بارش اور سیلاب کی تباہی کاریاں اور ہماری بے حسی

بارش اور سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہماری بے حسی
بے حسی ایسی بیماری جس کا اب تک کوئی علاج دریافت ہوا ہے نہ آئندہ اس کا امکان ہے ، بے حسی انسان اور حیوان کا فرق مٹا دیتی ہے

بارش اور سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہماری بے حسی

لطیف الرحمن لطف

بے حسی ایسی بیماری جس کا اب تک کوئی علاج دریافت ہوا ہے نہ آئندہ اس کا امکان ہے ، بے حسی انسان اور حیوان کا فرق مٹا دیتی ہے بلکہ ذی روح اور غیر ذی روح میں بھی امتیاز کی لکیر احساس ہی کھینچتا ہے ،
خواجہ میر درد تو احساس کو انسان اور فرشتوں کے مابین فرق کرنے کا پیمانہ سمجھتے ہیں بلکہ اسے انسان کی وجہ تخلیق قرار دیتے ہیں چنانچہ وہ گویا ہیں

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

انسان کی حقیقی زندگی یہی ہے کہ اس کے من میں احساس کا جگنو جگمگا رہا ہو اگر یہ مر جائے تو ایک جیتا جاگتا انسان مردہ لاش بن جاتاہے بہ قول کسے

موت کی پہلی علامت  صاحب!

یہی احساس کا مر جانا ہے

افسوس! ہم جس ملک میں سانس لے رہے ہیں وہاں ہر طرف بے حسی کا راج ہے ، ہماری اشرافیہ جسے ہم حکم ران طبقہ بھی کہتے ہیں اس بے حسی کی بیماری کا سب سے زیادہ شکار ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام پر قیامت ٹوٹے اس کے کانوں پر پھر بھی جوں تک نہیں رینگتی ، زمین پھٹے کہ آسمان گرے اس طبقے پر کچھ اثر نہیں ہوتا ۔

ملک کا سب سے بڑا مسئلہ شہباز گل

پچھلے دو ماہ سے پورا ملک آفت کی لپیٹ میں ہے ، بارشوں کی وجہ اب تک ہزار کے لگ بھگ اموات ہوئیں ہیں ، ہزاروں گھر تباہ ہوچکے ہیں ، فصلیں برباد ہو چکی ہیں ، ہزاروں ہم وطن نقل مکانی پر مجبور ہیں لیکن ہمارے سیاست دان پہلے کی طرح اپنی سیاست بازی میں مگن ہیں ، کیا حکومت کیا اپوزیشن ، دونوں کو آفت زدہ عوام سے کوئی دل چسپی نہیں ہے ، پچھلے ایک ہفتے سے اس ملک کا سب سے اہم مسئلہ شہباز گل ہے، میڈیا پر شہباز گل ہی زیر بحث ہے، حکومت کی توانائیوں کا مصرف شہباز گل ہے اپوزیشن کی جدوجھد کا محور شہباز گل ہے ، ایک شخص نے ملکی سلامتی کے خلاف کچھ بولا ہے تو قانون کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے مگر یہاں حکومت قانون سے بڑھ کر کچھ برآمد کرنا چاہتی ہے اور عمران خان اپنے لاڈلے کو قانون کے شکنجے سے بچانے میں لگے ہوئے ہیں یوں پاکستان کی حکومت ، اپوزیشن ، عدلیہ اور میڈیا اس ایک معاملے میں سر کھپاتے نظر آ رہے ہیں اور غریب عوام کو سیلاب کی بے رحم موجوں کے حوالے کیا گیا ہے ۔اس رویے پر یہی کہا جا سکتا ؛

سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں
وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا

کچھ دن پہلے ہمارے وزیر اعظم صاحب کا ایک بیان سامنے آیا تھا کہ “سیاست ہوتی رہے گی اس وقت ہم سب کو اپنے آفت زدہ بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے ” ہم نے اس بیان کو حبس زدہ ماحول میں ہوا کا ایک خوش گوار جھونکا سمجھا تھا اسے سرخی بنا کر شائع بھی کیا تھا لیکن شاید یہ بیان وقتی جذبات کا ابال تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی شکوہ بس یہ ہے کہ جس طرح کے سنجیدہ اقدامات ہونے چاہئیں وہ نظر نہیں آتے اور ایک قومی المیے کے موقع جس قومی یک جہتی ضرورت ہوتی ہے وہ دکھائی نہیں دیتی۔

