بچوں کی تربیت میں بڑوں کا کردار (آخری قسط)

seed ur rahman

تحریر: سعیدالرحمن ثاقب۔

کمزور بچوں کی ہمت افزائی کے مثبت نتائج

ایک کلاس روم میں پڑھنے والے تمام بچے ظاہر ہے سب ایک جیسی استعداد کے مالک نہیں ہوتے ، کچھ بچے بہت ذہین، کچھ متوسط درجے کے ذہین اور کچھ بالکل غبی بھی ہوتے ہیں جن پر اضافی محنت اور خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ، اس کے بغیر وہ دوسرے بچوں کے ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اب یہ استاذ پر منحصر ہے اگر وہ ایسے بچوں کے ساتھ خصوصی شفقت کا معاملہ کرے۔ انہیں یہ یقین دلانے کی کوشش کرے کہ تم بھی اتنے ہی ذہین ہو جتنا دوسرے بچے ہیں ۔استاد کا یہ مشفقانہ اور حکیمانہ رویہ غبی اور کم ذہین بچوں کو بھی ذہین بچوں کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔

اس کے برعکس اگر کوئی استاد اضافی محنت کی مشقت سے جی چرائے اور کند ذہن طلباء کو نظر انداز کرے،انہیں اپنے اس رویے سے احساس کمتری میں مبتلا کرے۔ تو وہ بچہ غبی سے غبی ہوتا جائے گا، وہ اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کا ادراک نہیں کر پائے گا اور اسکول و مدرسے سے بھاگ جانے میں ہی عافیت محسوس کرے گا۔

کم زور بچوں سے پیار، محبت اور شفقت و اپنائیت کا رویہ ان کے اندر چھپی صلاحیتوں کو مہمیز دیتا ہے۔ وہ کلاس کے دیگر بچوں کے قدموں کے ساتھ قدم ملا کر کھڑے ہونے کی کوشش کرتا ہے، یوں وہ آگے سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یاد رکھیں ذہنی طور پر کم زور بچوں کے ساتھ سرد مہری سے پیش آنا بہت بڑی زیادتی ہے ،یہ ایک طرح سے انہیں حصول علم سے دانستہ طور پر محروم کرنےکے مترادف ہے۔

کم زور بچوں کی وقتاً فوقتاً تعریف کرنا ، ان کے مثبت رویوں کی قدر دانی اور ان کی بہ ظاہرمعمولی سی کامیابیوں کو داد تحسین سے نوازنا بھی ان کا حوصلہ بڑھائے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔تاریخ میں ہمیں ایسے بہت سے مشاہیر کے نام ملتے ہیں جو زمانہ طالب علمی میں تو انتہائی کند ذھن سمجھے جاتے تھے لیکن ان کے بڑوں کی خصوصی توجہ و شفقت اور خود ان کی اپنی محنت اور جہد مسلسل کا نتیجہ تھا کہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد وہ نہ صرف یہ کہ اپنے شعبے میں بڑا نام کمایا بلکہ ان سے انسانیت کو بھی بڑا فائدہ پہنچا ۔

والدین کی لاپرواہی بسا اوقات بچوں کے بگڑنے کا سبب بنتی ہے

کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے ۔ بچہ اس درسگاہ سے جو کچھ سیکھتا ہے وہ عمر بھر نہیں بھلا پاتا ۔ اس لئے ایک ماں پر تربیت کے اس نازک مرحلے میں بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے کو اخلاق و شرافت کے ان رموز سے آشنا کرے جنہیں سیکھ کر انسان انسانیت کی معراج تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔

جب بچہ بولنے کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو یہ اس کے فہم و ادراک کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔عمر کے اس مرحلے میں جب بچہ کان میں پڑنے والی اواز کو سنتا ہے یا لوگوں کی حركات و سكنات کو دیکھتا ہے تو وہ سب اس کے دل و دماغ پر نقش ہوجاتے ہیں ، یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے کہ جو بات بچے کے کان میں ڈالی جائے وہ بھی وہی بات بولنے کی کوشش کرتا ہے اور جس کو جو کچھ کرتا ہوا دیکھتا ہے اسی کی نقل اتارنا شروع کردیتا ہے ۔

