دنیا میں شدید ہوتا غذائی بحران اور قحط کا خطرہ

دنیا میں شدید ہوتا غذائی بحران اور قحط کا خطرہ
دنیا میں شدید ہوتا غذائی بحران اور قحط کا خطرہ (تحریر: نوید نقوی)

دنیا میں شدید ہوتا غذائی بحران اور قحط کا خطرہ

نوید نقوی

پوری دنیا کے اہل دانش اور اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی تنظیمیں متنبہ کر رہی ہیں کہ ہماری دنیا میں وسائل خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں اور بڑھتی آبادی کا بوجھ ہمارا یہ سیارہ نہیں اٹھا پا رہا ہے ۔ طاقتور ممالک سمیت ہر ذمہ دار ملک کو چاہیئے کہ بروقت اقدامات کر لے کہیں ایسا نہ ہو دیر ہو جائے اور دنیا کو ایک خطرناک غذائی بحران یا قحط کا سامنا کرنا پڑے۔

روس اور یوکرین جنگ سے لاکھوں انسانوں کو بھوک اور قحط کا خطرہ

16 اکتوبر کو ورلڈ فوڈ ڈے منایا گیا اور جو رپورٹس سامنے آئی ہیں وہ نہ صرف قابل تشویش ہیں بلکہ ہماری آنکھوں کو کھولنے کے لیے کافی ہیں، دنیا میں مختلف ممالک کے درمیان پانی، زمین ، سمندری وسائل اور متعدد تنازعات کی وجہ سے امن و امان کا مسلئہ شدید ہوتا جا رہا ہے ، حالیہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نے لاکھوں لوگوں کو بھوک اور قحط کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے جن کا اس جنگ سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے۔

دنیا میں ہر رات 82 کروڑ افراد بھوکا سوتے ہیں

شدید بھوک، غذا اور غذائیت کی کمی دنیا کے کئی حصوں میں روزمرہ کا چیلنج بن چکا ہے اور اس کا پیمانہ واقعی بہت بڑا ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ ’ہر رات تقریباً 82 کروڑ افراد بھوکے سوتے ہیں‘ اور ’34 کروڑ شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔

دنیا میں ہر تیسرا فرد ، بچوں کا ایک چوتھائی حصہ غذائی کمی کا شکار

گلوبل نیوٹریشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کا ہر تیسرا فرد غذائی کمی کا شکار ہےدنیا میں 5 سال سے کم عمر ہر تین میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہے اور یہ مسئلہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ ہر ملک اس کا سامنا کر رہا ہے،دنیا میں بچوں کا ایک چوتھائی حصہ غذائی کمی کے مہلک مسئلے کا شکار ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

رواں سال نومبر میں انسانوں کی کل تعداد 8 ارب ہوجائے گی

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 15 نومبر 2022 کو زمین پر ایک ہی وقت میں زندہ انسانوں کی تعداد آٹھ ارب ہو جائے گی۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت کے مطابق زمین کی 38 فیصد یا پانچ ارب ہیکٹر سطح انسانوں یا ان کے جانوروں کے لیے خوراک یا دوسری مصنوعات (ایندھن) وغیرہ کے لیے زیر استعمال ہے ایک اندازے کے مطابق زمین پر بلحاظ وزن انسانوں کا حصہ 32 فیصد ہے جبکہ باقی ریڑھ کی ہڈی رکھنے والی (فقاریہ) جنگلی حیات محض ایک فیصد ہے باقی مویشیوں اور پالتوں جانوروں پر مشمل ہے۔

انڈیا کا امیج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا ہے اور کہنے کو یہ انتہا پسند ملک دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بھی ہے لیکن یہاں کروڑوں لوگ بھوک کی وجہ سے چوہے ، ہڈیاں ، کیکٹس اور کیچڑ ملا پانی پینے پر مجبور ہیں اس ملک کی نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندؤ بھوک سمیت دیگر سماجی مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ انڈیا کے ذات پات پر مبنی درجہ بندی کے سماجی ڈھانچے میں یہاں کے لوگوں کو برسوں سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

