں

19 مارچ 1971 کو ممتاز سیاست داں ممتاز محمد خاں دولتا نہ، سردار شوکت حیات خان اور مولانا مفتی محمود نے صدر جنرل یحییٰ خان اور شیخ مجیب الرحمٰن سے ڈھاکہ میں ملاقات کر کے حالات کو سُدھارنے کی کوششیں کیں۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنے مطالبات کے حق میں قانونی ماہر اے۔ کے۔ بروھی کا نام پیش کیا جو کہ Draft کی درستگی کریں گے۔

22 مارچ کو زیڈ۔ اے۔ بھٹو، میاں ممتاز محمد خان دولتانہ، سردار شوکت حیات، مولانا مفتی محمود، خان عبدا لولی خان، میر غوث بخش بزنجو، مولانا شاہ احمد نورانی و دیگر نے صدر یحییٰ خان اور شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات کر کے سیاسی تصفیے کی کوششیں کیں۔ اس دوران زیڈ۔ اے بھٹو اپنے ساتھیوں محمود علی قصوری، جے۔ اے۔ رحیم ڈاکٹر مبشر حسن، حفیظ پیرا زادہ اور رفیع رضا کے ہمراہ صدر یحییٰ خان اور بعد ازاں شیخ مجیب الرحمٰن اور تاج الدین سے ملے۔ ملاقاتیں ہوتی رہیں، اجلاس کے بعد اجلاس ہوتے رہے۔ اُدھر محبِ وطن پاکستانی، غیر بنگالی، پاکستانی افواج کے جوان اور افسران شہید ہوتے رہے اور آگ اور خون کی ندیاں بہتی رہیں۔

یوم پاکستان کے موقع پر “, یوم مزاحمت”

شیخ مجیب الرحمٰن کے مطالبات طوالت، پیچیدگی اور حساس نوعیت کی حامل اور مزید وقت طلب تھے۔ یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونے کی تاریخ دوبارہ بڑھا کر 2 اپریل 1971ءکردی۔ ”بنگلہ دیش سینٹرل چھاترو سنگرام پرشد“ نے 23 مارچ 1971ءکو ”یوم پاکستان“ کے موقع پر ”یوم مزاحمت“ منانے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ عوام اپنے گھروں، دفاتر، کارخانوں، اسکولز، کالجز پر ہر جگہ بنگلہ دیش کا پرچم آویزاں کریں اور یہی ہوا ۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے گھر بھی بنگلہ دیش کا پرچم لہرا دیا گیا۔ صرف اور صرف محب وطن غیر بنگالیوں کی آبادی، گورنر ہاوس، کنٹونمنٹ، ایئرپورٹ پر پاکستان پرچم لہرایا گیا، جس کی غیر بنگالی پاکسانیوں کو آج تک قیمت ادا کرنی پڑ رھی ہے اور آج تک وہ وطن واپس آنے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

بحری جہاز M.V.Swat چٹا گانگ کی بندرگاہ پر پہنچا، اس پر بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود، مارٹر گولے وغیرہ موجود تھے۔ بنگالی مزدوروں نے جہاز سے اسلحہ اتارنے سے انکار کردیا اور غیر بنگالی مزدوروں پر پابندی لگادی کہ کوئی بھی اس کام کو انجام نہیں دے گا۔ پاکستانی آرمی کی مداخلت پر کارگو جہاز سے اتارا گیا، لیکن آگے راستہ بلاک تھا۔ سڑکوں کو مختلف طریقوں سے بند کر کے بلاک کر دیا گیا تھا۔ اس لئے اسلحہ کی کنٹونمنٹ کے علاقے میں منتقلی دشوار تھی۔ باغی فوجی اِرد گرد اسلحے کی دکانوِں، پولیس، و دیگر جگہوں سے اسلحہ لوٹ کر پاکستانی افواج پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے تھے۔

متحدہ پاکستان کے لئے تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ شیخ مجیب علیحدہ مملکت بنگلہ دیش کے قیام کی جدوجہد کے حامی تھے۔ شیخ مجیب نے 25 مارچ 1971ءکو کرنل عثمانی (ریٹائرڈ) کو انقلابی فورس کا کمانڈر مقرر کر دیا۔ اُدھر ایسٹ پاکستان رائیفلز (E.P.R)، ایسٹ بنگال رجمنٹ (E.B.R)۔ پیرا ملٹری و دیگر فورس کے افسران اور جوان بغاوت کر چکے تھے اور پاکستانی افواج پر حملہ کر رہے تھے۔ ہندوستانی فوج بھی ان میں شامل ہوچکی تھی۔ پروگرام کے مطابق ۔26 مارچ کی صبح کو ”آزاد ریپبلک آف بنگلہ دیش“ کے قیام کا اعلان، ڈھاکہ، چٹا گانگ پر باغی افواج اور عوامی لیگ کے رضا کار فورس کا پاکستانی افواج پر حملہ کر کے قبضہ کرنا تھا۔ اس کے لئے ہندوستانی سرحدوں پر ایسٹ پاکستان رائیلفز (E.P.R) اور اسیٹ بنگال رجمنٹ (E.B.R) کو واپس بلایا گیا، جس کی وجہ سے پاکستانی فوج دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ انہیں بارڈر کی حفاظت اور اندرونِ شہر نگہبانی کرنی تھی۔
سلام ہے اُن محبِ وطن پاکستانیوں کو، جنہوں نے فوج کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی خدمات پیش کیں اور مادر وطنِ پر قربان ہوگئے۔ عوامی لیگ کے اس اعلان سے صرف چند گھنٹہ قبل صدر پاکستان کے حکم پر پاکستانی افواج نے بیرکوں سے نکل کر دوبارہ چپہ چپہ پر پاکستانی پرچم لہرایا اس کے لئے انہیں قدم قدم پر جان کا نذرانہ پیش کرنا پرا۔

سقوط ڈھاکہ کا سبق

مئی 1971ءکے شروع میں حالات قدرے کنٹرول میں آگئے تھے، لیکن بیرونی قوتوں کی مداخلت، اپنوں کی سازش نے ہمیں سرنگوں کیا۔ سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر 1971ءہماری تاریخ کا بدترین دن ہے۔ آج تک ہم نے اس سانحہ عظیم سے سبق حاصل نہیں کیا۔ آج بھی ہمارے ہاں طاقت کے زور پر فیصلہ مسلط کرنے کی سعی ہے۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے ناراض اور خفا ہونے والوں کو گلے لگائیں، مل بیٹھ کر مسائل حل کریں۔ دلوں میں ایک دوسرے کے لئے جگہ نکالیں ۔ بنلگہ دیش میں محصور اور محب وطن پاکستانیوں کو ، جنہوں نے متحدہ پاکستان کے لئے پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ جدوجہد کی، تباہ و برباد ہوکے قید و بند اور محصور ہوئے انہیں پاکستان لایا جائے۔ اس طرح حب الوطنی، جذبہ، مزید بیدار اور مضبوط ہوگا۔ اﷲ تعالٰٰی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

یہ بھی پڑھئیے:

حرم کا کبوتر 134 سال کی عمر میں چل بسا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button