مسلم امہ اور حاضر عالم اسلام

حاضر عالم اسلام  تاریخ کے آئینے میں

Muslim Ummah
Muslim Ummah at current times

ڈاکٹرمحمدیونس خالد

گذشتہ سے پیوستہ
اتحاد امت کے موضوع کے ضمن میں یہ جاننا نہایت ضروری ہے، کہ امت مسلمہ کا مسکن یا عالم اسلام کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی کیا اہمیت ہے؟ اس کے وسائل کیا ہیں؟ عالم اسلام کی پسماندگی کے اسباب کیا ہیں؟ نیز حاضر عالم اسلام کی بیداری کی کیا کیفیت ہے؟جب تک ان سوالات کے جوابات سے بخوبی آگاہی حاصل نہ کی جائے، امت مسلمہ کا کوئی فرد شعوری طور پر موثر کردار ادا نہیں کرسکتا۔

اور خاص طور پر اتحاد امت کے موضوع پر جامع اپروچ کے ساتھ کوئی لائحہ عمل مرتب کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس ضمن میں امت مسلمہ اورعالم اسلام کے درمیان فرق کو جاننا بھی ضروری ہے۔

امت مسلمہ

امت مسلمہ یا مسلم امہ ایک اصطلاح ہے، جو دنیا میں بسنے والے تمام افراد امت کا احاطہ کرتی ہے۔ چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں ۔کسی بھی رنگ ونسل سے ان کا تعلق ہو۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے وہ شہری ہوں۔اور کسی بھی قوم و برادری سے ان کاتعلق ہو۔

 اس امت  کارکن بننے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ انسان کلمہ طیبہ کا دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرتا ہو۔چاہے وہ مسلمان ملک کا باشندہ ہو یا غیر مسلم ملک کا رہنے والا۔ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس کے تحت دنیا میں بسنے والے تمام مسلمان داخل ہیں ۔

حاضر عالم اسلام

عالم اسلام کی اصطلاح ایک خاص قطعہ ارض کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ جہاں مسلمانوں کی ا کثریت کے ساتھ ان کو اقتدار بھی حاصل ہو۔عالم اسلام کو مسلم دنیا سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔دنیا کے نقشے میں عالم اسلام کو دیکھا جائے تو اس کے تقریباً تمام ممالک جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے متصل نظر آئیں گے۔

اس کی حدود مشرق میں انڈونیشیاء سے لیکر مغرب میں مراکش تک اور شمال میں آذربائیجان سے لے کرجنوب میں موزنبیق تک پھیلی ہوئی ہیں۔اور عالم اسلام کے یہ ممالک دنیا کے تین بر اعظموں ایشیاء ، افریقہ اور یورپ تک پھیلے ہوئے نظرآئیں گے۔حاضر عالم اسلام میں اس وقت تقریبا 55 سے اوپر کی تعداد میں ممالک موجود ہیں۔ جہاں مسلمانوں کی اکثریت کے ساتھ ان کو اقتدار بھی حاصل ہے۔

یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کہ عالم اسلام کے ان ممالک کو عام طور پر اسلام کی نسبت سے اسلامی ممالک کہا جاتا ہ۔ جبکہ حقیقت میں اسلامی ملک کہلوانے کا حق دار صرف وہ ملک ہوتا ہے۔ جہاں اسلام اپنے  مقتضیات کے ساتھ عملا نافذ ہو۔ بدقسمتی سے حاضر عالم اسلام میں کوئی بھی ایسا ملک اس وقت موجود نہیں جس میں اسلام اپنے تمام مقتضیات کے ساتھ نافذ العمل ہو۔ لہذا ان ملکوں کو اسلامی ممالک کہنے کے بجائے ہماری رائے کے مطابق مسلم ممالک یا مسلم دنیا کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

دارالاسلام و دار الحرب

ایک زمانے میں جب اسلام دنیا میں عملاً نافذ تھا تو فقہاء کی تعیین کردہ یہ اصطلاحات بہت واضح تھیں۔کہ دارالاسلام کیا ہے ؟اور اس کے مقابلے میں دارالحرب اور دارالکفر کیا ہے؟ ان میں سے ہر ایک کی شرعی تکییف کیا ہے؟اور ان اصطلاحا ت پر مرتب ہونے والے شرعی احکام کیا ہیں؟ لیکن جب مسلم دنیا پر زوال آیا ،اور امت مسلمہ انحطاط وپستی سے دوچار ہوئی ۔تو یہ اصطلاحات بھی ابہام و اغلاق کے پردوں میں مستور ہوگئیں ۔