صومالیہ 40 سال کی بدترین قحط سالی سے دوچار

دوسری طرف خانہ جنگی کا شکار ملک صومالیہ کے لوگ بھی مصائب کا شکار ہیں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صومالیہ کو تباہ کن قحط سالی کا سامنا ہے اور ملک میں 40 سال کی بدترین خشک سالی نے پہلے ہی دس لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا ہے، لوگ کیچڑ زدہ پانی پی کر اور درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کر رہے ہیں۔

برازیل میں 3 کروڑ سے زائد لوگ فاقہ کشی پر مجبور

برازیل جس کے بارے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے جو ایک لاطینی امریکہ کا ایک طاقتور ملک ہے ،دنیا کے سب سے بڑے امیزون جنگل اور اس کی فٹبال ٹیم کے حوالے سے پوری دنیا اس ملک کو جانتی ہے یہاں کے لوگ بھی بھوک کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ برازیلین نیٹ ورک فار فوڈ سکیورٹی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق برازیل میں تین کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد فاقہ کشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اگر ہم بحر ہند کے سب سے بڑے جزیرے مڈغاسکر کا رخ کریں تو یہاں کے لوگ گزشتہ کئی برس سے فاقوں کا سامنا کر رہے ہیں، ڈبلیو ایف پی نے گذشتہ سال رپورٹ کیا تھا کہ جنوبی مڈغاسکر میں ’لوگ اپنی بھوک مٹانے کے لیے املی کے رس، کیکٹس کے پتے، جنگلی جڑوں کے ساتھ سفید مٹی کھانے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے کئی معصوم بچے ڈائیریا کا شکار ہو کر بیمار ہو رہے ہیں غذائی قلت کی وجہ سے لوگوں کو متعدد بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔ ہمارا ایک اور پڑوسی ملک افغانستان شدید غذائی بحران کا سامنا کر رہا ہے اور لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں۔

پاکستان میں ایک تہائی سے زیادہ بچوں کو خوراک کی کمی کا سامنا

پاکستان میں بھی صورتحال کافی تشویشناک ہےGlobal Hunger Index میں پاکستان کا 117 ممالک میں 94 واں نمبر ہے جبکہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 40 فیصد بچے Stunted Growth کا شکار ہیں اور یہاں ایک سروے کے مطابق ملک میں ایک تہائی سے زیادہ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، 29 فی صد کے قریب وزن کی کمی جب کہ 17 فی صد سے زائد جسمانی کمزوری کا شکار ہیں ۔ نوجوان خواتین میں سے 50 فی صد خواتین اینیمیا یعنی خون کی کمی کا شکار ہیں۔

ملک میں 32 فیصد بچوں کو وزن کی کمی کی شکایت

پاکستان میں غذائی قلت کی صورتحال ابتر ہے، تھر کے صحراؤں میں بھوک پیاس سے مرتے بچے اور بلوچستان کے بنجر علاقوں میں غذائی اجزاء کو ترستے عوام اس صورتحال کی سنگینی کا ثبوت دیتے ہیں، افسوس کہ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہونے سے لے کر بڑھا ہونے تک غذائی قلت کا شکار رہتا ہے ، عالمی ادارہ اطفال کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والے 32 فیصد بچوں کا وزن پیدائش کے وقت اڑھائی کلو گرام سے کم ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ کم وزنی کا شکار ہوتے ہیں۔اور یہ دنیا بھر میں دوسری سب سے زیادہ تشویشناک شرح ہے۔ جبکہ 28دن کی عمر سے کم کے نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات 46 فی ہزار ہے جو کہ ایک سنگین شرح ہے۔

پاکستان میں 37 فی صد گھرانوں کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور وسائل کی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔تاہم آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں اس سے کہیں زیادہ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔

