ٹین ایجرز کو اقداراورویلیوزسکھانا

ٹین ایجرز کو اقداراورویلیوزسکھانا

تحریر : ڈاکٹرمحمد یونس خالد

اقداراور ویلیوز کسی منظم معاشرے کی بنیاد ہواکرتی ہیں۔اگراقدار مضبوط ہوں تو معاشرہ مضبوط کہلاتا ہے ورنہ کمزور معاشرہ کہلاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اقدار کیا ہیں ؟اقداریا ویلیوز وہ کام ہوتے ہیں جن کو معاشرہ میں یافیملی میں ویلیو اور اہمیت دی جاتی ہے۔ مثلاایمانداری ایک یونیورسل قدر ہے جسے دنیا میں کسی بھی جگہ ویلیودی جاتی ہے۔

اسی طرح بے شمار اقدار ہیں جوہمیں اپنی نسل کو سکھانی پڑتی ہیں۔ ہرگھر کی ویلیوز الگ ہوتی ہیں، کیونکہ ویلیوز مذہب ، فیملی لائف اسٹائل، نسلی فرق ،تہذیبی اورثقافتی امتیاز سے جنم لیتی ہیں جن میں فرق آنے پر ہرگھر کی ویلیوز الگ ہوسکتی ہیں۔ لیکن کچھ معاشرتی ویلیوز یا اقدار ہوتی ہیں جو اس معاشرے کی مشترک اقدار ہوتی ہیں اس کے علاوہ کچھ یونیورسل ویلیوز بھی ہوتی ہیں جو پوری دنیا میں اقدارکے طور پر مانی جاتی ہیں۔

ہم اپنے بچوں کواپنی رول ماڈلنگ اور فیملی لائف اسٹائل کے ذریعے شروع سے ہی کچھ اقدار سکھارہے ہوتے ہیں جو ہماری فیملی اقدار ہوتی ہیں کچھ معاشرتی اور کچھ یونیورسل اقدار بھی بچپن سے ہی بچے سیکھ لیتے ہیں۔ بلوغت کے مرحلے میں پہنچ کر ٹین ایجر بچے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ان اقدار کو ریفائن کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر قد ر کو ٹیسٹ کرتے ہیں۔

والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ٹین ایج میں اپنے بچوں کو بچپن میں سیکھی ہوئی ان اقدار پر قائم رکھیں ان اقدار کو ویلیودینے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں ۔

:والدین کی رول ماڈلنگ
والدین اپنے بچوں کے مستقل رول ماڈل ہوتے ہیں چاہے والدین کو اس کااحساس ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ وہ اپنے بچوں کے ہیروہوتے ہیں اور بچے ان کی ہرادا کا بغور نہ صرف مشاہدہ کرتے ہیں بلکہ ان کے ہرگفتاروکردار کی کاپی بھی کرتے ہیں۔ لہذا والدین کو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے کسی بھی عمل سے اپنے بچوں کو پیغام دے رہے ہوتے ہیں۔والدین کو اقدار اورویلیوز اپنے بچوں میں منتقل کرنے کے حوالے سے ا پنے کردار اور رول ماڈلنگ کا جائزہ لینے کے لئے مندرجہ ذیل سوالات کےجوا بات تلاش کرنے چاہییں۔

سچائی اور ایمان داری ایک یونیورسل قد ر ہے کیا آپ خود اس پرپورا اترتے ہیں؟
کیا آپ نے کبھی بچے کے سامنے جھوٹ بولا ہے یا بچے سے جھوٹ بلوایا ہے؟
کیا آپ دوسروں کو عزت واحترام دیتے ہیں اور ان سے نرم ومہذب لہجے میں بات کرتے ہیں؟
کیا آپ خود صوم وصلوۃ اور دین واخلاق کی پابندی کرتے ہیں؟
کیا آپ خود صحت مند لائف اسٹائل کے عادی ہیں؟

صحت مند غذا، مناسب آرام اور روزانہ جسمانی ورزش کے عادی ہیں؟
۔ کیا آپ صحت وصفائی اور ڈسپلن کو زندگی میں ویلیودیتے ہیں ؟
 کیا آپ خود وقت کی پابندی اور محنت کے عادی ہیں ؟اوران اقدار کو اپنی زندگی میں ویلیودیتے ہیں؟

