قرون وسطیٰ کی عظیم اسلامی لائبریریاں

قرون وسطیٰ کی عظیم اسلامی لائبریریاں
قرون وسطیٰ کی عظیم اسلامی لائبریریاں

قرون وسطیٰ کی عظیم اسلامی لائبریریاں

جبران عباسی

آج پوری دنیا میں عربی نظامِ عدد (1 تا 10) رائج ہے جس میں کھربوں ڈالر کا حساب بھی بآسانی کیا جا سکتا ہے اگر یہ نظام عدد رائج نہ ہوتا تو رومن نظامِ عدد (i-x) میں اتنی وسعت نہ تھی کہ وہ بڑے بڑے اعداد و شمار کو گننے میں انسانوں بالخصوص جدید دور کے بینکوں ، حکومتوں اور سرمایہ کاروں کی مدد کر پاتا۔

عربی نظامِ عدد کو یورپ کے سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام میں فروغ دینے کا سہرا فیبونکیFibonacci کو دیا جاتا ہے۔
فیبونکی بارہویں صدی عیسوی کا ایک اطالوی ریاضی دان تھا جس نے 1202 میں یورپ کی مقبول ترین کتاب کتاب Liber Abbaci تصنیف کی اور اپنی تحقیق سے عربی نظام عدد کو رومی نظام عدد سے بہتر اور فائدہ مند ثابت کیا۔

فیبونکی نے یہ کتاب لکھنے سے پہلے مشرق وسطی کے مسلم ممالک کا سفر کیا اور شہر بغداد میں واقع بیت الحکمہ ( ہاؤس آف وزڈم) میں بھی اس کا جانا ہوا وہیں نویں صدی کے ایک مسلم ریاضی دان الخوارزمی کے مسودے اس کے ہاتھ لگے جن کے پڑھنے کے بعد وہ عربی نظام عدد کی رومن نظام عدد سے بہتری کا قائل ہوا اور اس نے جانا کہ اس نظامِ عدد کے ساتھ ترقی کے وسیع امکانات ہیں۔ یوں آج پوری دنیا میں عربی نظامِ عدد کامیابی سے جاری ہے۔

ذاتی کتب خانے سے ہاؤس آف وزڈم تک

بیت الحکمہ بغداد

ذاتی کتب خانے سے ہاؤس آف وزڈم تک

بیت الحکمہ لائبریری کا آغاز عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے اندازاً 780 عیسوی کی دہائی میں ذاتی کتب خانے کی حثیت سے کیا تھا۔خلیفہ ہارون الرشید کے بعد ان کے فرزند خلیفہ مامون الرشید نے بیت الحکمہ کو عروج کی نئی بلندیاں بخشیں اور ذاتی دلچپسی لے کر بیت الحکمہ کو دنیا کی سب سے بڑی لائبریری بنا دیا۔
اس مقصد کےلئے وسیع عمارت قائم کی گئی، جس کے اندر لائبریری کے ساتھ فلکیات گاہ (observatory) ، سائنسی تجربہ گاہ , دارالترجمہ ، مدرسہ اور بحث و مباحثے کے لئے بڑا ہال بھی تعمیر کیا گیا تھا ۔
مامون الرشید نے ہندوستان ، وسط ایشیا ، مشرق وسطی ، عرب ، شمالی افریقہ اور یورپ بھر سے عیسائی، مسلم ، ہندو ، بدھ مت اور یہودی عالموں اور مفکرین کو بغداد آنے اور بیت الحکمہ سے مستفید ہونے کی دعوت دی۔ بدھ مت کے اوپر ایک اہم کتاب بھی یہاں لکھی گئی تھی۔
بیت الحکمہ کو ساڑھے چار سو سال تک دنیا کی سب سے بڑی لائبریری کا اعزاز حاصل رہا اور یہ موجودہ برٹش لائبریری سے بھی زیادہ بڑی تھی۔

