سبزی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، ٹماٹر 300 روپے کلو ہوگیا

سبزی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، ٹماٹر 300 روپے کلو ہوگیا
سبزی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، ٹماٹر 300 روپے کلو ہوگیا

سبزی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، ٹماٹر 300 روپے کلو ہوگیا

کراچی (ایجو تربیہ ڈیسک)سبزی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، مہنگائی کے مارے عوام مزید پریشان ،کراچی میں ٹماٹر 300 روپے کلو فروخت ،پیاز 200 روپے کلو بکنے لگی ، بینگن سمیت سبزی کے اکثر آئٹم 200 روپے کلو تک پہنچ گئے ، ملک میں سبزیوں کے سنگین بحران کی پیشن گوئی۔

بینگن جیسی کم مرغوب سبزی بھی عوام کی قوت خرید سے باہر

تفصیلات کے مطابق ملک میں جاری سیلاب کی وجہ سے کراچی سمیت ملک بھر میں سبزی کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ ہوگیا ہے ٹماٹر 300 کے ہندسے کو پہنچ گیا ، بینگن جیسی کم مرغوب سبزی بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ، 200 روپے میں فروخت ہونے لگی ۔

سیلاب سے زرعی شعبے کو526ارب کا نقصان ،خریف کی 90 فیصد فصل تباہ

سبزی کے نرخوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ ملک میں آنے والا سیلاب ہے جس کی وجہ سے سبزی اور دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ، خریف کی تیار فصل 90 فیصد تباہ ہو چکی ہے ، نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی وزارت کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے پاکستان کی زراعت کے شعبے کو اب تک 526 ارب سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے ۔

تین ماہ تک بحران جاری رہ سکتا ہے ،تاجروں کا ٹماٹر،پیاز درآمد کرنے کا مطالبہ

لاہور چیمبر آف کامرس نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ٹماٹر اور پیاز کا بحران پیدا ہو سکتا ہے ، ستمبر ،اکتوبر اور نومبر تک ملک میں سبزیوں کی قلت کا مسئلہ درپیش رہے گا، لاہور چیمبر آف کامرس نے بھارت سے واہگہ بارڈر کے راستے پیاز اور ٹماٹر درآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت تجارت نے ایران ،افغانستان سے سبزی درآمد کرنے کی سمری تیار کر لی

دوسری جانب وزارت تجارت نے ملک میں سبزی کے بڑھتے ہوئے بحران کو دیکھتے ہوئے ایران اور افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے کی سمری تیار کر لی ہے جسے منظوری کے لئے کابینہ میں پیش کیا جائے گا ۔ وزارت تجارت کا خصوصی اجلاس منگل کو وفاقی وزیر تجارت انجینئر نوید قمر کی صدارت میں ہوا جس میں سبزی کے موجوہ بحران پر غور کیا گیا ۔ اجلاس میں سبزیوں کی قیمتیں کم کرنے کے لئے لیویز اور ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے ایک ارب 17 کروڑ ڈالر امداد کی منظوری دے دی

Be the first to comment

Leave a Reply