بچوں کو معاشرتی تنوع اور اختلاف سمجھانا

بچوں کو معاشرتی تنوع اور اختلاف سمجھانا
بچوں کو معاشرتی تنوع اور اختلاف سمجھانا

بچوں کو معاشرتی تنوع اور اختلاف سمجھانا

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ لوگوں میں باہمی اختلاف کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے اور سب کو ایک ہی طرح کے سمجھتے ہیں۔ تھوڑے بڑے ہونے کے بعدجب ان کو اس بارے معلوم ہونا شروع ہوتا ہے تو اپنے سے مختلف لوگوں کو کمتر سمجھنا یا ان کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کو لوگوں کے درمیان مذاہب، نظریات، افکاروخیالات، نسل اور ثقافت میں اختلاف کے بارے میں بتائیں۔ اور ساتھ ہی اپنے سے مختلف لوگوں کااحترام بھی سکھائیں۔مندرجہ ذیل باتوں سے بچوں میں اپنے سے مختلف لوگوں کے بارے میں معلومات کے ساتھ ان کے بارے میں مناسب رویے، اور برداشت کا رجحان پیداکیا جاسکتاہے۔

:بچوں کو عدم برداشت والے جملوں سے روکیں

یہ دنیا تنوع ،رنگ برنگی اور تضادات کا مجموعہ ہے جب تک زندگی میں تنوع اور رنگ برنگی رہے گی اس کا حسن بھی دوبالارہےگا ورنہ یکسانیت اسے پھیکا کرکے رکھ دے گی۔بعض اوقات بچے کسی مخالف مذہب، فرقے ، نظریے ، نسل یا زبان کے لوگوں کے بارے میں عدم برداشت پر مبنی خیال اپنا کر جملے کستے ہیں ، ایسے میں والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں سے اس بارے میں مکالمہ شروع کریں کہ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں۔

اس طرح تفصیلی گفتگو سے بچوں کے ایسے خیال کے بارے میں معلوم ہوگا ۔یہ معلوم کرنے کے بعد والدین کوچاہیے کہ اپنے بچوں کو اس حوالے سے تحمل وبرداشت کارویہ سکھائیں ۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ بچوں کے رول ماڈل ماں باپ ہی ہوتے ہیں اگر خود والدین اپنے سے مختلف لوگوں کے لئے تحمل وبرداشت اور احترام کا رویہ اپنائیں گے تو بچے خودبخود یہ رویہ اپنائیں گے۔ جو انسانی فلاح کے لئے نہایت ضروری عمل ہے۔

عدم برداشت کا کوئی منظر بچے کسی میڈیا چینل یا کہیں سے بھی دیکھ لیں تو فورا اس پر ان سے مکالمہ کرلیں کہ اس کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے اور پھر ان کو دنیا کے غلط رویے کے بارے میں آگاہ کریں اور بتائیں کہ دنیا کا حسن تو رنگ برنگی میں ہے قدرت نے اسی تنوع کے ساتھ اس کائنات کو بنایا ہے لیکن یہ انسانوں کی کم ظرفی ہے کہ قدرت کے اس حسن پرراضی نہیں۔

بچوں کو معاشرتی تنوع اور اختلاف سمجھانا
بچوں کو معاشرتی تنوع اور اختلاف سمجھانا بہت اہم ہے

اس کے ساتھ اپنے آس پاس اور معاشرے سے وہ مثالیں پیش کرسکتے ہیں جن میں لوگ اس تنوع کو خوشی سے قبول کرتے ہیں اپنے سے مختلف لوگوں کو عزت دیتے ہیں اور آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں۔ یقینا یہی لوگ قابل تقلید ہیں اور اسی طرح سے بچوں کی ذہن سازی کی جانی چاہییے۔

:کمیونٹی میں کردارادا کرنا

اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے بچے کو دوسروں کی مدد کے لئے تیار کرنا۔یہ انسانیت کااعلی مرتبہ ہے کہ اپنی ذات یا خاندان سے آگے بڑھ کر کمیونٹی یامعاشرے میں کسی دوسرے کے فائدے کے لئے سوچاجائے۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں آسائش اور مراعات کے لحاظ سے شدید تنوع موجود ہے۔ یہاں کچھ لوگوں کے پاس دنیا کے وسائل بے شمار ہیں جبکہ زیادہ ترلوگ ان وسائل سے محروم اور عاری ہیں وہ ضرورت مند اور محتاج ہیں۔

کچھ بیمار ہیں ان کے پاس اپنی دوااور علاج کے لئے وسائل نہیں ہوتے ، کچھ کے پاس گھر نہیں کچھ کے پاس کھانے پینے کا سامان نہیں ۔ دنیا مختلف آفتوں کی آماجگاہ ہے ان آفتوں سے لوگ بے گھر بے درہوجاتے ہیں ان ضرورت مندوں تک پہنچنا اور ان کی مدد کرنا عظیم انسانیت ہے اسی کو کمیونٹی میں کردار ادا کرنا کہتے ہیں۔

ہمیں اپنی نسل کو اپنے کردار سے یہ سکھانا چاہیے کہ اپنے لئے جینا کوئی جینا نہیں ایسا تو ہرکوئی جیتا ہے لیکن عظمت والی زندگی وہی ہے جو لوگوں کے کام آتی ہے۔یعنی آپ کی زندگی ایک شجرسایہ دار کی طرح بن جاتی ہے جس کی ٹھنڈی چھاوں سے بے شمار لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔بے شمار پرندے اس میں گھونسلہ بناتے ہیں ، اس کے پھولوں سے شہدبنتا ہے اور اس کے پھلوں سے خلق خدا لطف اندوز ہوتی ہےآج ہمیں ایسی ہی نسل کی شدید ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:

ٹین ایجرز کو ڈسپلن کیسے سکھائیں؟

 

Leave a Reply