بغداد شہر کا ایک خیالی خاکہ

اس لائبریری کو ورق کی فراہمی کےلئے 794 عیسوی میں دجلہ کے کنارے ایک پیپر مل بھی بنائی گئی تھی۔
اس لائبریری سے ہزاروں جید علماء، اسکالر ، فلاسفر ، ریاضی دان ، فلکیات مستفید ہوئے ہیں جن میں آل کندی ، بنو موسیٰ بن شاکر النجم ، یحییٰ بن ابی منصور، الخوارزمی، آل عبادی ، بن اسحاق سب سے مشہور ہیں۔
1258 کو سقوط بغداد کے موقع پر لاکھوں مسودوں ، مخطوطات اور کتابوں کے ساتھ بیت الحکمہ لائبریری نذر آتش ہوئی اور اس کے مسودوں کی سیاہی سے دریائے دجلہ کا پانی سیاہ ہو گیا تھا۔

 

شاہی لائبریری قرطبہ

قرطبہ کی شاہی لائبریری اپنے دور کی ایک عظیم الشان لائبریری تھی جہاں چار لاکھ کتابیں تھیں جو 44 کیٹلاگ میں تقسیم تھیں۔لبنی نامی ایک مسلمان کنیز اس لائبریری کی انچارج تھی ان کو دنیا کی پہلی خاتون لائبریرین ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔
اٹھارویں صدی کے عیسائی دانشور Rheinhart Dozy لکھتے ہیں مسلم اندلس میں ہر شہری کو لکھنا پڑھنا آتا تھا یہ وہ دور تھا جب باقی یورپ میں پادریوں کے علاوہ کوئی دوسرا لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا۔

اگر مسلم اندلس میں لائبریریاں قائم نہ ہوتیں تو شاید آج کی تاریخ قدرے مختلف ہوتی۔ ابن رشد جیسے نابغہ روزگار فلسفی کو یونان کے عظیم فلاسفروں کے لاطینی مسودات تک رسائی یہیں سے حاصل ہوئی ،انہوں نے ہی ان کتابوں کے عربی میں ترجمے کئے اور پھر قرون وسطی کے یورپین مفکرین نے ان کو اپنی زبانوں میں ڈھالا اور یورپ کو تاریک دور سے نکال کر نشاط ثانیہ کی طرف بڑھایا۔

آج ہمارا تعلیمی نصاب و تعلیمی نظام یورپین طرز پر ہے ، مگر کیا آپ جانتے ہیں پہلی یونیورسٹی کسی یورپین ملک میں نہیں بلکہ مسلم ملک مراکش میں قائم ہوئی تھی وہ بھی ایک مسلمان خاتون کی عطیہ کردہ دولت سے اور یہ یونیورسٹی آج بھی فعال اور یونیسکو کی ہیرٹیج لسٹ میں شامل ہے۔

مراکش کی لائبریری

دنیا کی پہلی یونیورسٹی کے قیام کا اعزاز فاطمہ بنت محمد الفھریہ کو جاتا ہے آپ قریش قبیلے سے تھیں مگر تیونس میں پیدا ہوئی تھیں۔
آپ ایک امیر والد کی بیٹی تھیں، آپ مراکش بہاہی گئیں جس کے یہیں سکونت پذیر ہوئیں ،ان کے والد اور شوہر جلدی فوت ہو گے۔فاطمہ اور ان کی بہن مریم نے باپ کے ترکے سے ملنے والی دولت کو تعلیم و فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔
مریم نے شہر میں بہت بڑی مسجد بنوائی اور فاطمہ نے ایک بڑے مدرسے اور اس سے منسلک لائبریری کی تعمیر کا آغاز کیا جو 18 سالوں میں مکمل ہوا۔

