Columns

محبتوں کا سفیر آم اور ہماری روایات

محبتوں کا سفیر آم اور ہماری روایات

تحریر ؛۔ جاویدایازخان

کہتے ہیں آم ایک پھل ہی نہیں ہے یہ ہماری پوری تہذیب کانام ہے اورریاست بہاولپور اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ سرائیکی زبان کی طرح یہاں کا آم بھی مٹھاس اور ذائقے میں اپنی مثال آپ ہے جو ہماری سرائیکی اور اردو زبان ،محاوروں ،رسم ورواج اور ادبی ر وایات کا حصہ بن چکا ہےنواب امیر آف بہاولپور باغات اور پھلوں کے بڑے شوقین تھے ان کے محلات کے ارد گرد بےشمار ہمہ قسم پھلوں کے باغات آج بھی موجود ہیں جہاں دنیا بھر کی نایاب اقسام کے آم لگاے ُ گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:غصہ اور اس کے مضراثرات

ریاست بہاولپور کا محکمہ باغات اور آم کی ہزاروں باغیچیاں

ریاست بہاولپور میں محکمہ باغات علحیدہ سے قائم تھا جو ناصرف باغات کی دیکھ بھا کرتا تھا بلکہ ریاست کے لوگوں کو باغات لگانے کی ترغیب بھی دیتا تھا یہی وجہ ہے کہ پوری ریاست میں بڑے بڑے باغوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں چھوٹی چھوٹی باغیچیاں نطر آتی ہیں ریاست کی ہر سرکاری عمارت میں پھلدار درختوں کا ہونا لازمی ہوا کرتا تھا ۔

آم، کیری اور ترنج

یوں تو آم برصغیر کی مشترکہ ثقافت اور تہذیب کو جوڑتا ہے لیکن ریاست بہاولپور کے رسم و رواج میں لباس بھی اہم عنصر ہے۔ ذہن میں سوال آیا ہو گا کہ آم یا کیری اور لباس کا کیا لینا دینا؟ تو ذرا یاد کریں اپنے کڑھائی والے کرتے، شالیں ،دسترخوان اور کشمیری پشمینہ نکال کر دیکھ لیں۔ سب جگہ کیری کی شکل جیسے ’ترنج‘ کہا جاتا ہے بنے نظر آئیں گے۔ چادریں یا میز پوش پر کڑھائی لکھنوی ہو یا ملتانی شیڈ ورک کہیں نہ کہیں آم یا کیری کی شکل مل جائی گی۔ بلکہ یہ ڈیزائن کھڈی اور بلاک پرنٹ میں بھی نظر آ جاتا ہے۔اوچشریف کے مشہور ٹھپوں اور چھاپوں والی چادریں اور کپڑے ہمارے دیہی علاقے میں آج بھی مشہور ہیں۔
ترنج کا لفظ ہم نے سب سے پہلے اپنی والدہ سے سنا تھا جب وہ ہم سے بستر پر ترنجوں والی چادر لگانے کا کہہ رہی ہوتی تھیں ۔ والدہ کی بات پر یاد آیا یہ پیلا اور رسیلا آم بازار میں مئی یا جون تک پہنچتا ہے، لیکن گھروں میں اس کا ذکر آم کے بور سے شروع ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عشرہ ذو الحجہ کے فضائل واحکام

آم بہار کی آمد کی علامت

جنوری میں درخت پر بور کا لگنا ہوتا ہے کہ کوئل کے کوکنے کی خوش کن آواز کانوں میں رس گھولنے لگتی ہے۔ آم کے سفید چھوٹے پھولوں کی آمد کو موسم بہار کی پہلی نشانی کے طور پر لیا جاتا ہے۔ بور یعنی آم کے پھول، ایک ڈیڑھ ماہ میں کیری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ہماری ماں مارچ سے ہی جب آندھی آتی ہمیں بازار کی طرف دوڑاتی اور کچے آم جنہیں کیری کہتی تھیں منگوا لیتیں جنہیں ہم بچوں کو کچا کھانے کی اجازت نہ تھی کیونکہ ان کے کھانے سے گرمی دانے اور پت نکل آتی تھی اور ان کیریوں کے آتے ہی ہمارے دسترخوان پر کیری کی کھٹی میٹھی چٹنی اور مربے کا ہی اضافہ نہیں ہوتا بلکہ ملکہ مسور دال کا تصور لہسن مرچ اور کیری کی پسی چٹنی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