تا ہم اس موضو ع سے دلچسپی رکھنے والے طالب علم کے لئے ان اصطلاحات سے باخبر رہنا اب بھی ضروری ہے۔دور انحطاط میں عملی انطباق کے بغیر جب مختلف علماء نے ان اصطلاحات کی توضیح و تشریح کی کوشش کی۔ تو ان کی تشریح میں ایک سے زیادہ آراء سامنے آئیں۔لہذا ذیل میں ان آراء وتصورات کا جائزہ پیش کیا جا تا ہے۔

دارالاسلام اور دارالحرب کا پہلا تصور

 دارالاسلام کی ایک تشریح کے مطابق دار بمعنی گھر ہے اور دارالاسلام کے معنی’’ اسلام کا گھر‘‘ ہے۔اصطلاح فقہاء میں دارالاسلام اس ملک کو کہا جا تا ہے۔ جہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو ،  اسلامی،  شرعی قوانین نافذ ہوں اور حدود اللہ قائم ہوں۔ اگرچہ وہاں کے لوگوں کی اکثریت کافر ہی کیوں نہ ہوں۔

اس کے مقابلہ میں دار الحرب کی اصطلاح ہے، حرب کے لغوی معنی جنگ اور لڑائی کے ہیں۔ دارالحر ب کے معنی لڑائی اور جنگ کی جگہ کے ہیں۔ کفار کی سلطنت کو دارالحرب اسی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔ کہ ان کے ملک میں کسی بھی وقت جنگ بھڑک سکتی ہے۔

اس تصور کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلا م اور کفر کے د رمیان دائمی جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں جو علاقے مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں ان کو دارالاسلام کہا جائے گا۔ اور جو علاقے اس عملا غیر مسلم حکومتوں کے قبضے میں ہیں ۔ ان کو دارالحرب قراردیا جائےگا۔ یعنی وہاں کسی بھی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔

دوسرا تصور

دارالاسلام ا ور دارالحرب کا دوسرا تصور یہ ہے۔ کہ فقہاء کی طرف سے دار کی تقسیم کفرواسلام یا جنگ او رامن  کی بناء پر نہیں۔ بلکہ عدالتوں کے اختیار سماعت کے اصول پر مبنی ہے۔ یعنی ان کا کہنا ہے کہ  دارالاسلام سے مراد وہ علاقے ہیں جہاں اسلامی قوانین اور حدود اپنے مقتضیات کے ساتھ نافذ العمل  ہوں۔

اور دارالحرب سے مراد وہ علاقے ہیں جہاں اسلامی عدالت کو اختیار سماعت حاصل نہ ہو۔ یعنی اس تشریح کا خلاصہ یہ نکلے گاکہ اسلام اور کفر کے درمیان دائمی جنگ کا کوئی تصور نہیں۔ بلکہ ان اصطلاحات سے مراد محض عدالتی اختیار ات کی نشاندہی ہے۔

حاضر عالم اسلام  تاریخ کے آئینے میں

حاضر عالم اسلام میں اس وقت تقریبا55 سے اوپر ممالک ہیں۔ جودنیا کے نقشے میں مشرق میں انڈونیشیاء سے لے کر مغرب میں مراکش تک اور جنوب میں موزنبیق سے لے کر شمال میں آذربائیجان اور کوہ قفقاز تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب عالم اسلام کی وسعتوں کا یہ حال تھاکہ مشہور زمانہ اسلامی بادشاہ ہارون الرشیدنے اپنے اوپر سے گزرنے والے بادلوں کو یوں مخاطب کیا تھا ۔”کہ اے بادل! تو جہاں بھی برسے گا وہاں کی پیداوار کا خراج میرے ہی خزانے میں آئے گا۔

چنانچہ تاریخ کے اوراق میں یہ بات محفوظ ہے۔ کہ ایشیاء کے تین تہائی حصے میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عالم اسلام مختلف نشیب وفراز سے گررتا رہا ۔اس کی حددو میں کمی بیشی ہوتی رہی۔ تاریخ کے آئینے میں ہمیں ایک ایسا دن بھی ملتا ہے۔ کہ جب خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کو خلافت سے دست بردار کرایا گیا۔اس دن تما م عالم اسلام کے حصے بخرے کئے گئے اور تقریباً پورا عالم اسلام سامراج کے ہاتھوں یرغمال بن گیا تھا۔

 لیکن الحمد للہ آہستہ آہستہ مسلمانوں میں آزادی کے جذبے نے انگڑائی لی ۔ مسلمان بیدا ر ہوئے اور اللہ کی مد دونصرت  سے ایک ایک کرکے مسلمان ممالک آزاد ہوتے رہے۔ اس وقت عالم اسلام کا یہ حال ہے کہ اس کے تمام ممالک اللہ کے فضل سے سامراج کے پنجے سے آزاد ہیں۔لیکن بدقسمتی سے آزاد ہوکر بھی سامراج کی سازشی پالیسیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

