انڈونیشیا سے پام آئل کی درآمد اسی ہفتے شروع ہوگی

Palm oil

کراچی (کامرس ڈیسک ) انڈونیشیا پاکستان کو فوری بنیادوں پر پام آئل فراہم کرے گا۔ یہ فیصلہ حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے کے بعد کیا گیا۔

وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر اعلی سطحی وفد کا انڈونیشیا کا دورہ کامیاب

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 جون کو انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔ جس کے بعد وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر ایک اعلی سطحی پاکستانی وفد نے انڈونیشیا کا دورہ کیا اور انڈونیشیا کی وزارت تجارت سے پام آئل خریدنے کے حوالے سےمذاکرات کیے ۔

دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا،وفد میں پرائیویٹ سیکٹر کے لوگ بھی شامل تھے

مذاکرات کی کامیابی کے بعد انڈونیشیا نے پاکستان کو پام آئل فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر صنعت و پیداوار سید مرتضی محمود کر رہے تھے جنہوں نے اپنے انڈونیشین ہم منصب سے ون ٹو ون ملاقات کی اور دونوں نے معاملات کو طے کیا۔ وفد میں حکومتی نمائندوں کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر کے لوگ بھی شامل تھے۔

 تیس ہزار میٹرک ٹن تیل سے لدا بحری جہاز جلد کراچی پہنچے گا

پاکستانی کی درخواست پر انڈونیشیا کی وزارت تجارت نے معاہدے سے متعلق تمام معاملات کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹایا۔ معاہدے کے تحت خوردنی تیل سے بھرے 10 بحری جہاز آئندہ دو ہفتوں کے اندر پاکستان پہنچیں گے۔توقع کی جا رہی ہے کہ اس سلسلے کا پہلا بحری جہاز 30ہزار میٹرک ٹن خوردنی تیل لے کر اسی ہفتے کراچی میں لنگر انداز ہوگا۔

 انڈونیشیا سے مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ ٹن خوردنی تیل درآمد کیا جائے گا

بتایا جا رہا ہے کہ معاہدے کے تحت کل ڈھائی لاکھ میٹرک ٹن خوردنی تیل پاکستان کو فراہم کیا جائے گا۔ برادر اسلامی ملک سے پام آئل کی درآمد کے نتیجے میں پاکستان میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

پام آئیل کی درآمد کے بعد پاکستان میں قیمتیں 300 روپے کلو تک نیچے آسکتی ہیں

واضح رہے گزشتہ چار سالوں کے دوران پاکستان میں خوردنی تیل کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ معاشی سروے کے مطابق اس دورانیے میں مقامی مارکیٹ میں تیل اور گھی کے نرخوں میں 360 فیصد تک اضافہ ہوا۔چار سال قبل خوردنی تیل 150 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتا تھا،آج وہی تیل 500 سے 620 تک میں فروخت ہو رہا ہے۔معاشی ماہرین توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ انڈونیشیا سے خوردنی تیل پاکستان پہنچنے کے بعد مارکیٹ میں قیمتیں 300 روپے تک نیچے آ سکتی ہیں۔

 خوردنی تیل کی درآمد کا معاہدہ حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر کے ںاہمی اشتراک سے ہو رہا ہے

بتایا جا رہا ہے کہ برادر اسلامی ملک سے پام آئل ایکسپورٹ کرنے کا معاہدہ حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر کے اشتراک سے ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا کا دورہ کرنے والے وفد میں پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین طارق اللہ صوفی اور تنظیم کے رکن رشید جان محمد بھی شامل تھے۔

Be the first to comment

Leave a Reply