جامعہ القرویین
جامعہ القرویین

خزینۃ الاقصر قاہرہ

فاطمی خلیفہ ابو منصور نے قاہرہ میں ایک ہزار عیسوی میں بہت بڑی لائبریری قائم کی تھی ۔ اس لائبریری میں چالیس کمرے تھے اور دو لاکھ مسودے اور نایاب مخطوطات موجود تھے۔ اس کتب خانے میں چھ ہزار کتابیں ریاضی اور فلکیات کے موضوع پر تھیں۔ تاریخ طبری کی 1200 کاپیاں اور قرآن پاک کی 2400 کاپیاں بھی یہاں موجود تھیں۔
یونانی فلاسفر پٹولمی نے دنیا کا ایک گلوب بنایا تھا جو اس لائبریری کے باہر نصب تھا ، یاد رہے یہ گلوب اس لائبریری سے 14 سو سال پہلے بنایا گیا تھا۔

جامعہ ازہر کی لائبریری

جامعہ ازہر کی بنیاد فاطمی دور میں 970 عیسوی میں رکھی گئی۔ یہ مسلمانوں کی دوسری عظیم یونیورسٹی تھی۔ جامعہ سے منسلک ایک لائبریری بھی 1005 میں قائم کی گئی تھی جس میں دو لاکھ کتابیں تھیں۔
عباسی خلافت ، مسلم اندلس خلافت اور فاطمی خلافت کے علاوہ بھی دیگر مسلم ممالک میں لائبریریوں پر خاص توجہ دی جاتی تھی کیونکہ کتب خانے کا قیام دولت اور تعلیم سے لگاؤ کا اظہار تھا۔ ایران میں بھی قابل ذکر کتب خانے قائم تھے۔

مسلم سکالرز کا ایک خاکہ
مسلم سکالرز کا ایک خاکہ

شیراز کی لائبریری

پناه خسرو دسویں صدی میں فارس کے والی گزرے ہیں جو اگرچہ خود کو عباسی خلافت بغداد کے تابع قرار دیتے تھے تاہم وہ خودمختار حکومت کرتے تھے۔ آپ نے اصفہان میں ایک ہسپتال اور شیراز میں عظیم لائبریری قائم کی تھی۔
کہا جاتا ہے اس لائبریری کی الماریاں سونے کے کام سے مزین تھیں اور یہاں مخصوص اسکالرز کو ہی مطالعے کی اجازت تھی۔

لائبریری آف طس

اس لائبریری سے تین عظیم مسلم شخصیات فیض یاب ہوئی ہیں۔
(1) نظام الملک طوسی جو عظیم مسلم سیاستدان اور سلجوق سلطنت کے وزیر اعظم گزرے ہیں
(2) مشہود ادیب نصیر الدین طوسی
(3) عظیم شاعر فردوسی۔
یہ تینوں شخصیات اپنی صدی کی عظیم شخصیات تھیں۔

لائبریری آف تریپولی (لبنان)

یہ لائبریری ایک مدرسے کے ساتھ بادشاہ حسن بن عمار نے قائم کی تھی۔اس لائبریری کی وجہ سے تریپولی شہر دارلعلم کہلایا جانے لگا۔ اس کتب خانے میں ایک لاکھ تیس ہزار مسودے تھے ، یہاں ایک سو 80 مترجم تھے جو روزانہ تیسں مسودات کے ترجمے لکھتے۔ قرآن پاک کی 50 ہزار کاپیاں اور 20 ہزار تفسیریں الگ سے جمع تھیں۔ بدنصیبی سے یہ لائبریری صلیبی جنگوں کے دوران صلیبیوں کے ہاتھوں نذر آتش ہوئی۔

ثمر قند و بخارا کی لائبریریاں

سنٹرل ایشیا میں 751 عیسوی میں پہلی پیپر مل قائم ہوئی۔ بخارا و ثمر قند میں بھی قرون وسطی عہد میں ہزاروں مدرسے تھے اور ہر مدرسے سے منسلک ایک کتب خانہ تھا۔
سامنیان کی مسلم سلطنت نے بخارا ، ثمر قند، ماوراءالنہر میں 400 سے زائد لائبریریاں قائم کی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب کتب ہاتھوں سے تحریر ہوتیں، کاغذ و سیاہی ناپید اور مہنگی ترین ہوتی تھی۔
مشہور کیمیا دان ابن سینا ، صحیح بخاری کے مصنف امام بخاری ، البیرونی اور دوسرے ہزاروں جید علما انہی لائبریریوں سے فیض یاب ہوئے تھے۔

