Columnsتاریخ اسلامی

امت کی پہلی عید اور اسلام کی اولین مساجد

امت کی پہلی عید اور اسلام کی اولین مساجد

طیبہ ضیاء

سعودی حکومت نے جب سے وزٹ ویزے کی سہولت مہیا کی ہے الحمداللہ امریکہ سے پاکستان آتے جاتے حرمین شریفین کی زیارت نصیب ہو جاتی ہے ورنہ پہلے عمرہ ویزہ اپلائے کرنا پڑتا تھا اور سال میں ایک مرتبہ اجازت ہوتی تھی۔ آج لاہور سے سوئے مدینہ روانگی کے دوران آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ کی پہلی عید کے تصور میں آنکھیں نم ہیں۔ کیا منظر ہوگا سبحان اللہ۔

مسجد جمعہ

سنہ 8ربیع الاول میں مکہ سے ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ پہلے بنی عوف کے ہاں ٹھہرے تھے۔پہلی مسجد ، مسجد قبا یہیں تعمیر ہوئی تھی۔اس کے بعد آپ ﷺ بنی سالم بنی عوف کے ہاں رکے۔ یہاں پہلا جمعہ پڑھا۔ جس مسجد میں نماز پڑھی گئی، وہ مسجد جمعہ کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔

مسجد قبلتین

آگے چل کر سواد بنی غنم بن کعب میں قیام کے دوران یہاں بھی مسجد تعمیر ہوئی۔ ابھی تک نماز میں شمال کی طرف بیت المقدس کی جانب رخ کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺکی بہت خواہش تھی کہ رخ کعبہ کی طرف ہو جو اللہ کا وہ گھر ہے، جسے حضرت ابراہیمؑ اور ان کے بیٹے اسماعیلؑ نے تعمیر کیا تھا۔ ان دونوں پر اللہ کا سلام ہو۔ اسی مسجد میں نماز کے دوران قبلے کی تبدیلی کا حکم ہوا تو یہ مسجد القبلتین یا دو قبلوں اور دو محرابوں والی مسجد کہلا تی ہے۔

رسول اللہ کی مدینہ آمد اور مسجد نبوی کی تعمیر

بنی غنم سے رخصت ہو کر آپؐ مدینہ تشریف لائے جواس وقت یثرب کہلاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺکے آنے کے بعد اس کا نام مدینہ یعنی نبی کا شہر پڑ گیا۔ایک نسبت سے مدینہ نبی رحمتﷺ کا ننھیال بھی تھا۔ نبی کریمﷺ کے پڑدادا حضرت ہاشم کی بیوی سلمیٰ بنت عامر مدینہ میں بنو خزرج کے خاندان بنو نجار سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس نسبت سے آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب بنی مالک بن النجار کے نواسے کہلاتے تھے۔ رواج کے مطابق دادا کا ننھیال بھی پوتے کا ننھیال بھی شمار ہوتا تھا۔ بنو نجار مدینہ کا ممتاز قبیلہ تھا۔ یہاں مرکزی مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیا۔ جو زمین چنی گئی، وہ دو یتیموں کی ملکیت تھی۔ بنو نجار نے پیش کش کی،لیکن نبی اکرمﷺ نے زمین خرید کر مسجد تعمیر کی جو مسجد نبوی کہلاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں رسول اللہ ﷺنے خود پتھر ڈھوئے۔ جتنا عرصہ یہ مسجد تعمیر ہوئی آپ بنو نجار کے سردار حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے ہاں مہمان رہے۔ یہ تمام مسجدیں آباد ہیں۔

 

مدینہ میں پہلی عیدالفطر

اسلام کی پہلی عیدالفطر عید کی نماز شہر مدینہ کے مشرقی دروازے کے باہر کھلے میدان میں ہوئی۔ غسل کے بعد آپ ﷺنے سادہ لباس پہنا، اپنی پسندیدہ سرخ اور سبز دھاریوں والی یمانی چادر اوڑھی ، چند کھجوریں تناول فرما ئی، آپ عید گاہ کے لئے روانہ ہو رہے ہیں۔
آپ کے ساتھ خاندان کے افرادآپﷺ کی ازواج اور بیٹیوں کے ساتھ آپ کے چچا زاد حضرت علی ؓبن ابو طالب، حضرت جعفر ؓبن ابو طالب، فضل بن عباسؓ، عبداللہ بن عباسؓ، اسامہ بن زیدؓ، زید بن حارثہؓ، حضور ﷺکی والدہ کی خادمہ ام ایمن کے بیٹے ایمن بھی شامل ہیں۔

