اقوام متحدہ نے طالبان وزرائے تعلیم پر سفری پابندی عائد کر دی

UN-Imposes-travel-ban-on-education-minister.jpg

کراچی (نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ نے طالبان کے وزراء برائے اعلی تعلیم پر سفری پابندیاں عائد کر دیں۔ پابندی کی وجہ افغانستان میں خواتین کے اسکولز اور تعلیمی اداروں کی بندش قرار دی گئی ہے۔

وزیر برائے اعلی تعلیم اور نائب وزیر تعلیم افغانستان سے باہر سفر نہیں کر سکیں گے

اس سے قبل اقوام متحدہ نے بیرون ملک مذاکرات کی خاطر 15 طالبان عہدے داروں سفری استثنی دیا تھا جن میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم عبدالباقی حقانی اور نائب وزیر تعلیم سید احمد شادخیل بھی شامل تھے۔

 13 طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت میں توسیع

مذکورہ 15 طالبان رہنماؤں کے بیرون سفر اجازت کی مدت 20 جون کو ختم ہوگئی ہے،اقوام متحدہ نے باقی 13 رہنماؤں کی سفری مدت میں مزید دو ماہ کی توسیع کر دی ہے جبکہ 2 وزراء برائے اعلی تعلیم کے سفری استثنی میں توسیع سے انکار کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق یہ وزراء افغانستان میں خواتین پر عائد تعلیمی پابندیاں ختم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے۔

پابندی افغانستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے لگائی گئی

اقوام متحدہ کے سفارتکاروں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفت گو کرتے ہوئے کہا ہےکہ دو افغان عہدے داروں پر سفری پابندیاں افغان خواتین پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔

 غیر منصفانہ فیصلے سے صورت حال مزید خراب ہوگی،افغان وزیر تعلیم

دوسری جانب طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
افغان نائب وزیر برائے اعلیٰ تعلیم لطف اللّٰہ خیرخواہ نے فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ ایسے فیصلے صورتحال کو بہتر کرنے کے بجائے مزید خراب کردیں گے۔

افغانستان میں رواں سال مارچ سے لڑکیوں کے سیکینڈری اسکولز بند ہیں

یاد رہے کہ طالبان نے بر سر اقتدار آنے کے بعد مارچ کے مہینے میں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بند کروا دیے تھے جو اب تک نہیں کھولے گئے ہیں۔

خواتین کےلئے الگ تعلیمی ادارے قائم کرنے میں وقت لگے گا،طالبان کا موقف

طالبان کا موقف ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں بلکہ وہ مخلوط تعلیم کو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کے لئے الگ تعلیمی ادارے کھولنے کے لئے پر عزم ہیں ۔اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں وقت لگے گا۔ دنیا کو طالبان کے اسلامی موقف کا احترام کرنا بھی چاہیے اور تھوڑا انتظار بھی کرنا چاہیے۔

Be the first to comment

Leave a Reply