یہ لائبریریاں چنگیز خان اور منگولوں کے ہاتھوں نیست و نابود ہوئیں۔

لائبریری آف غزنی

سلطان محمود غزنوی جنہوں نے ہندوستان پر 17 حملے کئے علم و ادب کے بڑے قدر دان تھے جس کا ثبوت غزنی میں ان کے ہاتھوں سے تیار کی گئی شاہی لائبریری تھی۔
اس شاہی کتب خانے میں لاکھوں کتابیں تھیں۔ شہرہ آفاق دیوان “شاہنامہ فردوسی” انھی کی خواہش پر فردوسی نے لکھا تھا اگرچہ مالی معاملات پر ناراض ہو کر فردوسی نے ان پر ہجو بھی کی تھی۔ البیرونی اور الفارابی جیسے اسکالر بھی ان کے دربار سے منسلک تھے۔

ہندوستان میں قائم عظیم مسلم لائبریریاں

انڈیا میں سب سے پہلی مسلم لائبریری رضیہ سلطانہ نے دہلی میں قائم کی تھیں۔ انھی کی سرپرستی میں مولانا منہاج سراج جرجانی نے 23 والیمز پر مشتمل طبقاتِ نصیریہ نامی کتاب 1260 میں مکمل کی تھی۔

مغلیہ خاندان کی لائبریریاں

ہندوستان میں پہلی مغل لائبریری شہنشاہ بابر نے اس وقت قائم کی جب اس نے لودھی سلطنت کے لاہور صوبے کے گورنر غازی خان کو شکست دے کر اس کے کتب خانے پر قبضہ کیا۔
ہمایوں نے بھی اپنی ذاتی لائبریری شیر منڈل قائم کی تھی جس کے سیڑھیوں سے گر کر اس کی موت ہوئی۔ جلال الدین اکبر بادشاہ خود ان پڑھ تھا مگر اس نے 64 لاکھ روپے خرچ کر کے فتح پور سیکری میں شاہی کتب خانہ قائم کیا تھا۔ اسی طرح بادشاہ جہانگیر اور اورنگزیب عالمگیر کے کتب خانے بھی بہت نایاب تھے۔

شیر منڈل ، شہنشاہ ہمایوں کی لائبریری
شیر منڈل ، شہنشاہ ہمایوں کی لائبریری

عثمانی سلطنت کی عظیم لائبریریاں

عثمانی ترکوں کے دور میں تعلیم کا محکمہ تھا جو لائبریریوں کے امور بھی دیکھتا تھا۔ بغداد ، دمشق ، استنبول ، قاہرہ ، مکہ اور یروشلم سمیت ہر شہر میں مرکزی کتب خانے موجود تھے۔
سب سے اہم توپ کاپی کا کتب خانہ تھا جس میں چودہ ہزار انتہائی نایاب مخطوطات تھے جن میں قرآن پاک کا وہ نسخہ بھی ہے جو حضرت عثمان کے دور میں تحریر ہوا تھا۔ شاہی محل قسطنطنیہ کی لائبریری میں لاکھوں کتابوں کا ذخیرہ رہتا تھا۔

توپ کاپی میوزم
توپ کاپی میوزم

یہ سب لائبریریاں خوشحالی کی علامت اور ترقی کا مینارہ تھیں، امتداد زمانہ کے ساتھ مسلمانوں کی شان و شوکت کے ساتھ ساتھ یہ لائبریریاں بھی ختم ہوتی چلی گئیں اور آج ان کا تذکرہ محض کتابوں میں ہے۔ یورپ جب ڈارک ایج سے نکل کر نشاط ثانیہ کی طرف بڑھ رہا تھا مسلم دنیا نشاط ثانیہ سے نکل کر تاریکی کی راہ پر گامزن ہو رہی تھی۔ یہی وجہ ہے مسلمانوں کے زوال اور یورپ کے عروج کی۔

پاکستان کے دس سیاحتی مقامات

Be the first to comment

Leave a Reply