عالمی مذاہب سروے رپورٹ

اس جگہ یہ جاننا بھی ضروری ہے ۔کہ دنیا میں اسلام کا تناسب دیگر مذاہب کے مقابلے میں کیا ہے؟چنانچہ Pew Research Center, 2012[2] کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت مسلمانوں کا تناسب دیگر مشہور مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلے میں مندرجہ ذیل ہے۔

دنیا میں مذاہب کا تناسب

اسلام23.2 %

عیسائیت 31.5 %
ہندو مت 15.0 %
بدھ مت 7.1 %
یہودی 0.2 %
علاقائی مذاہب 5.9 %
غیر مصدقہ مذاہب 16.3 %
دیگر 0.8 %
Pew Research Center, 2012[2]
اسلام معاصر مذاہب میں عیسائیت کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر واشنگٹن ڈی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی آبادی کے تناسب میں مسلمانوں کی آبادی 23.2فیصد ہے۔اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے ڈپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیرزکے پاپولیشن ڈویژن نے یہ اندازہ لگایا ہے۔ کہ پوری دنیا کی آبادی سن 2010ء کی رپورٹ کے مطابق 6.916 بلین یا چھ ارب سے اوپر ہے۔

اس تناسب سے مسلمانوں کی عالمی سطح پر آبادی کا اندازہ لگایا جائے تو قریب قریب ایک چوتھائی آبادی مسلمانوں کی بنتی ہے۔ جس کا مطلب دنیا کا ہر چوتھا یا پانچواں آدمی مسلمان ہے۔

مسلم پاپولیشن ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق دنیامیں مسلم آبادی  کی ایک تازہ ترین سروے سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کی کل آبادی 7151.51ملین ہے ، جس میں سے مسلمانوں کی آبادی 28.26فیصد ہے ۔ اس فیصد کو اعداد وشمار میں تبدیل کیا جائے تواس وقت دنیا کی کل مسلم آبادی2.08بلین بنتی ہے۔اس رپورٹ کا ایک خاکہ ذیل میں دیا جارہا ہے۔

یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دیگر مذاہب کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد دنیا میں روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ جس کے کئی شواہد ہمارے سامنے ہیں ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک اہم روزنامے نے اپنے شمارے میں ایک اطالوی میگزینِ ’’دی جرنل ‘‘ کے حوالے سے  یہ خبر شائع کی ۔ جس کا عنوان تھا ’’200سو سال بعد پورا یورپ اسلام کے زیر نگیں ہوگا‘‘ رپورٹ ملاحظہ کیجئے:

’’روم( نیوزرپورٹ) امریکہ اور یورپ میں ہر سال لاکھوں لوگ مسلمان ہونے لگے۔ امریکہ میں اب ہر 50واں شخص مسلمان ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد امریکیوں اور یورپین کے لئے شدید پریشانی کا سبب بن گئی۔ اٹلی کے معروف میگزین دی جرنل نے انکشاف کیا کہ 200سال بعد پورا یورپ اسلام کے زیر نگیں ہوگا۔29فیصد نوجوان سکون کے لئے اسلام کی طرف آرہے ہیں۔ حکومتی اداروں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈے نے نوجوانوں کو اسلام کی طرف مائل کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2001ء سے سالانہ 5000برطانوی اسلام قبول کررہے ہیں، اور مسلمانوں کی تعداد20لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔‘‘

مغرب میں اسلام کی طرف بڑھتاہوا رجحان

یہ اور اس جیسے انکشافات یقیناًعالم اسلام کے لئے خوش آئند ہیں۔ عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کے عکاس ہیں ۔اور عالم اسلام میں بیداری کی لہر بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہے، کہ دنیا کا ہر نظام اپنی طبعی عمرتقریبا پوری کرچکا ہے۔ اور دنیا نے ہرایک  کو آزماکر دیکھ لیا ہے۔ لیکن کسی نظام سے انسانیت کی تسکین نہیں ہوپائی ۔ جو ان تمام نظاموں کی ناکامی کی علامت ہے۔

 اسلام کے سامنے ہزاروں رکاوٹیں ہیں۔ پورا طاغوتی نظام اس کو مٹانے کے درپے ہے۔ لیکن اس نظام کے خالق اللہ رب العزت کا وعدہ پورا ہونے کو ہے، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:یریدون لیطفؤا نوراللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرونْ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون( القرآن)
ترجمہ: یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے پھونک کر اللہ کے نور کو بجھادیں۔ حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا۔چاہے کافروں کو یہ بات کتنی ہی بری لگے۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کوہدایت اور سچائی کا دین دے کربھیجا ہے۔ تاکہ وہ اسے تما م دوسرے دینوں پرغالب کرد۔ے چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