یہ ہی نہیں بلکہ میٹھے میں آم رس یا گڑمبا بھی بنتا ہے۔ یہ ذائقے میں کھٹا میٹھا ہوتا ہے، جو گرمی کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔ ’کیری کے اچار کا تو کیا ہی کہنا ہے، کیونکہ مختلف دالوں اور دال چاول کا مزہ اچار کے بغیر نامکمل ہے۔وہ طرح طرح کی چٹنیاں اور اچار اور کٹی ہوئی امبیوں کی کھٹائی کے بڑی تعداد میں ہار بناکر رکھ لیتی تھیں ، امبیوں کی یہ کھٹائی جب دھوپ میں سوکھ جاتی تو نہ صرف سالن میں استعمال ہوتی بلکہ پورے محلے اور عزیزو اقارب کو ایک ایک ہار تحفہ میں دیا جاتا جو اپنے ذائقے کی وجہ سے سالن کا لطف بڑھا دیتا تھا۔

آم بہ طور سالن

پھر آم کی آمد کیا ہوتی ؟دوپہر کو سالن ملنا بند ہو جاتا آم کے رس کی چٹنی پیاز اور پودینے کی چٹنی میں ملا کر دی جاتی یا پھر روٹی کے ساتھ دو ٓام دے دئیے جاتے تھے ، آم کے ساتھ روٹی کھانے کا لطف اور سواد مجھے کبھی نہیں بھولتا مگر سختی تھی کہ آم کھا کر دودھ کی نمکین کچی لسی ضرور پینی ہے جونہی برسات ہوتی تو اما ں اور سب بڑی بہنیں اور کزن گرم گرم دال بھرے پراٹھے تیار کرتیں ۔ بڑے بوڑھوں کے بعد اس لذیذ کھانے کے حقدار ہم بچے ٹھہرتے۔ ہمیں آم کو نرم اور پلپلا کر کے دیتیں اور گرم دال بھرے پراٹھے کو آم کے رس کے ساتھ کھایا جاتا تھا اور پھر کچی لسی تو لازم تھی ۔یوں آم کا استعمال اچار ،کھٹائی ،مربے کی شکل میں پورے سال کسی نہ کسی شکل میں ہمارے دسترخوان کا حصہ رہتا تھا۔شدیدگرمی میں آم ہمارے علاقے کی وہ سوغات ہیں جن کی پوری دنیا دیوانی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں ؛بچوں کی دلچسپ سائنسی ایجادات

آم کی قسمیں

آج بھی ریاست بہاولپور میں ابھی آم کی فصل اترنے نہ پاتی ہے کہ یہاں کی عوام پرجوش ہو جاتی ہے۔ ان کے نعروں کی گونج سوشل میڈیا پر نظر آنے لگتی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہوتا ہے کہ ’ہمارا چونسا سب سے اچھا، تو کہیں سے آواز آتی ہے کہ ہمارے انور لٹور ، لنگڑے ،دسہری ،چونسے اور الفانسو کا تو کوئی جوڑ ہی نہیں کوئی ملتانی اور رحیم یار خان کے دوستوں سے آموں کے تحائف کا منتطر ہےاور مختلف پیغام بھیج کر یاد دہانی کرا رہا ہے۔ آم کی کوئی بھی قسم ہو، یہ عام آدمی سے لے کر خواص تک، سب کے دل خوش کرتا ہے۔ آپ خود کسی بھی آم کے ٹھیلے کے قریب سے گزر کر دیکھ لیں۔ خاص الخاص آموں تو کو چھوڑ دیں اگر طوطا پری، سفیدہ، لال بادشاہ اور نیلم کی مخصوص خوشبو، ذائقہ اور رنگت آپ کے منہ میں پانی نہ لے آئے تو کہیں۔