بھوک اور غذائی بحران کی چار وجوہات

ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ بھوک ہے۔یہ اس بڑے پیمانے پر بھوک کے بحران کا ذمہ دار چار عوامل کو ٹھہراتا ہے: تنازع، المناک ماحولیاتی تبدیلیاں، کووڈ 19 وبائی امراض کے معاشی نتائج اور بڑھتے ہوئے اخراجات۔سنہ 2022 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایف پی کے ماہانہ آپریٹنگ اخراجات سنہ 2019 کی اوسط سے 73.6 ملین امریکی ڈالر زیادہ ہیں جو کہ ایک حیران کن 44 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

آپریٹنگ اخراجات پر اب جو اضافی خرچ کیا جاتا ہے اس سے پہلے ایک ماہ کے لیے چالیس لاکھ لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔رپورٹ کے مطابق صرف پیسہ ہی بحران کو ختم نہیں کرے گا: جب تک تنازعات کو ختم کرنے کے لیے سیاسی عزم اور گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کا عزم نہ ہو تو بھوک کے اصل محرکات بلا روک ٹوک جاری رہیں گے۔

سری لنکا میں اشیاء خور و نوش کی قیمتوں میں 75 فیصد اضافہ

ہمارا ایک دوست ملک سری لنکا کچھ عرصہ پہلے دیوالیہ ہو گیا تھا اس ملک میں بھی عوام کو کھانے پینے کی اشیاء حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔سری لنکا میں جون میں سالانہ بنیادوں پر غذا کی قیمتوں میں اضافہ 75.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سری لنکن عوام اپنی آمدنی کا 29.6 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

نائجیریا میں آٹے کے نرخ 200 فیصد بڑھ چکے

افریقی ملک نائجیریا جو تیل کی دولت سے مالامال ہے یہاں بھی حالات ابتر ہیں یہاں گذشتہ ایک برس میں گندم کے آٹے کی قیمت 200 فیصد، چینی کی قیمت 150 فیصد اور بیکنگ میں استعمال ہونے والے انڈوں کی قیمت 120 فیصد بڑھ گئی ہے۔ نائیجیریا میں جولائی میں سالانہ بنیادوں پر غذا کی قیمتوں میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔نائیجیریا کے لوگ اپنی آمدن کا اوسطاً 60 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

لاطینی امریکہ کا ایک اور ملک جو ہمارے ملک سے کافی خوشحال سمجھا جاتا ہے یہاں بھی خوراک کی فراہمی میں تعطل پیدا ہو رہا ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پیرو کے لوگ اپنی آمدن کا 26.6 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔
جنگ کا شکار ملک شام میں بھی حالات دگرگوں ہیں اور خوراک حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو تکلیف دہ مسائل کا سامنا ہے،قوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) نے گذشتہ سال علاقے میں صنفی تشدد کے حوالے سے ایک جائزہ رپورٹ مرتب کی تھی جس میں وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ شام کے کئی علاقوں میں خیراتی امداد کے بدلے جنسی استحصال کیا جا رہا ہے۔

انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت

یہ پوری دنیا کی اجتماعی صورتحال ہے امیر ملک ہوں یا غریب قومیں ، یہ ان کے اہل دانش بہتر جانتے ہیں آنے والے بحران سے کیسے نمٹنا ہے ہمیں صرف پاکستان کی فکر کرنی چاہیئے کہ یہ ہمارا گھر ہے وطن ہے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ اس کو تا قیامت آباد رکھیں گے ۔ ہمارے ملک میں بچوں کو غذائی نشوونما کی کمی کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے انفرادی، اجتماعی و عالمی کوششوں کی ضرروت ہے ،اس مسئلے کا حل کسی ایک کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ مشترکہ جنگ ہے۔

غذائی بحران سے ہم کیسے نمٹیں ؟

سب سے پہلے انفرادی طور پر کوششوں کی بات کرتے ہیں، اس میں سب سے پہلے عوام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں،اپنے مالی حالات کے حساب سے اپنا کنبہ بنائیں ، صرف جتنے بچوں کو معیاری خوراک دلا سکتے ہیں صرف اتنے بچے پیدا کریں۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے ضروری اجزاء ہیں جو ماں کے دودھ میں موجود ہوتے ہیں، مگر ہمارے ہاں نومولود تک غذائیت پہنچانے کا یہ خالص طریقہ کار ختم ہوتا جا رہا ہے ، اسے اپنانا ہوگا اور بچوں کو صحت مند بنانا ہوگا۔

والدین بچوں کو جنگ فوڈ سے بچائیں !