یہودیوں کے کفارے کے دس روزے اور عاشورہ

قبل از اسلام تاریخی طور پر یہودی یم کپور منایا کرتے تھے۔ یہ ان دنوں کی یادگار تھی جب بنی اسرائیل مصر سے ہجرت کرکے وادی سینا میں آئے تھے۔ حضرت موسیٰؑ طور سینا پر خدا سے احکام خداوندی لینے گئے اور دس احکام لے کر اترے تو اس عرصے میں بنی اسرائیل سب کچھ بھول بھال کے سنہری بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تھے۔
بنی اسرائیل کو دس دن تک کفارے کے روزوں اور توبہ کا حکم ملا۔ ان دنوں کو خوف کی حالت میں خدا سے معافی مانگتے ہوے منایا جاتا ہے۔یہ دس دن یم کپور یعنی کفارے کے دن کہلاتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کو جب یہودیوں کے دس روزوں کے بارے میں بتا یا گیا تو ابھی رمضان کے روزے فرض نہیں ہوے تھے۔ آپ نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ روزے رکھنا تو ہمارا بھی حق ہے۔ محرم میں عاشور کے روزے رکھے۔

رمضان کے روزوں کی فرضیت اور دو اسلامی تہواروں کی ابتداء

سن 2ہجری میں رمضان میں مہینے بھر روزوں کا حکم ہوا تو عاشور کے دس روزے نفلی روزوں کی حیثیت سے جاری رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے لئے دو تیو ہاروں کا اعلان دو عیدوں کے طور پر کیا۔ پہلی عید، عید الفطر یکم شوال کو رمضان کے روزے مکمل ہونے کی خوشی میں اور دوسری عید، عید الاضحی سال کے آخری مہینے میں حج کی عبادت کی تکمیل پر۔ اس مہینے کا نام ہی ذوالحجہ ہے۔ عیدالفطر کی ادائیگی میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچے بھی چل رہے تھے۔رسول اکرمﷺ نے سب کو اس نماز میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔نئے احکام آئے سورج نکلنے کے تھوڑی دیر بعد عید کی نماز ادا کی جائے گی۔

مدینے کے باہر میدان میں اجتماع عید اور رسول اللہ کا
خطبہ

عید کی نماز کے لئے مدینہ کے مشرقی دروازے کے باہر ایک میدان متعین کیا گیا۔ رسول اللہﷺ نے اپنے سامنے نیزہ گاڑ کر نماز کا اشارہ کردیا کہ نماز شروع ہو چکی ہے۔ بلند آواز سے اللہ اکبر کہہ کرنماز شروع کی۔ نماز مکمل کرکے اب رسول اللہﷺ لوگوں کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو گئے۔ پہلے حضرت بلال ؓنے سہارا دیا اور آپؐ نے اپنے نیزے پر ٹیک لگا کر پہلی عید الفطر کا خطبہ دیا۔ خطبے کے بعد اب نبی اکرم ﷺ خواتین کی طرف چلے گئے۔ خواتین کو مال اور جائیداد میں ملکیت کے حقوق حاصل ہیں، اس لئے وہ بھی صدقات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ آپؐ انہیں صدقات کی اہمیت سمجھا رہے تھے اور اس کے احکام بیان کر رہے تھے۔ خواتین اپنے زیورات صدقے کے طور پر پیش کر رہی تھیں۔

خطبے کے اختتام پر رسول اللہﷺ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔یا اللہ، ہم تجھ سے متقیوں والی زندگی اور سرخروئی کی موت مانگتے ہیں۔ تیری طرف لوٹیں تو امتحان میں کامیاب ہو کر لوٹیں ، ذلت اور شرمندگی در پیش نہ ہو۔ یا اللہ ہمیں غیر متوقع اور اچانک ہلا کت سے دوچار نہ کرنا، ہمیں اچانک پکڑ میں نہ لینا، ہمیں حق اور نصیحت کی نعمت سے محروم نہ رکھنا، یا اللہ ہم تجھ سے پاکدامنی اور خود داری کے سوالی ہیں، تقویٰ، پرہیزگاری اور ہدایت کے طلب گار ہیں، دنیا اور آخرت میں بہتری کی دعا مانگتے ہیں۔ ہم تیرے دین کے بارے میں کسی شک اور شبہے میں مبتلا ہونے سے تیری پناہ مانگتے ہیں، جھگڑے سے، دکھلا وے سے اور بدنامی سے محفوظ رکھنا۔ اے دلوں کو پھیرنے والے ہدایت عطا کرنے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ آنے دینا۔ ہمیں اپنی خصوصی رحمت کی باہوں میں لے لے۔ تو تو بہت سخی اور فیاض ہے۔
(بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت)

 

عید اور خوشی منانے کا اسلامی تصور

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button