آم اور رحیم یار خان

پوری ریاست بہاولپور میں آم کی فصل آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہوتی ہے ریاست بہاولپور میں ضلع رحیم یار خان اس سلسلے میں خصوصی اہمیت کا حاصل ہے یہا ں سے ہزاروں ایکٹروں پر کاشت آم کی فصل پورے پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں بجھوائی جاتی ہے جس سے ایک بڑا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے ۔آپ رحیم یار خان کی جانب سفر کریں تو ہر طرف رنگ برنگ آموں کی بہار دیکھنے کو ملتی ہے ۔یہاں کے لوگوں کے جتنے بڑے بڑے باغات ہیں اس سے بھی بڑے بڑے دل ہیں اس موسم میں آموں کا یہ تحفہ ایک عام اور غریب آدمی سے لیکر بڑے بڑے لوگوں تک پہنچانا یہاں کے لوگوں کی سخاوت ،وضع داری اور دوستوں سے محبت کو ظاہر کرتی ہے ۔

ایسا علاقہ جہاں آم کی پیداوار کا چالیس فیصد تقسیم ہوجاتا ہے

میرے خیال میں یہاں کی کل پیداوار کا چالیس فیصد حصہ تقسیم ہوجاتا ہے ۔ ریاست بہاولپور میں تحائف کا لین دین رواج کا حصہ ہے۔ ریاستی اور سرائیکی بنیادی طور پر روایتی لوگ ہیں عید ہو یا دوستوں کے گھروں میں ’موسم کا پہلا پھل‘ ضرور بھیجا جاتا تھا لوگوں نے اپنے باغ میں پودے مہمان نوازی کے لیے مخصوص کئے ہوے ہوتے تھے اب بھی گو اس رسم میں تھوڑی کمی ضرور آئی ہے لیکن یہ روایات زندہ ہیں ۔
یہاں آج بھی باغ مالکان سے آم مانگ کر کھانے کو عار نہیں سمجھا جاتا لوگ بلاتکلف فرمائش کر کے آموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اب وہ روایتی انداز تو نہیں رہا۔ لیکن اب بھی خاندانوں میں بازار سے خرید کر موسم کا پہلا پھل ’آم‘ ایک دوسرے کے گھر بھجوانے کی روایت ہے۔ امیر غریب اپنی اپنی استطاعت کی مطابق آموں کے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں۔

آم کے استقبال کے لئے ساونی کا رواج اور مینگو پارٹیاں

ایک زمانے میں آموں کے استقبال کے لیے ریاست بہاولپور میں “ساونی ” منانے کا رواج تھا جو اکثر نہر کنارے یا دریا کنارے منائی جاتی تھی لیکن آج کل” ساونی “کی جگہ مینگو پارٹیوں کا بڑا شور ہے۔ آموں کا موسم آتے ہی آپ کے پاس آم پارٹی کی دعوت آنے لگتی ہے۔ ان آم پارٹیوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سی سیاسی جماعتیں بھی مینگو پارٹیوں کا اہتمام کرتی ہیں، اس طرح ان کے سماجی رابطے بڑھتے ہیں۔
یہ آم پارٹیاں عموما” کسی نہر ،سوئمنگ پول اور ٹیوب ویل پر منعقد کی جاتی ہیں جہا ں تفریح ،گپ شپ اور نہانے کے ساتھ ساتھ آموں ،کچی لسی یا بادام او خشخاس کی ٹھڈائی سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے اور کھانے کابھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ۔
یہ مینگو پارٹیاں ہماری روایات سے ہیں جو صرف آموں سے محبت کرنا ہی نہیں سکھاتیں بلکہ آپس میں بھائی چارے ، محبت اور اخوت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتیں ہیں ۔اسی لیے یہاں کے بزرگ آم کو امن اور محبتوں کا سفیر کہتے تھے کیونکہ اس کے آنے سے محبتوں کا سفر رواں ہو جاتا ہے ۔آئیں اپنی ان روایات کو زندہ رکھنے کی کوشش میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button