پاکستان کے بہادر سپوت راشد منہاس کا آج 51 واں یوم شہادت

پاکستان کے بہادر سپوت راشد منہاس کا آج 51 واں یوم شہادت
پاکستان کے بہادر سپوت راشد منہاس کا آج 51 واں یوم شہادت

کراچی ،ایجو تربیہ ڈیسک ،آج پاک دھرتی کے بہادر سپوت راشد منہاس شہید کا 51 واں یوم شہادت ہے ، پاکستان فضائیہ کی جانب سے ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک مختصر ڈاکومینٹری فلم ریلیز کی گئی ہے ۔

20اگست1971 کو ملکی طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش ناکام بنا دی

وطن کے عظیم سپوت راشد منہاس اکاون سال پہلے آج ہی کے دن اپنے وطن کی حرمت پر قربان ہوگئے تھے ،اس نوجوان پائلٹ نے 20 اگست 1971 کو اس وقت تاریخ رقم کی جب ان کے اپنے ہی انسٹرکٹر پائلیٹ فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن نے ان کے تربیتی طیارے کو ہائی جیک کرکے بھارت لے جانے کی کوشش کی، راشد منہاس نے آخری لمحے تک تربیتی طیارے ٹی 33 کا کنٹرول واپس لینے کی بھرپور کوشش کی جس میں ناکامی کے بعد انہوں نے طیارہ اپنی ہی سر زمین پر گرانے کو ترجیح دی اور اسے سرحد عبور کرنے نہ دیا ،اس کوشش کے دوران انہوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا اور ملکی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے ۔

حکومت پاکستان کی جانب سے نشان حیدر سے نوازا گیا

حکومت پاکستان کی جانب سے راشد منہاس کو ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا ہے ، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے سب سے کم عمر افسر ہیں ۔

1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے ،بچپن سے فوجی ملازمت میں دل چسپی تھی

راشد منہاس17 فروری 1951 کو کراچی میں مجید منہاس کے ہاں پیدا ہوئے۔ راشد منہاس راجپوت گوت قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ راشدمنہاس نے 1968ء میں سینٹ پیٹرک سکول کراچی سے سینئر کیمبرج کیا۔ ان کے خاندان کے بہت سے لوگ پاکستان کی تینوں افواج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ اس وجہ ان کو بھی فوج سے وابستہ ہونے کا شوق تھا ان کے ماموں فضائیہ میں ونگ کمانڈر تھے ،جن سے ان کو قریبی تعلق تھا یہی تعلق ان کو پاک فضائیہ کی طرف لے گیا ۔

راشد منہاس نے 1971 میں فضائیہ میں کمیشن حاصل کیا

شہید راشد منہاس نے ابتدائی تربیت کوہاٹ سے حاصل کی، بعد میں ائیر فورس اکیڈیمی رسالپور چلے گئے۔ فروری 1971ء کو پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انگریزی، ائیر فورس لاء، ملٹری ہسٹری، الیکڑونکس، موسمیات، جہاز رانی، ہوائی حرکیات وغیرہ میں بی۔ ایس۔ سی کیا۔ بعد ازاں تربیت کے لیے کراچی آئے۔ اگست 1971ء میں پائلٹ آفیسر بنے۔

ضیاء الحق طیارہ حادثے کو34 برس بیت گئے

Be the first to comment

Leave a Reply