والدین پر اولاد کے حقوق اور ذمہ داریاں

اولاد کے حقوق

اولاد کے حقوق

 اولاد پر والدین کے کیا حقوق عائد ہیں؟ یہ بات ہم سنتے رہتے ہیں۔ اورقرآن وحدیث میں والدین کے حقوق کا جابجا بیان ہمیں ملتا ہے۔ لیکن والدین پر اولاد کے کیا حقوق ہیں؟ یہ بات سننے کو کم ہی ملتی ہے ۔  ہم  یہاں والدین کی معلومات کے لئے یہ بتانے کی کوشش کریں گے۔ کہ خود والدین پر اولادکے کیا حقو ق ہیں؟ کیونکہ اسلام کسی کو یک طرفہ حق نہیں دیتا ۔بلکہ ہر انسان کے کچھ حقوق ہوتے ہیں جو دوسرے کے ذمہ فرض ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف کچھ فرائض ہوتے ہیں جو دوسروں کو حقوق کے طور پرادا کرنے ہوتے ہیں۔ اسی اصول کے مطابق والدین پر اولاد کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ جو والدین کے فرائض میں شامل ہیں یہاں ان کاتذکرہ ہوگا۔

اولاد کے حقوق کی پہچان والدین کے لئے اس لئے بھی ضروری ہے ۔تاکہ شروع سے ہی والدین بچوں کے ان حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرسکیں۔ ورنہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات والدین بچوں کے اصل حقوق کی ادائیگی کی پروا تونہیں کرتے۔ لیکن اولاد کی محبت میں ایسی چیزیں ان کو دینے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جو شاید والدین کی ذمہ داری میں داخل نہیں ۔مثلا بعض امیر والدین کی طرف سے اپنے ہربچے کو پلاٹ، گھر اور بینک بیلنس دینے کی کوشش تو کی جاتی ہے۔ لیکن ان کی تربیت درست طریقے سے کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اور اس کام کے لئے بعض اوقات یہ والدین اپنے آپ کو بلاوجہ کوفت میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات والدین حرام آمدنی سے یہ سب کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حرام آمدنی سے بچوں کی پرورش

حرام لقمے سے بچوں کی پرورش اور اصل فریضے سے روگردانی کے نتیجے میں بعد میں اولاد نافرمان ہوجاتی ہے۔ گھر میں لڑائی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں۔  اور والدین پچھتاتے ہوئے یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم نے اپنی اولادکے لئے کیا کچھ نہیں کیا ۔لیکن وہ بڑھاپے میں ہمیں یہ صلہ دے رہے ہیں۔ جی ہاں بدقسمتی سے ان والدین نے اپنے بچوں کے لئے وہ سب کچھ کیا جو نہیں کرنا چاہیے تھا ۔اور وہ نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔

اولاد کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے والے والدین اور نتیجے میں اولاد کی نافرمانی کا ایک مشہور واقعہ سیرت کی کتابوں میں حضرت عمرفاروق ؓ کے حوالے سے ہمیں ملتا ہے۔ کہ ایک شخص امیرالمومنین حضرت عمرفاروقؓ کے پاس اپنے بیٹے کی شکایت لے کرحاضر ہوا۔ اورکہنے لگا کہ امیرالمومنین میرابیٹا نافرمان ہوگیا ہے۔ وہ ہمیں بہت ستاتا ہے۔آپ اسے بلاکر سمجھائیے یا اسے سزادیجئے تاکہ وہ فرمانبردار ہو اور ہمیں نہ ستائے۔امیرالمومنین نے لڑکے کو بلایا اور پوچھا ۔کہ تمہارے والد یہ شکایت کررہے ہیں۔ کہ تم اس کی نافرمانی کرتے ہو۔اور اس کو اذیت پہنچاتے ہوایسا کیوں ہے؟کیا تمہیں والدین کے حقوق کا پتہ نہیں ہے؟ لڑکے نے امیرالمومنین سے سوال کیا  امیرالمومنین! کیا والدین پر اولاد کے بھی کچھ حقو ق ہوتے ہیں؟

حضرت عمر کا عجیب واقعہ

حضرت عمرفاروقؓ نے فرمایا ہاں ہیں! لڑکے نے پوچھا وہ کیا ہیں؟آپ نے فرمایا کہ بچے کا پہلا حق یہ ہے۔ کہ والد اس کے لئے اچھی  ماں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرے۔ یعنی نکاح ایسی عورت سے کرے جومومن ہو آزاد ہو۔نیک متقی اور سلیقہ مندہووغیرہ ۔تاکہ اچھی نسل تیارہوسکے۔ مزید حقو ق یہ ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان کہے۔ عقیقہ کرے، اس کا اچھا سابامعنی نام رکھے۔رزق حلال سے اس کی پرورش کرے ۔اور اس کی تعلیم وتربیت بہت اچھی طر ح سے کرے۔اس کو زندگی کے آداب سکھائے۔ اسے کوئی فن ہنر سکھائے۔اور پھر جوان ہونے پر اس کا نکاح مناسب جگہ پر کرادے وغیرہ۔

جب عمر فاروق ؓنے ان سارے حقوق کا ذکر کیا تو وہ لڑکا کہنے لگا ۔امیر المومنین! میرے باپ نے ان حقوق میں سے میرا کوئی حق ادانہیں کیا۔میرے باپ نے ایک مجوسیہ باندی سے شادی کی۔ جس میں ایمان اور سلیقہ نام کی کوئی چیز نہ تھی ۔جب میں پیداہوا تو میرا نام جعل رکھا ۔جو گوبر کے ایک کیڑے کا نام ہے۔ اور آج تک لوگ اس نام کی وجہ سے میرامذاق اڑاتے ہیں۔ میرے باپ نے مجھے کوئی تعلیم دی اور نہ ہی میری تربیت کی۔ایسے میں ظاہر ہے کہ مجھے نافرمان بننا ہی تھا۔ لڑکے کی یہ روداد سن کر عمر فاروق ؓ نے اس باپ کی درخواست خارج کردی۔ اور فرمایا کہ تم نے اپنے فرائض ادانہیں کئے تو پھر حقوق کا تقاضا کیوں کرتے ہو؟

اللہ کے سامنے جوابدہی

اس واقعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے ذمہ اولاد کے کچھ حقوق ہیں۔ والدین پہلے ان حقوق کو سمجھیں۔ اور پھر ان کی ادائیگی کا اہتما م کریں۔ اگر والدین ان حقوق کی ادئیگی میں ناکام رہتے ہیں۔ تو پھر نافرمان اولاد کی اذیت برداشت کرنے اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے لئے بھی تیار رہنا چاہیے۔ والدین  اپنے  بچوں کے حقوق کو سمجھ کردرست انداز سے ان کی ادائیگی کی کوشش کریں گے تو انشاء اللہ نہ صرف والدین اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ بلکہ اولاد کی بہترین تربیت بھی ہوجائے گی۔ یہ اولاددنیا میں والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک، نیک نامی کا ذریعہ اورباعث راحت جان ہونے کے ساتھ آخرت میں ان کے لئے صدقہ جاریہ بھی بنیں گی۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*