سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ، ملک کو9 کھرب کا معاشی نقصان

سیلاب کی تباہ کاریاں جاری
سیلاب کی تباہ کاریاں جاری معیشت کو 9 کھرب کا نقصان

سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ، ملک کو9 کھرب کا معاشی نقصان

کراچی (ویب ڈیسک) ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ، سوات ، نوشہرہ میں ہزاروں لوگ بے گھر ،دریائے سوات اور دریائے کابل میں اونچے درجے کا سیلاب ، حالیہ سیلاب سے 9 کھرب کا نقصان ۔

سوات ، نوشہرہ ،چترال ویگر علاقوں میں ہزاروں لوگ بے گھر

تفصیلات بارشوں کے نئے سلسلے نے صوبہ خیبر پختونخوا میں تاہی پھیر دی ، سوات ،نوشہرہ سمیت دیگر شہروں میں ہزاروں بے گھر ہوگئے ، محفوظ مقامات کی طرف منتقلی کا سلسلہ جاری ، دریائے کابل میں پانی کا بہاؤ چار لاکھ کیوسک سے بڑھنے کا امکان ، ڈی سی نوشہرہ کی درخواست پر ورسک اور تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں کمی کر دی گئی جس کے بعد دریائے کابل میں سیلابی ریلے کی شدت میں کمی واقع ہوگئی ۔

حالیہ سیلاب 2010 کے سیلاب سے زیادہ مہلک ثابت ، نقصان کا تخمینہ 900ارب

ایک معاشی سروے کے مطابق حالیہ سیلاب سے ہونے والے معاشی نقصان کا تخمینہ 900 ارب روپے ہے جو 2010 کے سیلاب سے ہونے والے نقصان سے زیادہ ہے ، این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک آٹھ لاکھ سے زائد جانور سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں ۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ملک میں گوشت ،سبزی اور غلہ جات کی قمیتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو سکتا ہے ۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مفت فون کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی

دریں اثنا وزیراعظم پاکستان کے حکم پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مفت فون کال کرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے جس کا مقصد متاثرین کے ریسکیو اورریلیف کے کاموں کو بہتر بنانا ہے ، وزیر کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے فری فون کی سہولت فراہم کر دی ہے۔

پاک فوج کی جانب سے 117 ریلیف کیمپ قائم ، متاثرین میں 1200 خیمے تقسیم

دوسری جانب پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں پاک فوج کی جانب سے ملک کے 117 مقامات پر ریلیف کیمپس لگانے گئے ہیں پاک فوج کی جانب متاثرین میں 1200 خیمے، پانچ ہزار سال زائد راشن پیکٹس تقسیم کئے گئے۔

چترال کے درجنوں دیہات متاثر ، مقامی رہنماؤں کا 10 ارب کے ریلیف پیکج کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کے علاقے چترال میں بھی متعدد گاؤں سیلاب کی زد میں ہیں ، گزشتہ چار دنوں سے چترال میں مسلسل بارش ہو رہی ہے جس کی وجہ دریائے چترال جو دریائے کابل کہلاتا ہے میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے دریا کے کنارے پر واقع گاؤں دریا برد ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ایم پی اے سید سردار حسین نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے متاثرین کے لئے فوری طور پر دس ارب روپے کا ریلیف پیکج جاری کیا جائے ۔

سیلاب متاثرین ، مذہبی تنظیمیں اور دینی شخصیات

1 Trackback / Pingback

  1. ترکی جہاز امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچ گئے

Leave a Reply