ٹین ایجرزکو تعلیمی ذمہ داریاں دینا

ٹین ایجرزکو تعلیمی ذمہ داریاں دینا

تعلیم بچوں کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار اداکرتی ہے۔ ان کی ذہنی صلاحیتوں کو بہتربنانے کے علاوہ اپنے ہدف تک پہنچنے  کے لئےان کو درست سمت بھی عطاکرتی ہے۔ تعلیم ہی سے انسان میں درست فیصلوں کی صلاحیت پیداہوتی ہے۔ اوربروقت درست فیصلے انسان کی کامیابی کی ضمانت ہواکرتے ہیں۔ لہذا تعلیم پر  کسی بھی طرح سےسمجھوتہ  کرنا  بچے کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

بچے جب تعلیمی سفر کے دوران جونیرسیکنڈری لیول تک پہنچتے ہیں۔ تو ان کے تعلیمی تقاضوں میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور دوسری طرف یہی وہ زمانہ ہوتا ہے۔ جس میں بچے تعلیم کی جگہ اپنے ماحول کو ایکسپلورکرنے اورنئے دوست بھی بناناشروع کردیتے ہیں۔جس کی وجہ سے تعلیمی سر گرمیاں بچوں کے لئے بوجھ محسوس ہوناشروع ہوجاتی ہیں۔

چنانچہ اس وقت  والدین کو اپنا درست کرداراداکرنا پڑتا ہے۔ کہ بچوں کو تعلیمی سہولیات بہم پہنچانے کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔اگرچہ اس زمانے میں والدین اور اساتذہ کی باربار مداخلت بچوں کو اچھی نہیں لگتی ۔لیکن نفسیاتی تقاضوں کو پیش نظر رکھ کرکام کرنے سے بچے ا س کڑوی گولی کو نگلنے کے لئے بھی تیار ہوجاتے ہیں۔ ذیل میں ٹین ایجر بچوں کی تعلیمی پروگریس بہتربنانے کے لئے چند ٹپس دی جاتی ہیں۔

:پڑھنے کے لئے خوشگوار ماحول فراہم کیجئے

والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کو اہمیت دیتے ہوئے گھر میں ان کو خوشگوار تعلیمی ماحول فراہم کریں ۔ ان کے پاس تمام تعلیمی مٹیریل کورس، نوٹ بک، کاپی ، پنسل اور دیگر اسٹیشنری دستیاب ہو۔گھر کا کم از کم  ایک کمرہ اس کام کے لئے مختص ہو جس میں ایجوکیشنل ماحول دیا گیاہو۔ مثلا اس میں چھوٹی سی لائبریری ہو۔پڑھنے کےلئے ممکن ہوتو ٹیبل کرسی، وایٹ بورڈ، کیلکولیٹر،کمپیوٹر ، لیمپ اور اچھی لائٹنگ وغیرہ کا انتظام ہو۔ اس کےعلاوہ پڑھائی پر والدین کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جاتی ہو۔خوشگوار ماحول ہی بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں کی طرف بخوشی مائل کرسکتاہے۔

:تعلیمی اور غیرتعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو کریں

اگر آپ کا بچہ غیر تعلیمی سرگرمیوں میں بہت زیادہ مصروف رہتا ہے۔ مثلا وہ کھیل کود میں زیادہ سرگرم رہتا ہے،۔ یا کسی اور پارٹ ٹائم کام  کی وجہ سے تعلیمی حرج ہورہاہے۔ ایسے میں بچے سے اس حوالے سے گفت وشنید کی جائے۔ اور تعلیمی سرگرمی کو پہلے نمبر پر رکھنے اور دیگر سرگرمیوں کو دوسرے نمبرپررکھنے کی بات کی جائے۔ تو بہت ممکن ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

:بچوں کا کام کبھی بھی خودنہ کریں

آپ کا بنیادی کام  بچے کو خودانحصاری سکھانا ہے۔ کہ وہ خود سے کسی کام کوکرنے کے لئے نہ صرف آمادہ ہو ۔بلکہ ذمہ داری لینے کے لئے بھی تیار ہو۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی بھی تعلیمی کام والدین خود نہ کریں۔ اگرایساکرنے کی ان کو عادت پڑگئی توآئندہ کے لئے بھی یہ رویہ خطرناک ہوسکتاہے۔ اس سےبچے میں ایک توکام کا جذبہ ختم ہوجائےگا ۔اور دوسری طرف بچے  اندر اس کام کوکرنے  کی صلاحیت کبھی پید انہیں ہوگی۔

:ہوم ورک کی اہمیت کا احساس دلائیں

بچے کی زندگی میں ہوم ورک کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے بچےمیں سوچ وبچار، غوروفکرکرنے اور خود انحصاری پیداکرنے میں مدد ملتی ہے۔ ہوم ورک کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ پہلا مقصدیہ ہوتاہے ۔کہ جو کام اسکول میں ٹیچر کی نگرانی میں کروایا گیا۔ اس پر بچے کے لئے الگ بیٹھ کر کچھ سوچنے، غوروفکر کرنے اور اسکول کے کام کی بنیادپر مزید کچھ کام  خود سے کرنے کا موقع مل سکے۔اس سے بچے میں تدبراور غوروفکر کا سلیقہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جوانسانی شرافت کی بنیاد ہے۔