یقین کیجیے اگران سوالات کے جوابات مثبت ہیں توآپ کا بچہ بھی ضرور ان میں سے اچھی عادات کو اپنالے گا اگرچہ ٹین ایج کے عارضی مرحلے میں وہ ان میں سستی کا مظاہر کرتا ہو۔ لیکن اگر ان سوالوں کے جوابات منفی ہیں تو یقینا رول ماڈلنگ کا اثر ہوگا اور بچے بھی غلط رخ پر جائیں گے۔ اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ پانی نشیب کی طرف بہتا ہے یعنی کمزوری جلدی جگہ پکڑلیتی ہے جبکہ اچھائی جگہ پکڑنے میں وقت لیتی ہے اگر ان اقدار میں آپ کی کمزوری تھوڑی بہت ہوگی یقینا رول ماڈلنگ کی وجہ سے بچوں میں زیادہ کمزوری دیکھنے میں آئے گی۔ لہذا والدین کو اپنی رول ماڈلنگ مضبوط کرنی ہوگی اور اقدار کوواقعتا ویلیوزبناناہوگا۔

:فیملی میں باہمی عزت واحترام
افراد خانہ کے درمیان چھوٹے بڑے کی تمیز کہ چھوٹے بڑوں کی عزت کرتے ہوں اور بڑے چھوٹوں سے شفقت و محبت کے ساتھ پیش آتے ہوں یہ ایک مضبوط اور اچھے گھرانے کی بنیاد ہونے کے ساتھ پہچان بھی ہوتی ہے۔چونکہ والدین گھر میں اپنے بچوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں ان کو اس چیز کا بہت زیادہ خیال رکھنا پڑے گا کہ وہ باہمی ایک دوسرے کے لئے عزت واحترام کے ساتھ بچوں سے بھی عزت کے ساتھ پیش آتے ہوں۔

جب گھر میں باہمی عزت واحترام اور محبت کا کلچر ہوگا تو بچے یہ کیفیت دیکھ کرخود ہی ان ویلیوز کو اپنائیں گے۔ ماں باپ جب آپس میں ایک دوسرے کو عزت دینے کے ساتھ اپنے بچوں کوبھی عزت دیں گے تو اس کے کئی فوائد ہونگے مثلا بچوں کی عزت نفس قائم ہوجائے گی جس سے ان میں خوداعتمادی پیداہوگی، پھرماں باپ کی رول ماڈلنگ دیکھ کر بچے بھی آپس میں اوردوسروں سے عزت واحترام سے پیش آئیں گے۔ اس کے علاوہ خودماں باپ کی عزت کا بھی خیا ل رکھیں گے۔ اگر آپ اپنے گھر کے ماحول میں عزت واحترام کا کلچر پید اکرناچاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل اصول اپناسکتے ہیں۔

۔ گھر میں تو تڑاں کی جگہ آپ اور جنا ب سے بات کرنے کا ماحول پیداکریں جب والدین خود درست انداز اپنائیں گے تو بچے ضرور ان کی اچھی رول ماڈلنگ کو اپنائیں گے۔
۔گالم گلوچ یا بدزبانی کو گھر کے ماحول سے خارج کردیں اور اپنے بچوں کو گالم گلوچ کے عادی دوسرے بچوں سے دوررکھیں۔
۔ کسی کو کمزور سمجھ کر اس کو دبانے یا مذاق اڑانے کی عادت سے خود بھی اجتناب کریں اور بچوں کو بھی اس عادت سے دور رکھیں، بلکہ کمزور پررحم کرنے کوگھرکے کلچرکاحصہ بنائیں۔
۔ کسی کو کوسنے، مارنے، ذلیل کرنے یا کمترسمجھنے کی قطعااجازت نہ دیں اور نہ والدین خود ایسا کریں۔
۔دوسرے کی رائے کو احترام دیں اس کی بات کو اہتمام سے کان لگاکر سنیں چاہے تمہیں اس سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
۔ غلطی پر فورا معذرت او ر کسی کی مدد پر اس کا شکریہ ادا کرنے کو اپنے گھر کے کلچر کاحصہ بنائیں۔

ان اصولوں کو اپناکر اور بچوں کو اس کی تلقین کرنے سے آپ اپنے بچوں کو معاشرے میں باہمی عزت واحترام اور امن ومحبت سے رہنے کا سلیقہ سکھاسکیں گے۔ وہ زندگی کی خوبصورتی اور مٹھاس سے آشنا ہونگےاورزندگی میں باہمی اعتماد ، دوستانہ ماحول اور دوسرے سے مضبوط تعلقات کو فروغ دے سکیں گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*