Self developmentسیرت واسوہ حسنہ

استقبال رمضان کیسے کریں؟

رمضان المبارک برکتوں اور عنایتوں کا مہینہ ہے جس کااستقبال اور انتظار رسول اللہ ﷺ نہایت خوشی اور گرم جوشی سے فرماتے تھے۔ استقبال رمضان کا اندازہ اس بات سے لگائیے۔ جب آپ ﷺ رجب کا چاند دیکھتے جبکہ رمضان میں ابھی دوماہ باقی ہوتے تھے  توآپ رمضان المبارک کا انتظار اور استقبال  شروع فرماتے۔ آپ  اپنی دعاوں میں ایک خاص دعا شامل فرماتے “اللھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان” اے اللہ رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطافرما اور ہمیں رمضان تک پہنچادے۔ یوں اس دعا کے ساتھ ہی آپ ﷺ رمضان المبارک کا انتظار اور استقبال شروع فرماتے۔

استقبال رمضان کیوں کریں؟

استقبال رمضان کے  حوالے سے ایک مشہور حدیث آپ کے سامنے رکھتے ہیں ۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخر ی دن ہم سے خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو!تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہورہاہے۔

وہ برکت والا مہینہ ہے ،وہ ایسا مہینہ ہے جس میں ایک عظیم رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اللہ تعالی نے اس کے روزوں کو فرض قرار دیا اور رات میں قیام کرنے کو نفل قراردیا۔ اس مہینہ میں جس شخص نے نفل عمل کیا وہ اس شخص کی طرح ہے۔ جس نے دوسرے مہینہ میں فرض اداکیا اور جس شخص نے اس میں ایک فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے دوسرے مہینہ میں ستر(70) فرائض ادا کئے۔

اوروہ صبرکا مہینہ ہے اور صبرکا ثواب جنت ہے۔ اور غمخواری کا مہینہ ہے۔یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتاہے۔ اس مہینہ میں جس نے ایک روزہ دار کو افطار کروایا وہ اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے اس کی گردن کی آزادی کا سبب ہے۔ اور اس کے لئے روزہ دار کے ثواب کے برابر اجر وثواب ہے۔لیکن روزہ دار کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی۔ ہم نے عرض کیا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !ہم میں سے ہر شخص وہ نہیں پاتا جس کے ذریعہ وہ روزہ دار کو افطار کروائے۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کوبھی دیتا ہے جس نے کسی روزہ دار کو دودھ کے گھونٹ یا ایک کھجوریا پانی کے گھونٹ پر افطار کروایا ۔اور جو شخص کسی روزہ دار کو شکم سیر کرتا ہے ۔اللہ تعالی اس کو میرے حوض سے ایسا گھونٹ پلائے گا ،کہ وہ پیاسانہ ہوگا ۔یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے ۔

اور یہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت کاہے۔ درمیانی حصہ مغفرت کاہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی کاہے۔ اور جوشخص اس مہینہ میں اپنے غلام سے بوجھ کوکم کرے۔ اللہ تعالی اس کی مغفرت فرمائے گا اور اس کو دوزخ سے آزادفرمادے گا ۔(شعب الایمان للبیھقی و  مشکوۃ المصابیح)

 اس حدیث میں رمضان المبارک کی جو فضیلت واہمیت  اور اس میں کئے جانے والے اعمال کی جو خصوصیت بیان ہوئی ہے۔ اس سے اندازہ  کیا جاسکتا ہے کہ اس کے لئے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کتنی تیاری کرتے ہونگے اور ان برکات کے حصول کا کتنا اہتمام کرتے ہونگے۔ اللہ تعالی ہمیں بھی بھرپور طریقے سے استقبال رمضان  کی توفیق عطافرمائے۔ اور اس کے فیوض وبرکات سے خوب خوب فائد ہ اٹھانے کی توفیق عطافرمائے۔

استقبال رمضان لیکن کیسے؟

ہم یہاں استقبال رمضان کے حوالے سے چند چیزوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کریں گے۔ یقینا استقبال او ر انتظار کسی اہم چیز  کا ہوتا ہے۔ اور مسلمان کے  لئے رمضان المبار ک سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہوسکتی ہے۔  لہذا اس کا استقبال اور انتظار ایمان کی علامت ہے۔ ہم ذیل میں چندپوائنٹس میں ان کاموں کی نشاندہی کریں گے جن پر عمل کرنے سے استقبال رمضان کا حق ادا ہوسکتا ہے۔

