کروڑ پتی بھکاری

کروڑ پتی بھکاری
کروڑ پتی بھکاری (تحریر: ضیاء چترالی )

کروڑ پتی بھکاری

ضیاء چترالی

دنیا بھر میں عموماً پیشہ ور گداگروں کو انتہائی غریب سمجھا جاتا ہے۔ ان کی ظاہری وضع قطع اور مانگنے کا متاثر کن انداز بہت سے افراد کو انہیں کچھ نہ کچھ دینے پر بھی مجبور کر دیتا ہے۔ لیکن بعض افراد اس پیشے سے اتنی دولت کماتے ہیں کہ بھیک دینے والا شخص اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

عراقی بھکارن کے مرنے کے بعد جھونپڑے سے دیناروں کی بوریاں برآمد

عراق جیسے شورش زدہ ملک کے قدیم شہر نجف میں بھی ایک معمر بھکارن کے انتقال کے بعد معلوم ہوا کہ وہ کروڑ پتی ہے۔ پولیس نے جب اس کے گھر کی تلاشی لی تو عراقی دیناروں کی بوریوں کے علاوہ بڑے پیمانے دیگر ممالک کے نوٹ بھی برآمد ہوئے۔ عرب جریدے الیوم نے متعدد عراقی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے نجف شہر کی ایک ایسی معمر بھکاری خاتون کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کا جھونپڑی نما گھر خزانے سے بھرا ہوا تھا۔

نجف میں مزارات کے پاس بھیک مانگنے والی معمر خاتون خزانے کی مالک نکلی

نجف عراق کا قدیم شہر ہے، جہاں بے شمار ایسے مزارات واقع ہیں، جن کی زیارت کیلئے سال بھر مختلف ممالک کے زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ یہاں مزارات کے آس پاس بڑی تعداد میں بھکاری بھی ہر وقت منڈلاتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک معمر خاتون بھی تھی، جو اپنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کی اداکاری کرکے زائرین سے بھاری رقوم اینٹھتی رہتی تھی۔ وہ مزاروں کے دروازوں پر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھی اور اپنے سامنے ایک بیساکھی بھی رکھتی، جس سے لوگ اسے ٹانگوں سے معذور سمجھتے اور بھیک میں کچھ نہ کچھ دے کر روانہ ہو جاتے۔ یہ خاتون نجف کے مرکزی علاقے ”المشراق“ میں پرانے اور خستہ حال گھر میں رہائش پذیر تھی۔ گزشتہ دنوں جب یہ خاتون حسب معمول اپنی ”ڈیوٹی“ کیلئے نہیں نکلی تو پڑوسیوں کو شک ہوا اور انہوں نے پولیس کو مطلع کر دیا۔ پولیس ٹیم جب اس کے گھر میں داخل ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ خاتون دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔

سات کروڑ عراقی دینار سمیت ودیگر کرنسیوں کے ساتھ پاکستانی روپے بھی پائے گئے

نجف کے پولیس چیف ماجد حاکم کا کہنا تھا کہ خاتون کی لاش ضروری کارروائی کےلئے اسپتال منتقل کرنے کے بعد جب گھر کی تلاشی لی گئی تو پولیس اہلکاروں کی آنکھی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس جھونپڑی نما گھر کا ہر کمرہ اور ہر کمرے کا ہر گوشہ نوٹوں کی بوریوں اور شاپروں سے بھرا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق انہوں نے زندگی میں کبھی اتنی رقم نہیں دیکھی تھی۔ نوٹوں کو گننے کیلئے بینکوں سے عملہ بلایا گیا۔ کئی گھنٹے کی گنتی کے بعد معلوم ہوا کہ اس خاتون نے عراقی دیناروں سمیت کئی ممالک کے کرنسی نوٹ بڑی مقدار میں جمع کئے تھے۔ اس کے گھر سے برآمد ہونے والی رقوم میں ساڑھے سات کروڑ عراقی دینار، 562 امریکی ڈالر، 70 سعودی ریال،119 لبنانی لیرہ، 10 یورو،300 کویتی دینار، 440 ایرانی تومان، 70 افغانی، 320 پاکستانی روپے کے علاوہ انڈین روپے سمیت کئی ممالک کے نوٹ شامل ہیں۔

خاتون کا اب تک کوئی وارث سامنے نہیں آیا ، پولیس

ان کرنسی نوٹوں کے علاوہ مذکورہ خاتون کے گھر سے سونے کی ڈھلیاں بھی پولیس کو ملی ہیں۔ واضح رہے کہ نجف میں واقع ”وادی سلام“ نامی مقبرہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔ جہاں تاریخ اسلام کی بڑی مشہور شخصیات مدفون ہیں۔ اس لئے یہاں سارا سال زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ نجف میں ہر عمر کے بھکاری بڑی تعداد میں ان زائرین سے مانگتے نظر آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں روزانہ ایک ملین دینار سے زائد رقم بھکاریوں کو ملتی ہے۔ مذکورہ خاتون کا ابھی تک کوئی وارث سامنے نہیں آیا ہے۔

سعودی عرب میں 2014 میں ایک کروڑ پتی بھکارن کی کہانی سامنے آئی تھی

واضح رہے کہ اس سے قبل 2014ءمیں سعودی عرب میں بھی ایسی ہی ایک لاوارث بھکاری خاتون کی وفات کے بعد معلوم ہوا تھا کہ وہ کروڑ پتی ہے۔ جدہ شہر میں تقریباً نصف صدی تک بھیک مانگنے والی ”عیشہ“ نامی خاتون کی تجہیز و تکفین کے دوران ہی اس کے گھر سے 30 لاکھ ریال نقد، بڑے پیمانے پر قیمتی جواہرات اور 10 لاکھ ریال کی مختلف ممالک کی کرنسی برآمد ہوئی تھی۔ 100 سال کی عمر میں فوت ہونے والی اس خاتون کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ جدہ شہر کے انتہائی پوش علاقے میں اس کے 4 قیمتی فلیٹ بھی تھے، جن کا کرایہ وہ ماہانہ وصول کرتی تھی۔ عیشہ کا بھی کوئی قریبی عزیز نہیں تھا۔ اسی طرح چند برس قبل بھارتی ریاست بہار میں بھی ایک گداگر کے کروڑ پتی ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ بابو کمار کے 5 بینکوں میں اکاﺅنٹس اور کروڑوں روپے کی اراضی منظرعام پر آئی تھی۔ وہ بھیک مانگنے کے دوران ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے گرفتار ہوا۔ پولیس نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کروڑوں کا مالک ہے۔ اسی لئے علمائے کرام کہتے ہیں کہ پیشہ ور بھکاریوں کو پیسے دینا ناجائز ہے۔

 

ضیاء چترالی کا یہ آرٹیکل بھی پڑھئے

حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزاتی کنویں

Be the first to comment

Leave a Reply