اورہوم ورک کا دوسرامقصد بچے میں خودانحصاری کی صفت کوپروان چڑھانا ہوتاہے ۔جب بچہ اپنا ہوم ورک لے کربیٹھ جاتا ہے۔ اور اپنی مددآپ کے تحت اس پر غورفکر کرکے اپنا کام مکمل کرتاہے۔اور راستے میں کوئی رکاوٹ آجائے اسے خود حل کرنے کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔ تواس میں خودانحصاری کی کیفیت پیداہوجاتی ہے۔ جو اعلی انسانی صفت ہے۔ اس سے بچے میں خود سے کچھ کرنے کا حوصلہ اورفیصلہ سازی کی طاقت پیداہوجاتی ہے۔

بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کا نقصان

لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس اہم کام کو ٹیویشن کے سپرد کیاگیا ہے۔جب بچہ ٹیوشن میں جاکر دوبارہ ایک ٹیچر کی نگرانی میں یہ سب کچھ کرتا ہے۔ تو اس کا ہوم ورک تو مکمل ہوجاتا ہے۔ لیکن ہوم ورک کے دونوں مقاصد حاصل نہیں ہوپاتے ۔ نہ اس کو غوروفکر اور سوچ وبچار کا موقع ملتا ہے۔ اور نہ ا س میں خودانحصاری کا رجحان پروان چڑھتا ہے۔

بچے کی خداداد صلاحیت پروان چڑھنے کی بجائے وہ رٹو طوطا اور خالی ڈبے کی طرح بنتا چلاتا ہے۔ جس میں غوروفکر اور سوچ وبچار کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں خود انحصاری اور خوداعتمادی کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اور مزید سونے پر سہاگہ اس وقت ہوتا ہے۔ جب خود ٹیچر یا والدین اپنے ہاتھ سے بچے کاکام مکمل کرکے اسکول میں جمع کروادیتے ہیں۔ تو کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نہ رہے گا بانس بہ بجے گی بانسری ۔ بس بچہ پوراڈبہ ہی بن کر بڑاہوجاتا ہے۔ جوان ضروری صلاحیتوں سے تقریبا عاری اورصرف الفاظ کو رٹنے کا ماہر ہوجاتا ہے۔

:ہرقسم کے گریڈ پر بچے کی حوصلہ افزائی کریں

بچہ جب تعلیمی مراحل سے گزررہاہوتا ہے۔ تو اس کے تعلیمی نتائج اور گریڈز میں اتار چڑھاوآنا ایک فطری امر ہے۔ کبھی وہ بہت اچھے گریڈز لے کر آئے گا۔ اور کبھی وہ کمزور گریڈ لے کربھی آسکتا ہے۔والدین کی ذمہ داری یہ ہے۔ کہ وہ دونوں گریڈز پر خوشی کااظہار کریں ۔پرجوش ہوں اور بچے کوبھرپور محبت دیں۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے اس کےحالیہ کمزورگریڈز کو پچھلے بہتر گریڈ سے تقابل کرکے جائزہ لیں۔ اور بچے سے خوشگوار ماحول میں اس پر گفتگو کریں۔

اور وہ اسباب تلاش کریں جن کی وجہ سے اس مرتبہ گریڈ میں کمی آئی یا بہتری آئی۔ اس طرز عمل سے بچے میں تعلیم کے حوالے سے بہتر رجحان پیدا ہوگا۔ یہ والدین کی بہت بڑی غلطی ہوگی ۔اگروہ کمزور گریڈآنے پر بچے کو ڈانٹنا او ر کوسنا شروع کردیں گے۔ جس کے نتائج انتہائی خطرناک اور بعض اوقات بچوں کی خودکشی کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔

:والدین بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں شامل رہیں

اچھے والدین کی ایک پہچان یہ ہوتی ہے۔ کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں سے نہ صرف پوری طرح سے آگاہ رہتے ہیں۔ بلکہ ان کی تمام تعلیمی سرگرمیوں میں شامل بھی رہتے ہیں۔ وہ بچوں کی ریگولر اسکول حاضری ، ان کے اسکول ورک اور ہوم ورک کے ساتھ ان کی تعلیمی کارکردگی سے باخبر رہتے ہیں۔ اور بحیثیت والدین اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔ بچے کی تمام تعلیمی ضروریات بہم پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں ۔

اسکول اساتذہ وانتظامیہ سے نہ صرف رابطے میں ہوتے ہیں۔ بلکہ ان سے بھرپور تعاون بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچے کے بہترین مفا د میں اسکول اساتذہ سے نہ صرف مشاورت کرتے ہیں۔ بلکہ ان کی دی ہوئی گائیڈلائنز کے مطابق بچے کی تعلیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*