پھر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی دوسروں سے سیکھی ہوئی تمام عادتیں پختہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اس لئے والدین کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ بچوں کے سامنے ناشائستہ حركات، جھوٹ بولنے ، گالی دینے اور کسی بھی طرح کی غیر اخلاقی گفتگو سے احتراز کو اپنا وطیرہ بنائیں۔ گھر کے اچھے ماحول میں پلے یہ بچے جب اسکول و مکتب میں پہنچتے ہیں تو استاد اور مربی کے لئے بھی ان کی تربیت کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔کیونک والدین نے اپنے حصے کا کام کیا ہوتا ہے۔

بحیثیت استاذ میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ اخلاقی لحاظ سے بگڑے ہوئے اور گھر کے مخصوص ماحول سے متاثرہ بچوں کی نئے سرے سے تربیت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

تربیت جیسی حساس ذمہ داری کو بطریق احسن نبھانے کے لیے والدین اور اساتذہ کی فکری ہم آہنگی بھی بہت ضروری ہے۔ نہ تنہا والدین اس اہم ذمہ داری کو کماحقہ نبھا سکتے ہیں اور نہ ہی اساتذہ والدین کی مکمل معاونت کے بغیر اس فریضے کا صحیح حق ادا کرسکتے ہیں۔ اسلیے بچوں کی تربیت کے ہر مرحلے میں والدین اور اساتذہ کی فکری ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔اس دو طرفہ تعاون سے بچوں کی بہترین تربیت بھی ہوجاتی ہے اور ان کی صلاحیتیں بھی نکھر کر سامنے آتی ہیں۔

بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا مربی کیلیے ضروی ہے

ایک مربی کے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ان کے زیرتربیت بچوں کی مصروفیات کیا ہیں ۔ وہ کہاں جاتے ہیں کس سے ملتے ہیں۔ کس طرح کے بچوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، کیا کھیل کھیلتے ہیں ،کس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ بعض والدین اور اساتذہ کو اپنی تربیت پر اس قدر اندھا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دیتے ۔ اس طرز عمل سے بعض دفعہ والدین کو اس وقت ہوش آتا ہے جب بچے مکمل طور پر ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور موبائل کا بے ہنگم استعمال بچوں کے لئے زہر قاتل ہے

برے دوستوں کی صحبت اور غلط ماحول کے علاوہ فی زمانہ موبائل اور انٹرنیٹ کا بے ہنگم استعمال بھی بچوں کے اخلاقیات کو تباہ کرنے میں زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ گوکہ موبائل اور انٹرنیٹ اس جدید دور کی ضرورت بن گئے ہیں خصوصا سرکاری دفاتر کا نظام ، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اب مدارس میں بھی تعلیم وتعلم کا نظام انٹرنیٹ پر منتقل ہوگیا ہے اور یہ دونوں حصول علم میں اساتذہ اور طلباء کی معاونت کے بہترین ذرائع سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ ان چیزوں کا مثبت استعمال ہے،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے منفی استعمال نے معاشرے میں فحاشی و عریانی پھیلانے اور نسل نو کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

 انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے بچوں کی نگرانی کا انتظام ہونا چاہئے

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد ٹک ٹاکر بننے کے جنون میں مبتلا ہے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اب بلکل چھوٹے بچے بھی اس لت کے اندر مبتلا ہوچکے ہیں۔ اب اس طرح کے گھمبیر حالات میں بچوں کے ہاتھ میں موبائل تھمادینا یا انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے انہیں تنہا چھوڑ دینا ان کے لئے نہایت نقصان دہ ہے ۔ والدین کوچاہیے کہ وہ حتی الامکان انٹرنیٹ اور موبائل بچوں کی دسترس سے دور رکھنے کوشش کریں ،اگر ان چیزوں کا استعمال بچے کے لیے ضروری ہی ہو تو انہیں اپنی کڑی نگرانی میں استعمال کرنے کی عادت ڈلوائیں۔ تاکہ بچے ان چیزوں کے منفی اثرات سے کسی نہ کسی حد تک محفوظ رہ سکیں۔

2 Comments

Leave a Reply