اسی طرح والدین پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جنک فوڈ سے دور رکھتے ہوئے ، صحت مند خوراک دیں، آج چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں دودھ کے فیڈر کی جگہ سوڈے کا گلاس آچکا ہے، چنانچہ ان چیزوں پر توجہ دینا ہوگی۔ اسی طرح حکومت و ریاست کو بھی اس حوالے سے کام کرتے ہوئے غربت کے خاتمے کیلئے جدو جہد کرنی چاہیے ، کیونکہ جیسا کہ بتایا گیا کہ ملک میں غذائی قلت کی ایک بنیادی وجہ وسائل اور خوراک کا نہ ہونا ہے ۔

غریب علاقوں کے عوام کو اچھی خوراک کی فراہمی پر توجہ دینے کی ضرورت

لہذا حکومت کو ان علاقوں کی نئے سرے سے نشاندہی کرنی چاہیے جہاں غذائی قلت کا مسئلہ درپیش ہے ، اور وہاں کے بچوں کو ضروری غذا کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے، اور ساتھ عوام میں آگاہی بھی دی جائے کہ وہ اپنے حالات کو کس طرح بہتر کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ ملک میں غریبوں کی امداد کے کئی قابل تحسین پروگرامز چل رہے ہیں مگر غذائی قلت کی صورتحال میں عوام کو نقدی دینے کے بجائے ان کو نشوونما سے بھرپور خوراک مہیا کی جائے۔ اسی طرح بچوں کی پیدائش کے وقت جو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں ، اسی کے ساتھ بچوں میں غذائی نمکیات کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ضرروی اجزاء بھی والدین کے حوالے کیے جائیں ، اور انھیں اس چیز کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ اجزاء لازمی مہیا کریں۔

عالمی اداروں اور امیر ممالک کی ذمے داری

اسی طرح ایک ذمہ داری عالمی اداروں اور امیر ممالک کی بھی بنتی ہے کہ وہ ترقی پذیر غریب ممالک کی طرف توجہ دیں ، اور بنا کسی لالچ کے لوگوں میں غذائی قلت ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، خوراک ان غریب ممالک میں بھیجی جائے، جہاں خورد برد سے بچنے کیلئے سخت مانیٹرنگ بھی کی جائے، ساتھ ساتھ اس چیز کو یقینی بنایا جائے کہ باہر سے آنے والی خوراک یا امداد اصل حق داروں تک پہنچ چکی ہے۔

بچوں کی بہتر ذہنی نشوونما اچھے مستقبل کی ضمانت

آج ہمارے بچوں کی ذہنی نشو و نما ٹھیک نہیں ہو پا رہی ہے ، اور خدشہ ہے کہ ایسے بچوں میں ذہنی و جسمانی امراض سامنے آئیں گے۔ اگر ملک کا مستقبل بننے والے یہ بچے اپنی عمر کے پہلے حصے میں ہی بیمار پر گئے تو ہمارا ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے ؟ ہم اپنی قومی پیداوار کیسے بڑھا سکتے ہیں ؟ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے قومی مستقبل کیلئے سب سے پہلے اپنے انسانی وسائل کو کارآمد بنانا ہوگا۔ اگر ہمارے انسان تندرست ہوں گے تو ہم ترقی کا ہر مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ ہر دشمن کا مقابلہ کر سکیں گے اور دنیا کے مظلوموں اور بے بسوں کی مدد کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیئے:

دنیاکاتباہ ہوتا ایکو سسٹم اور معدومیت کا شکار جنگلی حیات

1 Trackback / Pingback

  1. چین میں کرونا پھر سر اٹھانے لگا ،24 گھنٹوں میں 31 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

Leave a Reply