1۔ رمضان المبارک کیلئے پلاننگ

انسان جس کام کیلئے ذہنی طور پر تیار ہوجاتا ہے توا س کی پہلے سے پلاننگ کرتا ہے۔  پلاننگ کے بغیر کوئی کام ٹھیک طریقے سے کیا نہیں جاسکتا۔ رمضان المبارک جیسا عظیم مہینہ ہو۔ برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہوتواس سے خوب فیضیاب ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کیلئے پہلے سے مناسب پلاننگ کی جائے۔ اور ذہنی طور پر خود کو روزوں، نماز وتراویح اور دیگر عبادات کیلئے تیار کیا جائے۔

2۔ رمضان المبارک سے پہلے  بھاری کام نمٹادیں

استقبال رمضان کا ایک اہم حصہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنی روٹین کے بھاری کاموں کو رمضان سے پہلے نمٹادیں۔یعنی رمضان المبارک کے دوران کوشش یہ ہو کہ شدید مجبوری کے بغیر بھاری جسمانی کام اس دوران نہ کئے جائیں۔ تاکہ آسانی کے ساتھ روزوں کا حق ادا کیا جاسکے۔ کاموں کیلئے پورے گیارہ مہینے ہمارے پاس ہوتے ہیں۔ رمضان کے روزوں کے ساتھ صرف وہ  کام کئے جاسکتے ہیں جو روزوں پر اثرانداز نہیں ہوتے ۔ یعنی ہلکے پھلکے کام وغیرہ۔

3۔ رمضان المبارک کو نیکیوں کا سیزن  کہہ دیں۔

استقبال رمضان یہ  بھی ہے کہ ہم رمضان المبارک کو نیکیوں کا سیزن تصور کریں نہ کہ بزنس اور خوب پیسہ کمانے کا سیزن۔ اگرہم رمضان المبارک کو نیکیوں کا سیزن سمجھ کر ڈیل کریں تو ہمارے رویوں میں بہت فرق آجائے گا۔ ہم اپنے دیگر کام ترک کرکے یا کم کرکے رمضان المبارک کی مصروفیات کا اہتمام کرنے لگیں گے۔

اس کے برعکس اگرہم رمضان المبارک کو بزنس پوانئٹ آف ویو سے دیکھیں اور پیسہ کمانے کا سیز ن تصور کریں تو پھر ہماری سوچ اور مصروفیات کا دھارا ہی بدل جائے گا۔ ہم رمضان میں پیسہ کمانے کی طرف سے بھاگ رہے ہونگے۔

4۔ کمرباندھ لیں اور ہمت کریں۔

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ام المومنین حضرت ام سلمہ فرماتی کہ آپ ﷺ رمضان المبارک میں کمرکس لیتے اور اپنے آپ کو بستر سے دور فرماتے اور خوب عبادات میں مصروف رہتے۔ اسی طرح ہمیں بھی ہمت کرنی پڑے گی اور کمر کسنی پڑے گی۔  اس کے بغیر استقبال رمضان کا حق ادا نہیں ہوگا۔

5۔ صبر اور غم خواری کیلئے تیار ہوں۔

اوپر بیان کردہ حدیث میں رمضان المبار کو صبراور غم خواری کا مہینہ قراردیا گیا ہے۔ چنانچہ استقبال رمضان کا حق ہے کہ ہم بھی ان دونوں اوصاف کو اپنانے کی طرف متوجہ ہوں۔ روزہ سراسر صبر ہے اور غم خواری یہ ہے کہ ہم اپنے اڑوس پڑوس اور ملنے جلنے والوں کے حالات پر نظر رکھیں۔ اگر ان کے ساتھ کوئی مجبوری ہے یا مالی کمزوری ہے تو ہم ان کی غم خواری کے لئے آمادہ ہوں۔ پہلے سے ہی ان لئے کچھ انتظام کرسکیں تو بہت ہی اچھا ہے۔

6۔ رمضان کو اللہ کے لئے خاص رکھنے کا عزم کریں۔

ہمارے ہاں عموما رمضان المبار ک کا مہینہ دوستی ، رشتہ داری اور مختلف پارٹیوں کی نظر ہوجاتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں لیکن رمضان المبارک کا مہینہ اللہ کا خاص مہینہ ہے۔ اس مہینہ کا خاص وصف غم خوار ی ہے جو اللہ کیلئے کی جائے۔ ہمیں اپنے دیگر تمام کام رمضان کے علاوہ اوقات میں کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔

رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button