دو ماہ کے جانی اور مالی نقصانات کا جائزہ

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے حال ہی میں گزشتہ دو ماہ میں ملک میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا ہے جس کے مطابق دو ماہ کے اندر ملکی سطح پر مجموعی طور پر 777 اموات واقع ہوئیں ، مجموعی طور 103 اضلاع متاثر ہوئے ، یہ تخمینہ 14 جون سے 14 اگست تک کا ہے اس کے بعد اب تک مزید اموات اور نقصانات ہوئے ہیں ، اب اموات شاید 1000 کی تعداد کو تجاوز کر چکی ہیں اور متاثرہ اضلاع کی تعداد بھی شاید 150 کا ہندسہ عبور کر چکی ہے ۔

بلوچستان سب سے متاثر صوبہ

بارشوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورت حال سے سب سے زیادہ بلوچستان متاثر ہوا ہے ، این ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر یہاں کے 34 اضلاع متاثر ہوئے ہیں ، 250 سے زائد اموات ہوئی ہیں ، مجموعی متاثرین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے،26 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوئے ہیں ، سات سو کلومیٹر سے زائد سڑکیں متاثر ہوئی ہیں ،20 سے زائد پل تباہ ہوئے، 5 لاکھ سے زائد مویشی اور دو لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں ۔

سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں

نقصان کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے ،یہاں 23 سے زائد اضلاع آفت زدہ قرار پائے ہیں جن میں حیدرآباد ،نواب شاہ،ٹھٹھہ،بدین،دادو،جامشورو، ٹندو الہیار ودیگر شامل ہیں ۔سندھ میں مجموعی طور پر سوا دو سو سے زائد اموات ہوئی ہیں جن میں 100 سے زائد بچے ہیں ،700 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں ،50 ہزار سے زائد مکانات متاثر ہونے ہیں،250 سے زائد جانور ہلاک ہوئے ہیں ،45 پلوں کو جزوی یا کلی اور 21 سو کلومیٹر کی سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے ،خریف کی 90 فیصد تیار فصل تباہ ہوئی ہے ۔

پنجاب میں ہونے والے نقصانات

میں مجموعی طور پر 150 سے زائد اموات ہوئی ہیں ،300 افراد زخمی ہوئے ہیں ،21 ہزار مکانات متاثر ہونے ہیں ،33 کلومیٹر پر پھیلی سڑکیں خراب ہوئی ہیں ،تونسہ میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے ،تونسہ بستی موہانے والا کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں ، کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں ،فاضل پور میں پانی داخل ہونے سے مکانات غرقاب ہو گئے ہیں اور لوگ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں ،ڈیرہ غازی خان میں بھی سیلاب کی وجہ کئی بستیاں زیرآب آگئی ہیں ۔

خیبرپختونخواہ، گلگت بلتستان اور کشمیر کی صورت حال

خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 150 سے زائد اموات واقع ہوئی ہیں جن میں 50 سے زائد بچے ہیں ، سیلاب سے کلی اور جزوی طور پر متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد 50ہزار سے زیادہ ہے ،13 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے ،صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں 150 کے قریب دیہات زیرآب آگئے ہیں اور 8500 گھر متاثر ہوئے ہیں ۔

گلگت بلتستان اور کشمیر میں مجموعی طور پر 50 سے زائد اموات ہوئی ہیں ،10 ہزار لوگ کلی یا جزوی طور پر سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں ،مجموعی طور پر 9 سو سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے ۔

ہمارا دینی اور قومی فریضہ

اس وقت ملک بھر میں ہمارے لاکھوں بھائی آفت کا شکار ہیں ، ان آفت زدہ بھائیوں کی مدد ہم سب پر فرض ہے ، متاثرین کی داد رسی اور بحالی کا کام صرف حکومت پر نہیں چھوڑنا چاہیے ، اس وقت ملکی معیشت کی جو ناگفتہ بہ صورت حال ہے وہ ہم سب کو معلوم ہے ایسے میں بحیثیت قوم ہمیں اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا ، الحمدللہ بہت سارے ادارے اور افراد اپنے آفت زدہ بھائیوں کے لئے کام کر رہے ہیں ہمیں ایسے اداروں اور افراد کا دست بازو بننا ہوگا ، یہ ہمارا قومی فریضہ بھی ہے اور دینی تقاضا بھی ، ہمارے پیغمبر کا فرمان ہے “واللہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ”(ترمذی) اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے)

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے

اسلام میں صدقے کا تصور اور اہمیت

1 Comment

1 Trackback / Pingback

  1. سیلاب متاثرین ، مذہبی تنظیمیں اور دینی شخصیات

Leave a Reply