آزاد مسلم ممالک

ذیل میں عالم اسلام کا تعارف ایک مختصر چارٹ کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ قاری کو حاضر عالم اسلام سے آگاہی حاصل ہو۔ چارٹ میں مسلم ملک کانام ،رقبہ ، آبادی، اس ملک کا دارالحکومت اور اس ملک میں مسلم آبادی کا تناسب شامل کیا گیا ہے،اس چارٹ میں ممالک کے نام آسانی کے لئے الفبائی ترتیب سے لکھے گئے ہیں۔ نام ملک دارالحکومت رقبہ(مربع کلومیٹر کل آبادی مسلم تناسب
انڈونیشیاء جکار تہ 2027087 %94

افغانستان کابل 647500 99%

ایران تہران 1648000 98%
اردن عمان 97740 94%
ارٹریا اسمرہ 1221900 65%
البانیہ ترانے 287748 79%
الجیریا الجیرس 2381741 85%
ازبکستان تاشقند 448000 88%
عمان مسقط 300000 100%
الجزائر الجزیرہ 2381741 99%
آزر بائجان باکو 76000 90%
آئیوری کوسٹ یاموسوکرو 322467 65%
بحر ین منامہ 669 100%
بنگلہ دیش ڈھاکہ 142776 95%
بینن 112616 60%
بورکینافاسو اوگا ڈوگا 274200 64%
برونائی بندرسیری 5770 76%
پاکستان اسلام آباد 803943 95%
تاجکستان دوشنبہ 63700 85%
تیونس تیونس 104150 95%
ترکی انقرہ 779452 98%
ترکمانستان اشک آباد 488000 79%
تنزانیہ دارالسلام 945087 60%
ٹوگو لومے 56785
جیبوتی جبوتی 31783 97%
چاڈ نجمینہ 1284000 90%

سعودی عرب ریاض 2250070 100%
سینیگال ڈاکر 196162 95%
سوری نام پیراماریبو 163821
سوڈان خرطوم 2505813 88%
شام دمشق 185180 87%
صومالیہ موگا دیسو 637657 100%
عراق بغداد 238446 95%
فلسطین یروشلم
قطر دوحہ 11437 100%
قازقستان الماتا 2717300 42%
کیمرون یااونڈے 475442 55%
کویت کویت 17656 100%
کوموروس مورونی 1862 95%
کرغیزستان فرنز 198500 62%
گیبون لیبر ویل 267000 55%
گیمبیا باتھورسٹ 11295 % 85
گنی کوناکری 24585 75%
گنی بساؤ بساؤ 36125 60%
لبنان بیروت 10400 57%
لیبیا ٹریپولی (طرابلس) 1789540 100%
مصر قاہرہ 997677 95%
ملائشیا کوالالمپور 330434 57%
مالدیپ مالے 298 100%
مالی باماکو 1240192 92%

موریطانیہ نواک شواٹ 1030700 100%
مراکش رباط 446550 99%
موزمبیق مپوتو 801590 50%
متحدہ عرب امارات ابوظبی 82880 100%
نائجر نیامی 1267000 90%
نائجیریا نائجر 923770 51%
یوگنڈا کمپالا 2411339 55%
یمن صنعاء 531000 100%

اوپر جتنے ممالک کا ذکر ہوا یہ سب اسلامی اکثریتی ممالک ہیں۔ اور موتمر عالم اسلامی یاOIC کے باقاعدہ رکن ہیں۔ جو عالمی سطح پر اسلامی ممالک کی تنظیم ہے۔نیچے ان ممالک کے نام ہیں جو اس تنظیم کے باقاعدہ رکن تو نہیں لیکن مبصر ملک کہلاتے ہیں۔

مبصر ممالک

بوسنیا ہرزیگوینا
وسطی افریقی جمہوریہ
ترک قبرص
تھائی لینڈ
روس
عالم اسلام کے بارے میں مندرجہ بالا تمام اعداد وشمار ایک سے زیادہ مآ خذ سے حاصل کئے گئے ہیں جو مندرجہ ذیل
ہیں۔
۱۔ موتمر عالم اسلامی کی ویب سائٹ
۲۔ شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا
۳۔ مسلم ورلڈ المنک 2008ء (مسلم ممالک کا انسائیکلوپیڈیا)
۴۔ عالم اسلام وسائل اور مسائل

۵۔ ورلڈ مسلم پاپولیشن ویب سائٹ
۶۔ پیو ریسرچ سینٹر واشنگٹن ڈی سی

 

اختلافات کی حقیقت اور اقسام کا جائزہ

یہ بھی پڑھیے۔۔۔اتحاد امت کی ضرورت اور دائرہ کار

2 Trackbacks / Pingbacks

  1. اتحاد امت کی ضرورت اور دائرہ کار - EduTarbiyah.com
  2. بیت المقدس میں بابا فرید گنج شکر سے منسوب سرائے - EduTarbiyah.com

Leave a Reply